چھوٹی سی تھی جب میں اسکول میں داخل ہوئی، میرے مطالعہ کا آغاز اسی زمانہ میں ہوا اور چھ برس کی عمر میں کچھ پڑھ لینے کے قابل ہونے سے قبل ابا، امی اور باجی سونے سے قبل مجھے بلند آواز میں کہانیاں پڑھ کر سناتے تھے، اس چھوٹی سی عمر میں مجھے جانوروں کی کہانیاں خاص طور پر کپلنگ صاحب کی ”جنگل کی کہانی“ بے حد پسند تھی، جوں جوں میں بڑی ہوتی گئی مجھے دنیا کے مختلف ممالک کے بچوں کی کہانیاں پسند آنے لگیں، دس برس کی عمر میں مجھ میں سوانح عمریاں اور تاریخ کے مطالعہ کا شوق پیدا ہوا، گو کالج کے زمانے میں امی کو انگریزی ادبیات سے گویا والہانہ لگاؤ رہا تھا لیکن میری طبیعت کا رجحان ابا کے ذوق یعنی غیر ادبی چیزوں کی طرف تھا _
اگرچہ مجھے مطالعے کا ہوکا لگا رہتا تھا تاہم اسکول میں انگریزی ادبیات مجھے پہاڑ معلوم ہوتی تھیں، بچپن، بلوغت اور شباب کے زمانوں میں کبھی بھی نظم یا نثر میں انگریزی کلاسیکی ادب کا مطالعہ مجھ سے نہ ہوسکا، استادوں کے مجبور کرنے پر پڑھنے کا معاملہ مختلف ہے، انگریزی کا کلاسیکی ادب مجھے بیزار کن، بے معنی اور اپنی دلچسپیوں سے غیر متعلق نظر آتا اور تھوڑا بہت جو کچھ میں پڑھتی وہ بھی میرے حافظہ میں جڑ نہ پکڑتا، چاسر، شیکسپئر، کیٹس، شیلے، تھیکرے اور دوسرے کلاسیکی انگریزی ادیب نہ تو میرے لئے دلچسپی کا کوئی سامان فراہم کر سکے اور نہ ہی میں ان کے بارے میں کچھ جان سکی، ان کی زبان اور ان کے خیالات دونوں میرے لئے اجنبی اور ناقابل فہم تھے تو صاحب! انگریزی کے کلاسیکی ادب کی سمجھ لیجئے مجھے ہوا تک نہیں لگی _
امریکی نژاد ہونے کے باعث اردو کے مطالعہ نیز اردو ادب کی تفہیم اور اس سے لطف اندوز ہونے کی استعداد حسب دل خواہ نہیں ہو سکی، پس جو کتابیں میرے مطالعہ میں آتی ہیں زیادہ تر انگریزی زبان میں ہوتی ہیں، امریکہ میں پانچ برس سے اوپر (سیکنڈری اسکول اور کالج کے زمانے میں) میں نے فرانسیسی زبان سیکھی تھی اور اگرچہ پاکستان میں اس زبان کا جاننا کم و بیش بے مصرف ہے، پھر بھی میں اس زبان کا مطالعہ اس حد تک برقرار رکھتی ہوں کہ فرانسیسی کتب، جرائد اور اخبارات کا مطالعہ کر سکوں اور گاہے ماہے جب اسلامی امور پر کوئی انگریزی کتاب مجھے میسر نہیں آتی تو میں متعلقہ موضوع پر فرانسیسی کتاب دیکھ لیتی ہوں _ اردو زبان پر عبور حاصل نہ ہونے کے باعث اس زبان کی کتب میری دسترس سے باہر ہیں تاہم بعض اردو تحریروں کے انگریزی تراجم کے توسط سے میرے ذہن پر گہرے نقوش ثبت ہیں، ان میں ایک تو علامہ اقبال کی نظم ”شکوہ اور جواب شکوہ“ ہے جس سے مجھے آر بری صاحب نے آشنا کیا اور دوسرے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی ”اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟“ کا انگریزی عکس ہے، علاوہ بریں علامہ اقبال کی نظموں ”اسرار خودی“ اور ”رموز بے خودی“ (انگریزی مترجمین نکلسن اور آر بری صاحبان) نے بھی مجھے متاثر کیا ہے _
