(+92) 319 4080233
کالم نگار

عبدالغفارخان

عبدالغفارخان

پروفائل | تمام کالمز
2026/09/26
موضوعات
خوشگوار موسم ، حسین نظارے اور اپنوں کی رفاقت
گرم موسم میں جب بہاولپور کی دھوپ انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ شاید سورج نے مستقل قیام کا فیصلہ کر لیا ہے، ایسے میں ٹھنڈی ہواؤں کی تلاش میں پہاڑوں کا رخ کرنا کسی نعمت سے کم نہیں۔چنانچہ زیدان محمد نظام کی قیادت میں بھائی جان پروفیسر ڈاکٹر محمد عبداللہ کے ہمراہ تین روزہ خاندانی سیاحتی سفر کا پروگرام بنا۔ منزل تھی خانَس پور، جہاں پنجاب یونیورسٹی کا گیسٹ ہاؤس پہاڑوں کے درمیان ہماری میزبانی کے لیے منتظر تھا۔مقصد یہ تھا کہ چند دن شہر کی گرمی، روزمرہ کی مصروفیات اور یونیورسٹی کے معاملات سے دور گزارے جائیں، ٹھنڈی ہوا میں سانس لیا جائے، پہاڑ دیکھے جائیں اور خاندان کے ساتھ کچھ یادگار وقت گزارا جائے۔لیکن سفر نے ابتدا ہی میں اعلان کردیا کہ جناب! سکون اتنی آسانی سے نہیں ملنے والا۔

ہائی وے انتظامیہ کاعدم تعاون اور روایتی سرد مہری:
یونیورسٹی کی گاڑی پر سفر شروع ہوا۔ ابھی منزل خاصی دور تھی کہ گاڑی نے موٹر وے پرہی اپنا احتجاج ریکارڈ کرا دیا۔ آخرکار بارہ کہو سے نکلتے ہی خراب ہوگئی۔ہم نے سوچا تھا کہ پہاڑوں کا سفر ہے، راستے میں بادل، ٹھنڈی ہوا اور خوب صورت مناظر ہمارا استقبال کریں گے، مگر یونیورسٹی کی گاڑی نے فیصلہ کیا کہ تفریح سے پہلے بچوں کے لئے" انتظار" کےعنوان پر مضمون نویسی کی عملی تربیت بھی ناگزیر ہے۔کافی تگ و دو کے بعد گاڑی تبدیل ہوئی اور ہم نے دوبارہ سفر شروع کیا۔یوں خانَس پور پہنچنے سے پہلے ہی دُگنے خرچے میں سفرنامے کا پہلا مرحلہ تمام ہوا۔

راستے میں ہائی وے والوں سے بھی واسطہ پڑا۔ توقع تھی کہ مشکل میں پھنسے مسافروں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا، مگر یہاں بھی ہماری سرکاری روایت نے مایوس نہیں کیا۔تعاون کم اور تصویری کارروائی زیادہ نظر آئی۔ تصاویر بنائی گئیں، اپنے افسران کو بھیجی گئیں اور شاید یہ ثابت کیا گیا کہ متعلقہ اہلکار انتہائی متحرک ہیں۔ہم ادھر مسئلے کے حل کے منتظر تھے اور ادھر تصویریں بن رہی تھیں۔مسافر خوش ہوں یا نہ ہوں، افسر ضرور خوش ہونا چاہیے۔۔۔! گاڑی کی تبدیلی اور دیگر مشکلات کے باعث سفر کا خرچہ بھی تقریباً دوگنا ہوگیا۔ ہم نے سوچا تھا کہ پہاڑوں کی بلندیوں تک جائیں گے، مگر اخراجات نے بھی اپنی بلندی دکھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

بھائی جان اور بچوں کے سب سے چھوٹے چاچوکی رقاقت:
لیکن اس سفر کی اصل خوب صورتی نہ گاڑی تھی، نہ گیسٹ ہاؤس اور نہ ہی موسم۔اصل خوب صورتی خاندانی رفاقت تھی۔ہم کل چودہ بہن بھائی ہیں۔ وقت گزرتا گیا، بچے بڑے ہوتے گئے، تعلیم حاصل کی، اپنے اپنے میدان میں آگے بڑھے اور زندگی نے سب کو اپنی اپنی سمتوں میں مصروف کردیا۔

اس سفر میں ایک خوب صورت اتفاق یہ تھا کہ ہمارے ساتھ بچوں کے سب سے چھوٹے چاچو محمد عثمان بھی تھے۔ بچوں کے سب سے چھوٹے چاچو ،جو اب بڑے ہوکر پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹ بن چکے ہیں۔ ڈگری آگئی، عمر بڑھ گئی، دنیا داری آگئی، لیکن ہمارے لیے وہ آج بھی سب سے چھوٹے چاچو ہی ہیں۔

