(+92) 319 4080233
کالم نگار

عبدالعلیم

عبدالعلیم

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
بچے کو خدمت نہیں، پہلے حفاظت سکھائیں
بیٹا یہ ذرا اندر رکھ آؤ — بچوں کو ہمدردی اور خدمت کے نام پر ٹریپ ہونے سے بچائیں؟

عموماً والدین بچوں کو صرف یہ سکھاتے ہیں کہ:

کسی سے ٹافی، چاکلیٹ، پیسے یا تحفہ نہ لینا۔ کسی کے ساتھ نہ جانالیکن کئی بار خطرہ لالچ کی صورت میں سامنے نہیں آتا، بلکہ مدد، کام، ادب، خدمت یا بڑوں کی بات ماننے کے بہانے آتا ہے۔

مثلاً:
بیٹا یہ کمرے میں رکھ آؤ۔

یہ چیز ذرا اندر دے آؤ۔

سامنے سیڑھیاں ہیں بھاگ کر یہ اوپر رکھ آؤ۔

یہ سامان پکڑ لو۔

آؤ میرے ساتھ اندر سے فلاں چیز لے آئیں۔

ذرا گودام سے یہ چیز لے آؤ۔

تم تو اچھے بچے ہو، میری مدد کر دو۔

یہ سب جملے بظاہر عام لگتے ہیں، مگر بچے کو اکیلی، بند، سنسان یا غیر محفوظ جگہ پر لے جانے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔

بچے کو صرف کسی سے چیز نہ لینا نہیں، بلکہ کسی بڑے کے کام کے بہانے اکیلے کہیں نہ جانا بھی سکھانا ہے۔

بچے کو ہر کام کے لیے “ہاں” کہنا نہ سکھائیں

ادب اور اندھی فرمانبرداری میں فرق سکھائیں

“بیٹا یہ اندر رکھ آؤ” — ایک خطرناک جملہ بھی ہو سکتا ہے

مدد کے نام پر بچوں کو اکیلے نہ بھیجیں

بچے کو خدمت نہیں، پہلے حفاظت سکھائیں کسی بڑے کا کام کرنے سے پہلے والدین سے پوچھنا ضروری ہے،بچہ بدتمیز نہیں، محفوظ ہونا چاہیے۔

بچوں کو کام کے بہانے بند جگہوں میں جانے سے روکیں

ٹافی چاکلیٹ ہی نہیں، کام بھی ٹریپ کا ذریعہ بن سکتا ہے

بڑے کا احترام اپنی جگہ، بچے کی حفاظت سب سے پہلےبچے کو سمجھائیں کہ ہر بڑے کی ہر بات فوراً ماننا ضروری نہیں۔

اگر کوئی شخص اکیلے اندر، کمرے، چھت، گودام، زیرِ تعمیر جگہ، دکان کے پچھلے حصے یا سنسان جگہ بلائے تو فوراً انکار کرے۔

اگر کوئی کہے “بیٹا یہ رکھ آؤ، یہ اٹھا دو، یہ اندر دے آؤ” تو بچہ کہہ سکے:“میں اکیلا/اکیلی نہیں جاؤں گا/گی، آپ خود کر لیں یا میں امی ابو سے پوچھ لوں۔”

بچے کو یہ احساس دیں کہ “نہیں” کہنا بدتمیزی نہیں، حفاظت ہے۔

بچے کو یہ بھی سکھائیں کہ اگر کوئی زبردستی کرے، ناراض ہو، یا ڈانٹے تو بچہ فوراً وہاں سے ہٹ جائے اور والدین کو بتائے۔

والدین کو یہ خوف نہیں ہونا چاہیے کہ بچہ بدتمیز مشہور ہو جائے گا؛ اصل بات یہ ہے کہ بچہ محفوظ رہے۔

کالم نگار : عبدالعلیم
| | |
51