گزشتہ دنوں راقم الحروف کی ایک گفتگو کا ایک جملہ بلا سیاق و سباق سوشل میڈیا پر گردش میں رہا تو گویا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ کسی نے بھی وہ سوال سننے کی زحمت نہ کی جس کے جواب میں یہ گفتگو کی گئی تھی اور ’’قرآن میں لکھا ہے، نماز نہ پڑھو!‘‘ کی تقلید میں الزام و دشنام سے لے کر سازش تک ہر طرح کے امکان زیر بحث آتے رہے۔ تاہم اسی شورشرابے میں کچھ سنجیدہ سوالات بھی اٹھائے گئے اور وہ بات بھی کسی حد تک زیر بحث آئی جسے ہم سب کی توجہ کا مرکز ہونا چاہیے۔ ان سنجیدہ مباحث کے احترام میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اپنی رائے کو ایک بار پھر بیان کیا جائے ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اردو کو پاکستان کی دیگر زبانوں کا مدِ مقابل، حریف یا رقیب قرار دینا سادگی کے سوا کچھ نہیں۔ پاکستان کی تمام زبانیں اپنا ایک تہذیبی سرمایہ رکھتی ہیں۔ یہ تہذیبی سرمایہ ہم سب کے لیے اہمیت کا حامل ہے اور اس کی حفاظت کی جانی چاہیے کیوں کہ پاکستان کی اگر کوئی تہذیب ہے تو وہ ان سب زبانوں کے مشترکہ سرمائے پر مشتمل ہے اور ان سب زبانوں کی یہ مشترکہ میراث، ایک دوسرے سے اتنی جدا جدا نہیں،جتنی بنا دی گئی ہے۔ آخر پنجابی یا سرائیکی صوفی شاعری میں کون سی ایسی بات ہے جو سندھی صوفی شعرا کے ہاں نہیں ملتی۔ پشتو ہو یا بلوچی، براہوئی؛داستانیں ہوں یا لوک کہانیاں؛ کردار الگ الگ سہی، واقعات جدا جدا سہی مگر ان کی روح، ان کی رگوں میں رواں اقدار و روایات ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔ پاکستان کے سبھی خطوں کی تہذیبی میراث میں بہت کچھ مشترک ہے، خواہ وہ ارضی صفات ہوں یا سماوی۔ اس خطے کی تاریخ ایک دوسرے سے پیوست ہے ۔ مظاہر متنوع ہو سکتے ہیں مگر ان مظاہر کی روح یکساں ہے۔ یہ تنوع ، مظاہر کی یہ کثرت ، ہماری طاقت ہے، ہماری کمزوری نہیں۔ میرا یہ مؤقف نیا نہیں، میں درجنوں بار اسے زبانی اور تحریری طور پر بیان کر چکی ہوں ۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ میں پورے خلوص سے یہ سمجھتی ہوں کہ اردو کو ان زبانوں کا دشمن قرار دینا اور نفرت و ملامت کا ہدف بنانا درست نہیں۔ اپنی زبان سے محبت کے اظہار کے لیے کسی دوسری زبان سے نفرت کا اظہار کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ اردو ہمارے ماحول کی زبان ہے، ہمارے علمی و رسمی اظہار کی زبان ہے، ہمارے ملک کے لیے باہمی رابطے کی زبان ہے اور ہماری قومی وتہذیبی تاریخ کے اہم سرمائے کی ترجمان ہے۔ اپنی آئندہ نسلوں کو اس روایت سے محروم کرنے کی کوشش کر کے ہم کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیں گے بلکہ خود اپنا نقصان کریں گے۔اپنے بچوں کے علمی و فکری دائرے کو مختصر کردیں گے اور انھیں اپنے اجتماعی وجود سے کاٹ کر رکھ دیں گے۔
