(+92) 319 4080233
کالم نگار

-ایک قاری کاانتخاب

-ایک قاری کاانتخاب

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
آئیڈیل خوب سے خوب تر کی تلاش ،مگر خوب تر کہاں؟
لبرلز کا لڑکیوں کو کیرئیر بنانے کا جھانسہ،فیمنسٹ سوچ کا کیا کیا جائے جو تمام مردوں کو سائیکوپیتھ سیریل کلر سمجھتی ہیں اور لڑکیوں کو بدظن کرتی ہیں۔جب کیرئیر بنانے کے چکر میں بیچلرز کر لیتی ہیں تو ان کو ماسٹرز کئے ہوئے لڑکے چاہئیے- اب ایسے ماسٹرز کئے ہوئے لڑکے جو غیر شادی شدہ ہوں ان کی تعداد کم ہوتی ہے- بیچلرز سے کم تعلیم والے لڑکوں سے ان کو شادی نہیں کرنی-- جب جاب شروع کرتی ہیں تو ان کو اپنی تعلیم سے زیادہ، بہتر جاب والے لڑکے چاہئے جن کی تعداد مزید کم ہوتی ہے- اور جس کی تعلیم اور جاب بہتر ہو وہ پچیس سال والی لڑکی سے کیوں شادی کرے، وہ بیس سال والی لڑکی سے کیوں نہ شادی کرے- جب لڑکی بیچلرز سے ماسٹرز ہو جاتی ہے تو اس کو ماسٹرز اور بہتر آمدنی والا لڑکا چاہئے-غرض کہ الیجبلز بیچلرز کی تعداد لڑکی 30 کے قریب پہنچنے تک مزید کم ہو جاتی ہے۔لڑکی کے مزاج میں عمر کے ساتھ ساتھ سختی بڑھتی ہے، اس میں نباہنے اور ایڈجسٹمنٹ کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔مرد بھی آج کل کے چین پٹاخ والی خواتین سے بھی ڈرتے ہیں جو جاب کی سیاست میں ماہر ہو چکی ہوتی ہے-ومن امپاورمنٹ اور برابری کا زمانہ ہے- مرد اپنے سے کم تعلیم یافتہ اور کم مالی حیثیت کی لڑکی سے عام طور پر شادی کرتے ہیں تو عورت بھی اپنے سے کم تعلیم یافتہ اور کم مالی حیثیت والے مرد سے کیوں نہیں شادی کرنا چاہتی؟ اس کے پیچھے اب تک احساس کمتری کا جزبہ کارفرما ہے؟

میں۔ کچھ عرصہ پہلے اپنے رشتے کے لئے ایک پوسٹ لگائی تھی ۔ بہت سی فیملیز نے رابطہ کیا کنواری لڑکیاں تو اپنی جگہ میں تو بیوہ اور طلاق یافتہ کی ڈیمانڈز سن کر خاموش ہو جاتا۔ اور اس کے باوجود یہ ڈنڈھورا پیٹا جاتا ہے کہ لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے ماں باپ کے گھر میں بیٹھی ہیں, بلکہ یہ کہیں کہ پیسے والا لڑکا نہ ملنے کی وجہ سے ماں باپ کے گھروں میں بال سفید ہو رہے ہیں۔ نکاح کو سنت نہیں بلکہ بزنس ڈیلنگ بنا دیا گیا ہے دوسری کاسٹ کے لڑکے سے شادی نہیں کرنی۔ جس کا ذاتی گھر نہیں اس سے نہیں کرنی۔ جس کا بنک بیلنس نہیں اس سے نہیں کرنی۔ سٹی سے باہر نہیں کرنی۔ عمر میں فرق ہے نہیں کرنی۔ زبان میں فرق ہے نہیں کرنی۔ لڑکے کا قد چھوٹا ہے۔ ڈاکٹر ہے تو بس ڈاکٹر سے کرنی۔ وغیرہ وغیرہ!

کسی نے یہ نہیں کہا کہ لڑکا شریف ہونا چاہیے، دیندار ہونا چاہیے۔ مجھے یہاں پہ کوئی لڑکی یا اس کے ماں باپ جو بھی اس تحریر کو پڑھ رہے ہیں، یہ بتا دیں کہ کیا ان کے پاس اس بات کی یقین دہانی یے کہ جو کچھ دنیاوی چیزیں گھر گاڑی پیسہ آج ان کے پاس ہے، کل بھی ہوگا۔۔۔؟ کیا یہ سب چیزیں دینے والی اللہ کی ذات واپس نہیں لے سکتی؟ اگر نہیں تو خدارا لڑکوں کا بینک بیلنس ، گھر، گاڑی دیکھ کر نہیں، ان کا کردار دیکھ کے اپنی بچیوں کی شادی کریں۔ لالچ بری چیز ہے۔

افسوس۔۔۔۔نکاح کو بہت مشکل بنا دیا ہے ہمارے معاشرے نے۔بھیا جب 22, چھبیس سال کے یا اس سے بھی زائد عمر کے والے لڑکے لڑکیاں شادی کی عمر ہونے کے باوجود کالج یونیورسٹیوں میں تعلیم کے نام پر مکمل دھکے کھاتے رہنے کے عادی کر دیئے جائیں گے تو اس کے بعد نوکریوں کے لیئے بھی پاپڑ بیلنا پڑیں گے اور پھر اسی مغربی دجالی استعمار نے جو اپنے مقامی آلہ کاروں کے ذریعے لڑکے لڑکوں کو فلمی اسٹوریوں کا زھر دماغوں میں اتارا ہے اور معاشرے میں اسٹیٹس کو کے نام پر اور ائیڈیلز کے عنوان کے جو فلمی دنیا دکھائی ہے تو پھر کیسے بچوں کی شادیاں آسانی سے ہوسکتی ہے۔اور پھر اس سب پر مستزاد مغرب نے پاکستان کے معاشی نظام کو جس بیدردی سے جھکڑ کر عوام کا کچومر نکلوایا ہے تو ایسے میں جو آپ کو نظر آرہا ہے وہ اچھی بہت کم ہے۔

اللّٰه کریم ہم سب کو آنکھیں کھولنے کی اور حقائق جان کر ان کے تدارک کی کوششوں کا حصہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

کالم نگار : -ایک قاری کاانتخاب
| | |
76