(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانالطیف الرحمن لطف

مولانالطیف الرحمن لطف

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
مولانا افتخار احمد اعظمیؒ کی یاد میں
اد کرکے روئیں گے یاران میخانہ مجھے :
درجۂ سابعہ میں مشکاة المصابیح کا درس جاری تھا۔ “کتابُ الرقاق” کی احادیث دلوں پر عجب رقت طاری کیے ہوئے تھیں۔ ایک سفید ریش، باوقار عالمِ دین نہایت اثر انگیز انداز میں دنیا کی بے ثباتی بیان فرما رہے تھے۔ اچانک ان کی گفتگو تھم گئی۔ لب جنبش میں تھے مگر آواز رندھ چکی تھی۔ کچھ کہنا چاہتے تھے، مگر جذبات کی شدت نے الفاظ کو سسکیوں میں بدل دیا تھا۔ مجلس پر ایک سکوت طاری ہو گیا۔

چند لمحوں بعد انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اشکبار آنکھوں، نورانی چہرے اور ریشم جیسی سفید داڑھی کو پونچھا، اور بھرائی ہوئی آواز میں گویا ہوئے:

“بھائی! سچ تو یہ ہے کہ ان احادیث کو پڑھاتے ہوئے شرم سی محسوس ہو رہی ہے۔ کہاں نبیِ مکرم اور ان کے تربیت یافتہ صحابۂ کرامؓ کی مبارک زندگیاں،کہ جہاں دنیا کی محبت کا گزر تک نہ تھااور کہاں ہماری زندگیاں، جو چوبیس گھنٹے دنیا طلبی اور آسائشوں کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں۔

اور اس سے بھی بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے علماء اور پیرانِ طریقت بھی اسی دنیا کی محبت میں بری طرح گرفتار دکھائی دیتے ہیں، جسے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر برائی کی جڑ قرار دیا ہے۔

ستم بالائے ستم! زیادہ سے زیادہ مال و زر جمع کرنے کی اس دوڑ کو خوشنما عنوانات دے دیے گئے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ دنیا کی محبت تو دل میں ہوتی ہے، دل سے باہر اگر مال و متاع کے انبار بھی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔لیکن عرض یہ ہے کہ اگر واقعی دل دنیا کی محبت سے خالی ہے، تو پھر ہر وقت اسی کا ذکر کیوں؟ اسے حاصل کرنے کے لیے ہر طرح کے داؤ پیچ کیوں؟ اور اس کی نمائش میں یہ مقابلہ بازی کیوں؟”

یہ سونے کے پانی سے لکھے جانے کے قابل الفاظ مولانا افتخار احمد اعظمی رحمہ اللہ کے تھے۔

مولانا اعظمی سے ہمیں درجۂ سادسہ میں توضیح و تلویح اور الفلکیات الجدیدہ ،درجۂ سابعہ میں مشکاة المصابیح اور دورۂ حدیث میں طحاوی شریف پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ ان کا اندازِ تدریس جامع بھی تھا اور مانع بھی؛ وہ کم الفاظ میں کثیر معانی سمو دیتے تھے۔ ذہین منتہی طلبہ اسی اسلوب تدریس کو پسند کرتے ہیں۔

جامعہ کے طلبہ میں استاد محترم بہت ہی ہر دل عزیز تھے ان کے تلامذہ ان سے ٹوٹ کر محبت کرتے تھے، اگرچہ ان کی شخصیت میں ایک طرح کا رعب اور سنجیدگی نمایاں تھے۔ سرسری نظر ڈالنے والا شاید انہیں محض جلالی طبیعت کا حامل سمجھے، مگر جو لوگ ان کے قریب رہتے وہ ان کی شفقت، محبت اور خلوص کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتے تھے۔

جامعہ کے بڑے درجات کے طلبہ جب بھی کراچی سے باہر سیروتفریح کے لیے جاتے تو پوری کوشش کرتے کہ استادِ محترم بھی ہمراہ ہوں، کیونکہ ان کی موجودگی ایسے ایونٹس کے لطف کو دوچند کر دیتی تھی، وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ بے تکلفی سے محفل جماتے ،گپ شپ لگاتے ، سوئمنگ کرتے ، فٹ بال کھیلتے اور ایک استاد کے بجائے کسی بے تکلف دوست کی طرح وقت گزارتے