ایک ایسا ملک جس کے طول و عرض میں ستر سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہوں، کسی ایک مشترکہ زبان کے بغیر کیسے چل سکتا ہے۔ یہ اردو ہی ہے جس کی بدولت اسلام آباد کی سپر مارکیٹ میں سندھی بولنے والے ہندو بھائیوں کی دکانیں چل رہی ہیں، اتوار بازار میں پشتون بھائی میٹھی میٹھی اردو بول رہے ہیں، کوئٹہ کیفے دیکھتے ہی دیکھتے سب سے مقبول چائے خانہ بن چکا ہے۔ پورے ملک کے سرکاری ملازم وفاقی اداروں میں بھرتی ہو کر اردو ہی میں ایک دوسرے سے بات چیت کرتے اور دفتری امور سرانجام دیتے ہیں۔ یہ ایک عملی مسئلہ ہے، کوئی فلسفیانہ گتھی نہیں۔قومیت کے جوش میں اس عملی حقیقت سے آنکھیں چرانا دانش مندی نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اردو کے ساتھ ہمارا اجتماعی رویہ کیسا ہے؟ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کیا ہم نے اردو کو بطور زبان ترقی دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے ہیں یانہیں۔مگر اس سے پہلے دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے۔ پہلی یہ كہ اردو ، محض ادب اور اس كی اصناف پر مشتمل نہیں ہے۔ یہ بیانیہ کہ اردو اور اس کی ترقی کا ہر امکان اردو ادب کی ترقی سے جڑا ہوا ہے، خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔دوسری یہ کہ صرف روزمرہ بول چال کی زبان ہونا بھی کسی زبان کے روشن مستقبل کا غماز نہیں ہو سکتا۔ یہ تسکین کافی نہیں کہ اردو میڈیا پر استعمال ہونے والی سب سے مقبول زبان ہے اس لیے اردو کا مستقبل روشن ہے۔
کوئی بھی زبان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک وہ علم و حکمت کی زبان نہ بنائی جائے، جب تک گہرے فلسفیانہ نکات بیان کرنے کے لیے مطلوبہ تہ داری؛ اور پیچیدہ مباحث کے بیان کے لیے کسا کسایا لسانی ڈھانچا استعمال نہ ہو اور جب تک اس کے واضح اور بیّن اظہاری سانچے سائنسی مضامین کو پوری صحت کے ساتھ بیان کرنے کے لیے استعمال نہ کیے جائیں۔
اسی طرح عملی طور پر کسی زبان کی ترقی کا براہ راست تعلق اس زبان سے جڑے معاشی امکانات سے وابستہ ہے۔ اگر کسی زبان کی تحصیل معاشی مواقع حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہو تو اس زبان کے مستقبل کی زبان بننے کا امکان کم سے کم تر ہوتا جاتا ہے، خواہ وہ کتنے ہی اہم تہذیبی سرمائے کی امین کیوں نہ ہو۔
پاکستان کی سبھی زبانوں میں سے علم و حکمت اور سائنسی مضامین کی زبان بننے کا تجربہ اگر کسی زبان کو حاصل ہے تو وہ اردو زبان ہے۔ اس بات کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ دیگر زبانوں میں یہ صلاحیت موجود نہیں۔ بلا شبہ ہر زبان یہ صلاحیت حاصل کر سکتی ہے مگر اس کے لیے ایک طویل دورانیے تک زبان کا مسلسل فروغ ضروری ہے۔ موجودہ حالات میں صرف اردو ہی ایسی زبان ہے جو نہ صرف کئی علاقوں میں برسوں تک سرکاری اور دفتری زبان رہ چکی ہے، بلکہ اس میں یونی ورسٹی کی سطح تک سائنس و ریاضی کی تعلیم و تدریس کی مثال بھی موجود ہے۔ ہماری نئی نسل کے علم میں شاید یہ بات نہیں ہے کہ کم و بیش ایک سو برس پہلے جامعہ عثمانیہ ، حیدر آباد دکن میں ایم اے ریاضی تک کی تعلیم اردو میں دی جاتی تھی۔ اس زمانے میں ایم اے ہی سب سے اعلیٰ تعلیمی ڈگری تصور کی جاتی تھی جس کے بعد براہ راست پی ایچ ڈی کی جا سکتی تھی اور پی ایچ ڈی کرنے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے۔ اس زبان کے ذریعے سائنسی مضامین میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے والے کتنے ہی اعلیٰ اذہان نے پاکستان بننے کے بعد اس کی علمی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور ہر شعبے میں خدمات سرانجام دیں۔
