(+92) 319 4080233
کالم نگار

فیض عالم

فیض عالم

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
نسلوں کوفکری زوال سے بچاناہوگا
عجیب صورت حال ہے:
میری اکثر کلاس فیلوز بیرون ملک مقیم ہیں۔ جو اکثر مجھے مختلف پوڈ کاسٹ کے لنکس بھیجتی رہتی ہیں۔ جو علم نفسیات، معاشیات، سیلف ڈیولپمنٹ، اسپروئچل سائکولوجی، پیرنٹنگ، لائف کوچنگ وغیرہ کی پوڈ کاسٹ زیادہ تر ہوتی ہیں اور چونکہ میری فیلڈ بھی یہی ہے تو اسی حساب سے ہمیں اکثر ہمارے اساتذہ کی طرف سے بھی اسی طرح کے پوڈ کاسٹ یا ڈاکیومینٹریز دیکھنے کی لیے مشورے دئیے جاتے ہیں۔

ان پوڈ کاسٹ میں انتہائی گہرائی پر مبنی باتیں ہوتی ہیں، جو جس فیلڈ کا ہوتا یے اس فیلڈ کا چیتا معلوم ہوتا ہے۔ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کی پوڈ کاسٹ میں مجھے اتنا کچھ مل جاتا ہے مزید تحقیق کرنے کے لیے کہ میں لکھتے لکھتے اکثر تھکاوٹ کا شکار ہو جاتی ہوں۔ نت نئے سوچ دروازے کھولتے ہیں، ذہن میں بڑے سوالات آتے ہیں۔ مزید شوق پیدا ہوتا ہے مختلف موضوعات کو جاننے کا۔ انتہائی باریک بینی سے کسی بھی موضوع کو جاننے کے لیے ایک نئی جستجو پیدا پوجاتی ہے۔

اس کے برعکس پچھلے کچھ عرصے میں میں نے اپنے ملک میں اس پوڈ کاسٹ انڈسٹری کا مشاہدہ کیا۔ سب سے چونکا دینے والی بات جو میرے مشاہدے میں آئی وہ یہ تھی کہ ہمارے معاشرے میں سنجیدگی آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے یا کچھ خاص طبقات میں سمٹتی جا رہی ہے۔ ہر طرف گانے بجانے والیوں کو لے کر کوئی ایک دیوث بیٹھا ہوتا ہے، گندے سوالات، طوفان بدتمیزی، جو خود کو ماہر نفسیات کہہ رہی ہوتی ہے، وہ خود ذہنی مریضہ لگتی ہے اپنی باتوں سے، کوئی ٹھمکے لگا کر پیسے کمانے کے طریقے سیکھا رہی ہے۔ فضول گوئی، بیہودگی پر مبنی باتیں۔۔۔ اور شائقین لاکھوں کی تعداد میں یہ سب دیکھ رہے ہیں، گالیاں بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں مگر ویوز اور کمنٹس کی بھرمار الگ ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ ہمارے یہاں کوئی کام کی بات کرنے والا نہیں ہے بلکل ہیں مگر جو ہیں ان کو بھی موٹیویشنل اسپیکر کا ٹھپا لگا کر، بےکار سمجھ لیا گیا یے، جو دین کی بات کرے وہ مولوی، جو ہیسہ کمانا سیکھائے وہ دنیا پرست، جو روحانیت پر بات کرے وہ ڈھونگی بابا سمجھا جاتا یے۔۔۔۔ ہاں میں مانتی ہوں کہ ہمارے یہاں ہر فلیڈ میں اعلی درجے کی کرپشن ہوئی ہے مگر ایسا نہیں ہے کہ کوئی کام کا انسان اب بچا ہی نہ ہو، مگر لوگوں کے ذہن جیسے پنجرے میں بند ہوچکے ہیں، اصل کام والے لوگوں کو بھی سننے کا رجحان بہت زیادہ نہیں ہے۔ تنقید زیادہ یے سننا سمجھنا کم ہے، ہماری عوام کو مرچ مصالحہ زیادہ چاہیے۔ سطحی درجے کی باتیں سننے کی عادت بنی ہوئی ہے۔, ایک پوڈ کاسٹ آئے گی جس میں نچلے درجے کی گفتگو کے علاوہ کچھ نہ ہوگا۔ اسے دیکھا جائے گا پھر ریلز شئیر کرنے کا سلسلہ شروع ہوگا پھر میمز بننے لگیں گی۔ کبھی آپ نے دیکھا کہ کسی علمی و فکری پوڈ کاسٹ پر ایسے دیوانہ وار توجہ لٹائی ہو ہماری عوام نے؟

