قرآن کریم کی روشنی میں :
کبھی آپ نے ازل کے اس آشوب پر غور کیا ہے جب تخلیق کی بساط پر دو متضاد انجام رقم ہو رہے تھے؟
ایک طرف وہ ہستی تھی جسے خاک سے اٹھا کر امینِ کائنات بنایا گیا، اور خطائے نافرمانی کے بعد اسے یوں چن لیا گیا کہ رحمتِ الٰہی کا مہرِ منیر اس کے ماتھے کا جھومر بن گیا:
{ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَىٰ} (پھر اس کے رب نے اسے برگزیدہ کیا، سو اس کی توبہ قبول فرمائی اور ہدایت سے نوازا)۔
دوسری طرف وہ تھا جو عبادت کے اوجِ ثریا پر متمکن تھا، مگر ایک لغزشِ حکم نے اسے ابد تک کے لیے راندۂِ درگاہ اور ملعونِ زمانہ کر دیا:
{وَإِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ} (اور بے شک تجھ پر انصاف کے دن تک لعنت ہے)!
یہ دو مختلف انجام کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھے۔ یہ فرق "ارتکابِ گناہ" کا نہیں تھا، بلکہ گناہ کے اس لمحے میں دھڑکنے والے "دل کی کیفیت" کا تھا۔ یہی وہ ازلی اسلوب ہے جو آیات کے بین السطور سے چھن کر آج بھی نوعِ انسانی کے مقدر کا فیصلہ کرتا ہے۔
1.... خطائے آدم علیہ السلام :
عارضی لغزش اور خاک کی عاجزی,
آدم علیہ السلام کا قدم بہکنا کوئی شعوری بغاوت یا سرکشی کا منصوبہ نہیں تھا، بلکہ وہ انسانی جبلت کی ایک عارضی غفلت اور نرم لمحہ تھا، جسے ابلیس نے "لازوال بادشاہت اور بقائے دوام" کا فریب کارانہ لبادہ اڑھا کر شکار کیا۔ وہ دل سے نافرمان نہیں تھے، بس بیدار مغزی کے اس لمحے میں لغزش کھا گئے۔
قرآنِ کریم نے اس نفسیاتی موڑ کی کیسی دلآویز تصویر کشی کی ہے:{وَلَقَدْ عَهْدْنَا إِلَىٰ آدَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا} (طہ: 115)
"اور بالتحقیق ہم نے اس سے پہلے آدم کو ایک حکم دیا تھا، سو وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں (نافرمانی کا) کوئی پختہ ارادہ نہیں پایا۔"
یہاں ارادے (عزم) کی نفی ایسے ہی ہے جیسے کسی کے لبوں سے نادانستہ کوئی لغو لفظ نکل جائے، جس کے پیچھے دل کا کوئی عناد نہیں ہوتا۔ یہ وہ گناہ ہے جو خواہشِ نفس کے ایک عارضی طوفان میں شعور کے توازن کھو دینے سے سرزد ہوتا ہے۔ الٰہی قانونِ رحمت ایسے ہی نادان گناہ گاروں کو اپنی آغوش میں لینے کا اعلان کرتا ہے:
{إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ} (النساء: 17)
چنانچہ، جیسے ہی غفلت کا وہ دھندلا بادل چھٹا، آدم علیہ السلام کا وجود ندامت کے آنسوؤں سے وضو کرنے لگا۔ دل ٹوٹا تو غرورِ خاکستری سجدے میں بکھر گیا اور پکار اٹھا: {رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا} (اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا)۔
2.... معصیتِ ابلیس:
شعوری سرکشی اور انا کا کھوٹ,اس کے برعکس، ابلیس کا گناہ کوئی لغزشِ پا یا بھول چوک کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ وہ پورے ہوش و حواس، پختہ ارادے اور عقل کے زعم میں بٹی ہوئی ایک بدترین بغاوت تھی۔ اس نے دل سے گناہ کو چنا تھا۔
قرآن نے اس کے اس تکبر کو فصاحت کے ساتھ بے نقاب کیا:
{أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ} (البقرة: 34)
"اس نے انکار کیا اور تکبر کیا، اور وہ کافروں میں سے ہو گیا۔"
یہ وہ گناہ ہے جس کی جڑیں دل کی گہرائیوں میں جمی ہوتی ہیں، جسے قرآن {بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ} (جو تمہارے دلوں نے کمایا) سے تعبیر کرتا ہے۔ ابلیس نے صرف نافرمانی نہیں کی، بلکہ اپنے گناہ کا دفاع کیا، عقل کا فاسد موازنہ (قیاس) پیش کیا کہ {أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ} (میں اس سے بہتر ہوں)۔ اس نے ندامت کی بجائے ڈھٹائی کا راستہ چنا اور اپنے گناہ کو قیامت تک کے لیے ایک مشن بنا لیا۔ جہاں دل پتھر ہو جائے اور عاجزی کا نور رخصت ہو جائے، وہاں رحمتِ الٰہی کے سوتے خشک ہو جایا کرتے ہیں۔
عصرِ حاضر کے نام پیغام:
آئینے میں اپنا عکس دیکھیں.جنت کا یہ قصہ کوئی پرانی داستان نہیں، بلکہ بنی نوع انسان کے لیے سلوکِ الٰہی کا پہلا ضابطۂِ حیات ہے۔ خالقِ کائنات نے ہمیں معصوم فرشتے بنا کر زمین پر نہیں اتارا، بلکہ ہمیں انسان بنایا ہے—وہ انسان جو لغزش کھاتا ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ اس کا دل تکبر کے زہر سے آلودہ نہ ہو۔
معیارِ موازنہ (ترازو):
اہم یہ نہیں کہ دامن پر گناہ کا داغ لگ گیا ہے یا نہیں؛ اہم ترین بات یہ ہے کہ گناہ کے بعد آپ کے دل کا عالم کیا ہے:
طریقِ آدم اختیار کیجیے:
اگر کمزوری کی وجہ سے قدم لڑکھڑا گیا ہے، تو فوراً عاجزی، اعترافِ جرم اور اشکِ ندامت کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں گر جائیے۔ {رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا} کا مرہم ہر زخم کو بھر دے گا اور آپ کو رحمتِ خداوندی کا سایہ مل جائے گا۔
طریقِ ابلیس سے پناہ مانگیے:
اپنے گناہ پر اصرار، ضد، ڈھٹائی اور "ہم تو ایسے ہی ہیں" کا ابلیسی لہجہ اختیار کرنے سے بچیں۔ گناہ پر تکبر کرنا اور اسے اپنی جبلت کا جواز بنا لینا دل پر وہ زنگ (ران) چڑھا دیتا ہے جو توبہ کی آخری کھڑکی بھی بند کر دیتا ہے۔
"تمہاری بھول چوک پر گرفت نہیں ہے، گرفت تو اس بات پر ہے جس کا عزم اور ارادہ تمہارے دلوں نے کیا ہو۔"
گناہ کے اس اندھیرے لمحے میں اپنے اندر کے انسان کو ٹٹولیں، اور اپنے گناہ کی سیاہی سے زیادہ تیز اپنے پچھتاوے کے نور کو بنائیے، کیونکہ سچی ندامت گناہ کو بھی بندگی کا خوبصورت ترین شاہکار بنا دیتی ہے۔
یا اللہ! ہمیں گناہوں کی سیاہی سے محفوظ رکھ، اور اگر نادانی میں قدم بہک بھی جائیں، تو ہمیں اپنی بارگاہ میں ایسی سچی اور توبہ نصوح کی توفیق عطا فرما جو ہمارے تمام داغ دھو دے۔ آمین!