(+92) 319 4080233
کالم نگار

ثناءاللہ حسین،صوابی

ثناءاللہ حسین،صوابی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
موت سے چند لمحے پہلے
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ انصار کے ایک شخص کے جنازے میں نکلے۔ ہم قبر تک پہنچ گئے اور ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی، تو رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے ارد گرد اس طرح بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں (یعنی انتہائی خاموشی اور ادب کے ساتھ)۔ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور دو یا تین مرتبہ فرمایا: "قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔" [رواہ البخاري]۔ پھر آپ ﷺ نے ہمیں ان سخت لمحات کے بارے میں بتایا جو اس وقت شروع ہوتے ہیں جب روح قبض کرنے کا اللہ کا حکم آجاتا ہے۔

موت کی سختیاں (سکراتِ موت):
یہ داستان اس سے بھی پہلے شروع ہوتی ہے، یعنی جب وہ وقت (اجل) آجاتا ہے جو اللہ نے ہر نفس کے لیے لکھ رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:{كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ} [آل عمران: 185]

"ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔"

اور ان لمحات میں موت کی سختیاں حق کے ساتھ آ پہنچتی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ} [ق: 19]

ترجمہ: "اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آ پہنچی، یہی وہ چیز ہے جس سے تو بھاگا کرتا تھا۔"

نبی کریم ﷺ نے بھی یہ خبر دی ہے کہ موت کی سختیاں ہوتی ہیں، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے چمڑے کا ایک برتن (یا پیالہ) تھا جس میں پانی تھا۔ آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ پانی میں ڈالتے اور انہیں اپنے چہرے پر ملتے ہوئے فرماتے:"لا إله إلا الله، إن للموت سکرات" [رواہ البخاري]

"اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بے شک موت کی کچھ سختیاں ہوتی ہیں۔"

یہ سختیاں پاؤں سے شروع ہوتی ہیں۔ جب ملک الموت (موت کا فرشتہ) روح قبض کرنے آتا ہے، تو وہ پہلے دونوں ٹانگوں کو شل (بے حس و حرکت) کر دیتا ہے تاکہ بندہ ان ہولناکیوں کو دیکھ کر بھاگ نہ سکے جو وہ دیکھنے والا ہے، چنانچہ وہ نہ بھاگنے پر قادر ہوتا ہے اور نہ ہلنے جلنے پر۔ پھر حرارت جسم کے نچلے حصے سے اوپر کی طرف رخصت ہونا شروع ہوتی ہے؛ پہلے دونوں پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں، پھر دونوں پنڈلیاں، پھر دونوں رانیں، اور ہر عضو کے لیے ایک کے بعد دوسری سختی اور ایک کے بعد دوسری تکلیف ہوتی ہے۔

ان لمحات میں بندے کے سامنے سے پردہ ہٹا دیا جاتا ہے اور وہ حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:{لَّقَدْ كُنتَ فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ} [ق: 22]

"یقیناً تو اس سے غفلت میں تھا، سو ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا، تو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔"

چنانچہ وہ فرشتوں کو دیکھتا ہے اور آخرت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے، پھر اس کے پاس نہ کوئی حجت باقی رہتی ہے اور نہ کوئی شک۔

جب روح حلق تک پہنچتی ہے:
پھر جب جان ہنسلی (سینے کے اوپر گلے کے پاس کی ہڈیوں) تک پہنچ جاتی ہے، تو تکلیف بڑھ جاتی ہے اور جبڑا لٹک جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:{كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ * وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ * وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ * وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ * إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ} [القيامة: 26-30] "ہرگز نہیں، جب جان ہنسلی تک پہنچ جائے گی۔ اور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے؟ اور اس نے سمجھ لیا کہ اب جدائی کا وقت ہے، اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی، اس دن تیرے رب ہی کی طرف چلنا ہوگا۔"

اس وقت، نزع کی حالت میں موجود شخص وہ کچھ دیکھ رہا ہوتا ہے جو وہاں حاضر لوگ نہیں دیکھ پاتے۔

مومن اور کافر کا انجام:
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إن العبد المؤمن إذا كان في انقطاع من الدنيا وإقبال من الآخرة، نزل إليه ملائكة من السماء بيض الوجوه كأن وجوههم الشمس، معهم كفن من أكفان الجنة وحنوط من حنوط الجنة، حتى يجلسوا منه مد البصر، ثم يجيء ملك الموت عليه السلام حتى يجلس عند رأسه فيقول: أيتها النفس الطيبة، اخرجي إلى مغفرة من الله ورضوان. قال: فتخرج تسيل كما تسيل القطرة من في السقاء، فيأخذها، فإذا أخذها لم يدعوها في يده طرفة عين حتى يأخذوها فيجعلوها في ذلك الكفن وفي ذلك الحنوط، ويخرج منها كأطيب نفحة مسك وجدت على وجه الأرض" [رواه أحمد وصححه الألباني]

"یقیناً جب مومن بندہ دنیا سے رخصت ہونے اور آخرت کی طرف متوجہ ہونے کے قریب ہوتا ہے، تو اس کے پاس آسمان سے سفید چہروں والے فرشتے اترتے ہیں، گویا ان کے چہرے سورج ہیں، ان کے پاس جنت کے کفنوں میں سے ایک کفن اور جنت کی خوشبوؤں (حنوط) میں سے خوشبو ہوتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے سامنے جہاں تک نظر جائے بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ملک الموت علیہ السلام آتے ہیں اور اس کے سرہانے بیٹھ کر کہتے ہیں: اے پاکیزہ نفس! اللہ کی مغفرت اور اس کی رضا کی طرف نکل۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو وہ روح اس طرح بہہ کر نکل آتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے قطرہ ٹپکتا ہے، پس وہ اسے لے لیتے ہیں۔ جب وہ اسے لے لیتے ہیں تو دوسرے فرشتے پلک جھپکنے کے برابر بھی اسے ان کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر اسی کفن اور اسی خوشبو میں رکھ دیتے ہیں، اور اس سے مشک کی ایسی بہترین خوشبو نکلتی ہے جو زمین پر پائی جانے والی تمام خوشبوؤں سے بڑھ کر ہو۔"

