(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
بیٹی: تعلیم، تربیت اور کردار کی اہمیت
بیٹی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت، گھر کی زینت اور آنے والی نسلوں کی معمار ہوتی ہے۔ اس کی شخصیت میں جو اوصاف پروان چڑھتے ہیں، ان کے اثرات صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خاندان اور معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے ایک بیٹی کی بہترین تعلیم و تربیت درحقیقت ایک صالح، باوقار اور مستحکم معاشرے کی بنیاد ہے۔

تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے:
اپنی بیٹی کو اعلیٰ اور جدید تعلیم ضرور دلوائیے، تاکہ وہ علم، شعور، اعتماد اور صلاحیت کے ساتھ زندگی کے ہر میدان میں کامیاب ہو سکے۔ لیکن اس کے ساتھ دین، اخلاق، حیا، حسنِ معاشرت، سلیقۂ زندگی اور گھریلو نظم و نسق کی تعلیم بھی دیجیے۔ تعلیم انسان کو باصلاحیت بناتی ہے، جبکہ تربیت اسے باکردار بناتی ہے، اور یہی دونوں مل کر ایک متوازن شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔

محبت، اعتماد اور عزتِ نفس:
بیٹی کے احساسات، جذبات اور عزتِ نفس کا احترام کیجیے۔ اس کی بات توجہ سے سنیے، اس کی حوصلہ افزائی کیجیے اور محبت و شفقت سے اس کی شخصیت سنواریے۔ یاد رکھیے! جس دل کو محبت ملتی ہے، وہ اعتماد سے بھر جاتا ہے، اور جس شخصیت کی تربیت درست ہو، اس کا کردار مضبوط ہو جاتا ہے۔

اصل خوب صورتی کردار میں ہے:
اسے یہ شعور دیجیے کہ حقیقی حسن چہرے، لباس یا زیورات میں نہیں بلکہ ایمان، علم، حیا، خدمت، دیانت اور حسنِ اخلاق میں ہے۔ یہی وہ صفات ہیں جو انسان کو دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی عطا کرتی ہیں۔

زندگی کی عملی مہارتیں سکھائیے:
بچپن ہی سے اسے گھریلو نظم و نسق، صفائی، مہمان نوازی، کھانا پکانے، مالی نظم، وقت کی پابندی اور ذمہ داری نبھانے کی تربیت دیجیے۔ یہ مہارتیں اسے خوداعتماد، خودکفیل اور ہر حال میں باوقار زندگی گزارنے کے قابل بنائیں گی۔

خود انحصاری کا مزاج پیدا کیجیے:
گھریلو معاونین پر غیر ضروری انحصار کی عادت نہ ڈالیے۔ مجبوری، بیماری یا ضرورت کے وقت مدد لینا درست ہے، لیکن ہر کام دوسروں کے سپرد کر دینا عملی صلاحیتوں اور احساسِ ذمہ داری کو کمزور کر دیتا ہے۔

گھر محبت اور تعاون سے بنتا ہے:
بیٹی کو یہ شعور دیجیے کہ خوشحال گھر صرف محبت سے نہیں بلکہ صبر، ایثار، باہمی احترام، تعاون اور ذمہ داریوں کی حسنِ ادائیگی سے آباد ہوتے ہیں۔ اسلام نے مرد و عورت دونوں کو ان کے دائرۂ کار میں ذمہ دار بنایا ہے، اور مضبوط خاندان اسی وقت وجود میں آتے ہیں جب دونوں اپنے فرائض اخلاص کے ساتھ ادا کریں۔

حضرت فاطمہ الزہراءؓ بہترین نمونہ:
اپنی بیٹی کو حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی سیرت سے ضرور روشناس کرائیے۔ آپ رضی اللہ عنہا بلند ترین مقام و مرتبہ رکھنے کے باوجود سادگی، عبادت، صبر، قناعت، خدمت اور گھریلو ذمہ داریوں کی بہترین مثال تھیں۔ ان کی سیرت ہر مسلمان بیٹی کے لیے رہنمائی کا روشن مینار ہے۔

ماں صرف اولاد نہیں، نسلیں تیار کرتی ہے:
بیٹی کو یہ حقیقت بھی سمجھائیے کہ ماں صرف بچوں کو جنم نہیں دیتی بلکہ ان کے کردار، فکر اور شخصیت کی معمار بھی ہوتی ہے۔ اسی کی آغوش میں کل کے علماء، قائدین، مصلحین، معلمین اور صالح انسان پروان چڑھتے ہیں۔ اس لیے ایک باعلم، باکردار اور باشعور ماں پوری قوم کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

مثالی بیٹی کی پہچان:
ایسی بیٹی کی تربیت کیجیے جو ایمان و تقویٰ سے مزین، علم و اخلاق سے آراستہ، حیا و وقار کی پیکر، خوددار، ذمہ دار اور خدمت گزار ہو۔ وہ اپنے والدین کے لیے باعثِ فخر، اپنے شوہر کی مخلص رفیقِ حیات، اپنی اولاد کی بہترین مربیہ اور معاشرے کے لیے خیر و بھلائی کا سرچشمہ بنے۔

خلاصہ یہ کہ بیٹی کو صرف ڈگری نہ دیجیے، بلکہ ایسا کردار دیجیے جو اس کی شناخت بن جائے؛ کیونکہ ڈگری روزگار دے سکتی ہے، لیکن کردار عزت بخشتا ہے، تربیت خاندان سنوارتی ہے، اور ایک صالح بیٹی پوری نسل کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
21