گویا سوال یہ نہیں کہ اردو میں اعلیٰ تعلیم کا ذریعہ بننے کی صلاحیت ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنی نئی نسل کے لیےسائنسی بنیاد پر اردو کی تدریس کا اہتمام کیا یا نہیں؟ جواب ہے؛ نہیں۔
اس کے ساتھ ہی ایک اور بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ زبان ، جسے آئندہ چل کر علم و حکمت کی ترسیل کا ذریعہ بننا ہو، ابتدائی درجوں میں ہی سکھا دی جاتی ہے ۔ دنیا بھر میں یہی دستور ہے کہ ثانوی اور اعلیٰ ثانوی درجے تک زبان کی تدریس کا عمل مکمل کر لیا جاتا ہے۔ یونی ورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جانے والے طالب علم اس ذریعۂ ابلاغ پر مکمل مہارت رکھتے ہیں اور گہرے علمی نکات کو سمجھنے ، بیان کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ میری نسل کے افراد کا تجربہ ہے کہ اردوکے مادری زبان نہ ہونے کے باوجود، ٹوٹے پھوٹے ٹاٹ سکولوں میں پڑھنے والے بھی اردو پر اچھی خاصی مہارت حاصل کر لیتے تھے۔ اردو کا پرچہ سب سے آسان پرچہ سمجھا جاتا تھا کیوں کہ ابتدائی درجوں میں ذخیرۂ الفاظ ، زبان کے استعمال کی مشقیں اور اپنے خیالات کومرتب کر کے بیان کرنے کا طریقہ خوب اچھی طرح ذہن نشیں کروا دیا جاتا تھا۔ پانچویں جماعت تک اردو اور حساب کے سوا سبھی مضامین کے امتحان زبانی ہوتے تھے، جس کے نتیجے میں بولنے اور لب ولہجے اور تلفظ کی مشق اور اصلاح کی صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی۔ انگریزی کی تدریس کا آغاز چھٹی جماعت سے ہوتا تھا، مگر اساتذہ انگریزی گرامر پر اتنی توجہ دیتے تھے کہ طالب علم کم از کم پڑھنے لکھنے میں مار نہیں کھاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان اردو میڈیم سکولوں سے پڑھنے والے بچے نہ صرف اردو میں مہارت رکھتے تھے بلکہ انھی نے پروفیشنل کالجوں ، سول سروس کے امتحانوں اور صحافت و ذرائع ابلاغ سمیت مختلف شعبوں میں وہ نام کمایا کہ آج بھی اس دور کو پاکستان کا سنہری دور سمجھا جاتا ہے۔ان میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان ، آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ہر خطے کے افراد شامل ہیں جو آج بھی ہمارے ارد گرد موجود ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ اردو نے ان کے لیے نہ صرف ذہنی و علمی ترقی کی راہیں کھولی ہیں بلکہ معاشی مواقع بھی پیدا کیے ۔ اردو کا مادری زبان نہ ہونا ان کی ذہنی و علمی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا نہ ان کی معاشی ترقی کا امکان مسدود ہوا۔
یہ سلسلہ کم بیش پچیس تیس برس پہلے تک جاری رہا اور پھر کمزور ہوتے ہوتے بالآخر معدوم ہو چکا ہے۔ اب صورت حال کیا ہے ، یہ جاننے کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ اکیسویں صدی میں پیدا ہونے والے بچوں کو دیکھ لیجیے اور اردو زبان پر ان کا عبور ملاحظہ کر لیجیے۔ یہ بچے خواہ اعلیٰ نجی اداروں سے تعلیم یافتہ ہوں یا سرکاری سکولوں سے پڑھ کر آئے ہوں، اردو میں ان کی قابلیت میں معمولی سا ہی فرق نظر آتا ہے۔ ذرائع ابلاغ پر اردو بولنے والے میزبانوں اور رپورٹنگ کرنے والے نوجوانوں کی اردو سے واقفیت بالکل عیاں ہے۔ اب تو ایسے مصنفین بھی میدان میں آ چکے ہیں جو ڈراموں کے مکالمے لکھتے ہوئے بر ملا کہے دیتے ہیں، ’’ ۔۔۔۔ جل جل کر خاکسار ہو گئے‘‘۔ خاکساروں کی یہ جماعت ہمارے ہر طرف چھائی ہوئی ہے۔ ہمارے اپنے گھروں میں، تعلیمی اداروں میں، دفتروں میں۔ یہ صرف جامعات کے شعبہ ہائے اردو کا مسئلہ نہیں، پوری نوجوان نسل کا مسئلہ ہے۔
