ایک عزیزہ نے سانحہ لاہور کے بعد جاۓحادثہ کا وزٹ کیا تھا۔ انہوں نے وہاں واقعہ کے عینی شاہدین، محلے داروں اور علاقہ مکینوں سے بات چیت کی۔
اس گفتگو کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
جب ہم لاہور کے اس علاقے کاہنہ پہنچے تو جگہ جگہ لوگ جمع تھے۔ کئی گھروں سے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
اس علاقے کی ایک رہائشی نے بتایا کہ ’ہمارے محلے میں قدم قدم پر جنازے پڑے ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ پہلے کہاں جائیں۔‘
میں نے آگے بڑھ کر دیکھا تو ہر ہجوم کے درمیان ایک بچے کی میت پڑی تھی۔ ابھی میں پہلی میت کے پاس ہی رُکی تو سامنے سے ایک اور جنازہ آتا دکھائی دیا۔ 20 قدم کے فاصلے پر عورتیں دو بچوں کی میت کو ایک ہی پلنگ پر رکھے بیٹھی تھیں۔
وہاں موجود خواتین سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ یہ ایک ہی گھر کے دو بچے ہیں۔ ایک کی عمر سات سال ہے اور دوسرے کی پانچ سال۔ ان کی ماں روتے ہوئے کہہ رہی تھی ’صدقے جاؤں۔۔۔ ہائے۔۔۔ ماں کے بچے۔۔۔ میں نے تو پڑھنے بھیجا تھا۔
پانچ سالہ ارحم کی ماں کبھی روتی اور کبھی آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر خاموشی سے بچے کی میت کی طرف دیکھتی رہی۔ کبھی وہ ہاتھ سے چلنے والا پنکھا لیے اپنے بچے کی لاش کو ہوا دیتی۔ کچھ دیر گزری تو مرد جنازہ اٹھانے آئے۔ اس ماں نے چارپائی کو زور سے پکڑ لیا اور چیخ چیخ کر کہتی رہی کہ ’میرے بچے کو نہ لے کر جاؤ۔‘
جیسے ہی جنازہ اٹھا تو وہ ٹیوشن سینٹر کے دروازے کی طرف روتے ہوئے بھاگی اور دروازے پر لگے تالے کو چومنا شروع ہو گئی۔
میری موجودگی میں اس وقت تک پانچ جنازے اٹھائے جا چکے تھے۔ وہاں کھڑے میری نظر ساتھ والی گلی پر پڑی تو ایک اور جنازہ وہاں پڑا تھا۔ ساتھ کھڑی ایک عورت نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’دیکھیں تو سہی کیا قیامت ٹوٹی ہے ہم پر۔ میں تو خود ساری رات سو نہیں سکی۔
’رات سے لے کر ابھی تک محلے میں صرف ننھے بچوں کے جنازے ہی اٹھ رہے ہیں۔‘
میں نے اس عورت کے ساتھ موجود ایک اور روتی ہوئی خاتون سے بات کی تو انھوں نے بتایا ’میرے پوتے بھی وہاں تھے۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ وہ دروازے کے پاس بیٹھے تھے اس لیے بچ گئے۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تو ساری مائیں ٹیوشن سینٹر کی طرف بھاگیں۔
’ساتھ ہی دکانوں والے اور محلے دار بھی آگئے جنھوں نے فوراً بیلچوں کی مدد سے مٹی ہٹانا شروع کی اور کھینچ کھینچ کر مٹی تلے بچے نکالے۔ کچھ مردہ حالت میں نکلے اور کچھ زخمی تھے۔‘
واقعے کے بعد موقع پر پہنچنے والی ازرہ بی بی نے ٹیوشن سینٹر کے دروازے کے قریب کھڑے ہو کر ریسکیو آپریشن کی منظرکشی کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں گھر میں تھی۔ چھت گرنے کی آواز آئی۔ باہر نکل کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ٹیوشن سینٹر کی چھت گر گئی ہے۔
’اسی وقت میں نے ساتھ والے گھر کی باجی کو بلایا کیونکہ اس کے بچے بھی وہیں پڑھتے تھے۔ ہم جائے وقوعہ پر گئے جو چند قدم کے فاصلے پر تھا۔ وہاں مزید لوگ جمع ہوگئے اور پھر کچھ نے باقی لوگوں کو اطلاع دی۔
’ریسکیو والوں کو فون کیا تو وہ بھی تھوڑی دیر میں موٹر سائیکلوں پر آئے اور علاقہ مکینوں کے ساتھ آپریشن شروع کر دیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس وقت ٹیوشن پڑھنے کے لیے گھر میں 20 سے 25 بچے موجود تھے۔
علاقے کے ایک بزرگ رہاٸشی نے بتایا ’میرے گھر کی پچھلی دیوار ان کے گھر سے ملتی ہے۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تو میں گھر میں ہی موجود تھا۔ آواز سن کر میں بھاگا۔ جب موقع پر پہنچا تو گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور بچے مٹی تلے دبے ہوئے تھے۔‘
وہ یاد کرتے ہیں کہ ’ہم سب محلے والوں نے مٹی ہٹا کر بچوں کو نکالنا شروع کیا۔ ہم نے تین بچے زندہ نکالے۔ ان میں ایک کو سانس لینے میں دشواری تھی۔ اسے ہم نے فوراً پنکھے کے آگے بٹھایا اور پانی پلایا۔
