(+92) 319 4080233
کالم نگار

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
بلوچ روایات کی موت
1480 ء کی بات ہے کہ جب پناہ میں آئی معزز عورت گوہر ، بلوچ سردار میر چاکر کے دربار میں اس حال کو پہنچی کہ اس کی آواز رندھی ہوئی اور آنکھیں اشکوں سے تر تھیں اس نے روتے ہوئے دہائی دی

سردار!میں تو آپکی باہوٹ میں تھی اس کے باوجود لاشاریوں نے میری پیٹ والی اونٹنیوں کو نشانہ بنایا انہیں مار دیا.اس عورت نے دہائی دی کہ سردار لاشاریوں نے آپ کی پناہ اور غیرت کو للکارا .

یہ سننا تھا کہ میر چاکر کی آنکھوں میں خون اتر آیا اس نے اپنی نشست سے اٹھتے ہوئے کہا کہ."اے گوہر! لاشاریوں کے یہ تیر تیری پیٹ والی اونٹنیوں پر نہیں لگے، بلکہ یہ تیر میر چاکر کی پگڑی اور رند قبیلے کی غیرت پر لگے ہیں"

گوہر نام کی یہ عورت خاصی مالدار اور بڑی تعداد میں مال مویشی کی مالک تھی یہ میر چاکر کی باہوٹ یعنی پناہ میں تھی اس کے اونٹ میروں کے علاقے میں آزادانہ چرتے پھرتے کوئی روک ٹوک نہ تھی اک روز لاشاری قبیلے کے نوجوان سردار زادوں نے شکار کا تعاقب کرتے کرتے شرارت میں گوہر کی کئی بچہ جننے کے قریب اونٹنیوں کو تیر سے نشانہ بنا ڈالا ، جانتے ہیں پھر کیا ہوا؟

ان اونٹنیوں کے مارے جانے سے لاشاری اور رند قبیلے میں وہ جنگ چھڑی جو پورے تیس سال نہ رکی ۔۔۔۔پہلے چاکر خان نے لاشاریوں پر حملہ کیا اور اونٹنیوں پر تیر چلانے والا سردار زادے کو مار دیا اس کے بعد باری لاشاریوں کی تھی ۔۔۔۔۔جنگ کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا کہتے ہیں اس جنگ میں چالیس ہزار بلوچ جنگجو مارے گئے ۔نقصان اتنا بڑھا کہ دونوں طرف تلوار اٹھانے کے لئے جوان ہاتھ نہ رہے، اس کے باجود بلوچ کی انا اور غیرت انہیں تلواریں نیام میں ڈالنے نہیں دے رہی تھیں تب سفید داڑھی اور پگڑیاں والے بزرگوں،علماء اور خواتین میڑھ یعنی وفد بنا کر سرداروں کے پاس گئیں اور سروں سے چادر اتار کر پھیلا کر امن کے لئے سوالی بن گئیں یہ وہ آخری ہتھیار تھا جس نے بلوچ سرداروں کے سارے ہتھیار ایک طرف رکھوا دیئے جنگ رک گئی بلوچ روایات میں باہوٹ اور میڑھ طاقتور سرداروں سے بھی طاقت ور ہوتے ہیں بلوچ مر جاتا ہے اپنی روایات سے منہ نہیں پھیرتا ۔۔۔۔۔ کتابوں میں ایسا ہی لکھا ہے۔

لیکن آج کا سرمچار بلوچ روایات کا بھی باغی ہے۔

کراچی کے علاقے ناظم آباد میں علی جمیل نے بھی شاید ایسا کچھ پڑھ رکھا ہوگ وہ کار میں خواتیں اور بچیاں ساتھ لیے سفر میں تھا کہ راستہ بھٹک کر دشت کے علاقے میں چلے گیا جہاں دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے علی جمیل کو خون میں لت پت کردیا اور اس کی اہلیہ کو بھی زخمی کردیا علی جمیل جانبر نہ ہوسکا دم توڑ گیا لیکن وہ اکیلا نہیں مرا اصل میں بلوچ روایات نے دم توڑا ہے جسے کوئی میڈیا رپورٹ نہیں کررہا ۔۔۔۔۔ نسلی بلوچ تو پناہ میں آئی گوہر کی اونٹنیوں کا بدلہ لینے نکلے تو تیس برس تک تلواریں بے نیام نہ رہی تھیں یہاں تو کوئی اس بیچاری کے سر پر چادر رکھنے والا بھی نہ تھا ۔دشت میں بلوچ روایات مرگئیں!

کالم نگار : احسان کوہاٹی
| | |
30