ایسے میں اردو کا مستقبل کیا ہوگا؟ اگر سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والی پوری نسل اردو سے بیگانہ ہوچکی ہے تو ہم ان سے یہ امید کیسے رکھیں کہ وہ مستقبل میں اردو زبان کے امین و علم بردار بنیں گے؟ بحیثیت اردو ادیب، ہمیں صاف نظر آرہا ہے کہ ہم جو لکھ رہے ہیں، لکھ چکے ہیں اور اور لکھنا چاہتے ہیں، ہماری اگلی نسلوں میں انھیں پڑھنے والا، اور اگر پڑھ لے تو ان کی تہ داری اور معنویت کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہے۔ استثنائی اور انفرادی مثالیں کا رگر نہیں ہوتیں۔ فیصلہ ہمیشہ اجتماعی عمومی رجحان کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ہمارا رابطہ زبان کی حد تک اپنی اگلی نسل سے منقطع ہو رہا ہے اوریہ ایک بہت بڑا اجتماعی المیہ ہے۔
میں کئی مرتبہ اس دکھ کا اظہار کر چکی ہوں کہ ہماری جامعات میں اردو کے نام پر جتنے بھی شعبے ہیں ان میں سے کوئی بھی اردو زبان کی تدریس پر مامور نہیں ہے۔ یہ سب ادب کے شعبے ہیں اور اس گمان پر قائم ہیں کہ ان میں داخل ہونے والے طالب علم زبان پر پہلے ہی مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ مگرداخلہ امتحان میں طالب علموں کی لسانی مہارت اس خوش فہمی کا پردہ چاک کر دیتی ہے۔ اس کے باوجود زبان سے متعلق چند ایک کورسوں کے علاوہ جامعات کے بیشتر بلکہ کم و بیش سبھی شعبے اپنا بنیادی مقصد ادب کی تدریس کو ہی قرار دیتے ہیں۔ (کچھ برس پہلے ہم نے بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی میں اردو زبان اور لسانیات کو بی ایس ، ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی سطح پر ایک علاحدہ تخصیصی شعبے کے طور پر متعارف کروایا تو بہت اچھے نتائج مرتب ہوئے مگر یہ چلن عام نہیں ہے)۔ انھی شعبوں سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوان جب اسكول كے اساتذہ بنتے ہیں تو زبان كی تدریس كی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ وہ زبان اور اس کی جدید خطوط پر تدریس کے حوالے سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں اور نتیجہ سامنے ہے۔ انگریزی کو ایک غیر ملکی زبان کے طور پر پڑھانے کے لیے T.E.F.L کے عنوان سے علاحدہ ڈگری دی جاتی ہے۔یہ ڈگری حاصل کرنے والے نوجوان نہ صرف انگریزی زبان کی مہارتیں حاصل کرتے ہیں بلکہ اسے جدید انداز میں پڑھانے کے طریقے بھی منظم طور پر سیکھتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ انگریزی کی تدریس زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے ۔ اردو کے اساتذہ اگر محنت بھی کریں تو وہ نتیجہ حاصل نہیں کر پاتے۔لہٰذا اس طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ابتدائی درجوں میں اردو کی سائنسی خطوط پر تدریس کا نظام بنانے، اس کے ذریعے اساتذہ کو تربیت دینے اور ایک جدید نصاب مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو نہ صرف بچوں کی دلچسی قائم رکھے بلکہ انھیں زبان کے تخلیقی اور فکری استعمال کی مہارت بھی عطا کرے۔ یہ کام کسی ایک فرد یا ادارے کا نہیں؛ مقتدرہ کی پوری توجہ کا طلب گار ہے جو بدقسمتی سے دور دور تک نظر نہیں آتی۔
