(+92) 319 4080233
کالم نگار

عبدالغفارخان

عبدالغفارخان

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
سورہ الم نشرح کاپیغام
الَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ
کیا ہم نے آپ کا سینہ کھول نہیں دیا؟

وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ
اور ہم نے آپ سے آپ کا بوجھ اتار دیا۔

الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ
وہ بوجھ جس نے آپ کی پیٹھ کو جھکا دیا تھا۔

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔

یہ سورت رسول اللہ ﷺ کے دل کو تسلی دینے کے لیے نازل ہوئی، لیکن اس کا پیغام ہر اس انسان کے لیے ہے جو زندگی کی مشکلات، ذمہ داریوں اور آزمائشوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو۔

اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو یاد دلاتا ہے کہ جس رب نے دل کو وسعت دی، راستہ دکھایا، بوجھ ہلکا کیا اور عزت عطا کی، وہی رب آئندہ بھی کافی ہے۔

انسان اکثر اپنے مسائل کو دیکھتا ہے، مگر اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے۔ کیونکہ جو رب ماضی میں سہارا بن چکا ہو، وہ مستقبل میں بھی تنہا نہیں چھوڑتا۔

فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
پس یقیناً تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔

إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔

یہ قرآن کے سب سے امید افزا جملوں میں سے ایک ہے۔

اللہ یہ نہیں فرماتا کہ مشکل کے بعد آسانی آئے گی، بلکہ فرماتا ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی موجود ہے۔

گویا ہر رات کے ساتھ صبح بھی پیدا ہو رہی ہوتی ہے، ہر آزمائش کے ساتھ کوئی حکمت بھی چل رہی ہوتی ہے، اور ہر بند دروازے کے قریب کوئی کھڑکی بھی کھل رہی ہوتی ہے۔

اسی لیے مؤمن مایوس نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ کی تقدیر میں اندھیرا مستقل نہیں ہوتا۔

فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ
پس جب آپ فارغ ہوں تو محنت میں لگ جائیں۔

وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَبْ
اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت رکھیں۔

یہ سورت کا آخری سبق ہے۔

زندگی کا مقصد آرام طلبی نہیں بلکہ بامقصد جدوجہد ہے۔

ایک ذمہ داری مکمل ہو تو دوسری کے لیے تیار ہو جاؤ، ایک کامیابی مل جائے تو غرور میں نہ کھو جاؤ، اور ایک مشکل ختم ہو جائے تو اللہ کو نہ بھولو۔

قرآن انسان کو سکھاتا ہے کہ اس کی محنت کا مرکز دنیا ہو سکتی ہے، لیکن اس کے دل کی منزل صرف اللہ ہونی چاہیے۔

سورۂ الشرح ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دل کی کشادگی اللہ کی نعمت ہے، مشکلات ہمیشہ عارضی ہیں، آسانیاں اللہ کی سنت ہیں، اور کامیاب انسان وہ ہے جو جدوجہد بھی کرتا ہے اور امید کا دامن بھی نہیں چھوڑتا۔

یہی سورۂ الشرح کا پیغام ہے:دل کشادہ رکھو، مشکلات میں امید قائم رکھو، محنت جاری رکھو، اور اپنے رب ہی کی طرف متوجہ رہو۔

کالم نگار : عبدالغفارخان
| | |
28