(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
پی ڈی ایف کیاہے؟
پی ڈی ایف
تعارف:
ڈیجیٹل ورلڈمیں،بالخصوص علمی حلقوں میں جوالفاظ بکثرت استعمال ہوتے ہیں،ان میں ایک پی ڈی ایف کالفظ بھی ہے۔ہمیں مارکیٹ میں یاکسی کتب خانےپرکوئی کتاب پسندآجاتی ہےتوہماری کوشش ہوتی ہےکہ ہمیں وہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں مل جائے تاکہ اسے خریدنانہ پڑے،ہم کسی کوکوئی تحریربھیجیں اورہماری خواہش ہےکہ یہ تحریرمن وعن اس کے پاس جائےاوروہ اس میں کوئی کمی بیشی بھی نہ کرسکے توہم اس کے لیے پی ڈی ایف فارمیٹ استعمال کرتے ہیں غرضیکہ پی ڈی ایف نے بہت سے سافٹ ویئرزکوپیچھے چھوڑدیاہے۔آئیے!جانتے ہیں کہ پی ڈی ایف کیاہے؟کس چیزکامخفف ہے؟کیسے بنتی ہے اوراس کے کیاکیافوائدہیں؟
پورٹیبل ڈاکومینٹ:
پی ڈی ایف کا مطلب پورٹ’’ ایبل ڈاکومنٹ فارمیٹ‘‘(Portable Document Formate) ہے۔ کمپیوٹر کی دنیا میں ’’پورٹیبل ایلیمنٹ ‘‘سے مراد ایک ایسا ایلیمنٹ ہوتا ہے جو تیار شدہ حالت میں ہواور جسے کسی بھی وقت استعمال کیا جاسکے۔ جب ہم کوئی ٹیکسٹ کمپوز کرتے ہیں تو وہ صرف ٹیکسٹ ہوتا ہے، جس پر آپ کوئی بھی سائز، فونٹ وغیرہ لگا کراسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتے ہیں، لیکن جب اسے پورٹیبل بنالیا جاتا ہے تو وہ اس کی تیار شدہ حالت ہوتی ہے، اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی، جب تک کہ اسے دوبارہ ٹیکسٹ میں نہ ڈھال لیا جائے۔یہی معاملہ پی ڈی ایف کا بھی ہے۔ جوکچھ ہم کمپوز کرچکے ہیں اور اس کے متن اور عناوین کاحجم/سائز اور رسم الخط/فونٹ وغیرہ لگاچکے ہیں، اگر وہ فائل ہماری طرف سے مکمل ہے، لیکن وہ ابھی ٹیکسٹ فارمیٹ میں ہے یا ورڈ کی فائل ہے تو ذرا سی بے احتیاطی یا لاعلمی کی وجہ سے وہ کسی خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے،مثلاً: کوئی بھی شخص اسے کھول کر متن میں تبدیلی یا کمی، زیادتی (Editing)کرسکتا ہے۔صفحات الٹتے پلٹتے ہوئے غلطی سے کوئی ایک آدھا لفظ یا حرف تبدیل ہوسکتا ہے۔کسی بھی کمپیوٹر میں محض کھول کردیکھ لینے سے اس کا رسم الخط تبدیل ہوسکتا ہے،اس کے حجم/سائز میں کمی زیادتی ہوسکتی ہے،حاشیے اور صفحے کے سائز میں گڑبڑ ہوسکتی ہے، اس کے صفحاتـ کے نمبر میں گڑبڑ ہوسکتی ہے۔کمپوزر کے پاس اگر وہ فونٹ نہیں ہے جو ہم نے لگایا ہے تو بھی ہر پیراگرافـ متاثر ہوجاتا ہے۔ پی ڈی ایف ان تمام مسائل کا حل ہے۔
پی ڈی ایف بنانے کا طریقہ :
پی ڈی ایف بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ :ہروہ سافٹ وئیر جس میں ہم کمپوز کرتے ہیں، سب کے سب براہ راستـ ٹیکسٹ کو پی ڈی ایف میں تبدیل /Convert کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ مثلاً ان پیج، ایم ایس ورڈ، ون نوٹ، گوگل ڈاکس وغیرہ۔ ان سافٹـ وئیرز میں عام طور پر Save کے بٹن کے نیچے Save as کا بٹن موجود ہوتا ہے،اس بٹن کے ذریعے Save کرتے ہوئے فائل ٹائپ پوچھی جاتی ہے کہ آپ اس مواد کو کس طرح کی فائل میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں؟ یہاں لسٹ میں پی ڈی ایفـ کا انتخاب کریں اور Save کردیں۔ آپ کی فائل پی ڈی ایفـ کی صورت میں محفوظ ہوجائے گی۔ کچھ سافٹ وئیرز میں یہی آپشنExport کے نام سے ہوتا ہے۔ بعض سافٹ وئیرز میں دونوں طریقوں سے پی ڈی ایف بنائی جاسکتی ہے۔مجموعی طور پر پی ڈی ایف بنانے کے لیے مائیکروسافٹ آفس ورڈ سے بہتر کوئی سافٹ وئیر نہیں ہے۔ دوسرے سافٹ وئیرز اور مائیکروسافٹ آفس ورڈ کے پی ڈی ایف بنانے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ایم ایس آفس ورڈ میں متن تیار شدہ حالت میں ہوبہو پی ڈی ایف میں منتقل ہوجاتا ہے، جب کہ دوسرے سافٹ وئیرز میں ڈالتے ہی سب سے پہلے آپ کی ترتیبات/Settings خراب ہوجاتی ہیں، اس کے بعد پی ڈی ایف فائل بنتی ہے۔ اسی طرح مستقل سافٹ ویئرز بھی ہیں جو آپ کی فائل کو پی ڈی ایف میں کنورٹ کردیتے ہیں،ان میں کچھ آن لائن کام کرتے ہیں اور کچھ ایک بار انسٹال کرنے کے بعد آف لائن بھی کام کرتے ہیں۔www.filehippoنامی ویب سائٹ سے یہ سافٹ ویئر حاصل کیے جاسکتے ہیں،اس ویب سائٹ کےتمام سافٹ ویئر فری آف کاسٹ ہیں۔
