(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
شریعت اور معیشت(یعنی تجارت اسلامی نقطۂ نظر سے)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ شریعت اور معشتس(یینچ تجارت اسلامی نقطۂ نظر سے) کسی بھی انسانی معاشرے کی خوشحالی کی علامت اور پہچان اس کی مستحکم و مضبوط معشتے کو کہا جاتا ہے، کسی بھی معشتا کے مستحکم و مضبوط ہونے کی بنا د اس معشتک کے بازار مںی بیٹھ کر تجارت کرنے والوں کی دیانتداری اور صداقت ہی ہوتی ہے، یہ بات جب سے دناہ قائم ہوئی ہے اس وقت سے لے کر آج تک تجارت کے مدزان مںط متفقہ اور مسلمہ طور پر مانی جاتی رہی ہے، ییے وجہ ہے کہ اس شعبے کے کام کرنے والوں کے یہاںیہ مقولہ مشہور ہے کہ ایمانداری بہترین پالیپر ہے۔ غر مسلم اقوام نے بھی اس اصول کو نہایت دیانتداری سے اپنایا اور آج بھی اس پر قائم ہںر،ییر وجہ ہے کہ تجارتی شعبے مں ان کی ساکھ اور اعتماد ہر کس و ناکس پر قائم ہے وہ نہ معاور مںر کسی بات پر سمجھوتہ کرتے ہںم، نہ لنط دین مںا کسی قسم کی دھوکہ بازی کرتے ہںک، ان کی مصنوعات پر چسپاں لبل کے مندرجات پر لوگ آنکھںم بند کرکے ینی کرلتےم ہںر اور نہایت اطمناھن سے ان کی چزکوں کو استعمال کرتے ہں ، آج تجارتی شعبے مںل ان کا دناد پر چھا جانا ان کے ان تجارتی اخلاق کی وجہ سے ہی آسان ہوا ہے۔ مذہبِ اسلام نے بھی ان تجارتی اصولوں کو نہ صرف قبول رکھا ہے بلکہ اس مںا مفد اصلاحات کرکے اور اسے آخرت کے ساتھ متعلق کرکے ایک عباداتی عمل بھی بنادیا ہے، ییل باتںا اسلام سے پہلے کے آسمانی مذاہب مںے بھی تھں جن کا تذکرہ قرآن و حدیث مںع بھی ملتا ہے، اسلام کی اس شعبے مںا تعلماےت کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے: 1 ناپ تول اور گننے مںس کمی نہ کی جائے، گن کر دی جانے والے چزلوں کی تعداد جتنی طے ہو، تول کردی جانے والی چز وں کی جتنی مقدار اپنے ذمہ کی جائے، ناپ (Measurement) کرکے دی جانے والی چزدوں کی جتنی مقدار طے کر لی جائے اسے طے شدہ مقدار و تعداد مںے ہی دیا جائے، اس مںt کسی قسم کی کمی گاہک کے حق مںی کمی کردینے کے مترادف ہے اور اس کا نقصان اتنا زبردست ہے کہ بچنےد والے کے ذمے اس وقت تک باقی رہے گا جب تک وہ صاحبِ حق کو ادا نہ کردے یا صاحبِ حق سے معاف نہ کرالے، گاہک کے حق کی مقدار کے مطابق جو چزقیا پسہج بچنے والے کے پاس رہ جائے گا وہ اس کے لے قطعی طور پر حرام ہوگا اور حرام مال مں کبھی برکت نہںق ہوتی، اول تو حرام مال حرام کاموں ہی مںح صرف ہوتا ہے یا پھر شادی و غمی کی اسلام کی منع کردہ رسومات کی نذر ہوجاتا ہے یا آخرت کو بھلادینے والے عشح و عشرت کے کاموں مںح ضائع ہوجاتا ہے یا بماوری مںر لگ جاتا ہے اور کبھی کسی مقدمے مںی ختم ہوجاتا ہے۔ ان تمام امور سے انسان دناد مںہ تو چن۔ و اطمناےن سے محروم رہتا ہی ہے آخرت کی جوابدہی بھی بہت سخت ہے، اگر روپے کا چھٹا حصہ بھی کسی کا دبایا ہوگا تو فقہاء کی تصریح (Explanation) کے مطابق آخرت مںک اس کے بدلے مںا اپنی مقبول چھ سو نمازیں دییی پڑیں گی، اگر کسی کی زمنی کا چھوٹا سا ٹکڑا بھی ناجائز قبضہ مں کر رکھا ہوگا تو آخرت مںل زمنو کا وہ حصہ اپنے ساتوں طبقات کے ساتھ طوق بناکر اس کے گلے مںس ڈال دیا جائے گا، یہ تو حرام مال کے اپنے قبضے مںی لانے کے دنام اور آخرت کے نتائج ہںے لکنو اس کے ساتھ مشاہدے میںیہ بات بھی ہے کہ حرام مال اگر حلال مال مںم مل جائے تو وہ حلال مال کو بھی ہلاک اور تباہ کرکے رکھ دیتا ہے۔ اسلام نے نہایت تاکدب کے ساتھ اپنے ماننے والوں کو یہ حکم دیا ہے کہ اس سلسلے کی کسی بھی کوتاہی سے اجتناب کریں تاکہ دنای وآخرت کے ان نقصانات سے بچا جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ نبیﷺ نے تو ایک اور انتہائی مفدم بات اس حوالے سے بتلائی ہے کہ زن اور جاہ یینت تولو اور جھکتا ہوا تولو۔ یہ جھکتا ہوا تولنا ہی حققتہ مں نفع دلانے کے مترادف ہے اور برابر تولنے والوں سے زیادہ دنااوی اعتبار سے بھی کاما ب وہی تاجر ہوتے ہںہ جو نبی کریمﷺ کی اس تعلما پر عمل کرتے ہںل۔ 2 معانر کے حوالے سے اسلام کی تعلیمیہ ہے کہ چزےوں مں کسی بھی قسم کی ملاوٹ نہ کریں اور ان ملاوٹ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی اسلام نے نہایت سخت الفاظ مں کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنَّا‘‘ کہ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم مں سے نہںل۔ گویا کہ ملاوٹ کرکے غرو معارری چز کو معاَری چزعوں کے داموں پر فروخت کرکے دو پسےت زیادہ کمانے والا تاجر ایسا کرکے اپنے ایمان { XE "ایمان " }کا سودا کرتے ہوئے ملتِ اسلامہز سے خود کو خارج کرلنےی پر ترجحت دیتا ہے۔ 3 سودا بچتےا ہوئے اپنے مال کی بے جاتعریںتے نہ کرے، یہ بے جا تعریں ک کرنا بھی اگر حققتی کے خلاف ہو تو جھوٹ بن جائے گا اور جھوٹ کے ذریعے سے حاصل شدہ کمائی فقہاء کے نزدیک حرام کے زمرے مںل آتی ہے۔ 4 اپنے مال کو بچنے کے لےے قسمںی نہ کھائے، بلاوجہ قسمںر کھانے سے مال مںے برکت ختم ہوجاتی ہے۔ 5 مال کا بچنے والا ہو یا خریدار ہو حساب اور لنا دین کے معاملات مںچ ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دے یینے غلط بل بھی نہ بنائے اور رقوم کے لنی دین مںہ نہ جعلی نوٹ استعمال کرے، نہ دینے مںں کسی قسم کی کمی واقع کرے۔ 6 بطورِ سمپلل جو مال دکھا کر اس کا آرڈر لار ہو بعنہٖ وہی مال سپلائی کرے۔ 7 جتنے مال کا آرڈر لان ہو اور جس دام مںڈ لار ہو انہی داموں (Price) مںی اس آرڈر کو پورا کار جائے۔ 8 اپنے مال میںاگر کوئی عبم ہو تو اسے گاہک سے نہ چھپائے بلکہ اس پر واضح کردے کہ اس مال میںیہ کمی ہے۔ 9 اگر مال ادھار فروخت کاگ گا ہو تو خریدار کو چاہےپ کہ طے شدہ مدت کے اندر اندر رقم مںں کوئی کمی کےق بغرت اسے ادا کردے، اس لے کہ جان بوجھ کر بغر عذر کے ٹال مٹول کرنا شریعت نے ظلم قرار دیا ہے۔ 10 اگر بچنے والا خریدار سے کسی بھی وجہ سے تجارت مزید جاری رکھنا نہ چاہتا ہو تو خریدار کو یہ حق نہںج پہنچتا کہ وہ اس کی پچھلی رقم یا اس کا کچھ حصہ روک لے۔ 11 اگر خریدار ادائی ح کے وقت تنگدست ہو تو رقم وصول کرنے والا اسے مزید مہلت دے اور اس مہلت کے عوض مںچ کسی قسم کا اضافہ نہ کرے۔ 12 اگر سودے کی صورت مںئ بچنے والے کی طرف سے مال کا قبضہ کرانے سے پہلے کچھ رقم پیگچن دی گئی ہو جسے عرفِ عام مںم بعاےنہ کہتے ہںئ، سودا ختم ہونے کی صورت میںیعنی اگر خریدار سودا لنے پر راضی نہ ہو تو اس بعا نے کی پوری پوری رقم لوٹادی جائے، اگر سودے کے بعد بچنےن والا بچنے، کے لے تارر نہ ہو تو خریدار کو صرف اپنی بعا نے کی رقم لنےع کا حق ہے دگنی کرکے مانگنا یا لنا ناجائز ہے۔ 