دینی جماعتوں کی شکست کاذمے دارکون؟
اہلِ سنت میں دیوبندمکتبِ فکروہ مکتبِ فکرہے جوہردورمیں باطل کے مقابلے میں سینہ سپررہاہے،اٹھارہ سوستاون کی جنگِ آزادی سے لے کرافغانستان وکشمیرکے ج ہ ا د تک،ہرجگہ اسی مکتبِ فکرکے سپوت میں میدان کے فاتح نظرآتے ہیں،اس وقت اگردنیامیں کوئی آزاد،خودمختاراور مکمل دینی شرعی خطوط پرکوئی حکومت ہےتووہ بھی اس مکتبِ فکرکے فرزندوں کی ہے۔اس جدوجہدمیں اہلِ حدیثِ مکتبِ فکرنےہمیشہ دیوبندمکتبِ فکرکواپناامام ماناہے،معدودے چندممالک کے،جہاں اہلِ حدیثِ مکتبِ فکرکی اکثریت ہے،وہاں دیوبندمکتبِ فکرنے اُن کی اقتداکی ہے۔
پاکستان میں دیوبندمکتبِ فکرکی درجنوں جماعتیں ہیں،جن میں سے سیاسی محاذپرجمعیت علمائے اسلام کافضل الرحمٰں گروپ گزشتہ چاردہائیوں سے سب سے زیادہ متحرک ہے،ماضی میں سمیع الحق گروپ بھی سرگرم رہا،مگراب سیاسی افق پرصرف فضل الرحمٰں گروپ ہے۔اسی مکتبِ فکرکی ایک نظریاتی جماعت اہلِ سنت والجماعت بھی ہے،جس نے ماضی میں ہمیشہ اُن حلقوں سے،جہاں اس کاسوفیصد ووٹ بینک تھا،جمعیت ہی کے ٹکٹ پرالیکشن لڑاتاہماِن کی قربتیں سمیع الحق گروپ کے ساتھ رہیں۔ماضی قریب میں فضل الرحمٰں گروپ کے ٹکٹ پربھی ابنِ امیرِ عزیمت صوبائی اسمبلی پہنچے۔
اس جماعت نے سیاسی میدان اورانتخابی دنگل میں اترنے کافیصلہ جب بھی کیا،اس کاسفرمعکوس سمت ہی رہا،جس کی نظیرحالیہ الیکشن میں واضح طورپردیکھی جاسکتی ہے۔یہی حال دیوبندمکتبِ فکرکے قریب سمجھی جانے والی’’جماعتِ اسلامی‘‘کابھی رہا۔یہ دونوں جماعتیں بہت بڑی عوامی مقبولیت کی حامل ہونے کے باوجودالیکشن کے میدان میں کوئی قابلِ ذکرکارکردگی اب تک نہ دِکھاسکی ہیں۔اِن کے جلسے تومقبولیت کے ریکارڈ توڑدیتے ہیں،لیکن ووٹ کسی اورکوپڑتاہے۔
ماضی میں اہلِ سنت والجماعت کوجمعیت سے یہ اختلاف واعتراض رہاکہ اُس نے دشمنانِ اصحابؓ واہلِ بیتؓ کے ساتھ اتحادکیاہےلہٰذا ہم ان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔اِس الیکشن میں توایسابھی کچھ نہیں تھا،پھراِن کے ساتھ کلی اتحادکیوں نہ کیاجاسکا؟جہاں بھی جمعیت،جماعت یااہلِ سنت والجماعت کے امیدوار،تمام ترکمپین کے باوجود،ہارے ہیں وہاں کے ووٹوں کاریشونکال کردیکھیےاگراِن کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوجاتی اوریہ وسیع ترملکی ودینی مفادمیں قربانی دے دیتےتوکیاجیتنے والاامیدوار جیت جاتا؟کیونکہ اِن کےووٹ جیتنے والے سے زیادہ تھے مگراِن کاووٹ تقسیم ہوا،جس کافائدہ اِن کے مشترکہ مدمقابل کوپہنچا،یوں کئی ایسے لوگ اِن کے باہمی اختلاف کافائدہ اٹھاکراسمبلیوں میں پہنچ گئے جن کے خلاف یہ مسلسل برسرِپیکاررہتے ہیں۔بالفاظِ دیگراگرجھنگ سے تین دہائیوں بعدسیٹ سے ہاتھ دھوناپڑاہے توقصورکسی اورکانہیں،اپنوں کاہے؎
دیکھاجوتیرکھاکے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی
یہی حال اُن تمام نشستوں کاہےجواِن تین جماعتوں کےایک دوسرے کے مقابل امیدوارکھڑے کرنےکی وجہ سےہاتھ سے گئی ہیں۔
اندریں صورت،کیاعوام یہ پوچھنے کاحق نہیں رکھتےکہ کیااتحادواتفاق اوراجتماعیت کے لیے انفرادیت کی قربانی کے درس صرف ہمیں سنانے کے لیے ہیں؟جس نبیﷺ کے وارث کہلاتے ہواُس نے تونصاریٰ کوبھی مشترکات کی بنیادپرمل بیٹھنےکی دعوت دی تھی،جس پراب بھی رب کے قرآن کی سورہ اٰل عمران گواہ ہےتوپھرتم کیوں مشترکات کی بنیادپرنہیں بیٹھتے؟کیاہم نے تم پراِس لیے اعتمادکرکے تمھیں اپنامقتدا وپیشوا بنایاہےکہ تم آپس کے جھگڑوں میں الجھے رہواوراُس کافائدہ ہمارے دینی وملی دشمنوں کوہو؟تم اِن سیکولر،لبرل،دین ووطن دشمن لوگوں کواسمبلیوں میں پہنچانے کے ذمے دارہو،کیونکہ تم اناپرست ہواورہمیں یہ دِن تمھاری انانے دِکھائے ہیں۔تم اناکے بت توڑنے کے لیے تیارنہیں ہو،اِس لیے تمھارے ساتھ جوہوا بہت اچھاہوا،تمھارے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔
کیامشترکات کی بنیادپرجماعتِ اسلامی،جمعیت علمائے اسلام،مرکزی مسلم لیگ،راہ حق پارٹی(اہلِ سنت والجماعت)،تحریک لبیک پاکستان کے درمیان اتحادنہیں ہوسکتاتھا؟وہ کون سی رکاوٹ تھی جواِنھیں ایک پلیٹ فارم پرآنے نہیں دے رہی تھی؟کیایہ سب جماعتیں اتحادیاکم ازکم سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرلیتیں تودینی جماعتیں اِس بری طرح ناکامی سے دوچارہوتیں؟بعدازخرابیِ بسیار،دینی جماعتیں اِس موٹی حقیقت کو،جودیوارپرلکھی حقیقت ہے،نوشتہ دیوارہے،سمجھنے کے لیے دانستہ طورپرتیارنہیں ہیں۔اِس کاسبب کیاہے؟اِس سبب کوتلاش کرنے اوراِس مجبوری کے حصارسے نکلنے کی ضرورت ہے،کیادینی جماعتیں اِس جانب توجہ دیں گی؟کیاکوئی ’’رجلِ رشید‘‘ہے جودینی جماعتوں کے قائدین کواِس جانب متوجہ کرے؟بادی النظرمیں،دینی جماعتیں’’اب یاکبھی نہیں‘‘کے دوراہے پرکھڑی ہیں،لیکن احساس اب بھی نہیں تواصلاحِ احوال کی امیدکس سے کی جائے!
تمھاری بربادیوں کے فیصلے ہیں آسمانوں پر