ایک آیت... اور پوری کلاس مکہ پہنچ گئی:
فاطمہ کی آنکھوں میں تجسس ابھی باقی تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ آج وہ صرف سبق سنانے نہیں آئی، بلکہ کچھ سیکھنے آئی ہے۔
میں نے کہا:"چلو بیٹا! ایک آیت اور پڑھتے ہیں۔"
اس نے آگے پڑھا:﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ...﴾
میں نے فوراً پوچھا:"فاطمہ! کیا تم جانتی ہو صفا اور مروہ کیا ہیں؟"
اس نے معصومیت سے سر ہلا دیا۔میں نے پوری کلاس کی طرف دیکھا اور کہا:"آپ میں سے کون بتائے گا؟"
کلاس خاموش تھی۔
میں نے کہا:"اچھا، آج میں آپ کو وہاں لے چلتا ہوں۔"میں نے تختے پر دو چھوٹے سے پہاڑ بنائے۔
"پیارے بچو! یہ دو چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ہیں۔ ایک کا نام صفا ہے اور دوسری کا مروہ۔ آج یہ دونوں مسجد الحرام کے اندر ہیں اور دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں مسلمان ان دونوں کے درمیان سات چکر لگاتے ہیں۔"
بچوں کی نظریں میری طرف تھیں۔
میں نے پوچھا:"لیکن اللہ تعالیٰ نے ان دو پہاڑیوں کو اتنی عزت کیوں دی؟"
پھر میں نے کہا:"اس لیے کہ ایک ماں یہاں دوڑی تھی۔"
میں نے آہستہ آہستہ کہنا شروع کیا:"اس ماں کا نام حضرت ہاجرہ تھا۔"
"ان کے ساتھ ایک ننھا سا بچہ تھا۔"
"جانتے ہو اس کا نام کیا تھا؟"
کلاس سے آواز آئی:"حضرت اسماعیل علیہ السلام۔"
میں نے پوچھا:"اور ان کی عمر کتنی ہوگی؟"
بچوں نے مختلف اندازے لگائے۔
میں نے کہا:"اتنے چھوٹے کہ ابھی گود میں تھے، دودھ پیتے تھے۔"
پھر میں نے سوال کیا:"ذرا سوچو...چاروں طرف نہ کوئی شہر...نہ کوئی گھر...نہ کوئی آدمی...نہ کھانے کا انتظام...نہ پانی...نہ سایہ...صرف تپتا ہوا صحرا۔"
میں نے چند لمحے خاموشی اختیار کی۔پھر پوچھا:"اگر آپ کو وہاں چھوڑ دیا جائے تو کیا ہوگا؟"
کلاس میں سکوت چھا گیا۔
میں نے کہا:"حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں وہاں چھوڑ کر واپس جانے لگے۔"
میں نے فاطمہ سے پوچھا:"اگر تم حضرت ہاجرہ کی جگہ ہوتیں تو سب سے پہلے کیا پوچھتیں؟"
اس نے کہا:"آپ ہمیں چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں؟"
میں نے کہا:"بالکل!
حضرت ہاجرہ نے بھی یہی پوچھا۔لیکن جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب نہ دیا تو آخر میں ایک سوال کیا۔"
میں نے پوری کلاس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا:"کیا سوال تھا؟"
پھر خود ہی کہا:'کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے؟'
میں نے کہا:"حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:'ہاں۔'
اب ذرا حضرت ہاجرہ کا جواب سنو۔
انہوں نے یہ نہیں کہا:پھر اللہ نے ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ہمیں یہاں کیوں چھوڑ دیا؟ہم نے کیا قصور کیا؟
بلکہ انہوں نے صرف ایک جملہ کہا:'اگر اللہ کا حکم ہے تو پھر وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔'
میں نے بچوں سے پوچھا:"بتاؤ!کیا انہوں نے اپنے شوہر سے شکوہ کیا؟"
"نہیں۔"
"کیا انہوں نے اپنے والدین کو یاد کرکے رونا شروع کردیا؟"
"نہیں۔"
"کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ سے شکوہ کیا؟"
"نہیں۔"
"پھر کیا کیا؟"
میں نے خود جواب دیا:"انہوں نے اپنی پوری طاقت لگا دی۔بچہ پیاسا تھا۔وہ صفا کی طرف دوڑیں۔پھر مروہ کی طرف دوڑیں۔پھر واپس صفا۔پھر مروہ۔سات مرتبہ دوڑتی رہیں۔وہ جانتی تھیں کہ پانی شاید یہاں نہ ہو، لیکن وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ بندے سے پہلے کوشش دیکھتے ہیں۔"
میں نے فاطمہ سے پوچھا:"پھر اللہ تعالیٰ نے کیا انعام دیا؟"
وہ خوشی سے بولی:"زمزم!"
میں نے کہا:"بالکل!
ایک ایساچشمہ جو آج ہزاروں سال بعد بھی جاری ہے، اور دنیا کا کوئی انسان اسے خشک نہیں کرسکا۔"
پھر میں نے پوری کلاس کی طرف دیکھا اور کہا:"پیارے بچو!اگر حضرت ہاجرہ صرف بیٹھ کر روتی رہتیں، کیا زمزم نکل آتا؟"
سب نے کہا:"نہیں!"
"اگر وہ صرف شکوے کرتی رہتیں؟"
"نہیں!"
"اگر وہ کہتیں، اب کچھ نہیں ہوسکتا؟"
"نہیں!"
میں نے کہا:"پھر ہمیں حضرت ہاجرہ سے کیا سبق ملا؟"
فاطمہ نے فوراً کہا:"اللہ پر بھروسا بھی کریں اور اپنی پوری کوشش بھی کریں۔"
میں نے مسکرا کر کہا:"بالکل!یہی تو قرآن ہمیں سکھا رہا ہے۔پہلے اللہ پر کامل یقین...پھر اپنی پوری کوشش...اور پھر نتیجہ اللہ کے سپرد۔"
میں نے آخر میں بچوں سے کہا:"ہمیں شاید زمزم کا چشمہ نہ ملے، لیکن اگر ہم بھی حضرت ہاجرہ کی طرح اللہ پر بھروسہ کریں، حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داری پوری کریں، اور پوری کوشش کریں، تو کیا اللہ تعالیٰ ہمیں کوئی انعام دیں گے؟"
کلاس میں کئی آوازیں ایک ساتھ بلند ہوئیں:"جی!"
میں نے کہا:"ہاں، ضرور دیں گے۔کسی کو علم کا زمزم ملے گا، کسی کو ایمان کا، کسی کو صبر کا، کسی کو رزق کا، کسی کو کامیابی کا، اور سب سے بڑا انعام جنت کا ہوگا۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی محنت کبھی ضائع نہیں کرتے۔"