روزگار کے میدان میں پنجاب حکومت کی پالیسیوں سے مایوسی نے انہیں سرکاری ملازمت کے انتظار میں بیٹھنے کے بجائے ایک ٹریول ایجنسی میں خدمات انجام دینے پر مجبور کیا۔ شاید اسی لیے اس سفر میں ان کی موجودگی کچھ زیادہ ہی موزوں تھی؛ سفر بھی اور ٹریول ایجنسی والا چاچو بھی۔ کیا خوب منظر تھا:ایک طرف سب سے بڑے بھائی جان پروفیسر ڈاکٹر محمد عبداللہ، دوسری طرف سب سے چھوٹے چاچو۔درمیان میں ایک پوری نسل کی محبت، یادیں اور رشتوں کی کہانی۔

حسین عبداللہ ،سفر کا ایک خوب صورت زاویہ:اس سفر کی ایک اور خوش گوار خوبی حسین عبداللہ کی رفاقت تھی۔پیشے کے اعتبار سے وہ فارماسسٹ ہیں، لیکن ان کی شخصیت صرف پیشے تک محدود نہیں۔ وہ فیس بک پر لکھتے بھی ہیں اور سفر، مشاہدے اور منظر کو اپنے انداز میں محفوظ کرنے کا ذوق بھی رکھتے ہیں۔اس سفر میں ان کی عکاسی نے ہمارے لیے کئی نئے دریچے وا کیے۔ ہم شاید پہاڑ کو صرف پہاڑ سمجھ کر دیکھ رہے تھے، مگر حسین عبداللہ کے کیمرے نے اسی منظر کے اندر چھپی ہوئی کئی چھوٹی چھوٹی خوب صورتیوں کو ہمارے سامنے لا کھڑا کیا۔کسی درخت کی ساخت، کسی راستے کا خم، چہرے پر پڑتی روشنی، پہاڑی فضا کی خاموشی یا چلتے ہوئے قافلے کا کوئی غیر محسوس لمحہ ،کیمرہ ان سب کو روک لیتا تھا۔یوں محسوس ہوا کہ سفر صرف راستہ طے کرنے کا نام نہیں بلکہ دیکھنے کا ایک ہنر بھی ہے۔ بعض لوگ ہمیں وہی منظر دوبارہ دکھاتے ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے تو ہوتا ہے مگر ہماری نظر سے اوجھل رہتا ہے۔حسین عبداللہ کی عکس بندی نے اس سفر کو محض ایک سیاحتی سفر نہیں رہنے دیا بلکہ اسے یادوں کی تصویری دستاویز بھی بنا دیا۔

خانَس پور جہاں وقت بھی ٹھنڈا ہوگیا۔بالآخر خانَس پور پہنچ گئے۔پنجاب یونیورسٹی کا گیسٹ ہاؤس پہاڑوں کے درمیان ایک ایسے مقام پر واقع ہے جہاں شہر کی گرمی کا تصور بھی عجیب محسوس ہوتا ہے۔باہر ٹھنڈی ہوا، سامنے سبز پہاڑ، اردگرد خاموشی اور فضا میں ایسی تازگی کہ انسان چند ہی لمحوں میں اپنی روزمرہ کی تھکن بھول جائے۔ہم نے محسوس کیا کہ تین دن کے لیے زندگی نے اپنی رفتار کم کردی ہے۔نہ یونیورسٹی کے اجلاس، نہ فائلوں کی فکر، نہ روزمرہ کی دوڑ دھوپ۔بس خاندان، پہاڑ، ٹھنڈی ہوا، چائے اور بے تکلف گفتگو۔

سفر کا ایک خوب صورت مرحلہ ایوبیہ کا ٹریک تھا۔پہاڑی راستے پر چلتے ہوئے محسوس ہوا کہ اصل سیاحت صرف گاڑی کی کھڑکی سے پہاڑ دیکھنے کا نام نہیں۔ پہاڑ کے راستے پر اپنے قدموں سے چلنے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔کبھی راستہ چڑھائی اختیار کرتا، کبھی درختوں کے درمیان سے گزرتا اور کبھی اچانک ایسا منظر سامنے آتا کہ قدم خود بخود رک جاتے۔خاندان کے ساتھ ٹریک پر چلنے کا لطف بھی الگ تھا۔ کوئی منظر دیکھ کر رک جاتا، کوئی تصویر بنواتا، کوئی تھکن کا اظہار کرتا اور کوئی ہر چند قدم بعد یہ دیکھتا کہ باقی لوگ کہاں تک پہنچ گئے ہیں۔

