صاحبو!کبھی تم نے خود سے یہ پوچھا ہے کہ میں ایسا کیوں ہوں؟:
میری سوچ ایسی کیوں ہے؟میرا رویہ، میرے فیصلے، میرا ردِعمل — یہ سب کہاں سے آئے؟کیا کبھی تم نے غور کیا کہ تمہاری زندگی میں جو تم بنے ہو،اس کے پیچھے کتنی طاقتیں، کتنے اثرات کام کر رہے ہیں؟
دیکھو، انسان پیدائش کے وقت ایک صاف کاغذ ہوتا ہے۔لیکن وقت کے ساتھ، اس پر کئی ہاتھ لکھتے ہیں۔کچھ محبت سے، کچھ درد سے، کچھ انجانے خوف سے۔
صاحبو! یہی وہ تحریریں ہیں جو تمہارا شعور بناتی ہیں۔اور یہ تحریریں تمہاری اپنی نہیں ہوتیں۔یہ تمہارے ماحول، تمہارے رشتوں، اور تمہارے تجربوں کا عکس ہوتی ہیں۔
صاحبو!سب سے پہلی طاقت جو تمہیں بناتی ہے،وہ تمہارے والدین ہیں۔انہوں نے تمہیں زندگی دی، محبت دی، رہنمائی دی۔مگر ساتھ ساتھ — انہوں نے اپنے خیالات، خوف، اور کمزوریاں بھی تمہیں دیں۔انہوں نے جو دنیا دیکھی،تمہیں ویسی ہی دنیا دکھائی۔اگر ان کے ذہن میں یہ نقشہ تھا کہ “زندگی مشکل ہے،”تو تم نے بھی یہی سچ مان لیا۔اگر وہ سمجھتے تھے کہ “پیسہ برائی کی جڑ ہے،”تو تم نے لاشعوری طور پر خود کو دولت سے دور رکھا۔انہوں نے اپنی دانست میں اچھا کیا۔لیکن اُن کے تصورات تمہارے ذہن میں “نقش” بن گئے۔اور تم انہیں دہراتے رہے۔یہاں تک کہ وہ تمہاری اپنی “حقیقت” بن گئے۔
یہاں درویش کہتے ہیں چاگر والدین نے تمہیں زنجیر دی ہو، تو شکایت نہ کرو۔وہ زنجیر تمہیں آزاد ہونے کا موقع بھی دیتی ہے۔صاحبو!پھر آتی ہے دوسری طاقت تمہارا ماحول۔جو دنیا تمہارے گرد ہے،وہ روز تمہارے اندر کچھ ڈالتی ہے۔جو تم دیکھتے ہو، سنتے ہو، پڑھتے ہو۔وہی تمہاری اندرونی فضا بن جاتا ہے۔اگر تمہارا دن تشدد سے بھرے ڈراموں،منفی خبروں، اور زہریلے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے پیغامات میں گزرتا ہے —تو تمہارے اندر کی “خوشی” آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی۔جو آنکھ دیکھتی ہے، دل وہی بن جاتا ہے۔لہٰذا اپنے ماحول کی صفائی کرو۔جیسے بدن کو غسل دیتے ہو،ویسے ہی دل اور دماغ کو بھی دھوؤ۔
صاحبو!پھر اثر آتا ہے تمہاری سرزمین کا، تمہارے وطن کا۔اگر تم ایسے ملک میں پلے بڑھے جہاں خوف، جنگ، یا عدمِ استحکام تھا،تو تمہارے اندر ایک بےچینی پیدا ہوئی ہو گی ۔کہ کچھ بھی محفوظ نہیں۔اور اگر تم ایک پرامن، خوشحال، اور مہربان معاشرے میں رہے،تو تم نے زندگی کو آسان اور نرم پایا۔یہ زمین تمہارے ذہن کا زاویہ طے کرتی ہے۔یہ تمہیں سکھاتی ہے کہ کیا ممکن ہے اور کیا نہیں۔لیکن یاد رکھو انسان کا سفر سرحدوں سے نہیں رک جاتا۔
جس نے خود کو پہچان لیا،اس کا وطن ساری کائنات بن جاتا ہے۔پھر وہ لوگ جن کے ساتھ تم وقت گزارتے ہو —وہ بھی تمہیں شکل دیتے ہیں۔تمہارے دوست، استاد، ساتھی، تعلقات ۔ یہ سب تمہاری اندرونی تصویر کو بدلتے ہیں۔اگر تم اُن لوگوں میں رہتے ہو جو ہر وقت شکوہ کرتے ہیں،تو تم بھی شکایت کرنے لگو گے۔اگر تم اُن لوگوں میں رہتے ہو جو خواب دیکھتے ہیں،تو تم بھی خواب دیکھنے لگو گے۔درویش کہتے ہیں “جس محفل میں بیٹھو، وہ تمہارے رنگ بدل دیتی ہے۔”
لہٰذا دیکھو،کیا تم ایسی صحبت میں ہو جو تمہیں بلند کرتی ہےیا وہ جو تمہیں نیچے کھینچتی ہے؟
اور آخر میں وہ سب کچھ جو تم روز سنتے ہو، دیکھتے ہو،وہ تمہارے دل پر نقش چھوڑ جاتا ہے۔یہ دنیا تمہیں مسلسل پیغامات دیتی ہے۔اشتہار، خبریں، سوشل میڈیا، ویڈیوز۔سب تمہیں یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تمہیں کیا چاہیئے، کیا بننا چاہیئے،اور تمہاری قدر کہاں ہے۔یہ سب تمہاری خود آگاہی (self-identity) کو بدل دیتا ہے۔
آہستہ آہستہ تم اپنے اصل سے دور ہو جاتے ہو۔
درویش کہتے ہیں کان اگر غلاضت سنتا رہے تو دل بیمار ہو جاتا ہے۔دل اگر بیمار ہو جائے، تو انسان خود سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔”
صاحبو !تم جیسے ہو، ویسے اتفاقاً نہیں ہو۔تمہارے اندر کی ہر سوچ، ہر احساس،کسی اثر کا نتیجہ ہے۔مگر اب وقت آ گیا ہے کہ تم باخبر انسان بنو۔
صاحبو! دیکھو کہ کون تمہیں لکھ رہا ہے؟:
اور اب تم خود اپنے صفحے پر لکھنا شروع کرو۔اپنے ماں باپ کو سمجھو،مگر ان کے خوف کو مت دہراو۔اپنے ماحول کو پہچانو،مگر اپنی فضا خود بناؤ۔اپنی صحبت کو چُنو،اپنی آنکھ اور کان کے راستے کی حفاظت کرو۔کیونکہ جب تم جان لو گےکہ تمہیں کس نے بنایا،تب تم خود کو نیا بنانے کے قابل ہو جاؤ گے۔یہی خود شناسی ہے،یہی خود مختاری،اور یہی انسان کی اصل آزادی۔صاحبو ! جو جان لے کہ وہ کس کے اثر میں ہے وہ اپنے اثر سے دنیا بدل دیتا ہے۔