شعراء میں مجھے جاہلی عرب شعراء پسند ہیں جن کا کلام چارلس رائل کے انگریزی تراجم کی بدولت مجھ تک پہنچا، پھر علامہ اقبال جن سے مجھے نکلسن اور آر بری صاحبان نے روشناس کرایا _ افسانہ نگاروں، مزاح نویسوں نیز طنز نگاروں سے مجھے رغبت نہیں کیونکہ اب میں سنجیدہ علمی مضامین کا مطالعہ کرتی ہوں، یوں مجھے فکشن کی مختلف اصناف لطیفہ، طنز، مزاح سبھی ناپسند ہیں _ ایسے حضرات کی تحریریں مجھے اشتعال دلاتی ہیں اور چڑ چڑا کر دیتی ہیں جو ”معذرت خواہانہ انداز میں اسلام کی ایک ایسی جدید تعبیر پیش کرتے ہیں جو مغرب کے فلسفہ جدید کے اخلاقی اور علمی معیاروں سے لگا کھائیں اور اس شوق میں بہ بزر جمہر اسلام کے بنیادی اصولوں تک کو بدل دینے کی ہوس رکھتے ہیں تاکہ دنیاوی مصلحتوں کی خاطر اسلام کو رائج الوقت معیارات کے مطابق ڈھال دیا جائے“، پس مجھے مثبت طور پر نفرت ہے ان جرائد سے ”جو اسلام کو جدید زمانے کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں“، ان جرائد میں مرکزی اداره تحقیقات اسلامی کراچی کے شائع کردہ جرائد ”اسلامک اسٹڈیز“ اور ”امہ“ شامل ہیں، نیز خلیفہ عبد الحکیم، ظفر اللہ خان، میاں عبد الرشید یا کمال اے فاروقی ایسے اصحاب قلم بھی _
علاوہ بریں ہر قسم کی عامیانہ اور عریاں تحریروں نیز صنعت فلم سازی سے متعلق جرائد پر بھی میں مثبت طور پر تین حرف بھیجتی ہوں _
میرے پسندیدہ موضوعات مطالعہ ہیں تاریخ، سوانح، انسانیت عمرانیات اور نفسیات خصوصاً آج کی دنیائے اسلام کے مسائل سے متعلق _
میری محبوب ترین کتابیں ہیں قرآن مجید (انگریزی ترجمہ از پکتھال) مشکواۃ المصابیح شریف کا انگریزی ترجمہ و تفسیر از مولانا الحاج فضل الرحمن، اسلام میں عدل عمرانی (انگریزی) از سید قطب، اسلام چوراہے پر (انگریزی) از علامہ محمد اسد، مستقبل کا نظریہ حیات (انگریزی) از ڈاکٹر محمد رفیع الدین، بیسویں صدی کے ایک مسلمان شیخ: شیخ احمد علی علوی (انگریزی) از مارٹن لنگز، غزالی کا فکر و عمل (انگریزی) ترجمہ از منٹگمری واٹ، نیز مولانا سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی کی تالیفات ”مسئلہ قومیت“ ”اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر“ ”تاریخ تجدید و احیائے دین“ کے انگریزی تراجم _ میرے پسندیدہ جرائد ہیں ”دی مسیج“ جماعت اسلامی ہند (گزشتہ ایک برس سے کالعدم) کا ترجمان خلاف قانون جماعت اخوان المسلمون (قائد جماعت جناب سعید رمضان) کے ترجمان ”المسلمون“ کا انگریزی ضمیمہ، ”دی ریڈی اینس“ نئی دہلی، ینگ پاکستان ویکلی ڈھاکہ، ”دی مسلم ورلڈ“ موتمر عالم اسلامی، کراچی کا سرکاری جریده ”مسلم نیوز انٹرنیشنل“ کراچی، ان جرائد میں باقاعدگی سے لکھتی ہوں، اس فہرست میں کراچی کے ”الیقین انٹرنیشنل“ کا اضافہ بھی کر لیجئے _
