حج اور عمرہ عبادت ہیں، مگر ہمارے معاشرے نے انہیں رفتہ رفتہ ایک مکمل "سماجی پیکج" بنا دیا ہے۔ بندہ بیت اللہ جانے لگے تو لگتا ہے جیسے کشمیر فتح کرنے جا رہا ہے۔ ائیرپورٹ پر پورا خاندان، کزنز، پھوپھیاں، ماموں، گروپ تصویریں، ویڈیوز، آنسو، معافیاں، اور بعض لوگ تو ایسے رخصت کرتے ہیں جیسے اب واپسی کا کوئی امکان ہی نہیں۔
پھر سفر شروع ہوتے ہی سوشل میڈیا کا حج بھی ساتھ شروع ہو جاتا ہے۔
"ہم اس وقت جہاز میں ہیں"، "یہ جدہ ائیرپورٹ ہے"، "یہ پہلی نظر کعبہ شریف پر"، "الحمدللہ طواف مکمل"، "اب سعی جاری ہے"۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عبادت کم ہو رہی ہے اور باقاعدہ لائیو کوریج زیادہ چل رہی ہے۔ بعض لوگ تو روضہ رسول ﷺ کے سامنے سلام پیش کرتے ہوئے بھی موبائل کیمرہ آن رکھتے ہیں تاکہ بعد میں جذباتی nasheed لگا کر ریل اپلوڈ کی جا سکے۔
عبادت وہ ہوتی ہے جس میں بندہ خود کو چھپاتا ہے، یہاں حال یہ ہے کہ ہر عمل کی باقاعدہ میڈیا ٹیم موجود ہوتی ہے۔
واپسی پر ایک اور مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ فلائٹ لینڈ بھی نہیں کرتی اور لوگوں کے پیغامات شروع کہ زمزم ہمارے لیے بھی، کھجوریں بھول نہ جانا، بچوں کے لیے کچھ لے آئیے گا۔ گویا حج کا ایک رکن تحائف کی تقسیم بھی رہ گیا ہو۔ پھر اگر کسی کو تحفہ نہ ملے تو ناراضی الگ: “اتنی دور گئے تھے، ہمارے لیے یہی آیا؟
اس کے بعد حاجی صاحب کے گھر کئی دنوں تک باقاعدہ دربار لگا رہتا ہے۔ آنے والے ایسے بیٹھتے ہیں جیسے بندہ عمرہ کرکے نہیں بلکہ اندلس فتح کرکے واپس آیا ہو۔ حالانکہ حاجی خود سفر کی تھکن سے نڈھال ہوتا ہے، مگر معاشرہ اسے آرام بھی عبادت سمجھ کر نہیں دیتا۔
میرا یہی معمول ہے کہ اگر مبارکباد دینے جانا بھی ہو تو کم از کم دو ہفتے کا وقفہ رکھ کر جاتا ہوں، تاکہ سفر کی تھکان ختم ہو چکی ہو اور آرام سے دو باتیں کی جا سکیں.
سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ان رسومات کو اب دین سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ دین نے عبادتوں میں سادگی سکھائی ہے۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہؓ کے حج میں نہ یہ تکلفات تھے، نہ دکھاوا، عبادت جتنی خاموش اور سادہ ہو، اتنی زیادہ خالص ہوتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے عبادت کو بھی سماجی اسٹیٹس بنا لیا ہے۔ اب بعض لوگوں کے لیے حج روحانی سفر سے زیادہ “پروفائل اپڈیٹ” بن چکا ہے۔ عبادت کم، اعلان زیادہ۔ خشوع کم، کیمرہ اینگل زیادہ۔
اللہ کا واسطہ ہے حج اور عمرے کو دوبارہ عبادت کی کٹیگری میں واپس لے آئیں۔ نہ اسے خاندانی رسومات بنائیں، نہ سوشل میڈیا ایونٹ، نہ تحائف کا میلہ۔ بیت اللہ جانے والے کو دعاؤں، آسانی اور اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے، پروٹوکول کی نہیں۔