نئے نصاب میں ناظرۂ قرآن کو الگ مضمون کے طور پر ختم کرنے پر تنقید ہو رہی ہے۔ میری رائے میں اس بحث کو صرف ناظرہ کے خاتمے تک محدود کرنے کے بجائے ہمیں پورے پرائمری نصاب کو نئے انداز سے دیکھنا چاہیے۔
میری تجویز ہے کہ اسلامیات میں قرآنِ کریم، ناظرہ اور اردو کو ایک مربوط مضمون میں ضم کر دیا جائے۔ قرآنِ کریم کی تلاوت کے ساتھ اسلامیات، اخلاقیات، سیرت اور دینی واقعات پڑھائے جائیں، جبکہ انہی موضوعات کو آسان اردو اور ضرورت کے مطابق انگریزی کے ذریعے بچوں کی فہم کے مطابق سمجھایا جائے۔
پرائمری سطح پر:
اسلامیات (ناظرہ قرآن و اسلامی تعلیم کو آسان اردو دونوں کو یک جا کرے)
انگلش( جو اسلامی الفاظ و قصے کہانیوں کا مجموعہ ہو،اسی طرح ریاضی و سائنس پر مشتمل ہو۔
مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ چھوٹے بچوں کے ذہن کو زیادہ سے زیادہ مضامین اور معلومات سے بھر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ان کی بنیادی علمی، اخلاقی، لسانی اور فکری بنیاد مضبوط ہو۔
ہمیں بچوں کو ہر علم کا ماہر نہیں بنانا، بلکہ سیکھنے کا راستہ دکھانا ہے۔
آخرکار ہمارا مقصد ہر بچے کو جابر بن حیان بنانا نہیں، بلکہ اسے اتنی مضبوط بنیاد دینا ہے کہ کل وہ اپنی صلاحیت اور دلچسپی کے مطابق جابر بن حیان بننے کا راستہ خود تلاش کر سکے۔بچے پر نصاب کا بوجھ کم کیجیے، مگر اس کی بنیاد مضبوط کیجیے۔