(+92) 319 4080233
کالم نگار

-ایک قاری کاانتخاب

-ایک قاری کاانتخاب

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
بچہ ،بچے کا دشمن کیوں؟
ایک ہی گھر میں رہنے والے کزنز کے درمیان ضد، حسد اور مقابلے کی عادت کیوں پیدا ہو جاتی ہے؟
جوائنٹ فیملی میں رہنے والے بہت سے والدین یہ شکایت کرتے ہیں کہ بچے ہر وقت آپس میں لڑتے ہیں، ایک دوسرے کی چیزیں چھینتے ہیں، ہر بات میں مقابلہ کرتے ہیں یا چاہتے ہیں کہ جو چیز ایک بچے کو ملے، وہ انہیں بھی فوراً مل جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس کی ایک ہی وجہ نہیں ہوتی۔ بچوں کی عمر، مزاج، فطری شخصیت اور تربیت سب اس میں کردار ادا کرتے ہیں، لیکن خاندانی ماحول بھی بہت اہم اثر ڈالتا ہے۔

???? جب ایک بچے کا بار بار دوسرے سے موازنہ کیا جائے، کسی ایک کی ہر وقت تعریف کی جائے، دوسرے کو ڈانٹا جائے، یا بار بار کہا جائے: “دیکھو، تمہارا کزن تو ایسا نہیں کرتا” یا “اس سے کچھ سیکھو” تو بچے کے دل میں احساسِ کمتری، حسد اور مقابلے کا جذبہ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ اپنے کزن کو دوست یا بھائی کی بجائے اپنا حریف سمجھنے لگتا ہے۔

اسی طرح اگر کھلونے، تحائف، محبت، توجہ یا سہولیات میں واضح فرق رکھا جائے، یا بڑے خود بچوں کے سامنے ایک دوسرے کے بچوں کا موازنہ کریں، تو یہ رویہ بھی بچوں کے تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ ???? والدین اور گھر کے بڑے اگر ہر بچے کی انفرادی صلاحیت کو پہچانیں، اس کی اپنی خوبیوں کی تعریف کریں اور اسے یہ احساس دلائیں کہ ہر بچہ اللہ تعالیٰ کی منفرد نعمت ہے اور کسی کی محبت دوسرے کی وجہ سے کم نہیں ہوتی، تو بچوں میں اعتماد، محبت اور تعاون کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔

اسلام بھی ہمیں حسد، بغض اور باہمی نفرت سے بچنے اور ایک دوسرے سے محبت کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“آپس میں حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔”???? صحیح البخاری: 6065???? صحیح مسلم: 2559

❤️ یاد رکھیں! بچپن میں بوئے گئے محبت، انصاف اور احترام کے بیج ہی بڑے ہو کر مضبوط خاندانی رشتوں کی بنیاد بنتے ہیں۔ اگر بچوں کو ہر وقت مقابلے میں رکھا جائے تو دلوں میں فاصلے پیدا ہوتے ہیں، لیکن اگر انہیں تعاون، ایثار اور محبت سکھائی جائے تو یہی کزنز زندگی بھر ایک دوسرے کی طاقت اور سہارا بن جاتے ہیں۔

کالم نگار : -ایک قاری کاانتخاب
| | |
31     1