(+92) 319 4080233
کالم نگار

ابوبکرقدوسی

ابوبکرقدوسی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
حضرت ابوذرؓنے زبدہ کاانتخاب کیوں کیا؟
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلیل القدر صحابی رسول تھے ، ان کی ذات کے حوالے سے بعض لوگ دروغ گوئی صرف اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ اس سبب وہ بعض دیگر جلیل القدر اصحابِ رسول [جیسے سیدنا عثمان] بارے غلط فہمیوں کو پھیلا دیں ۔

ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رض نے ان کو جبراً مدینے سے ایک ویرانے [ربذہ] کی طرف نکال دیا تھا ۔

یہ کہانیاں صرف سیدنا عثمان کے بغض میں گھڑی گئی ہیں اور زیبِ داستاں کے لیے اصل واقعے کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے ، جبکہ اصل بات بالکل اور تھی ۔

اصولی بات ہے کہ کسی شخصیت سے منسلک واقعے میں سب سے معتبر بیان اور موقف وہی ہوتا ہے کہ جو وہ شخصیت خود بیان کرے سو اس معاملے میں بھی بیان و شرح کا واحد حق سیدنا ابوذر غفاری کا ہے ، اور جو بھی مؤقف بھی اختیار کیا جائے گا سیدنا ابوذر غفاری کے بیان کی روشنی میں ہی کیا جائے گا ۔

واقعہ یوں ہوا کہ سیدنا ابوذر غفاری کا ، شام میں قیام کے دوران ، سیدنا امیر معاویہ سے کچھ علمی مسائل کی تفہیم میں اختلاف ہو گیا ۔ سیدنا ابوذر غفاری اپنے مزاج کے آدمی تھے کہ جو درست سمجھا اسے ببانگِ دہل کہا اور لوگوں کی رتی بھر پروا نہ کی کہ کس کے مزاج پر کیا گزرتی ہے ۔

سیدنا امیر معاویہ نے اس معاملے کی خلیفہ وقت سیدنا عثمان غنی کو اطلاع کی کہ یہ علمی اختلاف اب عوامی سطح پر کچھ بے چینی پیدا کر رہا تھا ۔سیدنا عثمان نے بہترین فیصلہ کیا کہ سیدنا ابوذر غفاری کو مدینہ منورہ بلا لیا کہ آپ ادھر آ جائیں اور یہاں ہی قیام کریں ۔

آپ جب یہاں آئے تو یہاں بھی آپ نے اپنے مواقف اپنی مجلسوں میں بیان کرنا شروع کیے ۔ جیسا کہ آپ کا کہنا تھا کہ : " ضرورت سے زیادہ مال جمع کرنا درست نہیں ہے ۔۔۔"

جبکہ اصحابِ رسول کا کہنا تھا کہ جائز ذرائع اور حلال کمائی سے ایسا کرنا اور جمع کرنا غلط نہیں ہے ہاں انسان زکوٰۃ ادا کرنے کا پابند ہے ۔ اور یہاں یہ پہلو قابلِ ذکر ہے کہ اس علمی اختلاف میں سیدنا ابوذر غفاری کا موقف تنہا ان کا مؤقف تھا اور دوسری طرف تمام اصحاب رسول کا موقف ، لیکن ہر دو صورت میں یہ ایک علمی اختلاف تھا ۔

اب یہاں سیدنا ابوذر غفاری کا موقف آپ خود ان کی زبان سے پڑھ سکتے ہیں کہ جو انہوں نے جناب زید بن وھب سے بیان کیا :"میں [زید بن وھب] مقام ربذہ سے گزر رہا تھا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ دکھائی دیئے ۔ میں نے پوچھا کہ :" آپ یہاں کیوں آ گئے ہیں ؟ " ۔

انہوں نے جواب دیا کہ :" میں شام میں تھا تو معاویہ سے ( قرآن کی آیت ) " یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّہْبَانِ لَیَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَ الْفِضَّۃَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍo}(التوبۃ: ۳۴)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بے شک بہت سے عالم اور درویش یقینا لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی خزانہ بنا کر رکھتے ہیں اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، تو انھیں دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجیے۔‘‘ کے مفہوم پر اختلاف ہو گیا ۔

معاویہ کا کہنا یہ تھا کہ یہ آیت اہلِ کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور میں یہ کہتا تھا کہ اہلِ کتاب کے ساتھ ہمارے متعلق بھی یہ نازل ہوئی ہے ۔ اس اختلاف کے نتیجہ میں میرے اور ان کے درمیان کچھ تلخی پیدا ہو گئی ۔ چنانچہ انہوں نے عثمان بن عفان کے یہاں میری شکایت لکھی ۔ عثمان نے مجھے لکھا کہ میں مدینہ چلا آؤں ۔ چنانچہ میں چلا آیا ۔ [اب یہاں مدینے میں بھی] لوگوں کا میرے یہاں اس طرح سے ہجوم سا ہونے لگا ، جیسے انہوں نے مجھے پہلے دیکھا ہی نہ ہو ۔ پھر جب میں نے لوگوں کے اس طرح اپنی طرف آنے (یعنی جمگھٹا کرنے) کے متعلق عثمان سے کہا تو انہوں نے فرمایا کہ : " اگر مناسب سمجھو تو یہاں کا قیام چھوڑ کر مدینہ سے قریب ہی کہیں اور جگہ ، الگ قیام اختیار کر لو ۔ "

یہی بات ہے جو مجھے یہاں ( ربذہ ) تک لے آئی ہے ۔ اگر وہ میرے اوپر ایک حبشی کو بھی امیر مقرر کر دیں تو میں اس کی بھی سنوں گا اور اطاعت کروں گا ۔ (صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ حدیث نمبر 1406)

جی تو یہ تھا اس تمام واقعے کا پس منظر جو خود سیدنا ابوذر غفاری نے بیان کیا ۔

اب یہاں پر ایک سوال یہ ہے کہ آپ نے ربذہ کا انتخاب کیوں کیا ، اور محض سیدنا عثمان کا ہی یہ کہنا تھا کہ آپ کی خود بھی خواہش رہی تھی کہ شہروں کی آبادیوں سے کچھ دور رہا جائے ۔۔۔۔۔ تو سیدنا ابوذر غفاری خود ہی اس کی وضاحت کرتے ہیں ۔۔۔ زید بن وہب نے بیان کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ : مجھ سے حضرت ابوذر غفاریؓ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ : اذا بلغ البناء سلعنا فارتحل الی الشام

’’جب مدینہ کی آبادی سلع پہاڑی تک پہنچ جائے تو تم یہاں سے شام چلے جانا۔‘‘

تو جب سلع تک مدینہ کی آبادی پہنچ گئی تو میں شام چلا گیا اور وہاں سکونت اختیار کر لی۔یعنی سیدنا ابوذر غفاری نے جب پہلے مدینہ چھوڑا تھا اور شام گئے تھے تو تب بھی ان کے پیش نظر رسول مکرم کا یہ حکم تھا کہ جب مدینہ کی آبادی سلع پہاڑی کے پار یعنی ۔۔۔غزوہ خندق والے اس مقام پر۔۔۔۔ پہنچ جائے گی تو تم نے مدینہ میں نہیں رہنا۔

اب یہ حکم رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں دیا؟
صدقے جاؤں اس رسول کی فہم و فراست کے کہ جنہوں نے ایک بار انہی سیدنا ابوذر غفاری سے کہا تھا کہ ابوذر آپ کو دو افراد کا بھی امیر مقرر کیا جائے گا تو قبول نہ کرنا ۔۔۔۔۔ کہ آپ اپنے اصحاب کے مزاج آشنا تھے ۔۔۔۔ اور سیدنا ابوذر کو [مدینہ چھوڑنے کی] اس نصیحت کی حکمت کس کمال سے ظاہر ہو رہی ہے ۔۔۔ صاحبانِ عقل و دانش اس سے سمجھ سکتے ہیں ۔ اور اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا ابوذر غفاری کے مزاج کا کس قدر اندازہ تھا ۔

اس لیے مدینہ بدر کرنے کا الزام بالکل بے حقیقت ہے کیونکہ سیدنا ابوذر غفاری نے پہلے بھی جو مدینہ چھوڑا تھا اور شام گئے تھے وہ رسولِ مکرم کے حکم کے تحت ہی گئے تھے اور اب بھی جب سیدنا عثمان نے آپ کو مدینہ واپس بلایا اور آپ نے پھر مدینہ چھوڑا تو ربذہ کا انتخاب خود کیا ۔

