*عربی ماحول بنانا مشکل نہیں:
پاکستان کے ہزاروں مدارس، جامعات اور دینی اداروں میں شاید ہی کوئی ایسا استاد، معلمہ یا طالب علم ہو جس کے دل میں کبھی یہ خواہش پیدا نہ ہوئی ہو کہ اس کی کلاس میں عربی بولی جائے، طلبہ عربی میں سوال کریں، اساتذہ عربی میں گفتگو کریں، اور عربی صرف کتاب کے صفحات تک محدود نہ رہے بلکہ ادارے کی فضا میں سانس لینے لگے۔
یہ خواہش نئی نہیں، بلکہ برسوں سے ہزاروں اہلِ علم کے دلوں میں زندہ ہے۔
مگر افسوس! اکثر یہ خواہش ایک ہی سوال کے سامنے آکر رک جاتی ہے:
*"شروع کہاں سے کریں؟"*
کسی کو ڈر ہوتا ہے کہ اگر میں نے عربی میں گفتگو شروع کی تو طلبہ سمجھ نہیں پائیں گے۔
کوئی سوچتا ہے کہ میرے ساتھی اساتذہ ساتھ نہیں دیں گے۔
کسی کو اپنی عربی پر اعتماد نہیں ہوتا۔
کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پہلے پورا ادارہ تیار ہو، پھر کام شروع کریں گے۔
اور یوں سال گزر جاتے ہیں، لیکن پہلا قدم نہیں اٹھ پاتا۔
حقیقت یہ ہے کہ عربی ماحول بنانا مشکل نہیں، بلکہ اس تک پہنچنے کا درست راستہ نہ ملنا اصل مشکل ہے۔
ہر کام کی طرح عربی ماحول بھی ایک منظم طریقۂ کار سے بنتا ہے۔ اگر راستہ واضح ہو، رہنمائی مسلسل ہو، اور ہر مرحلے پر ساتھ دینے والے لوگ موجود ہوں تو وہ ادارہ بھی، جہاں کبھی عربی سنائی نہیں دیتی تھی، چند ہی مہینوں میں ایک نئی فضا اختیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔
اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے مجمع اللغة العربية بباكستان نے مشروع البيئة العربية الحية کا آغاز کیا۔
یہ محض ایک نظریہ نہیں، بلکہ ایک عملی منصوبہ ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ہر استاد، ہر معلمہ، ہر طالب علم اور ہر ادارے کو قدم بہ قدم یہ سکھایا جائے کہ اپنے ماحول میں عربی کو کیسے زندہ کیا جائے۔
مجمع صرف یہ نہیں کہتا کہ "عربی ماحول بنائیں"۔
بلکہ وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ:
پہلا قدم کیا ہوگا؟
پہلے ہفتے کیا کرنا ہے؟
طلبہ کو کیسے شریک کرنا ہے؟
اساتذہ کو کیسے ساتھ ملانا ہے؟
روزانہ کی چھوٹی سرگرمیوں کو عربی ماحول میں کیسے تبدیل کرنا ہے؟
اور اگر راستے میں مشکلات آئیں تو ان کا حل کیا ہے؟
اسی مقصد کے لیے سفراء اللغة العربية کا تربیتی نظام قائم کیا گیا ہے۔
یہ صرف ایک واٹس ایپ گروپ نہیں، بلکہ ایک مسلسل تربیتی سفر ہے۔
مختلف مدارس، جامعات اور تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور معلمات کے الگ الگ تربیتی گروپس قائم کیے گئے ہیں، جہاں ہر شریک کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا۔
وہاں باقاعدہ عملی رہنمائی دی جاتی ہے۔
ہفتہ وار کام دیا جاتا ہے۔
ہر سرگرمی کا نمونہ فراہم کیا جاتا ہے۔
شرکاء کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
اصلاح کی جاتی ہے۔
حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
اور پیش آنے والی مشکلات کا حل اجتماعی مشاورت کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔
اسی مسلسل نگرانی اور تربیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو استاد کل یہ سوچ رہا تھا کہ "میں کہاں سے شروع کروں؟"، وہ آج اپنی کلاس میں عربی گفتگو کا آغاز کر چکا ہوتا ہے۔ جو ادارہ کل صرف عربی پڑھاتا تھا، وہ آہستہ آہستہ عربی جینے بھی لگتا ہے۔
تبدیلی ہمیشہ بڑے نعروں سے نہیں آتی، بلکہ درست رہنمائی، مسلسل تربیت اور چھوٹے لیکن مستقل اقدامات سے آتی ہے۔
اگر آپ بھی اپنے مدرسے، جامعہ، اسکول یا گھر میں عربی ماحول قائم کرنے کا خواب رکھتے ہیں، تو اس خواب کو تنہا پورا کرنے کی کوشش نہ کیجیے۔
اس راستے پر ان لوگوں کے ساتھ چل پڑیے جنہوں نے اس سفر کو ایک منظم نظام میں ڈھال دیا ہے۔
شاید آپ کے ادارے میں عربی ماحول قائم ہونے کا انتظار صرف ایک فیصلے کا منتظر ہے۔
کیونکہ عربی ماحول بنانا واقعی مشکل نہیں... راستہ نہ ملنا اصل مشکل ہے!