تالیف: شیخ الحدیث مولانا زبیر احمد صدیقی۔ صفحات:744۔ طباعت: عمدہ۔ ملنے کا پتا: مکتبہ رشیدیہ، جامعہ فاروقیہ شجاع آباد ضلع ملتان۔
رابطہ نمبر: 0322 6102570
0300 4396067
قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب ہے جو پوری انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور کامیابی کا سرچشمہ ہے۔ قرآن کریم کے معانی، اَحکام، مقاصد اور حکمتوں کو واضح کرنے کے علم کو ’’تفسیر‘‘ کہا جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنے قول، فعل اور عمل کے ذریعے قرآن کی تفسیر فرمائی، پھر صحابۂ کرامؓ، تابعین، تبع تابعین اور ہر دور کے علماء نے اس عظیم خدمت کو آگے بڑھایا۔ انہی علمی کاوشوں کی بدولت قرآن کا پیغام ہر دور کے انسان تک صحیح انداز میں پہنچتا رہا۔
قرآنِ مجید میں بہت سے اَحکام، واقعات، مثالیں اور اصول ایسے ہیں جنہیں صحیح طور پر سمجھنے کے لیے تفسیر کی ضرورت پیش آتی ہے۔ علماء نے قرآن کی لغوی، نحوی، فقہی، اعتقادی اور تاریخی جہات کو واضح کیا، آیات کے شانِ نزول بیان کیے اور مشکل مقامات کی تشریح کی۔ اس طرح قرآن کو سمجھنا عام مسلمانوں کے لیے آسان ہوگیا۔خوش نصیب ہیں وہ اہل علم جنہیں قرآن و حدیث کی ہمہ جہت خدمات کا موقع نصیب ہوجائے۔
تفسیر ’’کشف القرآن‘‘ حضرت مولانا زبیر احمد صدیقی دامت برکاتہم العالیہ کی تالیف ہے۔ حضرت مولانا زبیر احمد صدیقی زید مجدہم کی اب تک متعدد تالیفات وتصنیفات منظر عام پر آچکی ہیں۔ آپ کی تالیفات میں ندرت، تازگی اور علم کی خوشبو رَچی بسی ہوتی ہے۔ زیر نظر تفسیر کشف القرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری اَنگشت بدنداں رہ جاتا ہے کہ ایک ہی شخص ہے جو تدریس و اہتمام، رفاہی خدمات کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ متعدد جسمانی عوارض سے بھی نبرد آزما ہے، اس پر ایسی نادر تفسیر علماء و طلبہ کے لیے پیش کرنا کسی کرامت سے کم نہیں۔
آپ کا قرآن کریم کے ترجمہ وتفسیرکے ساتھ طویل مدت سے شغف ہے ، سال بھر تدریسی خدمت کے ساتھ رخصت کے ایام میں دورہ تفسیر قرآن کا اہتمام رہتا ہے ۔بیس سے زائد مرتبہ آپ دورہ تفسیر پڑھا چکے ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب تفسیر قرآن کی پہلی جلد ہے، جو سورہ فاتحہ تا سورۃ النساء پر محیط ہے۔ آغاز میں تقریبا ًتین سو صفحات پر پھیلا مقدمہ ’علوم القرآن‘ ہے، جو بجائے خود مستقل تصنیف ہے۔ اس مقدمہ میں خصوصیت کے ساتھ درج ذیل مباحث کو سمویا گیا ہے: اصول تفسیر و علم تفسیر، تفسیر کے لیے ضروری علوم، تفسیر قرآن میں کوتاہیاں اور ان کی وجوہات، کتابت و تدوین قرآن، قرآن کریم کے سات حروف اور قراء تیں، شان نزول، سورۃ کی تحقیق، تحقیق ِآیات، ترتیب السور والآیات، منزلوں، پاروں اور رکوعات کی تقسیم، وحی کی اَقسام، ضرورت قرآن، اعجازِ قرآن، اصطلاحات القرآن، قرآنی احکام کے بنیادی اصول، سلاسل سبعہ، اور کئی دیگر اہم، مفید اور لازمی موضوعات پر بالتفصیل بحث کی ہے۔مقدمہ کے بعد سورہ فاتحہ سے تفسیر کا آغاز ہوتا ہے۔ تفسیر میں درج ذیل امور کا بطور خاص اہتمام کیا گیا ہے۔
