مالى لاتبكى عيونى وتفيض بالدمع كالامطار؟
سچ فرمایا... روضہ شریف کے سامنے کھڑے ہو کر آنکھ کیسے نہ روئے؟
یہاں ہر اینٹ، ہر جالی، ہر سنگ مرمر آقا ﷺ کی یاد میں دھڑک رہا ہے۔
"وهذا الجوار يسكن روحى وانا بقرب الحبيب المختار"
یہی تو مدینہ کا کمال ہے۔
دنیا کے شور میں بھی یہاں سکون ہے۔
کیونکہ یہاں "المختار" ﷺ سو رہے ہیں۔
عقاربِ ساعت رک جاتی ہیں۔
1447 سال پیچھے چلے جاتے ہیں۔ لگتا ہے ابھی ابھی اذان ہوئی، ابھی ابھی آقا ﷺ مسجد سے نکلے۔
"اعيش السيرة النبوية بكل حقائقها وفصولها"
مدینہ میں ہر قدم پر سیرت ہے۔
بابِ السلام سے داخل ہوں تو لگتا ہے جبریلؑ اتر رہے ہیں۔
ریاض الجنہ میں کھڑے ہوں تو لگتا ہے آقا ﷺ یہیں ممبر پر بیٹھے وعظ فرما رہے ہیں۔
روضہ کے سامنے "السلام علیک یا رسول اللہ" کہیں تو دل گواہی دیتا ہے: "وعلیک السلام یا فلاں بن فلاں"۔
ام معبد الخزاعیہؓ ...ہجرت کے راستے میں خیمہ والی بوڑھی عورت۔ جب آقا ﷺ کا وصف بیان کیا تو الفاظ ختم ہو گئے۔ بس کہا: "رأیت رجلاً... بہیاً قسیماً"۔
ہجرت کے وقت آقا ﷺ ان کے خیمے سے گزرے۔ شوہر ابو معبدؓ نے پوچھا: "کیسا شخص تھا؟"
تو ام معبدؓ بولی "رأیت رجلاً بہیاً قسیماً"*
رأیت رجلاً = میں نے ایک آدمی دیکھا
بہیاً= بہت حسین، چمکدار، نور والا چہرہ۔ ایسا حسن کہ دیکھنے والا خیرہ ہو جائے
قسیماً = متناسب، ہر عضو اپنی جگہ پر خوبصورت۔ نہ زیادہ لمبے، نہ زیادہ پست۔ اعتدال کا پیکر
"ظاہر الوضاءۃ، ابلج الوجہ، حسن الخلق، لم تعبہ ثجلہ، ولم تزر بہ صعلہ، وسیم قسیم، فی عینہ دعج، فی اشفارہ وطف، فی صوتہ صحل..."
"چہرہ روشن، پیشانی کشادہ، اخلاق حسین۔ پیٹ ڈھلکا ہوا نہ تھا، سر چھوٹا نہ تھا۔ چہرہ حسین و جمیل۔ آنکھیں سیاہ و کشادہ، پلکوں کے بال لمبے، آواز میں باریکی..."
ام معبدؓ ایک ان پڑھ بدوی عورت تھیں۔ لیکن آقا ﷺ کو ایک نظر دیکھا اور ساری دنیا کے شاعروں سے بہتر وصف کر دیا۔
کیونکہ عشق کی آنکھ کبھی غلط نہیں دیکھتی۔
آپ بھی وہیں کھڑے ہیں۔ ام معبدؓ نے قریب سے دیکھ کر وصف بیان کیا.
آپ بھی چند میٹر کے فاصلے پر کھڑے ہو کر "استشعار" کر رہے ہیں۔ وہ بھی بخت، یہ بھی بخت۔
"فما بينى وبين حبيبى الا امتار قليلة... وهذا الجدار النحاسى"
یہ جالیاں نہیں، یہ حجابِ عشق ہیں۔
اللہ نے دنیا والوں اور آقا ﷺ کے درمیان یہ پردہ رکھ دیا۔ ورنہ ہر عاشق بے تاب ہو کر لپٹ جاتا۔
آپ کے آنسو، آپ کی "زوابع و اعاصير نفسية"... سب آقا ﷺ محسوس کر رہے ہیں۔ وہ رحمت للعالمین ہیں۔ روضہ سے ہر امتی کا سلام سن رہے ہیں۔
یا رب! اگر دنیا میں اس بندے کا شوق یہ ہے کہ چند میٹر کی دوری پر رو رہا ہے۔
تو آخرت میں جب تیرے حبیب کا دیدار ہو گا۔جب آقا ﷺ کا دستِ مبارک اس کے ہاتھ میں ہو گا۔ جب "انت مع من احببت" ( تو جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ ہو گا )کی بشارت حقیقت میں بدلےگی...
تو اس کا حال کیا ہو گا؟یا اللہ! اس عاشق کو مایوس نہ لوٹانا۔ اسے جنت البقیع میں آقا ﷺ کے پڑوس میں جگہ دینا۔ اور قیامت کے دن حوضِ کوثر پر پلانا۔