(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
عبادت(نماز)سے متعلق ابتدائی اور بنیادی معلومات
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ عبادت(نماز)سے متعلق ابتدائی اور بنا دی معلومات ’’مسجد‘‘ سوال: مسجد کسے کہتے ہں ؟ جواب:زمنز پر موجود اییم جگہ کو جسے کسی مسلمان، حکومتِ وقت، علاقائی ذمہ داروں نے اپنی ملکتل سے مستقل طور پر نکال دینے کے بعد تمام مسلمانوں کے لےہ نماز اور دیگر عبادات کی اجتماعی اور انفرادی ادائواپنں کے لےط وقف کردیا ہو، مسجد کہتے ہںم۔ اس کی جمع مساجد ہے اور چونکہ اس کی نسبت بت اﷲ سے بھی کی جاتی ہے اس لےو انہںل اﷲ تعالیٰ کا گھر بھی کہا جاتا ہے۔ سوال: کاو مسجد کی زمنت و عمارت کسی کی ملکت ہوتی ہے؟ جواب:نہںم! مسجد کی زمن و عمارت وقف کرنے والے کی ملکتی مں بھی نہںم رہتی اور کسی دوسرے کی ملکت مںع بھی نہںے جاتی بلکہ تمام مسلمانوں کو اس مںت تاقایمت عبادت ادا کرتے رہنے کی عام اجازت ہوتی ہے۔ البتہ انتظامی امور کے حوالوں سے بعض لوگوں کو ذمہ دار بنایا جاسکتا ہے، ہمارے زمانے مںا ایسے ذمہ داروں کی جماعت کو مسجد کمیھی کہا جاتا ہے۔ سوال: کان حکومتی جگہوں یا کسی کی ملکت کی جگہ پر ناجائز قبضہ کرکے بغر اجازت کے مسجد بنائی جاسکتی ہے؟ جواب:نہںر! اسلام اس کی اجازت نہںن دیتا اییہ غر۔قانونی مساجد مںی نمازیں ادا ہی نہںک ہوتں ۔ سوال: مصلّٰی کے لفظی معنی کاے ہںے؟ جواب: نماز کو عربی زبان مں صلوٰۃ کہتے ہں ۔ نماز پڑھنے والے کو مُصلِّی اور جس زمن ، کپڑے، چمڑے، چٹائی، قالنی کے ٹکڑوں پر نماز پڑھی جائے اُسے مصلّٰی کہتے ہںی، اردو مںے اس کے معنٰی جائے نماز کے ہںن۔ سوال: شریعت مںا مُصَلّٰی کسے کہتے ہں ؟ جواب:اییا تمام جگہوں کو مُصلّٰییا جگہ برائے نماز کہا جاتا ہے جن کے مالکوں نے انہںو اپنی ملکت مںچ رکھتے ہوئے مسلمانوں کو ان مںا نمازیں ادا کرتے رہنے کی عام اجازت دی ہو۔ یہ اجازت ختم بھی کی جاسکتی ہے۔ نز ایسے مُصَلّوں کی جگہوں کو دوسرے مقاصد کے لےپ بھی استعمال کاص جاسکتا ہے۔ سوال: کاا مساجد کی جگہوں کو بھی کسی دنو ی مقصد کے لےئ تبدیل کا۔ جاسکتا ہے؟ جواب:نہںر! (احناف کے مسلک کے مطابق) ایک مرتبہ (پہلی مرتبہ) مسجد بنادیے جانے کے بعد وہ قاامت تک مسجد ہی رہے گی اسے ختم نہںے کاک جاسکتا۔ نزم نماز کے لےت مختص کی جانے والی جگہوں مںے کسی دوسرے مقصد کے لےس کمی بھی نہں کی جاسکتی البتہ اضافہ کا جاسکتا ہے لکنح اضافے کے بعد وہ جگہںے بھی ہمشہ کے لےگ مسجد بن جائںو گی۔ نزس مسجد کے نام سے اسلام دشمن سرگرموکں کے لےا کوئی جگہ بنائی جائے یا کسی جگہ پر ناجائز قبضہ کرکے مسجد بنائی جائے تو ایی جگہوں کو تحققادت کے بعد مسلم حکومت مسمار (منہدم) اور ڈھا سکتی ہے۔ سوال: کام مسجد کے لےا وقف کی گئی پوری جگہ مسجد کہلاتی ہے؟ جواب:نہں ! اس چار دیواری مںا جتنی جگہ نمازوں کی ادائو قبں کے لےا مختص و متعنر کی گئی ہے وہی مسجد کہلاتی ہے لہٰذا مسجد کا وضوخانہ، طہارت خانہ، مدرسے کی علحدیہ جگہ، امام، مؤذن و خدام کے حجرے، اذان کے لےا متعنا علحدوہ جگہ، اسٹور روم، کرایوں کی آمدنی کے لےم قائم دکانںج اور مکانات مسجد مںا داخل نہںم ہوتے، چنانچہ اعتکاف مں بٹھنے والوں کو مسجد کی انتظامہم سے مسجد کی حدود معلوم کرلیخک چاہےع اس لےا کہ بلاضرورت شرعی مسجد سے باہر نکلنے سے اعتکاف ختم ہوجاتا ہے۔ سوال: کا مسجد کے لےح متعنے کردہ جگہوں کے اوپر یا نچےر تعمر ات کرکے یا بغر تعمر کے اسے عبادات کے علاوہ کے مقاصد کے لےا استعمال کا جاسکتا ہے؟ جواب:نہںخ! مسجد کے لے متعنی کردہ جگہ اوپر آسمانوں سے بھی اوپر تک، نچےت زمن آخری تہہ تک کی مکمل فضا اور جگہ مسجد کہلاتی ہے لہٰذا اوپر فضا اور نچےک تہہ خانہ کی جگہں عبادات کے علاوہ کے کسی دنوجی مقاصد کے لےٹ استعمال نہںک ہوسکتںو نہ ہی مسجد ختم کرکے مسجد کی جگہ کو اسے کسی دوسرے مقاصد کے لےک استعمال کاآ جاسکتا ہے۔ البتہ تجارتی مراکز، رہائشی بلڈنگوں، راستوں، کھیتوں، فکٹر یوں وغرقہ مںد نماز کے لےا مختص کی جانے والی جگہوں کو تبدیاٹر دوسرے مقاصد کے لےک استعمال کاٹ جاسکتا ہے۔ سوال: کا مسجد سے متعلق شریعت نے کچھ شرائط و آداب بتلائے ہںم؟ جواب:جی ہاں! مسجد کے لےک چند شرائط و آداب ہںآ جو شریعت سے ہمںی معلوم ہوتے ہںر: ۱… دنا، مںج قائم تمام مساجد کی نسبت بتآ اﷲ سے ہے اور وہ اﷲ کا گھر کہلاتی ہںب۔ ۲… مساجد کی محرابںے (جہاں کھڑے ہوکر امام صاحب نماز پڑھاتے ہںہ) قبلۂ رُخ ہونی چاہںک۔ ۳… اﷲ تعالیٰ کے گھر چاروں طرف قائم لوگوں کے گھروں سے برتر یا کم از کم ہم پلّہ (برابر کی جوڑ کے) ہونے چاہییں۔ ۴…مسجد کی ضروریات و تعمررات کے لےس کسی غرممسلم سے چندہ نہںں لناو چاہے ۔ ۵… مسلمانوں کو مسجد کی ضروریات و تعمر ات مںں حلال کمائی ہی خرچ کرنی چاہےی۔ ۶… غرلمسلم لوگوں کو اسلام قبول کےت اور پاکی حاصل کےہ بغرا مساجد مںخ جانے کی اجازت نہں ۔ ۷… مسلمان بھی ناپاکی (غسل واجب کے لازم ہونے) کی حالت مںش مسجد مںو داخل نہں ہوسکتے۔ اگر آرام کرتے ہوئے مسجد میںناپاکی کی صورت پشق آجائے تو فوراً مسجد سے باہر نکل جانا چاہےم۔ ۸… مسجد کی ضروریات و تعمرےات مںد زکوٰۃ، صدقۂ فطر، اپنے اوپر لازم کی گئی منتوں و نذور وغرےہ کی رقوم نہںک لگائی جاسکتںا، البتہ منت و نذر مسجد پر خرچ کے لےر ہی مانی گئی ہو تو اسے مسجد کی ضرورت پر خرچ کار جاسکتا ہے۔ نز اگر منت کسی مخصوص مسجد پر خرچ کرنے کی ہو تو اسی مخصوص مسجد ہی پر خرچ ہوگی۔ ۹… عبادت کی ادائییک کے لےا آنے والے کسی بھی مکتبۂ فکر و مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمان کو مسجد مںس داخل ہونے سے بھی نہںی منع کار جاسکتا او رنہ ہی داخل ہوجانے والے کو مسجد سے نکالا جاسکتا ہے اس لے کہ مسجد وہی کہلاتی ہے جس مں ہر مسلمان کو عبادت کی عام اجازت ہو البتہ شرارت، فساد اور قبضے کی نتے سے آنے والوں کو منع کا جاسکتا ہے۔ ۱۰… مسجد کے انتظامی و اخراجاتی معاملات کے حوالے سے اسی مسجد کے مستقل نمازیوں کی ایک کمیکک بنائی جانی چاہےد جو قانونی طور پر بھی رجسٹرڈ (ٹرسٹ) ہو۔ ۱۱… مسجد مں داخل ہوتے ہوئے پہلے سد،ھا پرے مسجد مںد داخل کرنا چاہےس۔ ۱۲… مسجد مں داخل ہوتے ہوئے مسجد مں، داخل ہونے کی دعا {اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ} ’’اے اﷲ! مر ے لےع اپنی رحمت کے دروازے کھول دیےں ۔‘‘ بھی پڑھ لیا چاہےی۔ ۱۳…مسجد مںد داخل ہوتے ہوئے اعتکاف کی نت کرنے کی بھی عادت ڈالنی چاہے جو یہ ہوتی ہے {نُوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَافِ مَا دُمْتُ فِیْ ھٰذِہِ الْمَسْجِدْ} ’’مںو جب تک اس مسجد مںن ٹھہروں اعتکاف کی نتہ کرتا ہوں۔‘‘ (واضح رہے یہ نفلی اعتکاف کہلاتا ہے جو بغرا روزہ رکھے چند لمحوں کا بھی ہوسکتا ہے مسجد سے نکلتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔) ۱۴…مسجد مںھ داخل ہوتے ہوئے مسجد مں پہلے سے مختلف عبادتوں مںع مصروف لوگوں کو سلام نہںا کرنا چاہےر۔ ۱۵… مسجد مں داخل ہونے کے بعد اگر پہلے سے باوضو ہوں، وقت مںع گنجائش ہو، مکروہ وقت نہ ہو تو پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہے (تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد سے متعلق سوال و جواب مستقل طور پر علحدچہ رسالے مں آرہے ہںت۔ ان شاء اﷲ) (اگر وقت مںی گنجائش نہ ہو اور فرض سے پہلے کی سنتوں کی ادائی م ہورہی ہو تو تحیۃ المسجد کی ادائیہں کا ثواب اسی مںر مل جائے گا۔) ۱۶… سنتوں سے فارغ ہونے کے بعد اگر جماعت کی نماز سے پہلے کچھ وقت باقی ہو تو اس کو وقت کی مناسبت سے نوافل، قضا نماز، تلاوتِ قرآن، ذکراﷲ، درود شریف، استغفار، دعاؤں یا دین کی کوئی بات دوسرے نمازی کو سمجھانے مںا لگانا چاہےا۔ ۱۷… مسجد مںے دوڑنا منع ہے، خصوصاً جماعت مںد شامل ہوتے یا رکعت حاصل کرتے وقت لازمی طور پر احتا،ط کرنی چاہےہ، نہ ہی دوڑنا چاہےن نہ ہی تزڑ چلنا چاہےت بلکہ متانت اور وقار کے ساتھ آہستہ چلتے ہوئے پورے اطمنامن کے ساتھ جماعت مںا شامل یا رکعت حاصل کرنی چاہےی۔ ۱۸… خصوصاً وضو کے بعد گلےش پرنوں سے مسجد کے فرش پر دوڑنے سے نہ صرف مسجد کے تقدس و احترام مںم فرق آئے گا بلکہ پھسل کر گِرنے کی وجہ سے خود کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ۱۹… مسجد مںو پہلی صف اگر مکمل ہوگئی ہو تو ثواب حاصل کرنے کی غرض سے درما ن مںے نہں گھسنا چاہےہ۔ ۲۰… پہلی صف میںیا اپنی مخصوص جگہ پر پہنچنے کے لےر لوگوں کی گردنوں کو نہںر پھلانگنا چاہے ۔ ۲۱… مسجد کے اندر ایسے بچوں کو نہںی لے جانا چاہےچ جو پاکی و ناپاکی کا اور مسجد کے تقدس کا خاچل نہ رکھ سکتے ہوں۔ نزص اس سے بڑی عمر کے بچوں کو ضرور لے جانا چاہےص تاکہ وہ نماز کے عادی بنںج البتہ انہں بھی آپس مںن دنگا فساد اور شور شرابے سے دور رکھنا چاہےک۔ اگر علحداہ کھڑے کرنے کی صورت میںد نگا فساد اور شور شرابے کا خطرہ ہو تو انہںر اپنے ساتھ لے کر صف کے آخر مںا رکھنا چاہےں۔ ۲۲… مسجد کے اندر گند پھیلانا، اونچی آواز سے بات کرنا، لڑائی جھگڑا کرنا، گالم گلوچ کرنا مسجد کے تقدس کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناجائز اور ممنوع ہے۔ ۲۳… مسجد مں صرف مسافر اور اعتکاف کرنے والے کو ہی کھانے پنےگ اور سونے کی اجازت ہے۔ تبلیف جماعتںہ اس کا اہتمام رکھتی ہں البتہ ان کے درماںن بھییاددہانی کے طور پر مذاکروں میںیہ بات آتی رہنی چاہےج۔ ۲۴… اگر مسجد کے دونوں جانبوں مں دروازے ہوں تو اییت مساجد کو بطور گزرگاہ استعمال نہں کرنا چاہےہ۔ ۲۵… مسجد مںد دنا وی باتںو کرنا بھی منع ہے۔ ۲۶… مسجد کے اندر خرید و فروخت کی چزتوں کو لے جاکر ان کی خریدوفروخت بھی ناجائز ہے۔ ۲۷…مسجد کے اندر باہر کھو جانے والی چزاوں کا اعلان کرنا اور بھکر مانگنا منع ہے البتہ کسی کی موت کی اطلاع دینا اور دین کے کاموں کے لےج چندہ مانگنا درست ہے۔ ۲۸… اپنی سنتوں اور نوافل کی ادائیوں کے لے مسجد مں بھی اییا جگہ متعنی کرنی چاہےا کہ دوران نماز کسی دوسرے نمازی کو آنے جانے اور گزرنے مںپ تکلفں نہ ہو۔ نزد اگلی صف مںر کوئی نمازی اپنی نماز پڑھ رہا ہو تو اس کے بالکل پچھےک بھی نماز پڑھنے مںے احتااط کرنی چاہےی تاکہ اپنی نماز مکمل کرنے کے بعد اس نمازی کو آگے سے گزرنے مںئ تکلفو کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ۲۹…ہمارے زمانے مںا موبائل فون کا استعمال عام ہے جو تقریباً نمازی و غرینمازی تمام مسلمانوں کے جیب مں رکھا ہوا ہوتا ہے جس کی گھنٹی کسی بھی وقت بج سکتی ہے اور مسجد مںا بعض گھنٹاعں بجنا ہی جسااکہ گانے وغر ہ کی گھنٹاھں ناجائز اور ممنوع ہںن البتہ سادی گھنٹواں کے بجنے کی صورت مں بھی نمازیوں کی توجہ ہٹ جایا کرتی ہے اور دوران نماز زبردست خلل واقع ہوجایا کرتا ہے جو کسی بھی صورت مںر مناسب نہںک ہے، لہٰذا مسجد مںج داخل ہوتے وقت ہی موبائل رکھنے والوں کو یا تو فون کی گھنٹی بند کرکے اُسے وائبریشن پر رکھ دینا چاہےںیا بالکل فون ہی بند کردینا چاہےو اگر کسی موقعہ پر یہ احتاکط عمل مںی نہ آسکی ہو اور دوران نماز موبائل کی گھنٹی بجنی شروع ہوجائے تو فوراً کوئی بھی ایک ہاتھ جیب مںد ڈال کر اُس گھنٹی کا بجنا بند کردینا چاہےہ چونکہ یہ بہت معمولی سا عمل ہوتا ہے اس لےو ایسے کرنے والے کی نماز مںس بھی کوئی فساد نہںو آتا اور نمازیوں کی توجہ بھی بٹنے سے بچ جاتی ہے۔ ۳۰… گرمویں کے موسم مں، خصوصاً اس بات کا خالل رکھنا چاہے کہ آپ کے جسم اور کپڑوں کے پسنےا کی بدبو دوسرے نمازیوں کے لےہ تکلفی کا باعث نہ بنے۔ ۳۱…مسجد مںو ایی چزل کھاکر نہںخ آنا چاہےر جس کی وجہ سے گسک ہوجائے یا منہ سے بُو آنے لگے مثلاً مولی، لہسن، پاےز وغرنہ نزل مسجد مںج اییہ کسی بھی بدبودار چزی کا اسپرے بھی نہ کاہ جائے، نہ ہی مسجد مںے ریح خارج کرنی چاہے،، بامر مجبوری معتکف کو اجازت ہے۔ انتہائیمجبوری کی صورتوں مںز مچھر مار کوائل جلائی جاسکتی ہں ۔ ۳۲… نماز سے فارغ ہونے کے بعد جب مسجد سے باہر آیا جائے تو پہلے بایاں (اُلٹا) پاؤں نکال کر اپنے جوتے یا چپل پر رکھں پھر دایاں (سدرھا) پاؤں نکال کر پہلے سداھے پرا مںھ جوتے یا چپل پہنںے پھر اُلٹے پرپ مں پہنتے ہوئے مسجد سے باہر نکلنے کی دعا {اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ} ’’اے اﷲ! مںو آپ سے آپ کے فضل کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ پڑھنی چاہے ۔ ’’اَذان‘‘ سوال: اذان کسے کہتے ہںِ؟ جواب:اذان کے معنیٰ اعلان کرنے کے ہں’۔ دین اسلام مں پانچوں نمازوں کی ادائیڑھ کے اوقات آنے پر مسلمانوں کو اس کی اطلاع دی جاتی ہے۔ اس اطلاع دینے کو اذان کہا جاتا ہے۔ سوال: کاے اذان کے الفاظ متعنے ہیںیا ان کے علاوہ کسی اور طریقے سے نماز کے وقت کا اعلان کاا جاسکتا ہے؟ جواب:جی ہاں! اذان کے الفاظ متعنک ہںا اور ان ہی الفاظ سے اور اسی ترتب سے اذان دینا ضروری ہے۔ یہاں تک کہ عربی زبان مںا ادا کےن جانے والے اذان کے ان جملوں کا کسی اور زبان مں ترجمہ کرکے بھی نماز کے وقت کا اعلان نہںس کان جاسکتا۔ سوال: اذان دینے والے کو کاا کہا جاتا ہے اور اس مںم کن کن شرائط کا ہونا ضروری ہے؟ جواب:اذان دینے والے کو مؤذن کہتے ہںا۔ اس کا مسلمان ہونا، مرد ہونا اور صاحب عقل ہونا ضروری ہے۔ سوال: اذان سے متعلق تاریخ کاذ باکن کی جاتی ہے؟ جواب:نبیﷺ نے اذان کے وقت کے اعلان کے حوالے سے صحابہ کرامؓ سے مشورہ فرمایا کہ لوگوں مںہ نماز کے وقت کا اعلان کس طرح کات جائے؟مختلف صحابہ کی جانب سے مختلف رائے تھی فصلہ کرنے سے قبل بعض صحابہ کو جس مںل حضرت عمر رضی اﷲ عنہ بھی شامل ہںے خواب میںیہی کلمات کہتے ہوئے دکھایا گاا۔ انہوں نے آکر نبیﷺ کو اپنا خواب سُنایا اور نبیﷺ نے ان کلمات کو پسند فرماتے ہوئے ان صحابومں سے فرمایا کہ ییم کلمات حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کو بتائے جائںع اور حضرت بلال رضی اﷲ عنہ سے فرمایا کہ ان کلمات کے ذریعے پانچوں نمازوں کے اوقات داخل ہونے کی اطلاع لوگوں کو دی جایا کرے۔ چنانچہ اسی وقت سے انہی کلمات کے ذریعے سے ہر زمانے مں اذان دیے جانے کا رواج عام ہوگاا۔ سوال: اذان دینے کے یہ کلمات کای ہںا اور ان کے ادا کرنے کی ترتبج اور طریقہ کاض ہے؟ جواب:اذان دینے والا مؤذن قبلے کی طرف منہ کرکے اپنے ہاتھوں کی شہادت کی انگلیاں دونوں کانوں مںن ڈال کر بلند آواز سے درج ذیل طریقے سے یہ کلمات ٹھہر ٹھہر کر کہے، پہلے چار مرتبہ ’’اﷲ اکبر، اﷲ اکبر، اﷲ اکبر، اﷲ اکبر‘‘ کہے یینا دو مرتبہ کہہ کر رُکے اور پھر ذرا سے وقفے کے بعد دوبارہ دو مرتبہ ’’اﷲ اکبر، اﷲ اکبر‘‘ کہے۔ پھر ’’اشھدُ ان لّا الٰہ الّااﷲ‘‘ کہہ کر پہلی مرتبہ رُکے پھر دوبارہ ’’اشھدُ ان لّا الٰہ الّااﷲ‘‘ کہے۔ پھر ’’اشھدُ انّ محمدً رّسولُ اﷲ‘‘ پہلی مرتبہ کہہ کر رُکے پھر دوبارہ ’’اشھدُ انّ محمدً رّسولُ اﷲ‘‘ کہے۔ پھر سداھی طرف صرف گردن گھما کر ’’حیَّ علی الصلوٰۃ‘‘ پہلی مرتبہ کہہ کر گردن کو پھر قبلۂ رخ کرلے اور اسی طرح سد ھی طرف گردن گھما کر دوبارہ ’’حیَّ علی الصلوٰۃ‘‘ کہے۔ پھر اُلٹی طرف صرف گردن گھماتے ہوئے ’’حیَّ علی الفلاح‘‘ پہلی مرتبہ کہہ کر رُکے اور گردن کو قبلۂ رُخ کرلے، پھر اسی طرح دوسری مرتبہ اُلٹی طرف صرف گردن گھماتے ہوئے دوبارہ ’’حیَّ علی الفلاح‘‘ کہے۔ پھر گردن کو قبلۂ رخ رکھتے ہوئے دو مرتبہ ’’اﷲ اکبر، اﷲ اکبر‘‘ کہے پھر ’’لا الٰہ الّا اﷲ‘‘ ایک مرتبہ کہے (نبیﷺ کے زمانے سے آج تک اذان دینے کا ییی طریقہ مسلمانوں مںا متعارف ہے) صرف فجر کی نماز کے وقت کے اعلان مںد ’’حیَّ علی الفلاح‘‘ کے بعد گردن کو قبلۂ رخ رکھتے ہوئے دو مرتبہ’’الصّلوٰۃ خرٌ۔ من النّوم‘‘ بھی کہے۔ اس کے بعد دو مرتبہ ’’اﷲ اکبر‘‘ اور ایک مرتبہ ’’لا الٰہ الّا اﷲ‘‘ کہے۔ سوال: کات نماز کے وقت کے اعلان کے لےم اذان کا کہا جانا ضروری ہے؟ جواب:جی ہاں! اگرمسلمانوں کا معاشرہ اذان کو بالکل ترک کردیتا ہے تو پورا کا پورا معاشرہ گناہ گار ہوگا نزا اگر بغرد اذان کے نماز پڑھی گئی تو نماز تو ہوجائے گی لکنک بغرا اذان کے کہلائے گی اور گناہ ہوگا۔ سوال: کای نماز کا وقت ہونے سے پہلے اذان دے دی جائے تو وہ کافی ہوگی؟ جواب:نہں ! نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد پوری اذان کو دوبارہ کہنا ہوگا۔ سوال: کای دناز کے تمام ممالک مںی اذان دینے کا ایک ہی وقت متعن ہے؟ جواب:نہں ! عرب ممالک مں عموماً کسی بھی نماز کا وقت داخل ہوتے ہی اذان دے دی جاتی ہے اور اوّل وقت مںے جماعت کے ساتھ نماز بھی ادا کردی جاتی ہے۔ لکنم دوسرے بعض ممالک مںا اکثر لوگ علاقے کے لوگوں کی رعایت رکھتے ہوئے مغرب کے علاوہ دیگر نمازوں کی اذانوں مںا تاخری کرتے ہں بعض لوگ ان ممالک مںو بھی اوّل وقت مںو اذان و نماز کی ادائیں کرلتے’ ہںر۔ دونوں صورتںھ جائز ہںک۔ جبکہ مغرب کے وقت، وقت داخل ہوتے ہی دنا کے تمام ممالک مں اذان دے کر نماز ادا کرلی جاتی ہے۔ نزص ان تمام اوقات مںی مساجد مںک ایک ہی مرتبہ اذان دی جاتیہے۔ جبکہ جمعہ کے دن ایک اذان وقت کے داخل ہونے کی اطلاع کے لےھ ہوتی ہے اور دوسری اذان منبر کے سامنے خطبب کی موجودگی مںں دی جاتی ہے۔ سوال: کای اذان کے دوران خاموشی سے اذان سننا اور اس کا جواب دینا چاہےم؟ جواب:جواب دینے کی دو صورتں باون کی جاتی ہںا، ایک لفظی جواب اور دوسرا عملی جواب۔ لفظی جواب تو یہ ہے کہ اذان کے وقت اپنے دوسرے کام کاج چھوڑ کر خاموشی سے مؤذن کی اذان سنے اور جس جملے کو وہ کہہ کر خاموش ہوجائے تو وہی جملہ خود بھی دہرائے البتہ جب وہ ’’حیَّ علی الصلوٰۃ‘‘ ، ’’حیَّ علی الفلاح‘‘ کہے تو اس کے جواب مں’ ’’لا حول ولا قوّۃ الّا باللّٰہِ‘‘ ہر جملے کے بعد کہے۔ اسی طرح فجر کی اذان مںا ’’’الصّلوٰۃ خرٌ منَ النَّوم‘‘کے جواب مںف ’’صدقت وبررت‘‘ کہے باقی جملے وہی کہے جو مؤذن کہتا ہے۔ عملی جواب یہ ہے کہ اپنی دوسری مصروفالت کو چھوڑ کر نماز کی تا ری کرے اور کوئی عذر نہ ہو تو مسجد مںی جاکر جماعت سے نماز پڑھے۔ نزی جب جمعہ کے دن جمعہ کی نماز کی پہلی اذان ہوجائے تو اس وقت سے لے کر جمعہ کے فرض ادا ہوجانے کے بعد تک ہر قسم کا کام ممنوع اور حرام ہے صرف وہی کام جائز ہے جو جمعہ کی تاٌری کے لےل ہو۔ جسےہ غسل، وضو وغرمہ۔ نزص جمعہ کے دن خطبک کے سامنے جو اذان ہوتی ہے اس کا جواب زبان سے نہ دے البتہ دل مںہ جواب دیا جاسکتا ہے۔ سوال: کار اذان کے بعد کسی دعا کے مانگنے کی ترغبی شریعت نے بتلائی ہے اور اس کے الفاظ کاو ہںت؟ جواب:جی ہاں! اذان کے بعد مؤذن سمتد ہر اذان سننے والے کو شریعت نے اپنے متعنن کردہ الفاظ کے ساتھ دعا پڑھنے کی تعلمں دی ہے جوکہ فرض و واجب بھی نہں ہے۔ اذان کے بعد اس دعا کا پڑھنے والا پہلے درود شریف پڑھے پھر یہ دعا پڑھے: {اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ النَّآمَّۃِ وَالصَّلوٰۃِ الْقَائِمَۃِ اٰتِ مُحَمَّدَ نِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَبْعَثْہُ مَقَامً مَّحْمُوْدَ نِ الَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ} ’’اے اﷲ! اس کامل دعوت او رکھڑی ہونے والی نماز کے رب حضرت محمدﷺ کو وسلہ اور فضیلت عطا فرما اور اُن کو مقام محمود سے سرفراز فرما جس کا تُونے اُن سے وعدہ فرمایا ہے۔ بے شک تُو وعدہ خلافی نہںح کرتا‘‘ سوال: کاک پنج وقتہ فرض نمازوں کے علاوہ کسی اور نماز کے اعلان کے لےح شریعت نے اذان کا حکم دیا ہے؟ جواب:نہںج! اذان صرف روزانہ کی پانچ نمازوں کے اوقات کے اعلان کے لےح ہی جاری کی گئی ہے۔ لہٰذا دونوں عدووں کی نمازوں، نماز جنازہ، بارش کے لے پڑھی جانے والی نماز، چاند اور سورج کے گرہن کے وقت پڑھی جانے والی نمازوں کے لےی شریعت نے اذان دینے کا حکم نہںن دیا ہے۔ (بارش کے لے نماز استسقاء، سورج گرہن کے لےل نماز کسوف اور چاند گرہن کے لےے نماز خسوف ہوتی ہں ۔) سوال: کا، نمازوں کے علاوہ بھی کسی اور مقصد کے لے۔ شریعت نے اذان دینے کی تعلمن دی ہے؟ جواب:جی ہاں! جن مواقع پر اذان دینے کو کہا گاک ہے۔وہ درج ذیل ہں : (۱) جب بچہ پدعا ہو تو اس کے سد؟ھے کان مںہ اذان اور بائں: کان مںن اقامت کہی جائے (اقامت کی تفصل آگے آرہی ہے)۔ (۲) مرگی کے مریض کے کان مںن اذان دی جائے۔ (۳) کفار کے ساتھ لڑائی کی شدت کے وقت اذان دی جائے۔ (۴)جہاں آگ لگ جائے وہاں اذان دی جائے۔ (۵)جو آدمی جل جائے اس کے کان مں اذان دی جائے۔ (۶)جس کسی پر جنات کا اثر ہو یا جہاں جن ظاہر ہو اور وہ کسی کو تکلفب دیتا ہو وہاں اذان دی جائے۔ (۷)جنگل مں اگر راستہ بھول جائے اور کوئی راستہ بتانے والا نہ ہو اس وقت اذان دی جائے۔ (۸)شدید بارش کے وقت بھی اذان دی جائے وغرںہ وغرتہ۔ نوٹ: متغ کو دفن کرتے وقت یا دفن کے بعد قبر کے پاس اذان دینا قرآن و حدیث و فقہ سے ثابت نہںر ہے۔ سوال: کاغ کسی موقع پر اذان کا جواب دینے سے منع کاا گا ہے؟ جواب:جی ہاں! بعض جگہںم ایی ہںا کہ ان مواقع پر اذان کے جواب دینے سے منع کا گای ہے۔ جوکہ درج ذیل ہںا: ۱…نماز پڑھتے ہوئے چاہے نماز جنازہ ہی کواں نہ ہو۔ ۲… خطبہ سننے کی حالت مںہ چاہے وہ جمعے کا خطبہ ہو یا نکاح وغراہ کا خطبہ ہو۔ ۳… پیشاباچ پاخانہ کرنے کی حالت مںے۔ ۴… کھانا کھانے کی حالت مںا وغرےہ وغرذہ۔ ۵…دوران اذان اگر قضائے حاجت (بت الخلا جانے) کا شدید تقاضا نہ ہو تو بہتر یہ ہے کہ اذان کی تکمل پر جائے، جو ایک ادبی اور تعظی… بات ہے۔ سوال: اذانِ فجر کے کلمات ترتبت وار کاخ ہںب نز ان کا ترجمہ کار ہے؟ جواب: اذان فجر کے ترتبا وار کلمات اور ان کا ترجمہ درج ذیل ہے: ’’اذان فجر‘‘ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہں ۔ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہں ۔ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہں ۔ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہں ۔ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ مںش گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ (تعالیٰ) کے علاوہ کوئی معبود نہںْ۔ مںں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ (تعالیٰ) کے علاوہ کوئی معبود نہںْ۔ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہْ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہْ مںش گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ﷺ)اﷲ (تعالیٰ) کے رسول ہںش۔ مںش گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ﷺ)اﷲ (تعالیٰ) کے رسول ہںش۔ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃْ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃْ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ آؤکامادبی کی طرف۔ آؤکامادبی کی طرف۔ اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمْ اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمْ نماز نندز سے بہتر ہے۔ نماز نندز سے بہتر ہے۔ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہںْ۔ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہںْ۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہْ اﷲ (تعالیٰ) کے علاوہ کوئی معبود نہںم۔ سوال: اذان فجر کے علاوہ کی اذانوں کے کلمات ترتبد وار مع ترجمہ کال ہںہ؟ جواب: اذان فجر کے علاوہ کی تمام اذانںک چاہے نماز کے لے ہوں یا پچھے ذکر کردہ مقاصد کے لےپ ہوں ایک جیے ہی ہوتی ہںو جن کے کلمات، ترتبذ و ترجمہ حسبِ ذیل ہںت: ’’اذان‘‘ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہںہ۔ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہںہ۔ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہںہ۔ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہںہ۔ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ مںش گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ (تعالیٰ) کے علاوہ کوئی معبود نہںھ۔ مںش گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ (تعالیٰ) کے علاوہ کوئی معبود نہںھ۔ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہْ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہْ مںش گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ﷺ)اﷲ (تعالیٰ) کے رسول ہںش۔ مںش گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ﷺ)اﷲ (تعالیٰ) کے رسول ہںش۔ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃْ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃْ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ آؤکامادبی کی طرف۔ آؤکامادبی کی طرف۔ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہںﷲ۔ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہںﷲ۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہْ اﷲ (تعالیٰ) کے علاوہ کوئی معبود نہںا۔ سوال: کاا اذان کی ضرورت پوری کرنے کے لےک اذان کی ریکارڈنگ سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے؟ جواب: نہںل! اذان دیے جانے کے تمام موقعوں پر کسی نہ کسی انسان (عاقل، بالغ مرد) سے اذان دلوانی ہوگی۔ ’’جوابِ اذان کے حوالے سے ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ‘‘ سوال: اردو محاورے مںا: (لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ) کا استعمال اپنی ناگواری کے اظہار کے لےےیا شطاہن کو بھگانے کے لےڈ ہوتا ہے۔ جبکہ اذان کے کلمات: ’’حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃْ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ‘‘ کے جوابات دینے کے لےل اسی جملے کی تعلمی دی جاتی ہے اس سے ایک غلط تاثر پد ا ہوتا ہے کہ مؤذن تو نماز اور کاماپبی کی طرف بُلا رہا ہے اور جواب دینے والا اس پر اپنی ناگواری کا اظہار کررہا ہے جوکہ سو فصدا غلط ہے۔ اس غلطی کے ازالے کے لےث علمائے کرام کات وضاحت فرماتے ہںے؟ جواب: اردو ادب ولغت میںیقیناًیہ ان ہی معنوں مںر استعمال ہوتا ہے جسالکہ سوال مںذ ذکر کاد گا ہے لکنن عربی ادب مںت اس کا استعمال اس موقعہ پر بالکل مختلف ہے اس پورے کلمے کا مطلب یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کی نافرمانو ں سے بچنے کی ہمت اور اﷲتعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری پر پڑنے کی قوت اﷲتعالیٰ کی توفق کے ساتھ ہی وابستہ ہے جو بہت ہی بلندتر اور نہایت عظما ہے جب مؤذن نماز اور کاماببی کی طرف آنے کی دعوت دے رہا ہوتا ہے تو جواب دینے والا اس کلمے کے ذریعے سے نہ صرف اپنے عجز کااظہار کرتا ہے بلکہ اس کلمے کے ذریعے سے مؤذن کے کہے ہوئے کلمات کی دعوت کی عملی توفقذ اﷲتعالیٰ سے اُس کی قدرت کا اقرار کرتے ہوئے مانگتا ہے اور اس موقعے کے لےے اس سے بہتر کوئی اور جواب ہو بھی نہں سکتا۔ لہٰذا ان ہی کلمات کے کہنے کی ترغبی، تعلمت اور دعوت دی گئی ہے۔ ’’اقامت‘‘ سوال: اقامت کسے کہتے ہںے؟ جواب:پنج وقتہ نمازوں اور جمعے کی جماعت شروع کرنے سے پہلے عربی زبان مںں چند جملے کہے جاتے ہںٰ، اسے اقامت کہتے ہںز۔ سوال: اقامت کے جملے کاج ہں ؟ جواب:اقامت کے جملے وہی ہں۔ جو اذان کے جملے ہںے۔ اقامت مںا: ’’حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ‘‘ دو مرتبہ کہنے کے بعد: ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃْ‘‘ دو مرتبہ کہا جاتا ہے۔ باقی تمام کلمات اذان والے ہی ہں ۔ نزح اس مںَ’’اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمْ‘‘ بھی نہںْ کہا جاتا۔ سوال: کاک اقامت کا جواب دینے کی شریعت نے تعلم دی ہے؟ جواب:جی ہاں! اقامت کا جواب دینے کے لےر بھی شریعت نے تعلمَ دی ہے جوکہ فرض و واجب ہںْ اقامت مںَ کہے جانے والے تمام کلمات کا اسی طرح جواب دیا جاتا ہے جسےج اذان کے کلمات کا جواب دیا جاتا ہے۔ صرف : ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃْ‘‘کے جواب مںے’’اَقَامَھَا اللّٰہُ وَاَدَامَھَا‘ کہا جاتا ہے۔ سوال: اذان اور اقامت مںل کاو فرق ہے؟ جواب:(۱) اذان بلند آواز سے کہی جاتی ہے اور اقامت پست آواز سے۔ اذان نماز کے وقت مںع داخل ہونے پر دی جاتی ہے اور اقامت جماعت کے کھڑا ہونے پر دی جاتی ہے۔ (۲) اذان ٹھہر ٹھہر کے دی جاتی ہے۔ اور اقامت بغر ٹھہرے قدرے جلدی جلدی کہی جاتی ہے۔ (۳) اذان کہتے وقت کانوں کے سوراخ ہاتھ کی انگلوعں سے بند کےد جاتے ہںج، اقامت مں ایسے نہں کاا جاتا۔ (۴)اذان مںن’’حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃْ‘‘کہتے وقت دائںی طرف اور ’’حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ‘‘ کہتے وقت گردن کو بائںم طرف موڑا جاتا ہے جبکہ اقامت مں) ایسے نہںہ کاو جاتا۔ بعض اس مںخ بھی اجازت دیتے ہںْ۔ سوال: کانیہ ضروری ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے؟ جواب:ضروری تو نہں۔ ہے لکند پہلا حق اقامت کہنے کا مؤذن ہی کو حاصل ہے البتہ اس کی غر موجودگی مں اور اس کی موجودگی کے وقت بھی اس کی اجازت سے دوسرا نمازی بھی اقامت کہہ سکتا ہے۔ نزہ اگر اقامت کہنے والا کوئی نمازی ایسا نہ ہو کہ اقامت کہہ سکے تو نماز پڑھانے والے امام صاحب بھی اپنی جگہ کھڑے رہتے ہوئے اقامت کہہ سکتے ہںز۔ سوال: اقامت کہنے کے لے کا کوئی جگہ متعنے ہے؟ جواب:اقامت امام صاحب کے پچھے پہلی صف مںہ کھڑا ہونے والا مؤذن یا مکبّر کہہ سکتا ہے۔ لکن وقتی ضرورت کے اختاہر سے اس کی جگہںت تبدیل بھی ہوسکتی ہںع۔ کسی بھی صف کے دائں بائیںیا درماتن سے اقامت کہی جاسکتی ہے۔ اقامت کہنے کے بعد نماز کی حالت مںن امام صاحب کی اقتداء کرتے ہوئے مجمع تک آواز پہنچانے کے لےی ان ہی الفاظ مںی تکبری کہی جاسکتی ہے۔ صرف ’’سِمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہ‘‘ جب امام صاحب کہں تو مکبّر ’’رَبَّنَا لَکَ الْحَمْد‘‘ کہے گا۔ سوال: کاا اذان کی طرح پنج وقتہ نمازوں اور جمعہ کی نماز کے علاوہ کسی بھی دوسری نماز مںو جس کا ذکر پچھےس ہوچکا ہے اقامت کہنا بھی منع ہے؟ جواب:جی ہاں! پنج وقتہ نمازوں اور جمعہ کی نماز کے علاوہ دونوں عدےوں کی نمازوں مںو، نماز جنازہ، نماز استسقاء، نماز کسوف اور خسوف کی جماعتوں کے وقت اذان کی طرح اقامت بھی نہںہ کہی جاتی۔ سوال: جماعت کی نماز شروع ہونے سے پہلے جو اقامت کہی جاتی ہے اس کے کلمات کی ترتبن اور ترجمہ کان ہے؟ جواب: اقامت کے کلمات کی ترتبن اور ترجمہ حسبِ ذیل ہے: ’’اقامت‘‘ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہںا۔ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہںا۔ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہںا۔ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہںا۔ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ مںش گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ (تعالیٰ) کے علاوہ کوئی معبود نہںم۔ مںش گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ (تعالیٰ) کے علاوہ کوئی معبود نہںم۔ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہْ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہْ مںش گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ﷺ)اﷲ (تعالیٰ) کے رسول ہںش۔ مںش گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ﷺ)اﷲ (تعالیٰ) کے رسول ہںش۔ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃْ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃْ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ آؤکامادبی کی طرف۔ آؤکامادبی کی طرف۔ قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃْ قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃْ تحققم نماز کھڑی ہوچکی۔ تحققم نماز کھڑی ہوچکی۔ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہںﷲ۔ اﷲ (تعالیٰ) ہی سب سے بڑے ہںﷲ۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہْ اﷲ (تعالیٰ) کے علاوہ کوئی معبود نہں ۔ سوال:دورانِ اقامت ادباً بعض نمازی ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہںا، شریعت کے اعتبار سے کاز ایسا کرنے کی اجازت ہے؟ جواب: شریعت نے اس موقعہ پر نماز کی سی ہئیت بنانے کی کوئی تعلما نہںز دی ہے، لہٰذا ایی۔ ہئیت کا بنانا نامناسب ہے جس سے یہ معلوم ہوکہ یہ نمازی کسی نماز مںھ مشغول ہے، اسی طرح بعض لوگوں کی عادت جمعہ کے خطبے کے دوران بھی ہوتی ہے کہ وہ پہلے خطبے کے دوران ہاتھ باندھ کر بیٹھتے ہںں اور دوسرے خطبے کے دوران قعدے کی ہئیت کی طرح ہاتھ رانوں پر رکھ کر بیٹھتے ہںخ،یہ اُن کا خودساختہ عمل ہے، شریعت کی دی ہوئی تعلمب نہں ہے لہٰذا اس موقعہ پر بھی ایی ہئیت بنانا نامناسب ہے جو شریعت کی بتلائی ہوئی تعلماےت کے برخلاف محسوس ہوتی ہو اور دوسروں پر اُس کا غردشرعی اثر پدئا ہونے کا خدشہ ہو۔ سوال: کال اقامت کی ضرورت پوری کرنے کے لےر اقامت کی ریکارڈنگ سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے؟ جواب: نہںم! اقامت کہے جانے کے تمام موقعوں پر کسی نہ کسی انسان (عاقل، بالغ مرد) سے اقامت کہلوانی ہوگی۔ سوال: کاں اذان و اقامت کہتے ہوئے اس کے جملوں کے آخری حرف کی حرکت بھی پڑھنی چاہے)؟ جواب: نہںم! تمام جملوں کے آخری حروف کو ساکن یین اس پر جزم پڑھنا چاہےغ، مثلاً ’’اَللّٰہُ اَکْبَرْ‘‘پڑھتے ہوئے ’’اَللّٰہُ اَکْبَرْ‘‘کے آخری حرف (پر جزم) پڑھنا چاہےک ایسے ہی تمام جملوں کے آخری حروف ساکن ہی پڑھنے چاہییں۔ نمازیوں سے متعلق استعمال ہونے والی اصطلاحات(خاص مفہوم) سوال: نماز کے حوالے سے نمازیوں سے متعلق استعمال ہونے والی اصطلاحات کات کان ہںا؟ جواب: نمازیوں سے متعلق استعمال ہونے والی اصطلاحات (خاص مفہوم) درجہ ذیل ہںا: مُنفَرِد: تنہا (اکلے ) نماز پڑھنے والے کو منفرد کہتے ہںخ۔ جَمَاعَتْ:کسی امام کے پچھے سب لوگ مل کر اس کی اقتدا مںی نماز پڑھںا اسے جماعت کہتے ہںم۔ اِمَامْ: جس کے پچھےس اس کی اقتدا مں نماز پڑھی جائے (جو جماعت کرائے)۔ مُقْتَدِی: امام کے پچھے اس کی اقتدا مںی نماز پڑھنے والے کو مقتدی کہتے ہںف۔ مُدْرِکْ: جس شخص کو پوری نماز امام کی اقتداء مںی مل جائے یا جو شروع سے آخر تک جماعت مںا امام کی اقتدا مں شریک ہو اسے مدرک کہتے ہں:۔ مَسْبُوْقْ: جس شخص کی جماعت کی کچھ رکعتںء چھوٹ جائںئ جسے وہ امام کے سلام پھرمنے کے بعد پورا کرتا ہے اس شخص کو مسبوق کہتے ہںْ۔ لَاحِقْ: جو امام کے ساتھ اس کی اقتدا مں جماعت مں شریک تھا لکنس درماںن مںت وضو ٹوٹ جانے کی وجہ سے جماعت سے نکل گات اور ناا وضو کرکے دوبارہ جماعت مںی شامل ہوجائے ایسے شخص کو لاحق کہتے ہں ۔(لاحق کے جماعت مںد شامل ہونے کا طریقہ بڑی کتابوں سے معلوم کریں۔) خَلِیْفَہْ: امام نماز پڑھاتے ہوئے کسی عذر کی وجہ سے خود نماز توڑ کر چلا جائے اور اپنی جگہ کسی کو امام بنادے اس شخص کو خلیفہیا نائب کہتے ہںس۔ نماز سے متعلق استعمال ہونے والی اصطلاحات (خاص مفہوم) سوال: نماز سے متعلق استعمال ہونے والی اصطلاحات کاو کا ہں ؟ جواب: نماز سے متعلق استعمال ہونے والی اصطلاحات (خاص مفہوم) درجہ ذیل ہںن: فَرَضْ: نماز کے وہ اعمال جن کے بغری نماز قبول نہںی ہوتی اور نماز کو شروع سے دوبارہ پڑھنا پڑھتا ہے، چاہے وہ عمل جان بوجھ کر چھوڑ دیے ہوں یا بھول کر رہ گئے ہوں۔ وَاجِبْ: نماز کے وہ اعمال جن کے بغرو بھی نماز نامکمل رہتی اور ناقص ہوتی ہے لکنن اس کی تلافی کے لےو (اس نقصان کو پورا کرنے کے لےم) شریعت نے سجدۂ سہو بتلایا ہے اگراسے ادا کرلاج جائے تو وہ نماز قبول ہوجاتی ہے۔ اگر سجدۂ سہو نہںک کاں تو اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ سُنَّتْ: سنت اس کام اور عمل کو کہتے ہںک جس کو رسولﷺ نے کا ہو یا صحابہ کو کرنے کا حکم فرمایا ہو۔ اس کی دو قسمں ہںن: سنّت مؤکدہ اور سنّت غرت مؤکدہ۔ سنّت مؤکدہ اس کام کو کہتے ہںس جسے نبیﷺ نے ہمشہے کار ہو یا ہمشہی کرنے کے لے فرمایا ہو اور وہ کام ہمشہا کا گات ہو اور بغرں عذر کبھی نہ چھوڑا ہو۔ ایی سنتوں کو بغرہ عذر چھوڑ دینا گناہ ہے اور چھوڑنے کی عادت بنالناا سخت گناہ ہے۔ سنّت غرامؤکدہ اس کام کو کہتے ہں جسے حضورﷺ نے اکثر کاک ہو لکنہ کبھی کبھی بغر عذر چھوڑ بھی دیا ہو ان سنّتوں کو ادا کرنے مںت ثواب ہے اور چھوڑنے مںا گناہ نہںﷺ۔ انہںک مُستَحب بھی کہتے ہںو ان سنتوں کو سُنَنِ زَوَائِد بھی کہتے ہں ۔ نَفِلْ: ان کاموں کو کہتے ہںک جن کی فضیلت شریعت مںی ثابت ہو۔ ان کے کرنے مں۔ ثواب ہو اور چھوڑنے مںھ عذاب نہ ہو۔ اسے تَطَوُّعْ بھی کہتے ہں اور اسی کو مُبَاحْ بھی کہتے ہںر۔ حَرَامْ: اس کام کہتے ہںت جس کی ممانعت دللَ قطعی سے ثابت ہو اور اس کو کرنے والا فاسق اور عذاب کا مستحق ہے اس کا منکر کافر ہے۔ مَکْرُوْہِ تَحْرِیْمِیْ: مکروہ تحریی اس کام کو کہتے ہںب جس کی ممانعت دللا ظنی سے ثابت ہو اس کا منکر کافر نہںا اس کام کو کرنے والا گنہگار ہوتا ہے۔ مَکْرُوْہِ تَنْزِیْھِیْ: اس کام کو کہتے ہںع جس کے چھوڑنے مںا ثواب ہے اور کرنے مںح عذاب تو نہںث لکنا اس کا کرنا ناپسندیدہ ہونے کی وجہ سے ایک قسم کی برائی ہے۔ اَذَانْ: پنج وقتہ نمازوں کے اوقات کے اعلان کے لےک مخصوص کلمات بلند آواز سے پکارے جاتے ہںن ان کلمات کو اذان کہتے ہیںیہ کلمات مخصوص ہںت ان کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ ناجائز ہوگا۔ ان کلمات مںہ کسی بھی قسم کا اضافہ بدعت کہلائے گا۔ مُؤَذِّنْ: اذان دینے والے کو مؤذن کہتے ہںی۔ تَکْبِیْرْ: جماعت شروع ہونے سے پہلے ادا کےہ جانے والے مخصوص کلمات کو تکبر کہتے ہںک اس کے علاوہ کے کلمات کا ادا کرنا صحح نہںْ۔ اس کو اِقَامَتْ بھی کہتے ہںپ۔ مُکَبِّرْ: تکبرا کہنے والے کو مکبر کہتے ہںے۔ نِیَّتْ: دل کے ارادے کو نت کہتے ہںں نماز شروع کرنے سے پہلے دل کے اندر یہ ارادہ ہونا چاہےل کہ کون سی نماز پڑھ رہا ہے۔ زبان سے کہنا بہتر ہے ضروری نہںر۔ تَکْبِیْرِ تَحْرِیْمَہْ: نماز شروع کرنے کی پہلی تکبر یینک ’’اَللّٰہُ اَکْبَرْ‘‘کہنے کو تکبر تحریمہ کہتے ہں اس کو اتنی آواز سے کہنا چاہےہ کہ خود سُن لے۔ قِیَامْ: تکبرر تحریمہ کہنے کے بعد نماز کی حالت میںسیدھا سکون اور وقار سے کھڑے ہونے کو قایم کہتے ہں۔۔ قِرَأْتْ: نماز کی حالت مںن قاتم کے اندر مطلق قرآن پڑھنے کو قرأت کہتے ہںں۔ رُکُوْعْ: کے معنی ہںل جھکنا، نماز کی حالت مںا قاےم مںت قرأت مکمل کرنے کے بعد اتنا جھکںن کہ سر اور کمر ایک سدہھ مںں آجائںْ،ہتھوعنیں سے گھٹنے پکڑ لں اور کہنیاں پسلو ں سے جدا رہںم۔ اس ہئتت کو رکوع کہتے ہںم اور یہ حکم مردوں کے لےہ ہے۔ عورتںْ اتنا جھکںم کہ ان کے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائں اور ان کی کہنیاں پسلوںں سے ملی رہں ۔ قَوْمَہْ: رکوع سے فارغ ہونے کے بعد سداھا سکون ووقار سے کھڑے ہونے کا نام قومہ ہے۔ سَجْدَہْ: دونوں ہتھارغ ں، دونوں گھٹنے، پیشانی اور ناک کو زمن پر رکھ دینے سے جو ہئتو بنتی ہے اس کو سجدہ کہتے ہں ۔ مراد اس صورت مںْ کھل کر کمر کو اُٹھا کر، کہنیوں کو رانوں سے علحدیہ کرکے، دونوں ہتھوپر ں کو دونوں کانوں کے مقابل رکھ کر سجدہ کرتے ہںر۔ عورتںے دب کر، سمٹ کر، کمر کو نچاو کرکے، کہنیوں کو رانوں سے ملاکر سجدہ کرتی ہںو۔(مردوں کو پرج کی انگلیاں قبلے کی طرف رکھنی چاہییں۔) جَلْسَہْ: دو سجدوں کے درما۔ن اطمنامن، سکون وقار سے بٹھنےہ کو جلسہ کہتے ہںک۔ رَکَعْتْ: تکبرج تحریمہ سے لے کر دوسرے سجدے کے ختم تک کے ان مخصوص اعمال کو ترتبج سے کرنے کو ایک رکعت کہتے ہںم اور نماز کم از کم دو رکعت کی اور زیادہ سے زیادہ چار رکعات کی ہوتی ہے۔ رکعت کی جمع رکعات اور رکعتںت ہے۔ قَعْدَہْ: دو رکعت کے بعد تشہد پڑھنے کے لے بٹھنے کو قعدہ کہتے ہںو۔ چار رکعات والی نماز مںو دو رکعت کے بعد بٹھنے کو قعدہ اولیٰ اور چار رکعات کے بعد بٹھنےت کو قعدہ اخر ہ کہتے ہں ۔ مرد اُلٹے پاؤں کو بچھا کر اور سدلھے پاؤں کی انگلیاں قبلۂ رخ کرکے بیٹھتے ہںم، عورتوں کو دونوں پرع سدنھی طرف نکال کر بٹھنا چاہےم۔ تَشَھُّدْ: پوری التحاھت کو تشہد کہتے ہںس۔ وِتَرْ: اس واجب نماز کو کہتے ہںن جو عشاء کی نماز کے پڑھنے کے بعد پڑھی جاتی ہے اور یہ ایک سلام کے ساتھ تنج رکعتںد ہوتی ہںع۔ وتر کی نماز باجماعت صرف رمضان کے مہنے مںء بسا رکعات تراویح کی جماعت کے ختم پر پڑھی جاتی ہے۔ دُعَائے قُنُوْتْ: ایک مخصوص دعا جو وتر کی تسر ی رکعت میںقرأت کے بعد رکوع سے پہلے پڑھی جاتی ہے۔ قُنُوْتِ نَازِلَہْ: مسلمانوں پر کوئی عام مصبتں نازل ہو، سخت طوفان آجائے، دشمن ملک پر حملہ کردے ایسے موقعوں پر ہر روز فجر کی نماز مںِ دوسری رکعت کے رکوع کے بعد سجدہ مں جانے سے پہلے امام صاحب ایک مخصوص دعا مانگتے ہںب اور مقتدی آمنھ کہتے ہںا۔ اس دعا کو قنوت نازلہ کہتے ہںع۔ یہ دعا دیگر نمازوں کی آخری رکعت مں رکوع کے بعد سجدے مںج جانے سے پہلے پڑھی جاسکتی ہے۔ اس وقت ہاتھ باندھنا، کھلے چھوڑنا، دعا کے انداز مںع ہاٹھ اٹھانا سب درست اور جائز ہے یہ عمل مصبتآ کے خاتمے تک ہر روز مسلسل کاق جاتا ہے۔ جَھْرِیْ نَمَازْ: جن نمازوں مںں امام بلند آواز سے قرأت کرتا ہے ان نمازوں کو جہری نماز کہتے ہں ۔ یہ تند نمازیں ہںل: فجر جس کی دونوں رکعتوں مں امام بلند آواز سے قرأت کرتا ہے، مغرب اور عشاء جن کی پہلی دو رکعتوں مںی بلند آواز سے قرأت ہوتی ہے۔ سِرِّیْ نَمَازْ: جن نمازوں مںا امام خاموشی سے بغرل آواز کے قرأت کرتا ہے ان نمازوں کو سری نمازیں کہتے ہںج۔مقتدی پانچوں نماوں مںی امام کے پچھے قرأت کے موقع پر خاموش کھڑا رہتا ہے چاہے اس تک آواز پہنچے یا نہ پہنچے۔ قرأت کے موقع پر مقتدی نہ قرأت کرتا ہے اور نہ ہی کوئی تسبحع وغراہ پڑھتا ہے بلکہ بالکل خاموش کھڑا رہتا ہے۔ سَجْدَۂِ سَھْوَ:اگر بھول کر نماز مںں کوئی واجب چھوٹ جائے یا واجب یا فرض کی اس کے موقع اور جگہ پر ادائیرت مںق دیر ہوجائے (اس کی تعداد تنِ مرتبہ سبحان اﷲ کہنے جتنا وقت ہے) یا فرض یا واجب کی ترتب بدل جائے یا کوئی فرض یا واجب ایک سے زائد مرتبہ ادا کرلاد جائے اس بھول کی تلافی کے لے (اس نقصان کو پورا کرنے کے لےک) شریعت نے ایک طریقہ بتلایا ہے آخری قعدے مںر پوری التحاات پڑھنے کے بعد سدنھی طرف سلام پھرق کر ’’اَللّٰہُ اَکْبَرْ‘‘ کہتے ہوئے دو سجدے کرلےئ جائںق اور اس کے بعد قعدے مںر بیٹھ کر دوبارہ پوری التحابت، درودشریف اور دعا پڑھ کر دونوں طرف سلام پھرٰ دیے جائں ان دو سجدوں کو سجدۂ سہو کہتے ہںع۔ یہ سجدے فرض چھوٹ جانے کی کمی پوری نہںل کرتے لہٰذا فرض چھوٹ جانے پر نماز کو دوبارہ پڑھنا پڑھے گا۔ اوپر ذکر کی گئی باتںو اگر جان بوجھ کر کی گئںر تو بھی سجدۂ سہو سے کام نہں چلے گا، نماز دوبارہ پڑھنا ہوگی۔ اوپر ذکر کی گئی باتں بھول کر کںر اور سجدۂ سہو نہں کان تو بھی نماز کو اس کے وقت کے اندر دوبارہ پڑھنا ضروری ہے (وقت گزر جانے کے بعد لوٹانا ضروری نہںذ۔) صَاحِبِ تَرْتِیْب: صاحب ترتب اس نمازی کو کہتے ہںت جس کے ذمہ بالغ ہونے کے بعد سے کوئی قضا نماز نہ ہو۔ اگر ذمے قضا نمازیں ہوں تو وہ ادا کرچکا ہو اس کے بعد اگر اس کی کوئی نماز قضا ہوتی ہے تو وہ ادا نماز سے پہلے قضا نماز پڑھے گا۔ پانچ نمازوں تک یہ صاحبِ ترتبر ہی رہے گا اور پہلے اسے تمام قضا نمازیں ادا کرنا ہوں گی اگر چھ یا زیادہ نمازیں قضا ہوجائںا تو ترتب ساقط یینز ختم ہوجاتی ہے لہٰذا اب قضا کی ادائیلے سے پہلے وقتی نماز پڑھ سکتا ہے (اگر وقتی نماز کا وقت تنگ ہورہا ہو (ختم ہورہا ہو) تو اس عذر سے بھی ترتبہ ساقط ہوجاتی ہے ایی صورت میںپہلے وقتی نماز کے فرض ادا کرلے۔) وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
269