(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ

مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/05
موضوعات
روشنی کا متوازی سفر
زندگی میں بعض باتیں دل کی تختی پر یوں نقش ہو جاتی ہیں جیسے کسی نے سنگِ مرمر پر لکیر کھینچ دی ہو۔ ایک گھریلو نشست میں، جہاں نصیحتوں کا کوئی بوجھ نہیں تھا بلکہ محض فکر کے دیے جلائے جا رہے تھے، والدِ بزرگوار انیسِ جاں کی انیس نظر نے ایک ایسا سوال سامنے رکھا جس نے ہمیشہ کے لیے سوچنے کا زاویہ ہی بدل دیا۔ بات یہ تھی کہ اگر انسان دنیا کے مقابلے میں اپنی جگہ بنانا چاہتا ہے، تو اسے شکوؤں کی زبان بولنی چاہیے یا عمل کا تیشہ اٹھانا چاہیے؟

اس سوال کی گرہ کھولتے ہوئے ایک زبردست واقعہ پیش کیا گیا۔

کہتے ہیں کہ ایک دانشمند استاد نے اپنی درسگاہ میں تمام شاگردوں کو جمع کیا۔ اس نے تختہِ سیاہ پر چاک سے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور شاگردوں کی طرف متوجہ ہو کر ایک چیلنج رکھا۔

استاد نے کہا: "تم میں سے کون ایسا ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر، مٹائے بغیر اور کاٹے بغیر اسے چھوٹا کر کے دکھائے؟"

سارے شاگرد حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہو گئے۔ کسی کی عقل اس معمے کو حل کرنے سے قاصر تھی۔ ایک نے کہا کہ یہ تو منطق کے اصولوں کے خلاف ہے؛ جب تک کسی وجود کو چھیڑا نہ جائے، اس کا سائز کیسے بدلا جا سکتا ہے؟ کچھ دیر تک کمرے میں ایک پراسرار خاموشی طاری رہی اور ہر شخص اپنے گمان کے گھوڑے دوڑاتا رہا۔

جب سب اپنی فکر کے تمام تیر آزما چکے، تو استاد کے لبوں پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ ابھری۔ اس نے ہاتھ میں چاک اٹھایا اور پہلی لکیر کو بالکل چھوئے بغیر، اس کے متوازی ایک دوسری اور بہت بڑی لکیر کھینچ دی۔

جیسے ہی وہ نئی لکیر ابھری، پہلی لکیر بغیر کسی تصادم اور توڑ پھوڑ کے، خود بخود اس کے سامنے چھوٹی اور بے وقعت نظر آنے لگی۔

استاد نے حکمت سے بھرپور نگاہوں سے اپنے شاگردوں کو دیکھا اور فرمایا: "زندگی کا اصل راز یہی ہے۔ اگر تم دنیا میں کسی سے آگے نکلنا چاہتے ہو، اپنے وجود کا لوہا منوانا چاہتے ہو، تو تمہیں کسی کو گرانے، کسی کا نقصان کرنے یا کسی کی لکیر مٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم بس اپنے اخلاق، اپنی محنت اور اپنے کردار کی لکیر کو بڑا کر لو۔ باقی تمام تر رکاوٹیں اور منفی رویے خود بخود چھوٹے پڑ جائیں گے۔"

محفل میں کہی گئی یہ بات حقیقت میں انسانی نفسیات اور معاشرتی اندازِ فکر کا ایک کامل منطقی حل ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی توانائیاں اکثر دوسروں کی خامیوں کو اجاگر کرنے اور ان کا قد چھوٹا دکھانے میں صرف کر دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کسی کی لکیر مٹانے سے ہماری اپنی لکیر بڑی نہیں ہو جاتی، بلکہ اس محنت میں ہم خود بھی وہیں کھڑے رہ جاتے ہیں۔

منطق کا سادہ سا قانون ہے کہ اندھیرے کو تلواروں سے نہیں کاٹا جا سکتا، اس کی موجودگی کو ختم کرنے کے لیے بس ایک چراغ جلانا پڑتا ہے۔ چراغ کا وجود خود بخود تاریکی کی نفی کر دیتا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا کام اور ہمارا اخلاق معتبر ٹھہرے، تو ہمیں دنیا سے الجھنے کے بجائے اپنی ذات پر ریاضت کرنی ہوگی۔ اپنے فن، اپنی دانش اور اپنے ظرف کی لکیر کو اتنا بلند اور کشادہ کیجیے کہ باقی تمام تلخیاں، حاسدانہ رویے اور پست سوچیں اس کے سامنے خود بخود بے معنی اور چھوٹی نظر آنے لگیں۔

کالم نگار : مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ
| | |
85     1