ایک اور غلط فہمی جس کو بڑھاوا دیا جاتا ہے کہ جیسے ربذہ کوئی اس قدر ویران جگہ تھی کہ جہاں " بندہ نہ بندے دی ذات " ۔۔۔ والا منظر ہو ۔

ایسا ہرگز نہ تھا ، وہ ایک چھوٹا سا ڈیرہ یا گاؤں تھا جہاں پر چند اور گھرانے بھی آباد تھے ، اور جو قافلے عراق سے حجاز کی طرف آتے تھے ، ربذہ ان کی ایک قیام گاہ [یا آرام گاہ] ہوا کرتی ، یعنی مدینے سے اتنا دور نہ تھا ۔ اور یہ بھی کہ وہاں بیت المال کے اونٹوں کی چراگاہ بھی تھی ۔۔ اور ربذہ [مدینہ سے دو سو کیلومیٹر دور ، عراق کی جانب سے] مکہ کے راستہ میں بہترین منزل تھی۔ (تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 286)

اور یہ بھی کہ [ربذہ کے قیام میں سہولت کے لیے] سیدنا عثمان غنیؓ نے انہیں زکوٰۃ کے اونٹوں کا ایک ریوڑ اور دو غلام عطا کیے ، اور ساتھ ان کے اہل خانہ بھی تھے اور روزینہ جاری کیا۔

لیکن !
سیدنا عثمان کی ذات بارے شکوک وشبہات پیدا کرنے کے لیے معاندین اصحابِ رسول نے اس واقعے کو اور ہی رنگ میں پیش کیا ۔

بس اتنا ہوا کہ جس برس سیدنا ابوذر غفاری فوت ہوئے تو وہ عین حج کے ایام تھے اور قافلے مکہ کو جا رہے تھے ۔

سیدنا عثمان غنی نے اعلان کیا تھا کہ اس بار امیر حج کے فرائض وہ خود انجام دیں گے ، اس سبب بہت سے اصحابِ رسول معمول سے زیادہ شوق اور ذوق سے مکہ پہنچ رہے تھے ۔ کہ داماد رسول ، خلیفہ وقت کی معیت میں حج ادا کیا جائے ۔۔۔۔ سو ربذہ گاؤں کے بھی بہت سے افراد حج کے لیے نکل گئے ۔

دوسری طرف سیدنا عبداللہ بن مسعود عراق سے اپنے ساتھیوں سمیت قافلہ حج کو لے جا رہے تھے ، سو یہاں سے گزرے ۔۔۔ اور وہ صورتحال پیدا ہو گئی کہ جس کی طرف رسولِ مکرم نے اشارہ کیا تھا ۔۔۔۔کہ خود سیدنا ابوذر روایت کرتے ہیں کہ : ایک مجلس میں رسول مکرم نے فرمایا تھا کہ تم میں سے ایک شخص کی موت ویرانے میں ہوگی ۔۔۔ لیکن اہل ایمان کا ایک گروہ اس پر نماز [جنازہ] پڑھے گا ۔۔۔صحیح ابن حبان 6670.

صحیح ابن حبان کی اسی روایت میں آپ کی اہلیہ کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ جب سیدنا ابوذر نے ان کو کہا کہ جاؤ دیکھو کوئی آتا جاتا دکھائی دے تو آپ کی اہلیہ نے کہا تھا کہ اب تو حج کے قافلے بھی نکل چکے ۔۔یعنی اب یہاں کون آئے گا ۔۔۔آپ کی اہلیہ کے یہ الفاظ بھی گواہی دیتے ہیں کہ یہ راستہ حاجیوں کی گزرگاہ تھی اور جب سیدنا ابوذر کی وفات ہوئی بیشتر حاجی جا چکے تھے ۔۔۔۔سیدنا عبداللہ بن مسعود مکہ کی طرف عراقی حاجیوں کے ساتھ محوِ سفر تھے اور مقام ربذہ میں اترے ۔ اور سیدنا ابوذر سے ملاقات ہوئی اور ان کے آخری وقت میں ان کے پاس رہے اور ان کی وفات ہوئی تو جنازہ پڑھا اور تدفین کی ۔

کالم نگار : ابوبکرقدوسی
| | |
32