میرے ذہنی نشو و ارتقاء میں جس کتاب نے سب سے زیادہ حصہ لیا ہے وہ ہے علامہ محمد اسد کی ”اسلام چوراہے پر“ (Islam on the cross Roads) جسے لاہور کے ناشر شیخ محمد اشرف نے شائع کیا تھا، یہ کتاب اول اول 1934ء میں سپرد قلم کئی گئی تھی، مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ ”اسلام اور جدید مغربی تہذیب میں مصالحت ناممکن ہے“ اس موضوع پر یہ تصنیف میرے نزدیک شاہکار کا درجہ رکھتی ہے، اس تصنیف میں موجود استدلال مجھے اس درجہ متاثر کرنے والا نظر آیا کہ ”اسلام چوراہے پر“ نے خدمت اسلام کی جہت میں میری تصنیفی سعی و جدو جہد کی بنیاد اور مستقبل کےلئے منزل متعیں کر دی، اس تصنیف کا جو موضوع تھا اور اس میں جو دلائل دیئے گئے تھے میرے تمام آئندہ مضامین کی اساس وہی بنے _
جن دیگر مضامین و کتب نے مجھے متاثر کیا وہ ہیں ”اسلام: شمق“ (ترکیہ کے مرحوم پرنس سعید حلیم پاشا کے مضامین بعنوان ”مسلمان معاشرہ کی سیاسی اصلاح“ (انگریزی مترجم بکتھال صاحب) ”ہماری تقدیر: تاریخ کے آئینہ میں“ (انگریزی جناب اے کے بروہی) مطبوعہ جریده ”وائس آف اسلام“ کراچی شماره جون 1962ء، ”فنون لطیفہ: حسن کیا ہے؟“ (انگریزی مترجم مصنف جناب ابراہیم علی چشتی) مطبوعہ پاکستان ٹائمز لاہور مؤرخہ21، 28 فروری 1964ء، نیز ”اسلامی تحقیق کا فریضہ“ (انگریزی) مصنف جناب ڈاکٹر محمد رفیع الدین مطبوعہ روزنامہ پاکستان ٹائمز لاہور مؤرخہ 2 اگست 1965ء _
تنہائی اور سکون ان دونوں کی مطالعہ کےلئے مجھے ضرورت ہوتی ہے، پر شور ماحول کے لوگ مجھے چڑ چڑا بنا دیتے ہیں اور مجھے آرام اور دل جمعی سے مطالعہ نہیں کرنے دیتے، چار پائی پر نیم دراز ہو کر پڑھنا مجھے مرغوب ہے، ایک گھنٹہ میں کوئی سو صفحے پڑھ لیتی ہوں جن کے مطالب ذہن میں محفوظ رہتے ہیں، جب بھی وقت ملے پڑھ لیتی ہوں لیکن اکثر تیسرے پہر یا سر شام، ریل یا بحری جہاز سے لمبا سفر در پیشں ہو تو چھوٹی چھوٹی کتابیں، اخبارات اور جرائد ساتھ لے لیتی ہوں لیکن کار میں یا ہوائی جہاز میں سفر کرتے وقت میرے لئے مطالہ کرنا ممکن نہیں ہوتا _
مطالعہ کے متعلق میرے پیش نظر کوئی نپا تلا پروگرام نہیں ہوتا، زیر مطالعہ کتب پر نشانات لگانے، سطور کو روشنائی سے نمایاں کرنا یا کتاب کے حاشیوں میں یاداشتیں لکھنا، ان میں سے کسی کی عادت بھی مجھ میں نہیں پیدا ہوئی، یوں میں اس طرح کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتی، میری یاد داشت اس تمام مطالعہ میں میرا ساتھ دیتی ہے جو میری دلچسپی کا باعث ہو یا جو مجھے متاثر کرے، اس ضمن میں تمام مرکزی افکار ان تحریروں کے مصنفوں کے نام وغیرہ میرے ذہن میں محفوظ رہتے ہیں، ایک اور وجہ _ میں اپنی کتابوں کو مکمل حالت میں دیکھنا چاہتی ہوں اور کسی طرح کے نشانات سے ان کا حلیہ بگاڑنا مجھے پسند نہیں _
