(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانامحمداکبر

مولانامحمداکبر

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
آنکھ بند کرنا سیکھو
ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب گوجرہ کے علاقے میں ایک صوفی بزرگ رہتے ہیں جن کا نام ہے صوفی محمد دین صاحب۔ ایک دن ہم دو تین دوستوں نے ان کے پاس رات گزاری۔ بہت ہی مِٹے ہوئے شخص ہیں، رات کا کھانا چند بسکٹوں اور چائے کی صورت میں دیا اور کہا کہ فی الحال یہی کچھ ہو سکتا تھا۔مجلس ذکر میں مجھ سے کہا کہ کتاب کی تعلیم کرائیں اور پھر جب دعا کی باری آئی تو کہا کہ آپ دعا بھی کرا دیں۔

غالبا آڑھتی کا کام کرتے ہیں۔ صبح تہجد کے وقت ان کے کمرے سے لا الہ الا اللہ کی ضربیں آج بھی ہمارے کانوں میں رس گھول رہی ہیں۔ ان کی زبان سے جب لا الہ کا لفظ نکلتا تو ایسے محسوس ہوتا جیسے ساری دنیا میت ہوگئی ہے۔ اور الا اللہ پر گویا ساتوں آسمان و زمین نورِ حق سے جاگ اٹھے ہیں۔ صبح جب ہم روانہ ہونے لگے تو میں نے کہا: حضرت ! کوئی نصیحت فرما دیں جو ہم پلے باندھ لیں۔ پہلے تو عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگ علماء ہیں، میں کیا کہوں؟ پھر فرمایا: "آنکھیں بند کرنا سیکھیں"

مجھے اس وقت یہ بات ویسے ہی لگی جیسے ہم عموما کسی بزرگ سے رسمی طور پر نصیحت کا کہتے ہیں اور پھر منٹوں میں اسے بھول جاتے ہیں۔ سو ہم بھی بھول گئے۔ لیکن اب جب قرآن میں تدبر شروع کیا تو احساس ہوا کہ واقعی آنکھیں بند کرنا سیکھنا چاہیے۔

جن کی ظاہری آنکھیں ہر وقت کھلی رہتی ہیں، ان کے باطن کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں، وہ اپنے رب اور اپنے من کو دریافت نہیں کر پاتے، ان کی آنکھوں کی بھوک کبھی ختم نہیں ہوتی، وہ ہمیشہ کچھ نیا اور گند دیکھنے کےلیے پیاسے رہتے ہیں، ان کی سوچ ظاہر کے پردے سے ہٹ کر غیب کے پردے میں چھپی چیزوں کا ادراک نہیں کر سکتی۔

وہ سورج کی شعاعوں کو تو گرفتار کر سکتے ہیں۔ لیکن اپنی زندگی کی شبِ تاریک سحر نہیں کر سکتے۔ وہ ظاہری چمک دمک سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں لیکن باطنی چمک سے ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔

اسی لیے اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا:وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِؕ (سورۃ طہ: 131)

اور دنیوی زندگی کی اس بہار کی طرف آنکھیں اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے (کافروں) میں سے مختلف لوگوں کو مزے اڑانے کےلیے دے رکھی ہے تاکہ ہم ان کو اس کے ذریعے آزمائیں۔

میرے محدود مطالعے کے مطابق پورے قرآن کریم میں صرف دو حکم ایسے ہیں جو قرآن نے مردوں کو الگ دیے اور خواتین کو الگ۔ورنہ عموما جب نماز ، روزہ ، زکوۃ، جہاد، شکر، صبر وغیرہ کا حکم دینا ہوتا ہے تو صرف مردوں کو دیا جاتا ہے اور عورت خود بخود اس میں شامل ہو جاتی ہے۔ لیکن دو جگہ اللہ تعالی نے مرد و خواتین کو الگ الگ ایک ہی حکم دیا ہے اور وہ ہے: قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ (سورۃ نور: 30)

مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہی ان کےلیے پاکیزہ ترین طریقہ ہے ۔ وہ جو کارروائیاں کرتے ہیں، اللہ ان سب سے پوری طرح باخبر ہے۔

اس سے اگلی آیت میں خواتین کے بارے میں فرمایا:وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ (سورۃ نور: 31)

اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔

ان دونوں آیات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آنکھیں بند کرنے اور نگاہیں نیچی رکھنے کی کیا اہمیت ہے اور پھر نگاہوں کے ساتھ شرم گاہ کی حفاظت کا ذکر بتاتا ہے کہ نگاہیں ہی انسان کو بدکاری تک لے کر جاتی ہیں۔ جس کی نگاہ حرام کاری سے نہ بچ سکے، اس کی نیت اور جذبے بھی حرام کاری سے نہیں بچ سکتے۔ اور یہ بات پاکیزہ مردوں اور پاکیزہ عورتوں ، خبیث مردوں اور خبیث عورتوں کے کانٹیکسٹ میں کہی جا رہی ہے کیونکہ کسی کے خبیث ہونے کےلیے یہ بات کافی ہے کہ اس کی نظر حرام کاری کرتی ہے اور کسی کے طیب ہونے کےلیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنی آنکھوں کو بند کرنا جانتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی ظاہر کی آنکھ بند کر کے دل کی آنکھ کھولنے کی پریکٹس کی ہے؟ اور اس پریکٹس کے نتائج دیکھے ہیں؟ اگر نہیں تو آج ہی سے کریں۔

جب موبائل کی سکرین پر جِم میں ایکسرسائز کرتی لڑکی کی ویڈیو سامنے آئے تو آنکھ بند

جب اپنی شادی کا اعلان کرتی کسی لڑکی کی تصویر سامنے آئے تو آنکھ بند

جب کوئی عورت نازیبا کپڑے پہنے نظر آئے تو آنکھ بند

جب کالج اور یونیورسٹی کے بینچ پر بیٹھی لڑکی پر نظر پڑے تو آنکھ بند

گاڑی یا بائیک پر کسی خاتون پر نظر پڑے تو آنکھ بند

جب روڈ پر لگے شہوت انگیز اشتہار پر نگاہ پڑے تو آنکھ بند

جب سامنے والے گھر کی کھڑکی میں کوئی چہرہ نظر آئے تو آنکھ بند

یہ جو چند سیکنڈز آپ اپنی پلکیں آنکھوں پر گرا لیں گے، اس سے ربِ محبت آپ کے باطن کے سارے کیمرے آن کر دے گا ، نیکیوں کے قمقمے روشن ہو جائیں گے اور حسرت سے بھرے دل کو سکون مل جائے گا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم نے کچھ چاہا تھا لیکن چند سیکنڈز میں اپنی چاہت کو ربِ محبت کی چاہت میں بدل دیا اور پھر بھی ربِ محبت تمہیں نہ نوازے؟

خدا کی قسم! تمہیں اتنی روشنی اور نور ملے گا کہ راضی ہو جاؤ گے۔ پھر تمہیں ایک خاص مٹھاس ملے گی جس سے تمہاری پلکوں کو بوقتِ ضرورت گرنے کی ہمت پیدا ہوگی اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ بس تم نے کچھ دیکھا اور ٹھیک اسی وقت یہ آیتیَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ (سورۃ مومن: 19)

اللہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔

پیچھے کھڑی ہو کر لاڈ سے آپ کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دے گی۔ آپ اس آیت کا لمس اور خوشبو محسوس کریں گے اور اپنی زبان سے آہستہ آہستہ، مدھم سی آواز میں دہراتے چلے جائیں گے :"اللہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے، اللہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔"

کالم نگار : مولانامحمداکبر
| | |
25