13 اگر کوئی جگہ کرائے کی ہے تو اسے مالک کے علاوہ کسی اور کو بچنام اور اس سے رقم حاصل کرنا ناجائز ہے عرفِ عام مںع اسے پگڑی کہا جاتا ہے۔ وغرکہ وغرتہ مندرجہ بالا تمام باتںے شریعت کے بتلائے ہوئے اصول ہںو جن پر عمل کرکے مسلمان اپنی ساکھ بھی قائم کرسکتا ہے اور اپنی تجارت کو بھی ترقی دے سکتا ہے، لکنا اپنے اس تجارتی اور دیگر اموال کو کسی بھی قسم کے نقصان سے (چاہے وہ زمینی ہو یا آسمانی) بچانے کے لےی شریعت اسلام کی بتلائی ہوئی ایک اور تعلم پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے، شرعی اصطلاح مںا اسے زکوٰۃ کہا جاتا ہے، زکوٰۃ کی اس پوری پوری ادائیام کے بعد جو مال بچ جاتا ہے وہ پاک بھی ہے حلال بھی ہے پاکزعہ بھی ہے اور محفوظ بھی رہے گا، جسے اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ مںر باان فرمایا ہے: ’’اللہ تعالیٰ کے دئےن ہوئے مںے سے جو بچارہے وہی تمہارے لےا بدرجہا بہتر ہے اگر تم ایمان { XE "ایمان " }والے ہو۔‘‘(سورۂ ہود آیت86) دورِ حاضر مںی پائی جانے والی چوریاں، ڈکا وہں، بدامنی، زنا، قتل، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان وغر"ہ کی کثرت کہں اس بات کی علامت تو نہںح کہ آج کی معشتج مںر وہ تمام بے اصولایں پائی جاتی ہںب جن سے شریعت نے روکا ہے اور آج کا تاجر طبقہ اسے اہمت نہ دیتا ہو، جس کے نتجے مںن جہاں اس کی معشتم (Subsistence) دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہے وہاں مندرجہ بالا فسادات بھی عام ہوتے جارہے ہںے جو حکومت و عوام دونوں کی دسترس و قدرت سے باہر ہںپ۔ تجارت کی تعریف : آپس کی رضامندی کے ساتھ ایک مال کو دوسرے مال کے عوض تبدیل (Exchange) کرنے کا نام بع (Trade) ہے ۔ مال کے بدلے مال کی تبدیی کو بار ٹر سسٹم (Barter System) کہتے ہںا دور حاضر میںیہ تبادلہ تقریباََ ختم ہوچکاہے اب زیادہ تر مال کا تبادلہ روپے پسےی (کرنسی ) سے ہوتاہے ۔ خرید وفروخت کی چند اہم شرائط : 1) خرید وفروخت کے لئے ایجاب اور قبول (Mutual Willingness) کا پایا جانا ضروری ہے چاہے یہ کلام کے ذریعے ہو یا تحریر کے ذریعے ۔ 2) عقد کرنے والے عاقل اور بالغ ہو ں ۔ 3) مبع (Item for Sale) یقینا موجود اور قابل قبضہ ہو ۔ 4) مبع کی قمتl معلوم اور متعن ہو ۔ 5) مبع اییe چزے ہو کہ شریعت نے اس سے فائدہ اٹھانے کو جائز قرار دیاہو۔ 6) مبع اییe چزے ہوجس کا حوالہ کرنا ممکن ہو ۔ دور حاضر مںل تجارت کی درج ذیل قسمںن رائج ہںئ ۔ 1:انفرادییا شخصی تجارت ۔2:شراکت ۔3: مضاربت۔ 4: کمپنی۔ شخصییا انفرادی تجارت : شخصی تجارت (Individdual Business) کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کسی دوسرے شخص کو شریک کئے بغرت انفرادی طور پر تجارت کرے ۔ شراکت : شراکت (Partnership) کے لغوی معنی ہں کسی کو اپنے کام مں شریک کرنا اور اصطلاح مںا دو یا دو سے زائد لوگوں کا اپنا اپنا سرمایہیکجا کرکے نفع و نقصان کی بناید پر مشترکہ طور پرتجارت کرنے کو شراکت کہتے ہںم ۔ شراکت مںہ تمام متعلقہ افراد کو عملی طور پربھی کاروبار مںر شریک ہونا پڑتاہے ۔ البتہ کام کرنے کا دورانہل (Duration) اور اسی طرح سرمایہ کم یا زیادہ ہوسکتاہے نز نفع و نقصان کی شرح (Rate) بھی کم یا زیادہ ہوسکتی ہے۔ مضاربت: مضاربت تجارت کی اس قسم کو کہتے ہںد جس مںن دو شخص مل کر تجارت کرتے ہں لکنe اس تجارت مں ایک کا صرف سرمایہ ہوتا ہے محنت نہںں ہوتی، دوسرے کی صرف محنت ہوتی ہے سرمایہ نہں ہوتا۔ (گویا کہ یہ تجارت صرف محنت والا ہی کرتا ہے) اس مں نفع فی صد کی شرح سے باہمی رضامندی سے طے ہوتا ہے، اگر تجارت مں خسارہ ہوجائے تو اگلے سال کے نفع سے پہلے پچھلے سال کا ہونے والا خسارہ منہا ہوگا، تجارت بند کرنے کی صورت مں سرمائے کا خسارہ سرمایہ دار برداشت کرے گا محنت کرنے والا سرمائے کے خسارے مںس حصے دار نہ ہوگا البتہ اس کی محنت کا اسے کوئی صلہ نہںت ملے گا۔ کمپنی: کمپنی (Company)کے لغوی معنی شرکت کے ہںے۔ عرف عام مںص اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض لوگ مل کر ایک تجارتی ادارہ قائم کر لتےس ہںگ اور اس نام سے کاروبار کرتے ہںر۔ بعض اوقات مزید سرمائے کی ضرورت کے پشک نظر سرمائے کے حصول کلئےر اپنے ادارے کے حصص (Shares) مارکٹم مں بھی جاری کرتے ہںک اور حصص کے مطابق منافع بھی تقسمو کرتے ہںر۔شریعت میںمندجہ بالا تینوں طریقوں سے تجارت کرنا جائز ہے۔ نوٹ: مندرجہ بالا تمام کاروبار جائز ہونے کے باوجود صرف اور صرف اسی صورت مں ترقی پاتے ہںط کہ انہںم پورے خلوص، نہایت ایمانداری اور انتہائی دیانت کے اصولوں پر چلایا جائے جبکہ ذراسی لاپرواہی، تھوڑی سی بے ایمانی، چھوٹی سی بددیانتی، چوری، غبن اور فراڈ کی طرف لے جاتیہے جو تباہی، بربادی اور ہلاکت کا ییبک ذریعہ ہے۔ سرمائے کی ہلاکت میںسودی رقم، سودی کاروبار، پوری پوری زکوٰۃ کی عدم ادائیئی اور وراثت کی عدم تقسیمیا غرذشرعی تقسمی کا بھی دخل ہوتا ہے۔ اس پر بھی توجہ ہونی چاہے ورنہ تجارت مںو خرو ہی خرم اور برکت ہی برکت ہے۔ حکایت: کسی علاقے کے ایک بزرگ کے پاس اس علاقے کا تجارتی طبقہ گاز او رجاکر عرض کاع کہ حضرت ہم اتنے عرصے سے اس علاقے مں تجارت کررہے ہںد، لکنئ جب بھی ہم نے اپنی تجارت کا حساب کا ، نقصان ہی پایا۔ حضرت نے ان کے جواب مں۔ ارشاد فرمایا کہ بھائو ! اپنے ترازو صححی کرلو (حققتہ مںا وہ لوگ کم تولنے کے عادی تھے اور کم تول کر اس زعم مںن تھے کہ ہم اپنے نفع مں اضافہ کررہے ہںی لکنے حققت اس کے برعکس تھی) ان بزرگ کے کہنے پر ان حضرات نے اپنے اپنے ترازو صحح کرلےے اور پورا تولنے لگے، سال بھر کے بعد جب انہوں نے حساب کات تو نقصان کچھ بی نہںا ہوا لکنض نفع بھی نہ ہوسکا، پھر ان بزرگ کے پاس گئے اور عرض کاا کہ ہم نے آپ کے کہنے پر اپنے اپنے ترازو صححق کرلےت ہم نقصان سے تو بچ گئے لکنک ہمں نفع بھی نہںے ہوا۔ آپ نے فرمایا کاض نفع بھی چاہتے ہو؟ تو جھکتا ہوا تولو۔ انہوں نے بزرگ کی نصحتہ پر کماحقہ عمل کاپ۔ اﷲ تعالیٰ نے گاہکوں کے ساتھ اس ہمدردانہ سلوک پر انہں نفع بھی عطا فرمانا شروع کردیا۔ فائدہ: اسلام کی بھی ہمیںیہی تعلما ہے کہ زن برجاہ (تول سرجھکاتا ہوا تول) یی بنااد ہے تجارتی نفع کی۔آج بدقسمتی سے تجارتی طبقے نے اس تعلم کو پس پشت ڈال دیا ہے اب ان کی اکثریت تولنے والی چزجوں مںں کم تولتی ہے، گننے والی چزموں مںج کم گنتی ہے، ناپنے والی چز وں مںی کم ناپتی ہے اور اس طرح بظاہر اپنے مال مںک بچت کررہی ہے لکنن حققتو مںن ڈکتوچں کے ناجائز حقوق جمع کررہی ہے جو اپنے اپنے وقت پر اسلحہ کے زور پر بغرک حساب کتاب کے لے جانے لگے ہںظ۔ اسلام کے تجارتی اصول اور بازار حصص کا تقابلی جائزہ : دور حاضر مںت حصص (Shares)کا بہت بڑا اور عالمگرپ کاروبار ہو رہا ہے۔جس مقام پر یہ کاروبار ہوتا ہے اسے اسٹاک اینجچ (Stock Exchange) کہتے ہں ۔ اسٹاک اینجچ مںں ہونے والے اس کاروبار کا جائزہ لنےن سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے تجارتی اصول ذہن نشین رکھے جائںا۔ ان مںگ سے چند مندر جہ ذیل ہںئ: 1) جو چزe بیہن اور خریدی جارہی ہے حلال اور پاک ہو اور اس کا بچناک اور خریدنا جائز ہو۔ 2) بی چ جانے والی چزر (Commodity) ہر حوالے سے متعنپ، واضح اور ایک سے دوسرے کی ملکت مںا منتقل ہو سکتی ہو۔ نزک اس کی مقدار بھی متعنز ہو اس کی خوبا ں اور خرابااں بھی واضح ہوں، کسی قسم کا دھوکہ شامل نہ ہو اور اس کا قبضہ بھی لا۔ دیا جا سکتا ہو۔ 3) بی چ جانے والی چزر سودے کے وقت بچنے والے کی ملکتخ اور قبضے مں ہو۔ یینے وہ فورییا تاخرھ سے اس کا قبضہ دے سکتا ہو۔ 4) بی چ جانے والی چزر کے دام (Rate) بچنے اور خریدنے والے کے درماںن واضح طور پر طے شدہ ہوں اور اس مں سودا طے ہو جانے کے بعد اضافہ بھی نہ ہو۔اور نہ ہی ایسا ابہام ہو کہ نہ خریدنے والے کو سودے کے وقت معلوم ہو کہ مںم نے کتنی قمتہ دییی ہے، نہ بچنےہ والے کو معلوم ہو کہ مجھے کان دام ملں گے؟ 5) اگر معاملہ ادھار پر ہو رہا ہے تو بیبچ جانے والی چزہیاقمتا دونوں میںسے کوئی ایک ادھار ہو۔ یینا خریدار کوچزب مل جائے اور طے شدہ واجب الادا رقم (Payable Amount) بعد مں ادا کرے یا بچنے والے کو طے شدہ رقم مل جائے اور وہ چز بعد مںن دے۔چزہ اور قمتر دونوں کا ادھار ناجائز ہے۔ مندرجہ بالا چند اسلامی تجارتی اصولوں کے تناظر مںئ اگر حصص کے کاروبار کا جائزہ لار جائے تو ایک بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے جس کی روشنی مںy حصص اور اس کے کاروبار کا حلال یا حرام ہونا واضح ہو سکتا ہے ۔ شئرکز کی حققتی: حصص کی حتسل وحققتو کال ہے؟ اس سلسلے مںن اب تک کی منظر عام پر آنے والی معلومات کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی بھی کمپنی کسی کاروبار کو شروع کرنے یا جاری کاروبار کو بڑھانے کلئےل مزید سرمایہ کے حصول کی غرض سے اپنے حصص عوام الناس کو بچل کر انہںک اپنی کمپنی مںق شریککرتی ہے گویا کہ یہ شراکت (Partnership) کا ایک طریقہ ہے اور اس حد تک اس کے جائز ہونے مں، کوئی شک وشبہ نہ ہونا چاہےی۔ ایک عام آدمی اپنی مالی طاقت کے اعتبار سے ان حصص کو خرید کر اس کمپنی کا ان حصص کے بقدر مالی شریک بن جاتا ہے۔ اور کمپنی کے پاس اس کے ذریعے لگائے ہوئے سرمائے کے مطابق نقدرقوم مال تجارت، جامد اثاثوں (Property) اور لوگوں سے اشایء کی فروخت کے بعد قابل حصول رقوم کی صورت مں چزایں ہوتی ہںt اور کمپنی حاصل شدہ نفع کو طے شدہ شرح کے ذریعے اس سرمائے کے شرکاء کو تقسمر کرتی ہے ۔ اگر کوئی آدمی اس کمپنی میںحصہ دار نہ رہنا چاہے تو وہ اپنے حصص کو مارکٹح مںگ بچا کر اپنے سرمائے کو واپس لے سکتا ہے۔ کمپنی بذات خود ان حصص کو خرید کر براہ راست فروخت کنندہ کو اس کا لگایا ہوا سرمایہ واپس نہں کرتی۔ مارکٹہ میںان حصص کی قںتی اتار چڑھاؤکا شکار رہتی ہیںیعنی ان کی بازاری قںت گھٹتی بڑھتی رہتی ہںر۔ وہ اسٹاک کمپناجں جو ناجائز اشاءء کا کاروبار نہ کرتی ہوں، کسی قسم کی دھوکہ دہی مںر ملوث نہ ہوں، سودی لنم دین نہ کرتی ہوں ان کے جاری کردہ حصص کو خریدنے مں کوئی ممانعت نہںن ہے۔ جہاں تک ان کے بچےق جانے کا تعلق ہے اس میںیہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ اییٹ کمپنی جس نے ابھی تک کاروبار شروع ہی نہں کاو اور نہ ہی حاصل شدہ رقوم سے ابھی تک کوئی اثاثہ بنایا ہے نہ خریدا ہے بلکہ نقد ہی کی صورت مںس وہ رقوم محفوظ ہیںاییش کمپنی کے حصص اضافے کے ساتھ بچناوجائز نہںہ اس لئے کہ نقد رقوم پر اضافہ لناب سود ہے۔البتہ جس کمپنی کے پاس اثاثے ہں ، مال تجارت ہے، کاروبار جاری ہے ان کے حصص کی فروخت زائد پر بھی جائز ہے اس لئے کہ بچنےٹ والا اپنے حصے کا ما ل تجارت اور اثاثہ بھی ساتھ بچن رہا ہے جس کی قمتے مں اضافہ، ظاہر ہے صححب ہے۔ اسٹاک اینجچ مںک جار ی کاروبار کی صورتںا: اس کی تن۔ صورتںں ہںر: (1) حاضر سودے۔ (2) مستقبل کے سودے۔ (3)تبادلے کے سودے ۔ حاضر سودے: اس مںس بچنے والے کا قبضہ نہںد ہوتا اور وہ آگے بچ۔ دیتا ہے۔ شریعت نے اس طرح کی تجارت کو بھی ناجائز کہا ہے جس مںے بی۔ا جانے والی چزض بچنے والے کی ملکتہ (Possession) اور قبضے مںا نہ ہو۔ اسٹاک اینجچ کے قواعد کے مطابق حصص کے خریدنے والے کے نام منتقل ہونے مںن وقت لگتا ہے اور عرف مں جب تک خریدار کے نام منتقل نہ ہو جائے قبضہ شمار نہںا ہوتا۔ جو حضرات محض کاغذات کے قبضے کو قبضہ شمار کرتے ہںت ان کے نزدیک بھی صرف پہلی مرتبہ کا بچناش صححد ہوگا اس لئے کہ جس نے پہلی مرتبہ حصص بچےگ وہ اس کے اپنے نام کے تھے یہ صورت بھی اور کاغذات اور پسونں کا تبادلہ (Transaction) فوری نہ ہو تو یہ صورت بھی سٹے مںح شمار ہو کر ناجائز کہلائے گی اگلے خریدار کو بچنا ان کے نزدیک بھی صححن نہںو ہوگا۔ مستقبل کے سودے: اس مںل بیدل جانے والی چزرپر بچنے والے کی ملکتم اور قبضہ نہںا ہوتا۔ شریعت نے ایی تجارت کو ناجائز بتلایا ہے اور خریدنے والا بھی صرف وعدہ ہی کرتا ہے یینا دونوں جانب سے صرف وعدوں پر بات ہوتی ہے جو سٹہ اور ناجائز ہے۔ تبادلے کے سودے: اس مںل سود کا عنصر کھلے طور پر پایا جاتا ہے لہٰذا اس کے جواز کی بھی کوئی صورت نہں بنتی۔ جن حضرات نے حصص کو کمپنی کی ملکتا مںٰ حصہ شمار کرنے کی بجائے قرض کہا ہے ان کے نزدیک توحصص کی خرید وفروخت سراسر ناجائز ہے۔ اور جن حضرات نے حصص کے کاروبار کو جائز قرار دیا ہے انہوں نے بھی اس کے جواز کلئےی کئی شرائط اور قوکدات (Terms & Conditions) لگائی ہںج۔ عوام الناس نے اس جواز کو سہارا بنا کر اس طرح بے دریغ (Unstinted) کاروبار شروع کر دیا ہے کہ شرائط اور قوحدات کی کوئی رعایتملحوظ نہںط رکھی جاتی۔ لہٰذا شریعت پر عمل کرنے کے خواہشمندو ں اور دنا وی آفات و اخروی مواخذے سے بچنے کی کوشش کرنے والوں کا اسٹاک اینجچ کے ذریعے کاروبار کرتے وقت شریعت کے جاری کردہ قواعد اور شرائط کو مدنظر رکھنا بے حد ضروری ہے ورنہ اس سے دستبردار ہو جانا چاہےع ۔ سوال: نقد اور اُدھار کے علحدقہ علحد ہ دام لےد جاسکتے ہںد؟ کا ادھار کییہ تفصلا کی جاسکتی ہے کہ ایک ماہ مںق ادائیوا کے یہ دام ہںد اور اس سے زائد کے یہ دام؟ جواب: نقد اور ادھار کے علحداہ علحد ہ دام لےد جاسکتے ہںد۔ نقد کے متعلق تو ظاہر ہے کہ فروخت کرنے والا جس قمتا پر چاہے فروخت کرسکتا ہے۔ البتہ ادھار پر معاملہ کرتے وقت قمتخ کا تعنز ضروری ہے۔ ادھار مںں تفصلو کی جاسکتی ہے لکن& معاملہ (سودا) متعنت ہوگا کہ ادائیعا اس قمتح پر ہوگی۔ سوال: طے شدہ مدت مںد ادائیمت نہ ہونے کی صورت مںا بل مں؟ اضافہ کای جاسکتا ہے؟ جواب: اضافہ نہںئ کات جاسکتا۔ کوےنکہیہ سود ہے اور شرعاً جائز نہں حرام ہے۔ سوال: مقررہ مدت سے پہلے ادائیکں کی صورت مںہ خریدار کی طرف سے کمی کا مطالبہ جائز ہے یا نہںچ؟ جبکہ بعض لوگوں مں مقررہ مدت کے بعد بھی ادائیپہ مںت کٹوتی کرنے کی بلاوجہ عادت ہے جس کو بعض اوقات خوشی سے اور بعض اوقات جبراً قبول کاے جاتا ہے۔ جواب: خریدار کی طرف سے ثمن مںٹ کمی کا مطالبہ کرنا مناسب نہں اور بائع (یینب بچنے والے) کی رضامندی کے بغرر قمتی مںد کٹوتی کرنا خریدار کے لےں جائز نہںں۔ البتہ اگر بائع اپنی مرضی و خوشی سے مقررہ قمتو مںے کٹوتی کردے تو یہ جائز ہے۔ سوال: مقررہ مدت سے پہلے ادائیک کے لےا بچنے والا کمی کی ترغبش دے سکتا ہے؟ اور وہ اس کے لےک جائز ہوگی جبکہ وہ اپنی خوشی سے اپنی رقم مںس کمی کررہا ہے اگر ناجائز ہے تو مطلقاً ناجائز ہے یا ایسا کرنے کی کوئی صورت ہے کوننکہ ایسا کرنا کاروباری ضرورت بھی بنتا چلا جارہا ہے۔ کوئنکہ محدود سرمایہ مختلف چزاوں اور ادھاری مںغ پھنس جاتا ہے اور اپنی کاروباری اور نجی ضروریات کے لے رقم درکار ہوتی ہے۔ بعض اوقات اپنی ادائوحدوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لےر بھی ایسا کرنا پڑتا ہے۔ جواب: یہ مذکورہ طریقہ جائز ہے۔ سوال: بعض اوقات اپنی رقم کو ڈوبتے ہوئے دیکھ کر بھی اپنی رقم مںھ کمی کی ترغبک دییر پڑتی ہے کہ پوری رقم کے ڈوبنے سے بہتر ہے کچھ کا نقصان کرلاا جائے۔ ایسا بعض اوقات پارٹی کی بدنی ک کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات پارٹی کی حالت ہی اییا ہوجاتی ہے کہ اس کے ساتھ تعاون کرنے کے لےک کچھ رقم اسے چھوڑ دی جاتی ہے۔ جواب: یہ طریقہ بھی جائز ہے۔ سوال: بعض اوقات پارٹی حالات کی بنا د پر رقم ادا نہں کرپاتی اور مجبور ہوکر اپنی ذاتی کوئی چزئ، گاڑییا نجی سامان وغر ہ دے دییض ہے کہ اس کے عوض یہ لے لو یا بچی کراپنی رقم پوری کرلو۔ باقی بچ جائے تو بقہب رقم مجھے دے دینا کم پڑجائے تو مجھ سے لے لنای۔ اییا صورت مںض اس طرح چزہ لناز جائز ہے؟ اور اس چز کے فروخت مںا بعض اوقات کچھ وقت لگ جاتا ہے۔ ایسے مںا اسے ذاتی استعمال مںر لایا جاسکتا ہے؟ جواب: اس طرح چز لناہ جائز ہے اور مالک کی اجازت سے اس چزل کو اپنے استعمال مںض لانا درست ہے۔ مالک کی اجازت کے بغرں استعمال کرنا درست نہںح۔ سوال: یہ تمام صورتںس اشائء کی فروخت کے سلسلے مںز دریافت کی گئی ہںے آیا نقد رقم ادھار دینے کی صورت مںا بھی جلدییا دیر کی صورت مں اصل رقم مںو کمی بیے کی جاسکتی ہے؟ یا ڈوبنے کی صورت مںس ایسا کاج جاسکتا ہے یا نقد رقم کے بدلے مںں کوئی اور چزد حاصل کی جاسکتیہے؟یا اشائء اور نقد رقوم کا ایک ہی حکم ہے؟ جواب: اشاہء فروخت کرنے کی صورت مں تو قمتک مں؟ کمی کی جاسکتی ہے البتہ قمت کی ادائی ن مںد تاخری ہونے کی وجہ سے قمت مںن اضافہ نہں کال جاسکتا اور نقد رقم ادھار دینے کی صورت مںو اگر ادائیوب مںر تاخرہ ہوجائے یا جلد ادا کردی جائے تو اس مںے نہ اضافہ کاا جاسکتا ہے اور نہ کمی درست ہے البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ قرض کی رقم جتنی وصول ہوجائے وہ تو ٹھکں ہے اور جو وصول نہ ہو وہ قرض خواہ کے ذمہ باقی رہے گی۔ ہاں اگراصل مالک اپنی مرضی و خوشی سے باقی رقم معاف کردے تو یہ صححک ہے۔ اور نقد رقم ادھار دے کر اس کے بدلے مںا کسی چزا کو حاصل کرنا درست ہے۔ سوال: زید عمرو کے ساتھ مضاربت کی صورت مںا کاروبار کررہا ہے (کاروبار مںم ایک فریق کا سرمایہ اور دوسرے فریق کی صرف محنت ہو اسے مضاربت کہتے ہںا) نفع مںت پچاس فصد کی شرح طے ہے۔ زید نے اب تک کے کاروبار مںر اپنے حصے کا ہونے والا نفع کاروبار سے نکال لا ہے۔ آیامنافع کییہ رقم نکال لناک زید کے لےے جائز تھا یا اس مںو شرعاً کوئی قباحت ہے؟ اگر کاروبار ختم کاا جاتا ہے تو نقصان مںن زید شریک ہوگا؟ جواب: صورت مذکورہ مںی زید کے لےو اپنے حساب سے جو نفع ہے وہ لے سکتا ہے البتہ بعد مںے جو نقصان ہوا چونکہ مضاربت مںا نقصان نفع سے پورا کا جاتا ہے اس لےع زید کو وہ لی ہوئی رقم لوٹانی ہوگی اس لےچ کہ وہ شریک صرف نفع والے حصے کا ہے۔ اس کے باوجود اگر نقصان زیادہاور کاروبار ختم کاا جارہا ہے تو وہ اصل سرمائے مںہ سے ہوگا جوکہ عمرو کا ہے اس مںو زید کا کوئی حصہ نہں اور نہ ہی وہ اس کا ذمہ دارہے۔ سوال: آیندہ کاروبار جاری رکھنے کے لےد عمرو کی شرط یہ ہے کہ (۱)زید ہونے والا نفع کاروبار مں سے ذاتی اخراجات کی حد تک نکالے بقہ منافع کی رقم کاروبار ہی مںے رہنے دے اور(۲)اور نفع نقصان دونوں مںک شریک ہو۔ جواب: یہ دونوں شرط شرعاً نہں کرسکتا۔ البتہ زید کا منافع اگر کاروبار مں رہ جاتا ہے تو اس کا مضائقہ نہں۔ لکنا شرطیہیہ بات نہںص ہوسکتی۔ سوال: عمرو کاروبار مںو محنت مں بھی شریک ہورہا ہے جو کہ اس سے پہلے نہںہ تھا آیا اس طرح کرنے مںن زید کے لےو کوئی شرعی قباحت تو نہں۔ ہے؟ جواب: اس صورت مںا مضاربت نہںن ہوگی مضاربت کے لے شرط ہے کہ عمرو اس مں نہ شریک ہوسکتا ہے اور نہ ہی کاروباری امور نمٹا سکتا ہے۔ سوال: اگر شرعاًقباحت ہو تو اس سلسلے مںہ جائز رہنمائی کال ہے؟ ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ زید نفع کی شرح مںم اپنے حصے مںا کمی کرلے۔ عمرو کا کاروبار مںں وقت دینا۔ کاروباری امور کو نمٹانا مضاربت کی صورت مں تبدییز تو پدفا نہںٹ کررہا۔ اگر زید کا نفع کاروبار مںس لگا رہتا ہے تو یہ آگے چل کر زید کا اس کاروبار مںر سرمایہ ہوجائے گا جو کہ فی الوقت نہںب ہے اور یہ آگے چل کر واضح طور پر شراکت کی صورت ہوجائے گی جس مںگ نفع نقصان دونوں کا ذمہ دار زید بنے گا۔ لکنم اس وقت زید کا کوئی سرمایہ جاری کاروبار مںک کسی بھی حتے مںد نہںہ ہے اس لےب فی الوقت نفع نقصان مںس شراکت کیحت ہے؟ موجودہ صورت مںو شرعی جائز صورتحال کی رہنمائی شریعت مںز کاد ہے؟ جواب: پہلے نفع کا حساب کریں گے اور عقد مضاربت کو ختم کرکے نئے حساب سے شریک ہوجائںے اور پھر مل کر دونوں کام کرسکتے ہںا اور پورے نفع نقصان مںئ اپنے حصے کے مطابق شریک ہوں گے۔ صرف مضاربت مںے نفع کے اندازے کے نقصان مںو دونوں شریک ہوں گے باقی اصل مال کا نقصان عمرو پر ہے۔ البتہ زید کو عمرو قرضہ دے اور زیدیہ رقم کاروبار مںا لگائے اس طرح زید کو شراکت کے ساتھ شریک بناکر دونوں نفع نقصان مںق شریک ہوسکتے ہںض۔ واﷲ اعلم۔ وما توفیقی إلاباللّٰہ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
244