دراصل ایک گہری گفتگو انسان سے فکری محنت مانگتی ہے، جو کہ ہماری عوام سے ہوتی نہیں ہے، انہیں ایسا مواد نہیں چاہیے جو ان کے تصورات کو چیلنج کرے، ان کی کمزوریوں سے اس کا سامنا کروائے، اور بعض اوقات انہیں تبدیل ہونے پر مجبور کرے۔ انہیں ایسا مواد چاہیے جس میں کسی کی برائی ہو، کسی کو الزام دیا جائے، فضول بےکار باتیں اور سسٹم کا رونا گانا یا پھر محض انتہائی نچلے درجے کی تفریح جب کہ سطحی تفریح انسان کو کچھ دے یا نہ دے، وقتی لذت ضرور دے دیتی ہے۔ دماغ فطری طور پر آسان راستے کی طرف مائل ہوتا ہے اور یہی ہماری قوم کے ساتھ ہورہا یے۔

تاریخ میں بھی اکثریت کبھی اہلِ علم کے گرد جمع نہیں ہوئی۔ عوامی ہجوم ہمیشہ تماشے کی طرف زیادہ گیا ہے لیکن فیصلہ تو قوموں نے کرنا ہوتا ہے کہ ان کو ہجوم ہی بنے رہنا ہے یا اہل علم کا مداح بننا ہے۔ جب معاشرے میں تفریح، تفکر پر غالب آ جائے تو ذہن محظوظ تو ہوتے ہیں، مگر بالغ نہیں ہوتے اور ہمارا معاشرہ ذہنی نابالغ لوگوں سے بھر چکا ہے۔

کسی بھی قوم کے لیے یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ جب اہلِ علم کی مجلسیں خالی اور تماشے آباد ہونے لگیں تو یہ صرف ذوق کا بحران نہیں رہتا، یہ تہذیب کے زوال کی علامت بن جاتا ہے۔اگر آپ کچھ سیکھنا سمجھنا اور غور و فکر کرنا چاہتے ہیں تو اس تفریح لینے والے مائنڈ سیٹ سے باہر نکلیں۔ سنجیدہ لوگوں کو سننا شروع کریں۔ اپنے اوپر کام کرنے کی جستجو جگائیں۔ اپنے کانوں کو علمی و فکری باتیں سننے کی عادت ڈالیں۔

ہم بطور قوم اجتماعی طور پر ایک عجیب سا علم بےزار رویہ اپناتے جا رہے ہیں۔ ہم گہرائی میں نہیں جاتے، ہم باریک نکات پر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو رہے ہیں۔ آپ جس بھی فلیڈ سے تعلق رکھتے ہیں، اسے کھنگالیں، ہمارے پاس علمی و معیاری شخصیات کی کمی نہیں ہے۔ آپ ڈھونڈیں آپ کو ضرور مل جائیں گی مگر سوشل میڈیا پر موجود اس سرکس سے باہر نکلیں، یہ سرکس آپ کے ذہن کے ساتھ کھیلنے کے لیے سجائی گئی ہے۔

اگر ہمیں اپنی نسلوں کو فکری زوال سے بچانا ہے تو تفریح حاصل کرتے رہنے کی عادت کو چھوڑنا ہوگا۔ سنجیدہ ہونا ہوگا، معیاری اور علمی گفتگو اور عمل کی طرف آنا ہوگا اور اس کے لیے آپ کو ناچنے گانے والوں کی بجائے علمی شخصیات سے جڑنا ہوگا۔

کالم نگار : فیض عالم
| | |
57