ایک منصف مزاج مسلمان کبھی بھی ایک صحابی کی عقیدت کو دوسرے صحابی کی عیب جوئی کا بہانہ نہیں بناتا، اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی رفیق کے دفاع کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اہل بیت کی شان میں گستاخی کا ذریعہ بننے دیتا ہے۔
اہلِ سنت و الجماعت کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ وہ دو متوازن اصولوں پر قائم ہیں:
تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سچی محبت کرنا اور ان کا ذکر خیر کرنا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت سے گہری عقیدت رکھنا اور ان کے بلند مرتبے کا پاس کرنا۔
چنانچہ وہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور معاویہ رضی اللہ عنہم سمیت تمام صحابہ کے شیدائی ہیں، اور ساتھ ہی حسن، حسین، فاطمہ اور تمام اہل بیتِ اطہار کے بھی عقیدت مند ہیں۔ ان کے ہاں ان دونوں محبتوں میں کوئی ٹکراؤ یا تضاد نہیں۔
خود سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کبھی اس بات پر راضی نہیں تھے کہ ان کی محبت میں غلو کر کے کسی دوسرے صحابی کی پگڑی اچھالی جائے، اور نہ ہی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی لوگوں کو حضرت علی سے بغض رکھنے یا ان کی شان گھٹانے پر اکسایا۔
اسی لیے یہ تقسیم ہی سرے سے باطل ہے کہ "یا تو تم علی کے ساتھ ہو سکتے ہو یا معاویہ کے"۔ ایک سچا مسلمان حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دل و جان سے مانتا ہے اور انہیں مرتبے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل تسلیم کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے بھی دعائے مغفرت کرتا ہے، ان کے محاسن کا ذکر کرتا ہے اور ان پر زبان طعن دراز کرنے سے باز رہتا ہے۔
اہلِ سنت کے جلیل القدر علماء کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ صحابہ کے باہمی اختلافات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حق اور صواب کے زیادہ قریب تھے، مگر اس کے باوجود انہوں نے حضرت معاویہ کو دائرۂ صحابیت سے نہیں نکالا نہ اور ان کے عادل ہونے پر طعن کیا، اور نہ ان کی سیاسی و اجتہادی لغزش کو ان کے ایمان و اسلام پر حملے کا سبب بنایا۔
رہی بات اہل بیت کی، تو ان سے محبت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تاریخ میں ان کی یا ان کی اولاد کی طرف منسوب ہر دعوے کو بغیر تحقیق کے درست مان لیا جائے۔ اہل بیت بھی انسان تھے؛ ان میں جید علماء، صالحین اور مجاہدین بھی گزرے ہیں اور ان میں ایسے بھی تھے جن سے خطائیں ہوئیں۔ اللہ کے ہاں اصل ترازو تقویٰ اور عملِ صالح ہے، محض خاندانی شجرہ نہیں۔
منہجِ اہل سنت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ دونوں طرف کی انتہا پسندی کو رد کرتے ہیں:
وہ ان لوگوں کے سخت خلاف ہیں جو اہل بیت کی محبت کا چغہ اوڑھ کر صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں اور امہات المؤمنین کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔
وہ ان کے بھی شدید مخالف ہیں جو بعض صحابہ کے دفاع کا نام لے کر اہل بیتِ اطہار کی منزلت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وہ تو محبت اور انصاف کا ایسا حسین امتزاج ہیں جو قرآن کی اس آیت کا عملی نمونہ ہے:
﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِر لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾
ترجمہ: "اور جو لوگ ان کے بعد آئے، وہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی کینہ نہ رہنے دے، اے ہمارے رب! تو یقیناً بڑا شفیق اور نہایت رحم فرمانے والا ہے۔" [الحشر: 10]
خلاصہ یہ ہے کہ جس کے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سچی محبت ہوگی، وہ حسنینِ کریمین سے بھی پیار کرے گا، تمام صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کا احترام کرے گا اور اپنی زبان کو دشنام طرازی سے پاک رکھے گا۔
اور جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حقیقی خیر خواہ ہوگا، وہ کبھی ان کے نام پر حضرت علی اور اہل بیت کی تنقیص نہیں کرے گا، کیونکہ ان سب نفوسِ قدسیہ کو اسلام کا رشتہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور قرابت داری کا شرف ایک جگہ جوڑتا ہے، اور ہم ان سب کے لیے اللہ کی رحمت کے طلب گار ہیں۔
اسی لیے امام ذہبی رحمہ اللہ نے کیا خوب فرمایا تھا: "ان صحابہ کے عظیم الشان فضائل اور سابقہ خدمات ہیں، اب جو کچھ ان کے درمیان ہوا اس کا معاملہ ہم اللہ کے سپرد کرتے ہیں، اور خود ان سب کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کرتے ہیں"۔
پس انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے، اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