اب وہ بات جو بہت سے نازک ذہنوں کو ناگوار گزرے گی، مدارس سے متعلق ہے۔ بد قسمتی سے ہم نے مدرسے کا تصور دہشت گردی، انتہا پسندی اور تنگ نظری سے اس طرح جوڑ دیا ہے کہ وہ مدارس بھی ہماری نظر سے اوجھل ہو گئے ہیں جو معاشرے کے ایک بہت بڑے اور کم وسیلہ طبقے کی تعلیمی ضروریات کو اپنے انداز میں پورا کر رہے ہیں اور مذہبی علوم کے علاوہ اردو، عربی اور فارسی کےساتھ ساتھ جدید مضامین بھی پڑھا رہے ہیں جن میں انگریزی، کمپیوٹر وغیرہ قابلِ ذکر ہیں ۔ ان مدارس سے نکلنے والے بچے دہشت گرد نہیں ہوتے، محض وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا شکار ہونے والے طبقے کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ ان سب کو ایک نظر سے دیکھنے اور نفرت اور تعصب کا نشانہ بنانے والوں کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ مگر یہاں مدارس کا عمومی کردار یا رویہ زیر بحث نہیں؛ محض زبان کے حوالے سے ان کی خدمات کا تذکرہ مقصود ہے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اردو زبان کی تعلیم و تدریس کا جو معیار ان مدارس میں نظر آتا ہے وہ اب نہ تو سرکاری سکولوں میں ملتا ہے، نہ نجی تعلیمی اداروں میں۔ اگر یقین نہ آئے تو اکیسویں صدی میں پیدا ہونے والے سرکاری یا نجی سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی اردو دانی کا مقابلہ اسی عمر کے مدارس کے طالب علموں سے کر کے دیکھ لیجیے۔بات واضح ہو جائے گی۔ مستقبل کا فیصلہ حال کو دیکھ کر کیا جاتا ہے، ماضی کو نہیں۔
آخری بات یہ ہے کہ دنیا جس سمت میں سفر کر رہی ہے، اس راستے پر چلنے کے لیے کسی نہ کسی بین الاقوامی زبان میں مہارت ضروری ہے۔ لیکن کسی بیرونی زبان کو اپنی زبان کا متبادل بنا لینا کسی صورت بھی دانش مندی نہیں۔ اردو پاکستان کی دیگر زبانوں کے ساتھ تاریخی اور تہذیبی میراث کے رشتے سے بندھی ہوئی ہے۔ انگریزی کے ساتھ ہمارا ایسا کوئی رشتہ نہیں۔ انگریزی زبان اور اس کی پوری روایت ہمارے جغرافیائی اور تاریخی تجربات سے بعید تر ہے۔ اسے علم سیکھنے اور جغرافیائی حدود سے باہر بسنے والوں سے مکالمے کے لیے تو ضرور سیکھنا اور استعمال کرنا چاہیے لیکن اسے اپنی زبان بنا لینا اپنے پورے اجتماعی وجود سے خیانت ہوگی۔
عرض یہ ہے کہ ایک کثیر لسانی ملک کے بچوں کی امتیازی خصوصیت یہی ہونی چاہیے کہ انھیں ایک سے زیادہ زبانیں آتی ہوں۔ ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پشتو، سندھی، پنجابی ، بلوچی اور دیگر زبانیں بولنے والے بچوں نے اردو بھی سیکھی، انگریزی بھی سیکھی اور اکثر نے تو فارسی اور عربی بھی سیکھی۔ اس سے ان کی قابلیت میں اضافہ ہی ہوا، کمی نہیں ہوئی۔انھوں نے ہر میدان میں جھنڈے گاڑے۔ سوال یہ ہے کہ پرائمری اور ثانوی درجوں تک زبان کی تدریس کو وہ اہمیت دی جا رہی ہے یا نہیں، جو اس کا حق ہے؟ اس سوال کا جواب دوسروں سے نہ پوچھیے، اپنے آپ سے پوچھیے!!