استادِ محترم سے میرے خصوصی تعلق کی ایک اور وجہ بھی تھی ،میرا نکاح بھی انہوں نے پڑھایا تھا ۔

درجۂ سابعہ ہی کے زمانے میں میں رشتۂ ازدواج سے منسلک ہو گیا تھا۔ حضرت استاد محترم کبھی کبھار درس کے دوران لطیف مزاح بھی فرمایا کرتے تھے، چنانچہ ایک مرتبہ مسکراتے ہوئے فرمایا:"نئی شادی والے سو رہے ہیں، آہستہ بولو۔"

یہ جملہ بظاہر ایک ہلکی سی شوخی تھی، مگر اس میں ان کی شفقت اور طلبہ سے قلبی تعلق کی جھلک صاف محسوس ہوتی تھی۔

میرے سسرِ محترم قاری حبیب اللہ چترالی صاحب کو حضرتِ استاذِ محترم سے نہایت گہری محبت اور والہانہ عقیدت تھی۔ وہ جن بزرگوں کا کثرت سے تذکرہ کیا کرتے ہیں، ان میں ایک نمایاں نام مولانا افتخار احمد اعظمی رحمہ اللہ کا بھی ہے۔ یہ دونوں حضرات حضرت مولانا سحبان محمود صاحب رحمہ اللہ کے حلقۂ ارادت سے وابستہ تھے، اور اسی نسبت نے مولانا اعظمی کو قاری صاحب سے خاص انس و محبت عطا کی تھی۔

سنہ 1996ء میں جب قاری صاحب نے اپنے آبائی علاقے چترال میں ایک مسجد اور مدرسے کے قیام کا ارادہ کیا، تو جامعہ کے جن معزز اساتذہ کرام کو سنگ بنیاد رکھنے کے لئے سفرِ چترال پر آمادہ کیا، ان میں مولانا اعظمی رحمہ اللہ بھی شامل تھے۔ مولانا مرحوم چترال اور اہلِ چترال کا نہایت محبت کے ساتھ ذکر فرمایا کرتے تھے، اور ان کی سادگی اور خلوص کے جذبے کو بے حد سراہتے تھے۔

مولانا افتخار اعظمی رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ نے جہاں علم کی گہرائی عطا فرمائی، وہیں غیر معمولی قوتِ گویائی سے بھی نوازا تھا۔ آپ موقع و محل کی مناسبت سے مؤثر اور دلنشین گفتگو کی صلاحیت سے بہرہ مند تھے ۔ انتظامی امور میں بھی آپ کو غیر معمولی ملکہ حاصل تھا۔ آپ ان نابغۂ روزگار شخصیات میں سے تھے جو معمولی وسائل کو غیر معمولی نتائج میں بدل دینے کا ہنر جانتے ہیں۔

آپ جس ادارے سے بھی وابستہ ہوئے، اپنی انتھک محنت، اخلاص اور حسنِ تدبیر کے ذریعے اسے عروج کی منازل تک پہنچایا۔ جامعہ دارالعلوم کراچی میں بھی آپ کی انتظامی صلاحیتیں نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔ خواہ جامعہ کا مطبخ ہو، دارالقرآن کا نظم، اجتماعی قربانی کا انتظام و انصرام ہو یا دیگر ذمہ داریاں ، ہر مرحلے میں آپ کی اعلیٰ انتظامی مہارت اور خداداد صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں اور اپنا لوہا منوا گئیں ۔آپ کی انہی نمایاں خوبیوں نے آپ کو حضرت مفتی رفیع عثمانی رحمہ اللہ اور شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ کا معتمد خاص اور دستِ راست بنا دیا تھا۔ جامعہ کے در و دیوار آج بھی اس مردِ قلندر کے اخلاص، للہیت اور بے لوث خدمت کی گواہی دیتے ہیں اور یہاں کا ذرہ ذرہ ان کی کمی کو محسوس کرتا ہے ؎

​ اک قیامت ڈھائے گا دنیا سے اُٹھ جانامیرا

یاد کر کے روئیں گے یارانِ میخانہ مجھے

کالم نگار : مولانالطیف الرحمن لطف
| | |
29