(+92) 319 4080233
کالم نگار

توصیف اکرم نیازی

توصیف اکرم نیازی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
تربیتِ اولاد کے پانچ اہم لمحات
تربیتِ اولاد صرف یہ نہیں کہ بچے کو اچھا اور برا سکھا دیا جائے، بلکہ یہ ایک ایسا مسلسل، گہرا اور جذباتی عمل ہے جس میں والدین ہر روز اپنے ہی رویوں، ردعمل اور جذبات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ دراصل ایک ایسی ذمہ داری ہے جو بچے سے زیادہ والدین کے شعور کو جگاتی ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ بچہ صرف ہمارے الفاظ سے نہیں بنتا، بلکہ ہمارے لہجے، ہمارے وقت اور ہمارے ردعمل سے بنتا ہے۔ اسی لیے تربیت دراصل بچے کی نہیں بلکہ والدین کی اپنی Self-Awareness کا سفر بن جاتی ہے۔

اور جب انسان اس حقیقت کو واقعی سمجھ لیتا ہے تو ایک اور گہرا زاویہ سامنے آتا ہے۔ زندگی میں ہمیں ہر چیز پر اختیار نہیں ہوتا، نہ ہم یہ کنٹرول کر سکتے ہیں کہ بچہ کب غلطی کرے گا یا کیسے ردعمل دے گا۔ مگر ایک چیز ہمیشہ ہمارے اختیار میں رہتی ہے، اور وہ ہے ہمارا اپنا ردعمل۔ ہم اس لمحے میں کیسے جواب دیتے ہیں، یہی اصل فیصلہ کن چیز ہے۔ اور یہی وہ فرق ہے جو ایک عام والدین اور ایک باشعور والدین کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔ باشعور والدین ہر صورتحال میں فوراً جج بننے کے بجائے لمحہ بھر کے لیے رکتے ہیں، صورت حال کو سمجھتے ہیں، اور پھر رہنمائی کرتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ردعمل ہی اصل تربیت ہے۔

یہاں ایک بنیادی حقیقت بار بار سمجھنے والی ہے کہ بچہ صرف ہمارے الفاظ سے نہیں بنتا، بلکہ ہمارے ردعمل، ہمارے لہجے اور ہمارے وقت سے بنتا ہے۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں تربیت محض معلومات نہیں رہتی، بلکہ شعور اور فہم کا حصہ بن جاتی ہے۔

اس بارے میں جدید نفسیات اور نیورو سائنس کا بھی یہ کہنا ہے کہ بچے کا دماغ کوئی مکمل تیار شدہ نظام نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک مسلسل بڑھتا ہوا اور حساس نظام ہے جو ہر تجربے کے ساتھ اپنی ساخت بدلتا رہتا ہے۔ اس کے اندر جذباتی مرکز Amygdala بہت تیز اور فعال ہوتا ہے، جبکہ سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے والا حصہ Prefrontal Cortex ابھی مکمل طور پر پختہ نہیں ہوتا۔ اسی لیے ہم اکثر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ فوراً ٹوک دینا ہی درست تربیت ہے، حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ تربیت میں “کیا کہنا ہے” سے زیادہ اہم “کب اور کیسے کہنا ہے” ہوتا ہے۔

جب وقت درست نہ ہو تو اصلاح اصلاح نہیں رہتی، بلکہ ایک جذباتی دباؤ بن جاتی ہے جو بچے کو بہتر بنانے کے بجائے اسے اندر سے غیر محفوظ کر دیتی ہے۔

اسی فکری بنیاد پر اب آئیے ان پانچ انتہائی اہم اور حساس لمحات کو سمجھتے ہیں جہاں اصلاح یا ڈانٹ بچے کے دماغ اور دل دونوں پر الٹا اثر ڈال سکتی ہے۔ ان لمحات میں خاموشی، نرمی اور صبر نہ صرف بچے کو محفوظ رکھتے ہیں بلکہ تعلق کو بھی مضبوط بناتے ہیں، اور وقت کے ساتھ اعتماد کی ایک گہری بنیاد رکھتے ہیں۔

