(+92) 319 4080233
کالم نگار

رافعہ ابراہیم

طالبہ ، عربک اوپن یونیورسٹی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
والدین کےساتھ حسن سلوک
والدین
دنیاکاہرمذہب اس بات پر متفق ہےکہ والدین کےساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے، کیونکہ والدین انسان کے دنیا میں آنےکاذریعہ ہیں ۔اسلام میں والدین کےساتھ حسن سلوک کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیاہے وہیں والدین سے حسن سلوک کا حکم دیاہے ۔
والدین کی نافرمانی کا گناہ
اس کامطلب یہ ہےکہ جیسے اللہ کےساتھ ذراساشرک گناہ ہے،اسی طرح والدین کی ذراسی نافرمانی بھی گناہ ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نےقرآن کریم میںایک مقام پر فرمایا ہے,: والدین سےاُف بھی مت کہو ۔ مفسرین کرام نےاس کامطلب یہ بیان فرمایاہے کہ ان کی کوئی بات تمہیں ناگوار لگے تو جواب دینایااونچابولناتو بہت دور کی بات،اف بھی مت بولنا یعنی(اپنےقول یافعل یاچہرےکےاتارچڑھاؤسے) اپنی جھنجھلاہٹ کا اظہار بھی نہ ہونےدینا۔اسی طرح احادیث مبارکہ میںبھی والدین سےاچھاسلوک کرنے کا حکم دیاگیاہے۔ ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میرےحسن سلوک کاسب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تیری ماں۔اس صحابی نے دوبارہ یہی سوال کیاتوآپ نے فرمایا ۔تیری ماں ۔جب تیسری مرتبہ پوچھاکہ میرے اخلاق کاسب سے مستحق کون ہے؟توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی ارشاد فرمایا یعنی تیراباپ۔ ایک حدیث میں ہے:بنی اسرائیل کے تین آدمی کسی غار میں پھنس گئے تھے، انہوں نے مشورہ کیاکہ اپنے اپنےنیک اعمال کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے راستہ کھلنے کی دعا مانگتے ہیں ۔ان میں سے ایک نے کہا:یااللہ! میں بکریاں چراتا تھا،شام کوگھرواپس آکران کادودھ دوھ کرسب سے پہلے اپنی ماں کوپیش کرتا تھا ۔ایک دن میں دیر سےواپس لوٹا تو میری ماں سوچکی تھی۔ میں دودھ نکال کرماں کےپاس آیا لیکن ادب کی وجہ سے ماں کو جگانامناسب نہ سمجھا۔ ساری رات میرےبچے میرے قدموں میں لپٹے بھوک سےبلبلاتےرہے لیکن میں نے ماں سے پہلے کسی کو دودھ نہیں پلایانہ ماں کو جگایا ۔یااللہ! اگر میرایہ عمل تجھے پسندہےتو ہمارےلیےراستہ کھول دے ۔فورا ًچٹان سرکی اور کچھ راستہ بن گیا ۔اس سے پتہ چلاکہ والدین کے ساتھ نیکی کرنا مقبول عمل ہے،اس کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی ہیں اورمشکلیں حل ہوجاتی ہیں ۔ اس کے)برعکس جولوگ اپنے والدین کی نافرمانی کرتےہیںان کی زندگی سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔ والدین کے نافرمان کوآخرت کےعذاب کےعلاوہ دنیا میں بھی سزا ملتی ہے ۔
والدین کے فرمانبردار کیلئے انعامات
اسی طرح والدین کے فرمانبردار کو بھی آخرت کے انعام کےساتھ دنیا میں بھی انعام ملتا ہے۔ جیسے مشہور تابعی حضرت اویس قرنی ؒکاواقعہ ہےکہ وہ اپنی ماں کی بہت زیادہ خدمت کرتےتھے ۔انہوں نے اپنی والدہ سے مدینہ منورہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میںجانے کی اجازت مانگی ۔ماں نے کہا :جاؤاورجلدی واپس آجانا ۔وہ جب مدینہ منورہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں تشریف لےجاچکےتھے ۔حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ ماں کے تعمیل حکم میں بغیردیدار کیے واپس تشریف لے گئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے توآپ کوخبردی گئی کہ قبیلہ قرن کاایک نوجوان آپ سے ملنے آیاتھا ،لیکن ماں کے حکم کی وجہ زیادہ دیر انتظار نہیں کرسکا اور واپس چلا گیا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کربہت خوش ہوئے کہ وہ ماں کا بہت خدمت گزار ہے ۔آپ ﷺ نے حضرت عمراورحضرت علی رضی اللہ عنہما کواپنا جبہ مبارک دیا کہ جب اویس قرنی آئےاس کویہ جبہ دےدینااور اس سے کہنا کہ میری گنہگار امت کےلئے دعا کرے ۔سبحان اللہ !ماں کی اطاعت کی وجہ سے پیغمبرآخرالزماںعلیہ السلام اپنے امتی سے دعا کروارہےہیں ۔

کالم نگار : رافعہ ابراہیم
| | |
513     4