’ریسکیو والے بھی پہنچ گئے۔ کئی ایسے بچے بھی تھے جن کی سانسیں نہیں چل رہی تھیں۔ ریسکیو والوں نے انھیں موقع پر سی پی آر دیا لیکن ان کی سانس بحال نہیں ہوئی۔‘
ان کے مطابق ’یہ گھر چار بھائیوں کی مشترکہ جائیداد ہے اور پچھلے سترہ سالوں سے یہاں مرمت کا کام نہیں ہوا تھا کیونکہ یہ لوگ خاصے غریب ہیں۔ یہ لوگ مون سون سے پہلے چھت پر ٹائلیں لگا رہے تھے۔ چھت کومرمت کروا رہے تھے۔
ٹیوشن ٹیچر زخمی بھی ہوئیں:
ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیوشن والی ٹیچر کا شوہر سامنے گلی میں پھل کی ریڑھی لگاتا تھا اور خاتون خود بچوں کو دو تین سالوں سے پڑھا رہی تھی۔ ان لوگوں سے محلے والوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی ہے۔ ٹیوشن ٹیچر تو بچاری خود اس حادثے کا شکار ہوئی ہے۔ یہاں زیادہ بچے اس کے پاس پڑھنے آتے تھے کیونکہ اس کی فیس باقی ٹیوشن سینٹرز سے کم تھی۔ وہ تقریباً ایک بچے سے دو سے تین سو روپے فیس لیتی تھیں۔
یاد رہے کہ ٹیوشن ٹیچر اور ان کی بیٹی بھی اس واقعے میں زخمی ہوئی ہیں اور کاہنہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ تاہم ان کے شوہر، ان کے بھائی اور مستری کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ٹیچر کا بیان:
اسپتال میں زیرِ علاج ٹیوشن ٹیچر حمیدہ بی بی کا ویڈیو بیان بھی سامنے آ گیا ہے، جس میں انہوں نے حادثے سے متعلق اپنی صفائی اور کرب کا اظہار کیا ہے۔
حمیدہ بی بی نے بتایا کہ ان کے گھر کی چھت بارش کے دنوں میں مسلسل ٹپکتی تھی، اسی وجہ سے انہوں نے چھت پر ٹائلیں لگوائی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ہرگز یہ اندازہ نہیں تھا کہ چھت اس طرح اچانک زمین بوس ہو جائے گی۔ انہوں نے افسردہ لہجے میں کہا:"یہ سب اللہ کی طرف سے ہوا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ ایسا المناک حادثہ پیش آ جائے گا۔"
انہوں نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ بچوں کے ٹیوشن پڑھنے کے دوران چھت پر تعمیراتی کام جاری تھا۔ ان کے مطابق چھت کا کام پہلے ہی مکمل ہو چکا تھا، اور جو باتیں اس کے برعکس کہی جا رہی ہیں، وہ درست نہیں۔حمیدہ بی بی کا کہنا تھا کہ ان کی مالی حیثیت اتنی مضبوط نہیں تھی کہ پوری چھت پر نیا لینٹر ڈلوا سکتیں۔ وہ خود ٹیوشن پڑھا کر گھر کا خرچ چلانے میں شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہیں، جبکہ ان کے شوہر گھر کے قریب پھلوں کی ریڑھی لگا کر روزی کماتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اگر اس وقت چھت پر کوئی کام جاری ہوتا تو وہ معمول کے مطابق بچوں کو پہلے ہی چھٹی دے دیتیں۔ "میں تو بجلی چلی جائے یا موسم خراب ہو جائے، تب بھی بچوں کو واپس بھیج دیتی ہوں۔ ایسا خطرہ ہوتا تو کبھی انہیں وہاں نہ بٹھاتی۔"
حمیدہ بی بی کے مطابق وہ گزشتہ دو برس سے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی ہیں۔ مجموعی طور پر ان کے پاس تیس سے پینتیس بچے زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ حادثے والے روز تقریباً بیس سے بائیس بچے موجود تھے۔
اپنی زخمی بیٹی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس کی حالت پہلے سے بہتر ہے اور اسے اسپتال سے ڈسچارج بھی کر دیا گیا ہے، مگر وہ خود زیرِ علاج ہونے کے باعث ابھی تک اس سے مل نہیں سکیں۔گفتگو کے اختتام پر ان کی آواز بھرّا گئی۔ انہوں نے نم آنکھوں سے کہا:"جو بچے اس حادثے میں چلے گئے... وہ سب میرے اپنے بچے تھے۔"
عزیزانِ من!
یہ سانحہ بلاشبہ دل دہلا دینے والا ہے۔ جب بھی ان معصوم بچوں کے چہرے نگاہوں کے سامنے آتے ہیں، دل بوجھل ہو جاتا ہے اور طبیعت بے چین ہو اٹھتی ہے۔ بار بار یہی خیال آتا ہے کہ ان والدین پر کیا گزر رہی ہوگی، جن کے جگر کے ٹکڑے چند لمحوں میں ان سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے۔
آئیے! ہم سب اپنے ربِ کریم کے حضور دستِ دعا بلند کریں کہ اللہ تعالیٰ ان تمام معصوم بچوں کو اپنی بے پایاں رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے غم زدہ والدین، بہن بھائیوں اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل، حوصلہ اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین!