( تنزانیہ کے تبلیغی مرکز میں مفتی تقی عثمانی کا فکر انگیز خطاب)
دین کا کام اس طرح نہیں ہوتا کہ پہلے اس کے بہت بڑے منصوبے بنائے جائیں اور اس کا بجٹ منظور کرایا جائے، اس کی feasibility report تیار کی جائے۔ بلکہ دین کا کام ایک آدمی سے شروع ہوجاتا ہے۔
فرد قائم ربط ملت سے ہے:
جب آپ ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو تن تنہا تھے ، اور اتنی بڑی ذمہ داری اللہ جل جلالہ نے غار حرا میں آپ کے سپرد فرمادی:
﴿اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾،
(سورہ علق آیت1)
"پڑھ اس رب کے نام سے جس نے تجھے پیدا کیا"
کیا معنی؟ کہ اب دنیا کے سامنے حق کا پیغام پڑھ پڑھ کر سنانا ہے!!
کن وسائل کے ذریعے سنانا ہے؟ کیا آپ اس کے لئے کوئی مدرسہ بنائیں گے؟ کوئی مرکز تعمیر کریں گے؟ کوئی درسگاہ بنائیں گے؟ کوئی جماعت بنائیں گے؟ وہ انجمن صدر ، سیکٹری ، ناظم اور خازن وغیرہ پر مشتمل ہوگی؟ نہیں !! ایک ہی واسطہ ہے، ﴿اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ﴾۔۔۔۔
صرف ایک بجٹ ہے: ﴿بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ اپنے اس پروردگار کے نام پر یہ کام کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔
اللہ جل جلالہ جب دین کا کام شروع کراتے ہیں تو پہلے سے منصوبے نہیں بنتے ، بلکہ اللہ کا کوئی پسندیدہ و چنیدہ بندہ ہوتا ہے، اللہ اس کے اوپر القاء فرما دیتے ہیں کہ تم یہ کام کرو اور وہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔
جب کام کی ابتدا کے نتیجے میں اللہ تعالی خود لوگ اس کے پاس کھینچ کھینچ کر لاتے ہیں۔
بقول شاعر:
میں تو تنہا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
دارالعلوم دیوبند کا قیام:
آج آپ دیکھتے ہو کہ الحمدللہ دارالعلوم دیوبند کا فیض دنیا کے مشرق و مغرب میں پھیلا ہوا ہے۔۔۔ایسا نہیں ہوا تھا کہ دارالعلوم دیوبند کو حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمهما الله نے ایک نقشہ بنایا ہو ، ایک پلاٹ خریدا ہو ، اور اس میں یہ بتایا ہو کہ یہ امیر ہوگا ، یہ صدر ہو گا، بلکہ وہ دو آدمی تھے، ایک استاد ، ایک شاگرد - استاد مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ
اور شاگرد ملا محمود دونوں انار کے درخت کے نیچے بیٹھ گئے، استاد نے پڑھانا شروع کردیا ، طالب علم نے پڑھنا شروع کردیا ، اور یہاں سے آغاز ہوا۔۔۔اس طرح دار العلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا ،لیکن بعد میں اس مدرسے کی عمارت بھی بنی ، اس کا نظام بھی بنا ، اس کا دستور بھی بنا ، اس کا مہتمم بھی ہوا ، نائب مہتمم بھی ہوا، ناظم بھی ہوا ، سب کچھ ہوا، لیکن مقصود کیا تھا ؟
مقصود صرف ﴿اِقْرَأ﴾ تھا۔ یہ سب چیزیں ثانوی درجے کی تھیں ، یہ مقصود نہیں ہے، تنظیم مقصود نہیں ، جماعت مقصود نہیں ، صدر ، سیکٹری مقصود نہیں ، امیر ، مامور مقصود نہیں ، مقصود کیا ہے؟؟ علم !! اس کے لئے دارالعلوم دیوبند کام کرتا چلا گیا۔
تبلیغی جماعت کا فیض:
اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے تبلیغی جماعت نے ساری دنیا کے اندر اپنا فیض پھیلایا ہوا ہے۔۔۔عوام الناس میں جتنا فائدہ تبلیغی جماعت کے ذریعے پہنچا ، کوئی دوسری جماعت اس کا عشر عشیر بھی پیدا نہیں کرسکی۔۔ لیکن یہ ہوا کیسے؟؟
کیا پہلے حضرت مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ نے کوئی تنظیم قائم کی تھی ؟ کیا کوئی امیر بنایا تھا ؟ کوئی شوریٰ بنائی تھی ؟ کوئی منصوبہ بنایا تھا ؟ کوئی مرکز کی تعمیر کی تھی ؟ کوئی پلاٹ خریدا تھا ؟ اس اللہ کے بندے کے دل میں اللہ نے آگ پیدا کردی کہ مجھے مسلمانوں کو دین کی طرف لانا ہے۔ دین کی سچی تڑپ و لگن!! امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کی جستجو ،اکیلا آدمی!!
جی ہاں مولانا الیاس اس وقت اکیلے ہی تھے ، کیا پہلے سے کوئی منصوبہ بنایا تھا؟
پھونک دی گرمی رخسار سے محفل تو نے
اصل مقصود دعوت تھا ، اصل مقصود اپنی اصلاح تھی ، اصل مقصود دین کی طرف بلانا تھا ، اس مقصود کو لے کر کھڑے ہوگئے ، اس فکر میں نہیں پڑے کہ پہلے سے کوئی کمیٹی بنائیں، پہلے سے کوئی شوریٰ بنائیں ، پہلے سے امیر متعین کریں ، کچھ بھی تو نہیں!! بس کام شروع کردیا۔ کام چونکہ اخلاص تھا، للہیت تھی ، سوائے الله کے کوئی اور مقصود نہیں تھا ، شہرت مقصود نہیں تھی ،
نام و نمود مقصود نہیں تھا۔ یہ نہیں تھا کہ میرا نام ہوجائے ساری دنیا میں ، ساری دنیا میرے قصیدے پڑھا کرے ، میری تعریفیں کیا کرے ، یہ نہیں تھا!! لیکن عملاً ہوتا یہ ہے کہ پھر بعد میں امیر بھی بنا دئیے جاتے ہیں، شوریٰ بھی بن جاتی ہے، لیکن وہ مقصود نہیں ، تنظیم مقصود نہیں ہے۔
خرابی کی اصل جڑ:
بسا اوقات خرابی یہاں سے پیدا ہوتی ہے کہ تنظیم کو مقصد بنالیا جائے، مقصد تھا کام!! اللہ کا دین!! اللہ کی رضا!! بعد میں تنظیم مقصد بن گئی ، جو میری تنظیم کا ہے وہ میرا ہے، جو میری تنظیم سے باہر ہے وہ میرا نہیں ہے۔ اب بتاؤ تنظیم مقصود ہے یا کام مقصود ہے؟ اگر کام مقصود ہے تو خدا کے لئے تفریق مٹاؤ!! جو کوئی اللہ کا نام لے ، جو کوئی اللہ کے دین کی طرف دعوت دے،
اس کو خوش آمدید کہو! اس کو اپنا سمجھو! اس کے ساتھ محبت کا معاملہ کرو! اس کے ساتھ دشمنی مت رکھو! حکم تو ﴿اقرا﴾ کا ہے، کیا پڑھو؟ دین پڑھو! کوئی فضائل اعمال پڑھتا ہے وہ پڑھے ، کوئی منتخب احادیث پڑھتا ہے وہ پڑھے، وہ بھی اقرا ، یہ بھی اقرا ۔ اگر تھوڑا سا طریقے میں فرق ہے، اس کو گوارا کرلو۔
آج دنیا بن گئی ہے (Credit) کی ، (Credit) لینا ہے، سہرا کس کے سر بندھے؟ کس کا نام لیا جائے کہ اس نے بہت بڑا کارنامہ سر انجام دے دیا ؟ میں قسم سے کہتا ہوں کہ اگر مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات ہوتی کہ دنیا میں میرا نام ہوجائے کہ اس نے دنیا میں دعوت دین کا بیڑا اٹھایا تو ہرگز وہ دعوت شروع نہ کرتے ،
ان کے دل میں صرف اخلاص تھا۔ صرف للہیت تھی ، صرف یہ کام تھا کہ اللہ تبارک و تعالی کے دین کو کوئی فائدہ پہنچ جائے۔ میرے علم میں کچھ بات لائی گئی کہ الحمد للہ اجتماع میں دونوں قسم کے حضرات موجود تھے ، یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ کوئی ایک ایسی جگہ ہوئی جہاں پر دونوں قسم کے حضرات جمع ہیں ، اللہ کے لئے جمع ہیں ، اللہ کے دین کے لئے جمع ہیں ،
اللہ تعالٰی کے دین کی نصرت کے لئے جمع ہیں ، ان شاء اللہ اس پر برکتیں نازل ہوں گی ، رحمتیں نازل ہوں گی ۔ اپنے دلوں سے یہ کینہ نکالئے! اپنے دلوں سے یہ بغض ختم کیجئے! یہ ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کا سلسلہ بند کیجئے! اور سمجھئیے کہ چلو ہم الگ ہو گئے ہیں، لیکن جو اصل مقصود ہے اس میں ہم متحد ہیں ۔
باہمی نظم و سلیقہ مقصود ہے:
