چار نکاتی فارمولا:
غالبا سنہ 2023ء کی بات ہے، کراچی کے تبلیغی اجتماع سے واپسی کے بعد تبلیغی مرکز رائے ونڈ کے مقیم بزرگ، جناب ڈاکٹر محمد سلیم صاحب حفظہ اللہ ہمارے گھر تشریف لائے، بعد ازاں انہیں کسی جگہ جانا تھا، تو والد صاحب دامت برکاتہم کی معیت میں راقم بھی ساتھ ہو لیا، راستے میں ڈاکٹر محمد سلیم صاحب حفظہ اللہ نے نہایت فکر انگیز سوال کیا:
"آپ معیاری تعلیم اور قیادت سازی کی بات کرتے ہیں، لیکن اگر ہر فرد کو قائد اور لیڈر بنانا مقصود ہو تو پھر قیادت کس پر کی جائے گی؟ آخر ہر آدمی تو لیڈر نہیں ہوسکتا!"
سوال بڑا اہم تھا اور درحقیقت قیادت کے تصور کو سمجھنے کی کلید بھی اسی میں پوشیدہ تھی۔
راقم نے عرض کیا:
"معیاری تعلیم و تربیت کے ذریعہ ہر شخص کو منصب، عہدہ یا اختیار کا حامل بنانا مقصود نہیں ہے بلکہ ہر فرد کے اندر قائدانہ مزاج پیدا کرنا ہے، تعلیمی معیاری ایسا ہو جو رجالِ کار تیار کرے؛ ایسے لوگ جو زندگی کے ہر شعبہ میں مؤثر کردار ادا کرسکیں، خود بھی عمل کے میدان میں سرگرم ہوں اور دوسروں کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، حقیقی قائد وہی ہوتا ہے جو صرف خود کام نہیں کرتا بلکہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی کام کے لئے تیار کرتا اور آگے بڑھاتا ہے۔"
ڈاکٹر صاحب نے مسکراتے ہوئے اس کی تائید میں سر ہلایا، گویا زبانِ حال سے کہہ رہے ہوں :
"جی ہاں! اصل ضرورت بھی ایسے ہی افراد کی ہے۔"
چند نصائح:
ایک موقع پر والد صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا کہ ہر عمل کو چار مراحل کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے:
➊ پہلے اس عمل کی اہمیت بیان کرکے اس پر افراد کو ابھارا جائے، ذہن سازی کی جائے۔
➋ پھر اس کے بعد اس عمل کے لئے چند افراد کو ذمہ داری سونپی جائے۔
➌ کام کی انجام دہی کے بعد اس کام کے احوال سنے جائیں۔
➍ احوال سننے کے بعد اس کام میں رہ جانے والی کمی کوتاہی کی اصلاح کرکے دوبارہ بہتر انداز میں عمل کرنے پر متوجہ کیا جائے۔ (انتہی)
درحقیقت افراد سازی، تنظیم سازی اور قیادت سازی کا یہ ایک "مکمل پیکج" ہے، جس کے بغیر کسی بھی ادارے، تحریک یا تعلیمی نظام میں مستقل جان اور حرکت پیدا نہیں کی جاسکتی۔
والد گرامی دامت برکاتہم سے یہ بھی سنا کہ ہمارا کام "مُتَعَّدی" ہے؛ یعنی کرتے ہوئے کروانا ہے، نہ صرف خود کرنا ہے اور نہ صرف دوسروں سے کروانا ہے، بلکہ یہ دو رُخی ذمہ داری ہے کہ اپنے حصے کا کام بھی انجام دو اور دوسروں کو بھی ان کے حصے کا کام کرنا سکھاؤ۔
ایک موقع پر والد ماجد زید مجدہم فرمانے لگے:
"یہ سیکھنا بھی ضروری ہے کہ کس کام میں خود کتنا لگنا ہے اور کہاں خود نہیں لگنا بلکہ کام کروانا ہے، ایک قائد ہر کام خود نہیں کرتا، لیکن کسی کام سے غافل بھی نہیں ہوتا۔"
درحقیقت یہ جملے بزنس اور ایجوکیشنل لیڈرشپ کے بنیادی اصولوں میں شمار ہوتے ہیں، کامیاب قائد وہ نہیں جو ہر کام اپنے ہاتھ میں لے لے، بلکہ وہ ہے جو نظام بناتا ہے، افراد تیار کرتا ہے، ذمہ داریاں تقسیم کرتا ہے اور کام کو اپنی ذات سے آگے بڑھا دیتا ہے، وہ نگرانی بھی کرتا ہے اور رہنمائی بھی، لیکن اس کا اصل کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی مؤثر بنا دیتا ہے۔
اسی طرح ایک کامیاب تعلیمی قائد صرف خود پڑھانے پر اکتفاء نہیں کرتا بلکہ ایسے معلمین اور معاونین تیار کرتا ہے جو اس کے مشن کو آگے بڑھا سکیں، اسی طرح ایک کامیاب کاروباری قائد صرف کاروبار نہیں چلاتا بلکہ ایسی ٹیم تشکیل دیتا ہے جو اس کی موجودگی و عدم موجودگی میں بھی کام کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
آج دنیا بھر میں لیڈرشپ اور قیادت سازی کی باتیں ہورہی ہیں، ہر تعلیمی نظام اپنے اندر رجالِ کار کی تیاری میں مصروف ہے، سوال یہ ہے کہ رجالِ کار بنتے کیسے ہیں؟
ماہرین اس حوالے سے چند بنیادی نکات بیان کرتے ہیں:
① A leader creates momentum; people naturally want to follow him.
لیڈر وہ ہوتا ہے جو لوگوں میں حرکت، جوش اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرے، لوگ فطری طور پر اس کی پیروی کرنا پسند کرتے ہیں۔
② A leader has a clear and simple vision.
لیڈر کا وژن واضح، سادہ اور قابلِ فہم ہوتا ہے۔
③ A leader is always coaching, guiding, and teaching others.
لیڈر ہمیشہ تربیت کرتا، رہنمائی کرتا اور دوسروں کو سکھاتا رہتا ہے۔
④ A good leader understands human psychology, human needs, and human greed.
ایک اچھا لیڈر انسانی نفسیات، انسانی ضروریات اور انسانی حرص و طمع کو سمجھتا ہے۔
⑤ He understands human potential and human weaknesses.
وہ انسانی صلاحیتوں اور انسانی کمزوریوں سے واقف ہوتا ہے۔
⑥ He understands people's priorities and goals.
وہ لوگوں کی ترجیحات اور اہداف کو سمجھتا ہے۔
⑦ A true leader helps people move forward and achieve a common purpose.
حقیقی لیڈر لوگوں کو آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے اور انہیں ایک مشترکہ مقصد کے حصول کے لئے متحد کرتا ہے۔آپ کا بچہ کسی بھی تعلیمی نظام سے وابستہ ہو، اگر وہ ان اقدار پر پروان چڑھ رہا ہے یا آپ کسی بھی ماحول میں ہوں مگر آپ کے اندر اپنے حصے کا کام کرنے اور دوسروں سے کام کروانے کی صلاحیت پیدا ہورہی ہے، تو سمجھ لیجیئے کہ قدرت آپ پر مہربان ہے اور آپ کی گاڑی درست سمت میں رواں دواں ہے۔