پی ڈی ایف فائل دو طرح کی ہوتی ہے:
۱۔ ایک فائل تصاویر کو جوڑ کربنائی جاتی ہے۔ اس کا فائدہ صرف یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی کتاب یا مضمون بس مرتب ہوجاتا ہے اور ایک کتاب کی شکل میں تیار ہوکر صارفین کے سامنے دستیاب ہوتا ہے۔ یہ تصاویرا سکین کردہ یا کیمرے کے ذریعے لی گئی، دونوں طرح کی ہوسکتی ہیں۔ اس پی ڈی ایف کا وزن تصویروں کے وزن کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر تصاویر اچھے کیمرے سے لی گئی ہیں، یا ہائی ریزولیوشن فارمیٹ میںا سکین کیاگیا ہے تو پی ڈی ایف بنانے کے بعد اس کا مجموعی سائز تمام تصاویر کے قریب قریب ہوگا۔ اگر ان تصاویر کا وزن کم ہے تو پی ڈی ایف کا وزن بھی کم ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ڈیڑھ دو سو صفحات کی کتاب 100 ایم بی سے زیادہ وزن رکھتی ہے، جب کہ بعض کتابیں 500 صفحات پر مشتمل ہوتی ہیں لیکن ان کا کل وزن 20، 22 ایم بی کے قریب ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ سافٹ وئیرز اپنی پالیسی کے مطابق پی ڈی ایف بناتے ہوئے تصاویر کی کوالٹی کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اگر آپ پی ڈی ایف بنانے والے سافٹ وئیر کا خریدا ہوا اصلی ورژن استعمال نہیں کررہے تو ممکن ہے تصویر کا معیار آپ سے پوچھے بغیر متاثر کردیا جائے۔ ایم ایس آفس ورڈ میں تصاویر کی کوالٹی کے بارے میں الگ آپشن موجود ہوتا ہے۔ خاص طور پر فری میں ملنے والے سافٹ وئیرز کی اپنی فیکٹ بک ہوتی ہے جو اپنے راز اس وقت آشکار کرتی ہے جب آپ نقصان اٹھا چکے ہوتے ہیں۔ ۲۔پی ڈی ایف کی دوسری فائل متن/Text کو جوڑ کربنائی جاتی ہے۔ یہ براہ راست اس سافٹ وئیر سے بنائی جاتی ہے جس میں متن کمپوز کیا جاتا ہے۔ اس کا حجم انتہائی کم ہوتا ہے اور اس میں کمپوزر کی ساری ترتیبات/Settings ہوبہو محفوظ ہوجاتی ہیں۔ کسی بھی فائل کا پرنٹ لینے کے لیے پہلے اس کی پی ڈی ایف بنانی چاہیے اور پھر پی ڈی ایف سے پرنٹ لینا چاہیے۔ عربی متن اگر Text Based ہے یعنی متن سے پی ڈی بنایا گیا ہے تو اکثر کنورٹ ہوجاتا ہے لیکن کبھی کبھی اینٹھ جاتا ہے۔ تصویر سے بھی کبھی کبھی متن نکل آتا ہے لیکن اس میں غلطیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ کئی دوستـ متن کو کاپی کرلیتے ہیں، بعد میں غلطیاں سامنے آتی ہیں تو پریشان ہونے لگتے ہیں۔ اس لیے عربی متن خاص طور پر دیکھنا چاہیے۔ پی ڈی ایف کو دوبارہ ٹیکسٹ کی شکل میں لانا ممکن ہے،لیکن فی الحال یہ سہولت صرف انگریزی متن کے لیے ہے۔ پی ڈی ایف اگرانگریزی متن کے ذریعے بنائی گئی ہےتو اسے بغیر کسی مشکل کے دوبارہ ٹیکسٹ کی شکل میں ڈھال سکتے ہیں۔ اس کے لیے انٹرنیٹ ، سافٹ وئیرز اور کنورٹنگ ٹولز استعمال کرنے کےبجائے سادہ طریقہ استعمال کریں۔ طریقہ یہ ہے کہ ایم ایس آفس ورڈ کی فائل کھولیں اور پی ڈی ایف فائل کو گھسیٹـ کر(Drag & Drop) ایم ایس آفس میں چھوڑ آئیں۔ورڈ چند لمحوں میں اسے ٹیکسٹ بنادے گا۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو مثلاً ایم ایس آفس انسٹال نہیں ہے ، سسٹم ہینگـ ہوجاتا ہے ، شور مچانے لگتا ہے یا رفتار بہت سست پڑجاتی ہے تو پھر گوگل سے سرچ کرکے کسی ویب سائٹ سے آن لائن کنورٹـ کرلیں۔ اس صورت میں پہلے فائل اپ لوڈ کرنی ہوگی ، 100 فی صد کنورٹ ہوجانے کے بعد اسے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکے گا۔یادرکھیں کہ اردو متن کی پی ڈی ایفـ کو دوبارہ سے ٹیکسٹ میں بدلناناممکن ہے۔ اردو کا متن چاہے وہ Text Based ہی کیوں نہ ہو، ترکش سے نکلے تیر کی طرح کبھی بھی واپس نہیں آتا۔ اس لیے پی ڈی ایفـ بناکر اصل ورڈ کی فائل کو کبھی حذف/Delete کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
855     4