قرآنِ کریم کے اسلوب کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ بعض نازک اور حساس مقامات پر کھل کر بات کرنے کے بجائے اشارات اور کنایات استعمال کرتا ہے ۔ قدیم اہلِ علم اس پہلو کی طرف خوب متوجہ ہوئے اور اُنہوں نے قرآنی بیان کی اس بلندی کو سمجھنے میں بڑی محنت کی۔ اپنی تصانیف میں اُنہوں نے اس کے لیے مختلف ناموں سے ابواب باندھے جیسے: کہیں اِسے اشارہ کہا، کہیں تعریض، کہیں تلویح اور کہیں کنایہ۔ ناموں کے اس اختلاف کے باوجود ان سب اصطلاحات کو ایک لڑی میں پرونے والی بات یہی ہے کہ جہاں صراحت یعنی کھل کر بیان کرنا مناسب نہ ہو، وہاں معنی کی طرف اشارتاً رہنمائی کر دی جائے۔
نئے فضلائے کرام سے گزارش ہے کہ وہ قدیم تفاسیر سے اس اعجازِ بیانی کا ضرور مطالعہ کریں۔ اس مطالعہ سے ایک تو زبانیں پاک ہو جائیں گی کیونکہ قرآن کریم ہمیں چھوٹے چھوٹے لفظوں میں پاکیزگی کا درس دیتا ہے، پستی اور بازاری پن پر مشتمل الفاظ استعمال کرنے سے بچاتا ہے ۔ دوسرا لغوی باریکیوں پر دسترس حاصل ہوگی اور قرآن میں تدبر کرنا آسان ہوگا۔
ذیل میں ہم چند مثالیں دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے الفاظ کے انتخاب میں کتنا بہترین انداز اختیار کیا ہے۔
حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے بارے میں یہ جملہ سورت مریم میں موجود ہے کہ انہوں نے فرمایا: وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ
مجھے کسی انسان نے نہیں چھوا۔ (سورت مریم: 20)
اس کی تفسیر میں علامہ زمخشری نے لکھا ہے کہ یہاں مَس سے مراد نکاح ہے کیونکہ یہ نکاح کا کنایہ ہے۔ جیسے قرآن کریم کی دیگر آیات میں مَس کے لفظ کو نکاح کےلیے ذکر کیا گیا ہے: چنانچہ سورت بقرہ میں فرمایا:
مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ عورتوں کو چھونے سے پہلے ۔ (سورت بقرہ: 237)
اور سورت مائدہ میں فرمایا: أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَیا تم نے عورتوں کو چھوا۔ (سورت مائدہ: 6)
ان دونوں آیتوں میں چھونے سے مراد حلال طریقے یعنی نکاح کے بعد کا جسمانی ملاپ ہے۔
اِسی طرح سورۂ یوسف کی آیت ہے: وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ
اور اُس عورت نے یوسف کا ارادہ کر لیا تھا اور یوسف کے دل میں بھی اس عورت کا خیال آ چلا تھا ، اگر وہ اپنے رب کی دلیل کو نہ دیکھ لیتے۔ (سورت یوسف: 24)
دیکھیں کہ کتنی سادہ سی تعبیر ہے۔ اس تعبیر سے مجال ہے کہ شہوت کے جذبات بھڑکیں۔
اسی طرح سورت بقرہ میں اللہ تعالی نے فرمایا: فَالْــٴٰـنَ بَاشِرُوْهُنَّ پس اب تم ان (بیویوں سے) ملو ملاؤ۔ (سورت بقرہ: 187)
اس کے بارے میں علامہ زرکشی نے لکھا ہے کہ مباشرت سے مراد جماع ہے لیکن اس کےلیے جماع کا لفظ نہیں ذکر کیا گیا بلکہ مباشرت کا لفظ مذکور ہے جس میں دو بدنوں کا باہم مل جانا ہے۔ مباشرت بشرۃ سے بنا ہے جس کا معنی ہوتا ہے چمڑا یا بدن کا ظاہری حصہ۔ گویا یہاں جس چیز کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے (یعنی جماع) ، اُس کا ایک ہلکا سا جُز ذکر کیا گیا ہے۔
زرکشی کے ہاں ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ لفظ کی لغوی بنیاد پر اعتماد کرتے ہیں، اور اِس کی عمدہ مثال لفظِ "فرج" کی تفسیر میں اُن کی رائے ہے۔
وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا اور اس خاتون کو دیکھو جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی۔ (سورت الانبیاء: 91)
اس طرح کی آیات میں عام طور پر فرج سے شرمگاہ مراد لی جاتی ہے لیکن علامہ زرکشی کہتے ہیں کہ جس نے یہاں حقیقی معنی کا گمان کیا وہ غلطی پر ہے، کیونکہ یہ تو لطیف ترین اور بہترین کنایات میں سے ہے۔ اُن کے نزدیک فرج سے مراد قمیص کا کھلا ہوا حصہ ہے۔ اور مراد یہ ہے کہ اُس عورت نے اپنی قمیص کی حفاظت کی۔ حقیقی معنی یعنی شرمگاہ مراد نہیں۔
اس طرح کی تمام تعبیرات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے کلام کے انتخاب میں کس قدر تہذیب اور شائستگی کو اختیار کیا ہے۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اپنی عوامی و نجی مجالس میں حتی الامکان کوشش کریں کہ ایسے الفاظ نہ بولیں جن سے شہوت کے جذبات بھڑک سکتے ہوں۔ ایسے انداز میں بات کریں کہ مقصد بھی پورا ہو جائے اور بے حیائی کے دائرے میں بھی نہ آئے۔
پچھلے دنوں ایک صاحب کو سن رہا تھا۔ وہ ابن قیم رحمہ اللہ کے حوالے سے و کواعب اترابا کی تفسیر کرتے ہوئے کہہ رہے تھے:والمراد: أن ثديهن نواهد، كالرمان، ليست متدلية إلى أسفل ( ممکن ہے کہ کوئی اسے ذوق جمالیات کہے لیکن بہر حال اشارات اور کنایات میں بات کہی جائے تو عام عوام کےلیے وہی بہتر ہے۔ )
ربِ محبت ہمیں اپنے جملوں کو سنوارنے کی توفیق بخشے۔ آمین !