1.صبح اٹھنے کے فوراً بعددن کی بنیاد رکھنے کا وقت:
نیند سے جاگنا صرف آنکھیں کھولنے کا عمل نہیں ہوتا، بلکہ یہ دماغ کے لیے ایک مکمل منتقلی Transitional Phaseہوتا ہے۔ اس وقت دماغ Theta Waves سے نکل کر بیداری کی حالت میں آ رہا ہوتا ہے، اور بچے کا Neural System ابھی مکمل طور پر متوازن نہیں ہوتا۔ اسی لمحے بچہ ایک نرم اور غیر مستحکم ذہنی کیفیت میں ہوتا ہے جہاں اس کا جذباتی توازن ابھی مکمل طور پر قائم نہیں ہوا ہوتا۔

اگر دن کی پہلی آواز ڈانٹ، تنقید یا شکایت ہو تو دماغ اسے خطرے Threat کے طور پر لیتا ہے، اور فوراً دفاعی نظام فعال ہو جاتا ہے۔ جسم میں Cortisol بڑھتا ہے اور بچہ سیکھنے کے بجائے بچاؤ کے موڈ میں چلا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اعتماد پیدا نہیں ہوتا بلکہ اندرونی مزاحمت بڑھتی ہے۔

اسی لیے اس لمحے کی اصل ضرورت یہ ہے کہ دن کی بنیاد سکون، اپنائیت اور نرم تعلق پر رکھی جائے۔ ایک مسکراہٹ، ایک پرسکون آواز یا ایک نرم لمس بچے کے پورے دن کے ذہنی معیار کو بدل سکتا ہے۔ کیونکہ دن جس بنیاد پر شروع ہوتا ہے، اکثر وہی بنیاد پورے دن کی کیفیت طے کرتی ہے۔

2.صبح سکول یا کسی کلاس کے لیے جانے سے پہلے :
جب بچہ گھر سے باہر جانے کی تیاری کر رہا ہوتا ہے تو وہ صرف جسمانی طور پر تیار نہیں ہوتا، بلکہ ذہنی طور پر ایک مکمل سماجی ماحول کا سامنا کرنے کی تیاری میں ہوتا ہے۔ اس کے ذہن میں اساتذہ، دوست، کارکردگی اور ممکنہ دباؤ پہلے ہی موجود ہوتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جسے نفسیات میں Anticipatory Stress کہا جاتا ہے۔

اس کیفیت میں دماغ کی Working Memory پہلے ہی بھر چکی ہوتی ہے، اور Prefrontal Cortex پر اضافی دباؤ ڈالنے سے اس کی کارکردگی مزید کم ہو جاتی ہے۔ اگر ہم اسی لمحے اصلاح یا تنقید شامل کر دیں تو بچہ اسے رہنمائی کے بجائے ایک اضافی ذہنی بوجھ کے طور پر محسوس کرتا ہے۔

اس لیے اس لمحے میں درست رویہ یہ ہے کہ بچے کو ذہنی دباؤ نہیں بلکہ ذہنی طاقت دی جائے۔ اسے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ قابل ہے، اہم ہے، اور اکیلا نہیں ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں ایک سادہ سا مثبت جملہ بھی اس کے اندر اعتماد کا ایک مضبوط ستون کھڑا کر سکتا ہے۔ کیونکہ باہر کی دنیا کا مقابلہ وہی بچہ بہتر کر سکتا ہے جسے گھر سے یقین ملا ہو، شک نہیں۔

3.باہر سے گھر واپس آنے کے وقت :
دن بھر باہر رہنے کے بعد بچہ صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی طور پر بھی تھک چکا ہوتا ہے۔ اس کا اعصابی نظام معلومات، تجربات اور رویوں کی کثرت سے بوجھل ہو جاتا ہے، جسے Cognitive Depletion کہا جاتا ہے۔ اس وقت دماغ آرام اور توازن کی طرف جانا چاہتا ہے۔

گھر اس کے لیے ایک سیف زون ہوتا ہے، جہاں وہ اپنے دفاعی رویے اتار کر دوبارہ خود کو اندر سے متوازن کرنا چاہتا ہے۔ اگر ہم اسی لمحے میں فوراً سوالات، تنقید یا اصلاح شروع کر دیں تو بچہ اپنے اندر بند ہو جاتا ہے۔ وہ کم بولتا ہے، کم شیئر کرتا ہے، اور آہستہ آہستہ جذباتی فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں۔

اسی لیے اس وقت سب سے اہم چیز “وقت دینا” ہے۔ اسے خاموشی سے گھر میں آنے دیں، آرام کرنے دیں، اور اپنے اعصابی نظام کو بحال کرنے دیں۔ جب اس کا ذہن پرسکون ہو جائے گا تو وہ خود آپ کے پاس آ کر اپنے دن کی باتیں شیئر کرے گا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں بچہ یہ سیکھتا ہے کہ گھر ایک محفوظ جگہ ہے، نہ کہ ایک سوالنامہ۔