تین دن کب گزر گئے، معلوم ہی نہ ہوا۔ہم گرمی سے بھاگ کر ٹھنڈے موسم کی تلاش میں خانَس پور پہنچے تھے، مگر واپسی پر محسوس ہوا کہ ہم صرف موسم تبدیل کرکے نہیں بلکہ اپنا مزاج بھی تازہ کرکے واپس جا رہے ہیں۔گاڑی کا خراب ہونا، گاڑی تبدیل ہونا، ہائی وے والوں کی بے نیازی اور اخراجات کا بڑھ جانا،یہ سب بظاہر سفر کی مشکلات تھیں، مگر اب یہی واقعات اس سفر کی یادوں کا حصہ بن چکے ہیں۔

گسٹ روم والوں کوبل دینے کے بعد واپسی پر بھائی جان نے کسی سے بات نہیں کی ،اسلام آباد سے نکل کر گاڑی میں ان کی موجودگی کا احساس ہوا۔

اگر گاڑی خراب نہ ہوتی تو ایک واقعہ کم ہوتا،اگر ہائی وے والوں نے تعاون کردیا ہوتا تو طنز و مزاح کا ایک باب نہ بنتا،اگر خرچہ دوگنا نہ ہوتا تو مہنگی ٹھنڈ کا قصہ نہ بنتا۔اور اگر سب سے چھوٹے چاچو اور حسین عبداللہ ساتھ نہ ہوتے تو اس سفر میں خاندانی محبت اور تصویری یادوں کی یہ خوب صورت کیفیت بھی پیدا نہ ہوتی۔

حسین نظاروں میں حسنِ یوسف کی کمی :
اس سفر میں اپنوں کی رفاقت بھی تھی اور کچھ اپنوں کی کمی بھی۔ شاید یہی خاندانی سفر کی سب سے خوب صورت اور جذباتی حقیقت ہے کہ سب ایک جگہ جمع نہیں ہو پاتے، مگر دل سب کو اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے۔حسن عبداللہ تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں سمندر پار ہیں۔ ان کے نومولود بیٹے محمد یوسف حسن بھی اس سفر میں شریک نہ ہو سکے۔ 2017 کے سفر میں حسن عبداللہ ہمارے ساتھ تھے، اس لیے اس بار ان کی غیر موجودگی مجھے ذاتی طور پر شدت سے محسوس ہوئی۔ کئی مرتبہ دل چاہا کہ اس کمی کا اظہار کروں، مگر خاموش رہا تاکہ سفر کی خوشیوں میں کسی کے لیے اداسی کا سبب نہ بنوں۔

حسین عبداللہ ہمارے باقاعدہ ہم سفر تھے، مگر مجھے کچھ ادھورے ادھورے اور کھوئے کھوئے سے محسوس ہوئے۔ پہاڑوں کے حسین مناظر کی عکس بندی کرتے رہے، مگر شاید دل میں بار بار ممیزہ بٹیا کا خیال آتا رہا"ممیزہ" بٹیا ساتھ ہوتی تو یہ سفر مکمل ہوتا، اور بٹیا آتی تو بٹیا کی اماں بھی ساتھ ہوتیں اور شاید دل یہ بھی کہتا رہا یہ کیسا سفر ہے"تم دِلی میں اور ہم لوہارو میں"یوں ہمارے اپنوں کا قافلہ جغرافیہ کے اعتبار سے مختلف جگہوں پر بکھرا ہوا تھا، مگر محبت کے اعتبار سے سب اسی سفر میں شریک تھے۔مگر زندگی شاید یہی ہے۔ کچھ لوگ ہمارے ساتھ راستہ چلتے ہیں، کچھ دور سے دعاؤں میں شریک رہتے ہیں اور کچھ اپنی یادوں کے ذریعے سفر کا حصہ بن جاتے ہیں۔

خانَس پور کے ان تین دنوں نے ایک بار پھر یاد دلایا کہ زندگی صرف عہدوں، ذمہ داریوں، اجلاسوں اور مصروفیات کا نام نہیں۔کبھی بھائی کے ساتھ سفر بھی ضروری ہے،کبھی خاندان کے ساتھ بیٹھنا بھی ضروری ہے،کبھی پہاڑوں کی طرف دیکھتے ہوئے خاموش رہنا بھی ضروری ہےاور کبھی ان رشتوں کو دوبارہ محسوس کرنا بھی ضروری ہے ۔ اس سفر میں سب سے بڑے بھائی جان اور بچوں کے سب سے چھوٹے چاچو کا ساتھ ایک خوب صورت علامت تھا۔ایک طرف عمر، تجربہ اور شفقت، دوسری طرف جوانی، تعلیم اور نئے زمانے کی امید۔یوں خانَس پور کا یہ سفر صرف تین دن کی سیاحت نہیں رہا بلکہ یہ خاندان، رفاقت، پہاڑ، یادوں اور تصویروں کا ایک خوب صورت باب بن گیا۔خانَس پور سے واپسی پر گاڑی تو ہمیں واپس لے آئی، مگر دل کا ایک حصہ شاید وہیں رہ گیا۔

کالم نگار : عبدالغفارخان
| | |
81