(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی سفیان بلند

مفتی سفیان بلند

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
سید سلمان حسینی ندوی . علمی خدمات، فکری انحراف
سید سلمان حسینی ندوی مرحوم برصغیر کے ایک معروف علمی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے اپنی زندگی کے ایک طویل عرصہ میں تدریس، تصنیف، خطابت اور دعوت کے میدان میں قابلِ ذکر خدمات انجام دیں، ان کی خطابت میں تاثیر، زبان میں شگفتگی، اسلوب میں دلکشی اور عالمی حالات پر گفتگو کا منفرد انداز انہیں اپنے دور کے ممتاز مقررین میں شمار کراتا تھا، بہت سے اہلِ علم اور طلبہ دین نے ان سے علمی استفادہ کیا، اور ایک زمانہ تھا جب ان کا نام علمی حلقوں میں احترام سے لیا جاتا تھا۔

تاہم اہلِ علم کی اصل پہچان صرف ان کی علمی صلاحیت سے نہیں ہے بلکہ ان کا زاویہ نظر، فکری منہج اور دینی عقیدہ بھی راست اور صحیح ہونا چاہیئے، افسوس کہ اپنی زندگی کے آخری دور میں سید سلمان ندوی مرحوم نے مشاجراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باب میں ایسے افکار اور ایسی تعبیرات اختیار کیں جنہیں اہلِ سنت والجماعت نے کبھی قبول نہیں کیا، خصوصاً بعض جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالخصوص سیدنا حضرت معاویہ اور سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنهما کے بارے میں ان کی گفتگو نے اہلِ سنت والجماعت کے حلقوں میں شدید اضطراب پیدا کیا، کیونکہ یہ طرزِ بیان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمومی احترام اور اہلِ سنت والجماعت کے متوارث اصولوں سے ہم آہنگ نہیں تھا۔

یہ بات بطور سند رہے کہ اہل سنت و الجماعت کا صحابہ کرام (بشمول ازواج مطہرات و اولاد و اسباط نبوی جن کو اہل بیت کہا جاتا ہے) رضوان اللہ علیہم اجمعین سے تعلق محض جذبات کا نہیں ہے بلکہ ایمان و عقیدہ کا تعلق ہے، تمام صحابہ علیہم الرضوان ہمارے لئے قابلِ احترام، لائقِ اقتداء اور معیارِ حق ہیں، ان میں سے کسی ایک کی شان میں بھی معمولی بے ادبی یا ادنی گستاخی اہلِ سنت والجماعت کے عقیدہ و منہج سے متصادم ہے۔ اسی لئے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ مولانا سید سلمان ندوی مرحوم کے آخری دور کے افکار، تعبیرات اور منہج کی ہم تائید نہیں کرتے، نہ انہیں اہلِ سنت والجماعت کے نمائندہ افکار سمجھتے ہیں، ان کی جن آراء میں مقامِ صحابیت کے خلاف تجاوز پایا جاتا ہے، ان سے ہمارا واضح، دوٹوک اور اصولی اختلاف ہے، اور ان کی نسبت اہلِ سنت والجماعت کے مسلک کی طرف کرنا درست نہیں ہے۔ (تاکہ آئندہ کوئی کسی پوڈ کاسٹ یا انٹرویو میں اس کو بطورِ حوالہ پیش نہ کرے)

اس کے ساتھ یہ بھی مسلمہ ادب ہے کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا جائے، نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:لا تَسُبُّوا الأمْواتَ، فإنَّهُمْ قدْ أفْضَوْا إلى ما قَدَّمُوا (البخاري : ٦٥١٦)

لہٰذا ہم ان کی ذات کے بارے میں بد زبانی یا طعن و تشنیع کا راستہ اختیار نہیں کرتے، بلکہ ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر چھوڑتے ہیں، البتہ ان کے ان افکار و نظریات کی علمی تردید کو ضروری سمجھتے ہیں جو اہلِ سنت کے مسلمہ عقائد اور مقامِ صحابیت کے خلاف ہیں، تاکہ عوام الناس کسی فکری مغالطے کا شکار نہ ہوں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سچی محبت، ان کے ادب اور اہلِ سنت والجماعت کے معتدل و متوارث منہج پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین!

کالم نگار : مفتی سفیان بلند
| | |
42