جی تو یہی چاہتا ہے کہ مطالعہ سے جو عطر مجھ تک پہنچا ہے اس کی خوشبو سے میرے گھر والوں اور احباب کے مشام جان بھی معطر ہوں لیکن تجربہ یہ ہے کہ فلسفہ و دانش ایسے موضوعات پر میری گفتگو سن کر لوگ باگ اول بے توجہی سے کام لیتے ہیں اور پھر دق بلکہ زچ ہو جاتے ہیں، پس اس حوصلہ شکن رویہ کے باعث اس خوشبو کو میں اپنے تک محدود رکھتی ہوں _
پردہ کی کڑی پابند ہونے کے باعث چونکہ میں لاہور یونیورسٹی اور پبلک لائبریریوں سے استفادہ نہیں کر سکتی، پس جس کتاب کی مجھے ضرورت یا کمی محسوس ہو مجھے خریدنا پڑتی ہے تاہم صرف ضرورت نے ہی میرے ہاں ایک بڑے کتب خانے کو وجود نہیں بخشا، زیادہ سے زیادہ کتابیں خریدنے اور انہیں محفوظ رکھنے سے مجھے بے حد مسرت ہوتی ہے اور میں ایک طرح کا فخر محسوس کرتی ہوں، کتابوں سے مجھے ذاتی طور پر محبت ہے، انہیں میں حقیقی دوست سمجھتی ہوں، پس اپنی کتابوں کو حتی الامکان نئی اور مکمل حالت میں رکھنے کی کوشش کرتی ہوں، اگر میری کتابوں کو کوئی ایذا پہنچے یا وہ کسی اور طرح اچھی حالت میں نہ ہوں تو میں اداس ہو جاتی ہوں، صرف زر کثیر سے میں ان کی نئی جلد بندی کرواتی ہوں، سر ورق پر سیلو فین چڑھا دیتی ہوں تاکہ ان کا دلہنا پن تا دیر قائم رہے _
میرے کتب خانے میں اس وقت دو سو سے زائد کتابیں ہیں اور جب ان کی ضرورت نہ ہو تو انہیں ایک فولادی الماری میں مقفل اور بحفاظت رکھتی ہوں، ان کتابوں کے تعلق سے میں انتہاء درجہ کی خود غرض واقع ہوئی ہوں، ان کی ملکیت کے تعلق میں کسی قسم کا شرک مجھے گوارا نہیں، مانگنے سے کوئی کتاب صرف اس وقت مل سکے گی اگر اس کی کوئی فالتو جلد میرے پاس موجود ہو، میرے شوہر کتابیں مستعار دینے کے سلسلے میں لکھ لٹ واقع ہوئے ہیں لیکن ان کے ہاں سے کتابیں جاتے تو دیکھتی ہوں آتے نہیں دیکھتی، اکثر مستعاریے پرلے درجہ کے غیر ذمہ دار لوگ ہوتے ہیں اور ایسے غیر محتاط لوگوں کے ہاتھوں اپنی کتابوں کا گم ہونا یا مضرت اٹھانا مجھے پسند نہیں، مستعار دینے کی طرح مانگ کر پڑھنا اپنی عادت نہیں، اشد ضرورت کی بات دوسری ہے، جب کتاب مانگ کر پڑھنا پڑے تو میرے اعصاب قیامت سے دوچار ہو جاتے ہیں، مقدور بھر سرعت سے مطالعہ کرتی ہوں اور عموماً دوسرے دن لوٹا دیتی ہوں _