ہر چھوٹا یا بڑا عمل سلیقہ مندی کا تقاضا کرتا ہے، اور دین نے ہمیں یہ سلیقہ سکھایا ہے۔ سلیقہ مندی نظم کے قیام کا باعث ہے، اور بظاہر معمولی سمجھی جانے والی بدسلیقی‘ بدنظمی کا ذریعہ وسبب بنتی ہے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ معارف القرآن میں سورۂ صافات کی آیت {وَالصّٰفَّتِ صَفًّا‘}کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر کام میں نظم وضبط اور ترتیب و سلیقہ کا لحاظ رکھنا دین میں مطلوب اور اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہو یااس کے احکام کی تعمیل، یہ دونوں مقصد اس طرح بھی حاصل ہوسکتے تھے کہ فرشتے صف باندھنے کے بجائے ایک غیر منظم بھیڑ کی شکل میں جمع ہوجایا کریں، لیکن اس بدنظمی کے بجائے انہیں صف بندی کی توفیق دی گئی،
اور اس آیت میں ان کے اچھے اوصاف میں سب سے پہلے اسی وصف کو ذکر کر کے بتا دیا گیاکہ اللہ تعالیٰ کوان کی یہ ادا بہت پسند ہے۔
اسی نظم وضبط کے پہلو سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق عبادات میں بنیادی امور ارکانِ خمسہ ہیں، ان تمام ارکان میں نظم جلوہ گرہے۔
نظامِ صلوۃ باجماعت نماز بھی نظم وضبط اوراجتماعیت کا پنج وقتہ در س ہے کہ دن میں پانچ مرتبہ مسلمان مسجد میں جب اکٹھے ہوں تویہ احساس رہے کہ سارے مسلمان یک جان ہیں، الگ الگ نہیں ہیں اور اس جماعت کی اتنی اہمیت بتائی گئی ہے کہ جنگ کے دوران بھی اس کو ترک کرنے سے گریز کیا گیا اور ’’صلاۃ الخوف‘‘ مشروع کی گئی اور مسلمانوں کو یکسانیت کا احساس دلایا گیا۔
اسی طرح نظام صوم کو دیکھ لیجیے۔ سال میں ماہِ رمضان میں روزے رکھنے کی مشروعیت کی ایک حکمت یہی ہے کہ مالدار آدمی جب پورے دن بھوکا رہے تو اس کو احساس ہوکہ غریب و لاچار لوگ کیسے ساری زندگی ایسے ہی فقر و فاقہ میں گزار دیتے ہیں؟
شریعت کے مزاج میں یہ بات ہے کہ غریبوں کا احساس کیا جائے، لاچار و مسکین کا خیال رکھا جائے، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب احساس پیدا ہو، اسی احساس کو پیدا کرنے کے لیے شریعت نے روزے کو مشروع قرار دیا، پھر روزے میں اوقات کی تعیین اور دیگر متعلقہ احکام بھی نظم کی افزائش کا بہترین ذریعہ ہیں۔
اس کے بعد ہم نظامِ زکوۃ کی مشروعیت کو دیکھتے ہیں جس میں بات کا درس ہے کہ مسلمان وہ نہیں جو صرف اپنی دنیا بنانے اور سمیٹنے کی فکر میں لگا رہے اور قریب کے دوسرے غریب لوگ فقر و فاقہ میں پڑے رہیں، گویا زکوۃ ادا کرتے ہوئے بھی مسلمان اجتماعیت کے قیام کی لڑی پرورہا ہوتا ہے۔آخر میں نظامِ حج کو دیکھئے جس طرح پنج وقتہ نماز مسلمانوں کو متابعتِ جماعت کی یاد دہانی کے لیے ہے اور عیدین کا اجتماع بھی اسی یاددہانی کی کڑی ہے تو بالکل اسی طرح صاحبِ استطاعت پر زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض کردیئے جانے کی ایک حکمت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ساری دنیاسے مسلمان ایک جگہ جمع ہوجائیں اور اس اجتماع سے مسلمانوں کی یکجہتی کا اظہار ہو۔ حج کی فرضیت میں بھی مخالفت سے اجتناب اور مقارنت جماعت کا پہلو پایا جاتا ہے۔