(+92) 319 4080233
کالم نگار

ابن جاویدنظامی

ابن جاویدنظامی

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/15
موضوعات
پاکستان میں علماکا قتل
فکری و سیاسی پس منظر
پاکستان میں علماءِ دیوبند کے مسلسل اور بے رحمانہ قتل کو اگر محض چند دہشت گردانہ کارروائیوں یا وقتی بدامنی کا نتیجہ سمجھا جائے تو یہ حقیقت سے چشم پوشی ہوگی۔ یہ ایک طویل سیاسی، فکری اور ریاستی بحران کا شاخسانہ ہے، جس کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط پالیسیوں، عالمی طاقتوں کے کھیل، مذہبی طبقات کے استعمال، اور بعد ازاں انہی طبقات سے لاتعلقی میں پیوست ہیں۔ آج جب ہم مدارس، مساجد، مفتیانِ کرام اور دینی شخصیات کو مسلسل نشانہ بنتے دیکھتے ہیں تو اس کے پس منظر میں ایک پورا فکری انتشار کارفرما نظر آتا ہے۔

پاکستان میں مذہبی طبقات، خصوصاً علماءِ دیوبند، کو مختلف ادوار میں ریاستی پالیسیوں کا حصہ بنایا جاتا رہا۔ افغان جہاد کے زمانے میں انہیں "قومی ضرورت" قرار دیا گیا، دینی مدارس کو تقویت ملی، جہادی بیانیے کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی، اور مذہبی جذبات کو بین الاقوامی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس دوران بہت سے اکابر علماء اور مذہبی قیادتوں نے بھی ان پالیسیوں کی بھرپور تائید کی۔ ان کے حق میں کتابیں لکھی گئیں، خطابات ہوئے، دلائل فراہم کیے گئے اور ایک پوری نسل کو اس سوچ کے ساتھ پروان چڑھایا گیا کہ یہی دین، ریاست اور امت کی خدمت ہے۔

لیکن ریاستیں جذبات نہیں، مفادات کے تحت چلتی ہیں۔ جب عالمی حالات بدلے، نائن الیون کے بعد ترجیحات تبدیل ہوئیں، تو وہی قوتیں جنہیں کل "مجاہد " کہا جاتا تھا، آج "انتہاپسند" قرار پانے لگیں۔ ریاستی بیانیہ یکسر بدل گیا۔ افسوسناک پہلو یہ تھا کہ مذہبی حلقوں نے اس نئی پالیسی کے لیے بھی اسی انہماک سے شرعی جواز فراہم کرنا شروع کر دیا۔ یوں ذہنوں میں شدید فکری تضاد پیدا ہوا۔ کل جسے حق کہا جا رہا تھا، آج وہی باطل کیسے ہو گیا؟ کل جس راستے پر جانیں قربان کرنے کی ترغیب دی گئی، آج اسی سے براءت کیوں اختیار کی جا رہی ہے؟

یہی وہ مقام تھا جہاں سے کنفیوژن، بداعتمادی اور داخلی انتشار نے جنم لیا۔ مذہبی طبقات خود مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ کچھ نے نئی پالیسیوں کو قبول کیا، کچھ نے مزاحمت کی، اور کچھ خاموش تذبذب کا شکار رہے۔ اس تقسیم نے نہ صرف فکری بحران پیدا کیا بلکہ مسلح تصادم اور انتقامی کارروائیوں کی راہ بھی ہموار کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ علماءِ کرام خود اپنے ہی ماحول میں غیر محفوظ ہو گئے۔ کسی عالم کو ریاست کا حامی سمجھ کر قتل کیا گیا، کسی کو مخالف تصور کرکے، اور کسی کو محض فرقہ وارانہ عصبیت کی بنیاد پر نشانہ بنا دیا گیا۔

اس المیے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ پاکستان عالمی طاقتوں کی پراکسی جنگوں کا میدان بنتا رہاـ افغانستان کی جنگ ہو یا خطے کی جغرافیائی کشمکش، اس کا سب سے بڑا ایندھن مقامی مذہبی طبقات بنے۔ مگر جب پالیسیوں کا رخ بدلا تو یہی طبقات سب سے زیادہ تنہا چھوڑ دیے گئے۔ ریاستیں آگے بڑھ گئیں، عالمی طاقتوں نے اپنے مفادات بدل لیے، لیکن مدارس، علماء اور مذہبی کارکن خون اور بارود کے بیچ رہ گئے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ ہر طرف فکری دھند چھائی ہوئی ہے۔ عوام کنفیوژن کا شکار ہیں، نوجوان نسل مذہبی و سیاسی بیانیوں پر اعتماد کھو رہی ہے، اور علماء خود عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہیں۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مذہبی قیادت، عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی وہ فضا باقی نہیں رہی جو کسی بھی معاشرے کی فکری و سماجی استحکام کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

اس بحران کا حل محض سیکیورٹی آپریشنز یا وقتی سیاسی نعروں میں نہیں، بلکہ ایک دیانت دارانہ قومی اور فکری محاسبے میں ہے۔ مذہبی طبقات کو وقتی ریاستی و عالمی مفادات کا آلہ کار بننے سے بچنا ہوگا، اور ریاست کو بھی مذہبی قوتوں کو استعمال کرکے بعد میں ترک کر دینے کی پالیسی سے دستبردار ہونا ہوگا۔ علماء کو اصولی استقامت، فکری توازن اور حکمت کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ تضادات کی یہ آگ مزید نسلوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

حقیقت یہی ہے کہ آج پاکستان میں علماءِ دیوبند کے قتل کی جو داستان رقم ہو رہی ہے، وہ محض چند افراد کی شہادت کا قصہ نہیں بلکہ ایک پوری پالیسی، ایک پورے طرزِ فکر اور ایک طویل سیاسی کھیل کے نتائج کا اظہار ہے۔ غبار یقیناً ایک دن چھٹے گا، مگر اس کے لیے سچ کا اعتراف، غلطیوں کا ادراک، اور اصولوں کی طرف واپسی ناگزیر ہے۔

مأخَذ

(ادارہ کا متفق ہوناضروری نہیں۔)

کالم نگار : ابن جاویدنظامی
| | |
37