4.رونے،ضد کرنے یا جذباتی کیفیت کے وقت :
جب بچہ روتا ہے یا شدید جذبات میں ہوتا ہے تو اس کے دماغ میں Amygdala ایکٹو ہو جاتا ہے، جبکہ Prefrontal cortexT عارضی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت وہ منطقی بات سمجھنے کے قابل نہیں ہوتا بلکہ صرف جذباتی ردعمل میں ہوتا ہے۔

یہ کیفیت ایسے ہوتی ہے جیسے دماغ ایک طوفان میں ہو جہاں کچھ بھی واضح نظر نہیں آتا۔ ایسے وقت میں دلیل، نصیحت یا ڈانٹ اکثر اثر کرنے کے بجائے صورتحال کو مزید بگاڑ دیتی ہے۔

اس لمحے میں سب سے مؤثر عمل co-regulation ہوتا ہے، یعنی بچے کے اعصابی نظام کو اپنے پرسکون رویے کے ذریعے متوازن کرنا۔ ایک خاموش موجودگی، ایک نرم آواز یا ایک محفوظ لمس بچے کے اندرونی طوفان کو آہستہ آہستہ کم کرتا ہے۔ جب جذبات کی لہر گزر جائے اور ذہن دوبارہ کھل جائے تو پھر بات کی جا سکتی ہے، کیونکہ سیکھنا صرف سکون کے بعد ممکن ہوتا ہے۔

یہ وہ لمحہ ہے جو بچے کو یہ سکھاتا ہے کہ جذبات خطرناک نہیں ہوتے، اور انہیں سنبھالا جا سکتا ہے۔

5.رات کو سونے سے پہلے کے وقت :
نیند کے دوران دماغ دن بھر کے تجربات کو ترتیب دیتا ہے اور انہیں Long-term Memory میں محفوظ کرتا ہے، جسے Memory Consolidation کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں سب سے زیادہ اثر آخری جذبات کا ہوتا ہے جو بچہ سونے سے پہلے محسوس کرتا ہے۔

اگر اس وقت بچے کے ذہن میں خوف، شرمندگی یا ناکامی کا احساس ہو تو یہ جذبات گہرائی میں محفوظ ہو سکتے ہیں اور اس کی Self-image کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ لمحہ انتہائی حساس ہوتا ہے۔

رات کا وقت اصل میں تربیت کا نہیں بلکہ Emotional Closure کا وقت ہونا چاہیے۔ چاہے دن میں کتنی ہی غلطیاں کیوں نہ ہوئی ہوں، رات کو تعلق، معافی اور محبت کے احساس کے ساتھ دن کا اختتام ہونا چاہیے۔ یہ بچے کے Nervous System کو سکون دیتا ہے، اور اس کی نیند اور اگلے دن دونوں کو بہتر بناتا ہے۔

اور سب سے اہم بات یاد رکھیں کہ اولاد کی تربیت تربیت دراصل سخت اصولوں کو نافذ کرنے کا نام نہیں، بلکہ انسانی ذہن کی فطرت کو سمجھ کر ان اصولوں کو شعور کے ساتھ استعمال کرنے کا فن ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جہاں والدین کو مسلسل اپنے اندر جھانکنا پڑتا ہے، اپنے ردعمل کو دیکھنا پڑتا ہے، اور اپنے صبر کو بہتر بنانا پڑتا ہے۔

بچہ وقت کے ساتھ آپ کی باتیں بھول سکتا ہے، مگر وہ یہ کبھی نہیں بھولتا کہ آپ کے ساتھ اسے کیسا محسوس ہوا۔ یہی احساس اس کی شخصیت کی بنیاد بنتا ہے، اس کی خوداعتمادی کو شکل دیتا ہے، اور اس کے دنیا کو دیکھنے کے انداز کو تشکیل دیتا ہے۔

اور اگر ہم صرف ایک لمحہ رک کر، تھوڑا سا زیادہ شعور کے ساتھ بات کریں تو ہم صرف ایک بہتر بچہ نہیں بنا رہے ہوتے… بلکہ ایک زیادہ محفوظ، زیادہ متوازن اور زیادہ باشعور انسان کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں اور یہی اصل تربیت ہے۔

کالم نگار : توصیف اکرم نیازی
| | |
22