(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
منتہا،انتہانہیں ہے
دوسری جماعت میں زیرِ تعلیم معصوم بچی منتہا چند روز قبل اپنے گھر سے قریبی دکان پر کھانے پینے کی کوئی چیز لینے کے لیے نکلی تھی، مگر اسے کیا معلوم تھا کہ یہ چند قدم کا سفر اس کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوگا۔ اہلِ خانہ کے مطابق بچی دکان تک پہنچی، لیکن واپس نہ لوٹی۔ پریشان والدین نے تلاش شروع کی تو کچھ ہی دیر بعد دکان کے اوپر واقع ایک کمرے سے اس کی بے جان لاش برآمد ہوئی۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی اور ہر زبان پر ایک ہی سوال تھا کہ آخر ایک معصوم بچی کا قصور کیا تھا؟

پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، متعدد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور مرکزی ملزم کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ بعد ازاں پولیس نے دعویٰ کیا کہ مرکزی ملزم ایک مقابلے کے دوران ہلاک ہو گیا ہے۔ بلاشبہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور عدالتی و تفتیشی مراحل اپنی تکمیل تک پہنچیں گے، لیکن منتہیٰ کی المناک موت نے ایک بار پھر پورے معاشرے کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر ہماری معصوم بچیاں کب تک درندگی اور ہوس کا نشانہ بنتی رہیں گی؟ کیا صرف مجرموں کو گرفتار کرنا یا انہیں انجام تک پہنچا دینا ایسے واقعات کا مستقل حل ہے، یا ہمیں ان اسباب کا بھی جائزہ لینا ہوگا جو ایسے جرائم کی راہ ہموار کرتے ہیں؟

کسی بھی معاشرے کی اخلاقی صحت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں حیا، عفت اور انسانی جان و عزت کے احترام کو کس قدر اہمیت دی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی نے بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں، لیکن اسی کے ساتھ فحاشی، عریانی اور اخلاقی آلودگی کے دروازے بھی پہلے سے کہیں زیادہ کھل گئے ہیں۔ آج موبائل فون تقریباً ہر ہاتھ میں ہے اور انٹرنیٹ ہر گھر تک پہنچ چکا ہے۔ اس سہولت کے بے شمار مثبت پہلو ہیں، مگر اس کا تاریک رخ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔

سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر فحش مواد تک رسائی اس قدر آسان ہو چکی ہے کہ کم عمر بچے اور نوجوان بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے۔ بعض پلیٹ فارمز پر نہ صرف عریاں مواد موجود ہے بلکہ باقاعدہ اشتہارات کے ذریعے صارفین کو مزید ایسے مواد کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال محض ایک اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور نفسیاتی بحران بھی ہے۔

تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ فحش اور بالخصوص پُرتشدد جنسی مواد کی مسلسل نمائش بعض افراد کے ذہنی رویوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایسے مواد سے بعض لوگوں میں خواتین اور بچوں کے بارے میں غیر صحت مند تصورات جنم لیتے ہیں، جبکہ بعض افراد میں جارحانہ اور استحصالی رویوں کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اگر اس کے ساتھ اخلاقی تربیت کی کمی، دینی شعور کا فقدان اور قانون کے خوف کا نہ ہونا بھی شامل ہو جائے تو نتائج مزید خطرناک ہو سکتے ہیں۔

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر جرم کی واحد وجہ فحش مواد ہے، کیونکہ جرائم کے پیچھے نفسیاتی، سماجی، معاشی اور خاندانی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ فحاشی کا بے لگام فروغ معاشرتی بگاڑ میں اضافے کا ایک اہم سبب بن رہا ہے۔ اسی لیے دنیا کے مختلف ممالک اس مسئلے کو صرف اخلاقی نہیں بلکہ سماجی تحفظ کے مسئلے کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ جب بھی کوئی سانحہ پیش آتا ہے تو چند دن تک غم و غصے کی لہر اٹھتی ہے، سوشل میڈیا پر سخت سزاؤں کے مطالبات ہوتے ہیں، احتجاج کیے جاتے ہیں، لیکن پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ مجرموں کو سزا مل جانا یقیناً ضروری ہے، مگر اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ جرائم کے اسباب کا خاتمہ کیا جائے۔ اگر بیماری کی جڑ باقی رہے تو نئے مریض پیدا ہوتے رہتے ہیں۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ فحش ویب سائٹس، غیر اخلاقی آن لائن مواد اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے والے ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اور مستقل بنیادوں پر اقدامات کریں۔ سائبر قوانین کو مزید مضبوط بنایا جائے، آن لائن نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور بچوں کو نقصان دہ مواد سے بچانے کے لیے جدید تکنیکی ذرائع استعمال کیے جائیں۔ ساتھ ہی والدین کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ بچوں کے ہاتھ میں مہنگا موبائل تھما دینا کافی نہیں، بلکہ ان کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔

تعلیمی اداروں، مساجد، مدارس، میڈیا اور سماجی تنظیموں کو بھی کردار سازی اور اخلاقی تربیت کے میدان میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ صرف قانون کسی معاشرے کو محفوظ نہیں بنا سکتا، بلکہ قانون کے ساتھ اخلاق، شعور اور تربیت بھی ناگزیر ہوتے ہیں۔

اسلام نے چودہ سو سال قبل ہی نگاہوں کی حفاظت، پاکدامنی، حیا اور انسانی عزت کے احترام کو ایک مثالی معاشرے کی بنیاد قرار دیا تھا۔ قرآن و سنت کی تعلیمات نہ صرف جرائم کی سزا بیان کرتی ہیں بلکہ ان تمام راستوں کو بند کرنے کا حکم بھی دیتی ہیں جو جرائم تک لے جاتے ہیں۔ یہی حکمت آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔

منتہا کی معصوم لاش محض ایک خاندان کا المیہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کے لیے ایک سوال ہے۔ اگر ہم اپنی بیٹیوں، بہنوں اور بچوں کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف مجرموں کے خلاف نہیں بلکہ ان تمام عوامل کے خلاف بھی آواز بلند کرنا ہوگی جو بے حیائی، اخلاقی زوال اور درندگی کو فروغ دیتے ہیں۔

خاکم بدہن!یادرکھیے!منتہاانتہانہیں ہے۔آج منتہا ہے، کل کسی اور گھر کا چراغ بجھ جائے گا، اور ہم ایک بار پھر افسوس کے چند جملے لکھ کر خاموش ہو جائیں گے۔

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
47