میرے کتب خانہ کی اہم ترین کتب قرآن مجید، احادیث کے مجموعے، حضور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک پر تصنیفات، افلاطون، میکاولی، والٹیر، مارکس، ڈارون، فرائیڈ اور جان ڈیوی جیسے مغربی فلاسفہ کی تصنیفات، نیز ولفریڈ کنٹول اسمتھ، سموئیل، زویمر اور کیتھ کریگ جیسے مغربی و مسیحی مستشرقوں کی تصنیفات (ماڈرن اسلام إن انڈیا، اسلام ان ماڈرن ہسٹری، چائلڈ ہڈ ان دی مسلم ورلڈ اور کال آف دی میزیٹ) بشیر احمد ڈار کی تصنيف حیات سرسید احمد (انگریزی) نیز جدید زمانے کے معذرت خواہانہ انداز کی حامل امیر علی صاحب کی اسپرٹ آف اسلام، ان کتابوں کو میں اپنا دوست نہیں دشمن سمجھتی ہوں لیکن اسلام سے متعلق غلط نظریات مجھے یہیں سے ملتے ہیں جن کی میں اپنی تحریروں میں تردید کرتی ہوں، اس اعتبار سے یہ تصانیف بے حد قیمتی ہیں _
جن کتابوں کی مجھے ضرورت ہے خصوصاً وہ کتابیں جو اب امریکہ میں نایاب ہوچکی ہیں، ان کے حصول کےلئے میں اپنی سی ہر ممکن سعی کر گزرنا چاہتی ہوں، جن کتابوں کی کمی میں اپنے ہاں محسوس کرتی ہوں ان کے حصول کےلئے میں پائی پائی تک خرچ کرنے سے دریغ نہ کروں گی، میرے کتب خانے کی بعض کتب مولا سید ابو الاعلیٰ مودودی و مولانا علی ندوی (لکھنو ہند) جیسی اہم شخصیتوں کی جانب سے تحفہ موصول ہوئی تھیں _
ذاتی تجربہ سے براہ راست جو کچھ میسر نہیں آسکتا اس کے حصول کےلئے مطالعہ ناگزیر ہے، مطالعہ کتب سے فرد کے ذہنی افق کو وسعت میسر آتی ہے جو اس کی محدود زندگی سے کہیں دور ہوتی ہے، پس مطالعہ نہ تو محض ایک شغل ہے اور نہ ہی مسرت کی خاطر پڑھنا مطالعہ کا کوئی اچھا مصرف ہے، آج کی نوع بہ نوع مصروفیات میں محصور فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنے فرصت کے اوقات میں مطالعہ کےلئے (مثلاً شام کو کھانے کے بعد تھوڑی دیر کےلئے) کچھ وقت نکالے خواہ اس کےلئے اسے احباب کی ملاقاتوں کے وقت میں کمی کرنی پڑے، مطلوبہ کتابیں خرید کر، مستعار لے کر یا لائبریریوں سے کر مطالعہ کی جا سکتی ہیں _
اسلامی طرز حیات، اسلامی نظام معاشرت، اسلامی تہذیب و ثقافت اور اسلام کے شاندار ماضی کے تعلق سے پاکستان کے مسلمانوں کو مناسب معلومات فراہم کرنے کےلئے ضروری ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ان زبانوں کے مطالعہ پر زور دے جن کے مطالعہ سے ان ذرائع سے براہ راست واقفیت حاصل کی جاسکتی ہے، پس عربی، فارسی اور اردو (عربی رسم الخط میں) کا جاننا کالج کے طلبہ کےلئے لازمی قرار دیا جائے، قرآن مجید کی کلاسیکی عربی زبان کے مطالعہ پر بالخصوص زور دیا جائے، ہمارے تعلیمی نظام کو قرآن مجید، حدیث پاک، سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، اسلامی تاریخ اور دنیائے اسلام کے ہم عصر مسائل کے مطالعہ پر زور دینا چاہیے _