کافر کی روح کا نکلنا:
اور جہاں تک کافر بندے کا تعلق ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"وإن العبد الكافر إذا كان في انقطاع من الدنيا وإقبال من الآخرة، نزل إليه من السماء ملائكة سود الوجوه معهم المسوح، فيجلسون منه مد البصر، ثم يجيء ملك الموت حتى يجلس عند رأسه فيقول: أيتها النفس الخبيثة، اخرجي إلى سخط من الله وغضب. قال: فتفرق في جسده فينتزعها كما ينتزع السفود من الصوف المبلول، فيأخذها، فإذا أخذها لم يدعوها في يده طرفة عين حتى يجعلوها في تلك المسوح، ويخرج منها كأنتن ريح جيفة وجدت على وجه الأرض" [رواه أحمد وصححه الألباني]

"اور جب کافر بندہ دنیا سے رخصت ہونے اور آخرت کی طرف متوجہ ہونے کے قریب ہوتا ہے، تو اس کی طرف آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے اترتے ہیں جن کے پاس ٹاٹ (سخت کپڑا) ہوتا ہے، پس وہ اس کے سامنے جہاں تک نظر جائے بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ملک الموت آتے ہیں یہاں تک کہ اس کے سرہانے بیٹھ کر کہتے ہیں: اے خبیث نفس! اللہ کی ناراضگی اور اس کے غضب کی طرف نکل۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو وہ (روح) اس کے جسم میں پھیل جاتی ہے، پھر وہ اسے اس طرح کھینچ کر نکالتا ہے جیسے گیلے اون سے کثیر شاخوں والی لوہے کی سیخ (یا کانٹا) کھینچی جاتی ہے۔ پس وہ اسے لے لیتا ہے، اور جب وہ اسے لے لیتا ہے تو فرشتے پلک جھپکنے کے برابر بھی اسے اس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے یہاں تک کہ اسے اسی ٹاٹ میں لپیٹ دیتے ہیں، اور اس سے روئے زمین پر پائی جانے والی مردار کی بدترین بدبو کی طرح کی بدبو نکلتی ہے۔"اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:{وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ} [الأنفال: 50]

ترجمہ: "اور کاش تم دیکھو جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں، ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر مارتے جاتے ہیں اور (کہتے ہیں کہ) جلنے کا عذاب چکھو۔"

قبر کا سفر اور سوال و جواب:
جب روح قبض کر لی جاتی ہے، تو لوگ جنازے کو کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔ مومن کی روح کہتی ہے: "قدمونی قدمونی" یعنی "مجھے آگے بڑھاؤ، مجھے جلدی لے چلو" (تاکہ وہ اپنے رب کے پاس اور اس عزت و اکرام تک جلدی پہنچے جو اس کے لیے تیار کیا گیا ہے)۔ اور کافر کی روح کہتی ہے: "یا ویلی أین تذھبون بی؟" یعنی "ہائے میری بربادی! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟" کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اس کا کیا عذاب انتظار کر رہا ہے۔ [یہ مفہوم ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ہے جسے احمد اور نسائی نے روایت کیا اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے]۔

جب میت کو اس کی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی پیٹھ پھیر کر رخصت ہوتے ہیں، تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ تک سن رہا ہوتا ہے [رواہ البخاري ومسلم]۔

پھر اس کے پاس دو فرشتے (منکر و نکیر) آتے ہیں، وہ اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ پس اللہ ایمان والوں کو پکی بات پر قائم رکھتا ہے۔مومن کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے، اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں۔ تو آسمان سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے: "میرے بندے نے سچ کہا، اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھا دو، اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو"، چنانچہ اس کے پاس جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آنے لگتی ہے اور اس کی قبر جہاں تک نظر جائے کشادہ کر دی جاتی ہے [السلسلة الصحيحة]۔

منافق اور کافر سے جب پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: "ھاہ ھاہ لا أدری" (ہائے افسوس، مجھے نہیں معلوم)، میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تھا تو میں نے بھی کہہ دی۔ پس آسمان سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے: "اس نے جھوٹ کہا، اس کے لیے آگ کا بچھونا بچھا دو اور اس پر قبر کو تنگ کر دو"، چنانچہ اس پر قبر اتنی تنگ ہو جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں دھنس جاتی ہیں، اور اس کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے جس سے اسے اس کی گرمی اور لو پہنچتی رہتی ہے [السلسلة الصحيحة]۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:{يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ} [إبراهيم: 27]

"اللہ ایمان والوں کو پکی بات (کلمہ طیبہ) کے ذریعے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے، اور اللہ ظالموں کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے، اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔"

پھر میت پر صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے؛ اگر وہ جنتیوں میں سے ہے تو جنتیوں کا ٹھکانہ، اور اگر دوزخیوں میں سے ہے تو دوزخیوں کا ٹھکانہ۔ اور اس سے کہا جاتا ہے: "یہ تیرا اصل ٹھکانہ ہے، یہاں تک کہ اللہ تجھے قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے۔" [رواہ البخاري ومسلم]۔

اے اللہ! ہم جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنوں سے اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔اے اللہ! ہم تجھ سے حسنِ خاتمہ کا سوال کرتے ہیں اور ہر اس شخص کے لیے بھی جس نے رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجا۔

اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ

کالم نگار : ثناءاللہ حسین،صوابی
| | |
35