۱۔ ہر سورت کے آغاز میں سورت کا پس منظر، ترتیب، تعارف، سورت کے اسماء، وُجوہ تسمیہ، اور فضائل وغیرہ ذکر کیے گئے ہیں۔
۲۔ ترجمہ آیات حضرت اقدس مولانا عبدالمجید لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ کا لیا گیا ہے۔
۳۔ ترجمہ قرآن کریم کے اوپر کی سطر میں آیات کے مختلف جملوں اور کلمات کے مقاصد، اَغراض، تفسیری اشارے شامل ہیں۔
۴۔ رُکوعات قرآنیہ کا رکوع ِسابق سے ربط و تعلق بیان کیا گیا ہے۔ اکثر مقامات پر ایک سے زائد ربط بیان کیے گئےہیں۔ربط کی مذکورہ تقاریر عموماً حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے عربی رسالے ’’سبق الغایات فی نسق الآیات ‘‘،حضرت مولانا احمدعلی لاہوری رحمہ اللہ ،حضرت مولانا محمدعبداللہ بہلوی رحمہ اللہ ،حضرت مولانامحمدعبداللہ درخواستی رحمہ اللہ ،اور حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی تقاریر اور ان کیدرسی کاپیوں سے نقل کی گئی ہیں،جبکہ سورتوں کے ربط میں امام سیوطی رحمہ اللہ کے رسالے ’’اسرار ترتیب القرآن ‘‘ سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔
۵۔ ہر رکوع کے مضامین کا خلاصہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
انداز و اسلوب ایسا ہے کہ کہیں بھی طویل طویل بحثیں نہیں، نہ طویل قصے بیان کیے گئے ہیں بلکہ اکابرکے خالص علمی تفسیری خلاصہ جات کو اس طرح آسان اور عام فہم انداز میں پیش کیا گیاہے کہ قاری کے دِل و دِماغ کو بہت کم الفاظ کے ساتھ اطمینان سے بھر دیتے ہیں۔
تفسیر ’’کشف القرآن‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری کو بہت گہرا احساس ہوتا ہے کہ تفسیرِ آیات میں اکابر کے علوم قرآنیہ کو اس طرح پیش کیا گیا ہے جیسے کوئی مہربان ماں پُر ذائقہ سالن کے ساتھ دیسی گھی میں گُندھے لقمے اپنے بچے کو کھلارہی ہو۔چناں چہ آپ اس تفسیر میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی، امام ِاہل سنت حضرت مولاناسرفراز خان صفدر،تلمیذِ شیخ الہند حضرت مولانا محمد عبداللہ بہلوی، شیخ القرآن مولاناغلام اللہ خان،امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری ،حکیم العصر مولانا عبدالمجید لدھیانوی قدس اللہ اسرارہم کے تفسیری نکات و معارف کے ذائقے جابجا پائیں گے ۔
تفسیر کے آغاز میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ اور شیخ حرم مکی مولانا محمدخیرمحمدمکی الحجازی زید شرفہم کی قیمتی تقریظات بھی شامل ہیں ۔
تفسیر’’کشف القرآن‘‘ باطنی خوبیوں کے ساتھ ساتھ ظاہری محاسن سے بھی آراستہ ہے ۔مضبوط جلد ،قیمتی درآمدی کاغذ پر دورنگا طباعت ، حسن ترتیب کا مرقع ہے ۔شنید ہے کہ مزید پانچ جلدیں تیار ہیں ،اور طباعت کے مراحل میں ہیں ۔
بلاشبہ حضرت مولانا زبیراحمدصدیقی صاحب زید مجدہم نےاکابر کے قرآنی علوم و معارف کو پہلے اپنے اندر جذب کیا ،پھر اہل علم کے سامنے خوانِ نعمت کے طور پر پیش کیا ہے۔ تفسیر ’’کشف القرآن‘‘ علماء دیو بند کی نمائندہ تفسیرات میں گراں قدر اضافہ ہے۔اس تفسیر سے علماء و طلبہ اور عامۃ المسلمین برابر استفادہ کرسکتے ہیں لیکن اس کی صحیح قدر دانی وہ اہل علم کرپائیں گے جو براہ راست ترجمہ و تفسیر قرآن کے اسباق سےمنسلک ہیں ۔