ان علوم کی تحصیل اسلام کے خالص فلسفیانہ نکتہ نظر سے ہونی چاہیے اور اسے متجددین معذورین کی فکری آلائشوں سے پاک رکھا جانا چاہیے، اس سلسلہ میں جن لکھنے والوں کو پڑھنے کی خصوصی سفارش کی جائے وہ امام بخاری جیسے محدث، ابن اسحق اور ابن ہشام ایسے ثقہ سیرت نگار کتاب المغازی ایسی تالیف کے مولف الواقدی، نیز امام غزالی، شاہ ولی الله، علامہ اقبال کی فارسی اور اردو شاعری، شیخ حسن البناء اور مولانا سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی کی تمام تالیفات _
تعلیم یافتہ نوجوانوں کو میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ ان تمام اسلامی اور غیر اسلامی عمدہ تصنیفات کا بے کھٹکے مطالعہ کریں جو انہیں دلچسپ معلوم ہوں یا جوان کے کاروبار وغیرہ سے تعلق رکھتی ہوں ایک طرف تو اسلامی تصنیفات کے گہرے مطالعے پر مبنی اسلامی ذہن بنانے کی ضرورت ہے دوسرے اہم انگریزی کتابوں کو دیکھنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ دونوں کی تہذیبی و ثقافتی اقدار سے ان کے صحیح پس منظر میں آگاہی حاصل ہو سکے، نوجوان پاکستانیوں کو میں بالخصوص یہ مشورہ دوں گی کہ علامہ اقبال کا کلام اور مولانا ابو الاعلی مودودی صاحب کی تمام تصنیفات کا مطالعہ کریں، اخبارات و جراند میں روزنامہ ”نوائے وقت“ کے مطالعہ کی سفارش کروں گی کیونکہ یہ ٹرسٹ زدہ نہیں، ماہناموں میں ”ترجمان القرآن“ کا مطالعہ سود مند رہے گا _
والدین پر لازم ہے کہ خود اچھی کتابوں کے مطالعہ کی عادت ڈالیں اور اس طرح اپنے بچوں کےلئے ایک اچھی مثال قائم کریں، میں تو یقیناً یہی کروں گی اگرچہ میرا تجربہ یہ یہ ہے کہ والدین کی مثال اور کوششیں بچوں کو بس ایک حد تک ہی متاثر کرتی ہیں اور والدین کے دائرہ اثر سے باہر کا ماحول بچوں کی پسند و ناپسند سے مل کر انہیں متاثر کرتا ہے _
آخر میں قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کے بارے میں چند الفاظ اگرچہ تعلیمات اسلامی کے تعلق میں یہ بالکل ناکافی ہوگا کہ قرآن مجید کو اس کا مفہوم سمجھے بغیر طوطے کی طرح رٹ لیا جائے لیکن میری رائے یہ ہے کہ اسلامی تربیت کی کلیتا عدم موجودگی سے یہ کہیں بہتر ہوگا، اس کی بدولت بچہ کی تربیت ایک اسلامی ماحول میں ہو جاتی ہے اور اس کے دل میں کلمۃ اللہ کےلئے احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، بچہ اگر عربی متن کو نہ سمجھ سکے تو قرآن پاک کی قرات سے ہی اس کے کانوں میں قرآن پاک کی محض آواز ہی رس گھولتی رہے گی اس طرح ایک اچھی بنیاد میسر ہو جائے گی اور سن شعور تک پہنچتے پہنچتے عربی زبان پر عبور حاصل کرنے نیز قرآن پاک کے متن کو سمجھنے کی راہیں بھی کھل سکیں گی، ہمارے جدید روشن خیالوں کا یہ خیال کہ بچہ چونکہ عربی زبان سمجھ نہیں سکتا لہذا اسے قرآن کی قرآت سکھانا بے مصرف ہے ایک بہانہ ہے جسے اسلامی تہذیب و ثقافت کے دشمن اس لئے پیش کرتے ہیں تاکہ مسلمان بچے کو سرے سے اسلامی تعلیم مل ہی نہیں سکے _