ہمارے معاشرے میں بعض طبقات ایسے ہیں جن کے مسائل پر مسلسل بحث ہوتی ہے، ان کے حقوق کے لیے آوازیں بلند کی جاتی ہیں، ان کے لیے احتجاجی تحریکیں چلتی ہیں اور ان کی مشکلات قومی مباحث کا حصہ بنتی ہیں۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو معاشرے کی دینی، اخلاقی اور فکری بنیادوں کی حفاظت میں شب و روز مصروف رہتا ہے، مگر اس کی معاشی مشکلات، معاشرتی محرومیاں اور بنیادی ضروریات عموماً گفتگو کے دائرے سے باہر رہتی ہیں۔ یہ طبقہ مساجد و مدارس سے وابستہ ائمہ، خطباء، مدرسین، حفاظ، قراء، مؤذنین اور دیگر کارکنان پر مشتمل ہے۔
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ چند بڑے اور معیاری اداروں کو چھوڑ کر، جن کا تناسب مجموعی طور پر شاید پانچ فیصد سے بھی کم ہو، ملک کے طول و عرض میں مساجد و مدارس کے بیشتر ملازمین ایسی تنخواہوں اور مراعات پر خدمات انجام دے رہے ہیں جو نہ صرف ان کے معاشرتی مقام سے بہت کم ہیں بلکہ ان کی بنیادی انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں، جب ایک عام شہری کے لیے زندگی کی ضروریات کا حصول دشوار ہوچکا ہے، دینی خدمات انجام دینے والے اس طبقے کی معاشی حالت اور بھی زیادہ تشویش ناک نظر آتی ہے۔
تاہم اس مسئلے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ یہ طبقہ اپنی دینی تربیت، مزاج اور احساسِ ذمہ داری کے باعث اپنے حقوق کے حصول کے لیے وہ ذرائع اختیار نہیں کرتا جو دوسرے شعبہ ہائے زندگی میں معمول سمجھے جاتے ہیں۔ نہ وہ ہڑتالوں کے عادی ہیں، نہ جلوس و مظاہروں کے، نہ احتجاجی کیمپ لگاتے ہیں اور نہ ہی بائیکاٹ کی سیاست سے واقف ہیں۔ بہت سے لوگ اسے قناعت، اخلاص اور خدمتِ دین کے منافی سمجھتے ہیں۔ نتیجتاً ان کی خاموشی کو ان کی بے نیازی سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ اس خاموشی کے پیچھے اکثر مجبوری، خودداری اور دین کی خدمت سے وابستگی کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔
دوسری طرف، معاشرتی حقوق کے عنوان سے سرگرم مختلف لابیاں اور غیر سرکاری تنظیمیں بھی اس طبقے کے مسائل کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کرتیں۔ بلکہ بعض حلقوں میں تو یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ دینی طبقے کا سماجی اثر کمزور ہونا ہی معاشرے کے لیے بہتر ہے۔ ایسے ماحول میں اس طبقے کے معاشی مسائل نہ ریاستی سطح پر موضوعِ بحث بنتے ہیں اور نہ ہی سماجی انصاف کے علم برداروں کی توجہ حاصل کرپاتے ہیں۔
اگر چند باہمت، دیانت دار اور حساس صحافی ملک کے کسی ایک شہر، ضلع یا علاقے کو بنیاد بنا کر وہاں کی مساجد و مدارس کے ملازمین کی معاشی زندگی کا معروضی جائزہ لیں، ان کی تنخواہوں، رہائشی حالات، علاج معالجے کی سہولتوں، بچوں کی تعلیم، ازدواجی و خاندانی ذمہ داریوں اور معیارِ زندگی پر ایک تحقیقی رپورٹ مرتب کریں، تو یقیناً یہ رپورٹ بہت سی آنکھیں کھول دینے والی ثابت ہوگی۔ تب معلوم ہوگا کہ جن لوگوں کو معاشرے میں اکثر تنقید اور الزامات کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کی غالب اکثریت کس درجہ بے سروسامانی، مالی تنگی اور معاشی عدم تحفظ کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔
اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ دینی جماعتیں، بڑے مدارس کے منتظمین، مساجد کی انتظامی کمیٹیاں اور خصوصاً وفاق ہائے مدارس اس مسئلے کو محض انفرادی نوعیت کا معاملہ سمجھنے کے بجائے اجتماعی سطح پر سنجیدگی سے زیرِ غور لائیں۔ اس سلسلے میں، ایک طالب علمانہ حیثیت سے، دو اصولوں کی طرف توجہ دلانا ضروری محسوس ہوتا ہے:
پہلا اصول یہ ہے کہ جب کوئی شخص خود کو کسی اجتماعی دینی خدمت کے لیے وقف کردے اور کسی ادارے کے ساتھ اس نوعیت کی وابستگی اختیار کرے کہ اس کے لیے اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ باقی نہ رہے، تو شرعاً اس ادارے پر لازم ہے کہ وہ اس شخص اور اس کے زیرِ کفالت افراد کی مناسب کفالت کا اہتمام کرے۔ اس کفالت کا معیار ادارے کے ذمہ داران کی شخصی پسند یا محدود استطاعت سے متعین نہیں ہونا چاہیے، بلکہ معاشرے کے عمومی معیارِ زندگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے "لا وکس فیہا ولا شطط" کے اصول کے مطابق ایسا نظام وضع ہونا چاہیے جس میں نہ افراط ہو اور نہ تفریط، نہ اسراف ہو اور نہ محرومی۔
دوسرا اصول وہ ہے جسے صاحبِ ہدایہ نے حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے: "لا رضا مع الاضطرار" یعنی مجبوری کی حالت میں دی گئی رضا معتبر نہیں ہوتی۔ اس اصول کی روشنی میں اگر کوئی دینی کارکن شدید ضرورت، معاشی تنگی یا حالات کے جبر کے تحت اپنے معروف اور مناسب حق سے کم پر رضامند ہوجاتا ہے، تو محض اس کی ظاہری رضا کو اس کے حق سے دستبرداری قرار نہیں دیا جاسکتا۔ شرعی نقطۂ نظر سے وہ اسی حق کا مستحق رہے گا جو عرف، ضرورت اور عدل کے مطابق اس کے لیے مناسب سمجھا جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے بڑے دارالافتاء، وفاق المدارس اور دینی اداروں کی نمائندہ تنظیمیں اس موضوع پر مشترکہ غور و فکر کریں، تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لیں اور مساجد و مدارس کے ملازمین کے لیے تنخواہوں، مراعات، رہائش، علاج، پنشن اور دیگر بنیادی حقوق سے متعلق ایک متوازن اور قابلِ عمل اجتماعی ضابطۂ اخلاق مرتب کریں۔ اگر اس سمت میں سنجیدہ پیش رفت ہوسکے تو معاشرے کے اس خاموش اور مظلوم طبقے کی مشکلات میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔
دینی اداروں کی عمارتیں صرف اینٹوں اور پتھروں سے آباد نہیں ہوتیں، بلکہ ان گمنام خدمت گزاروں کے اخلاص، محنت اور قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں جو اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔ اگر ہم ان کی عزتِ نفس، معاشی تحفظ اور انسانی ضروریات کا خیال نہ رکھ سکے، تو یہ صرف ایک طبقے کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی، بلکہ ان اداروں کے مستقبل کے ساتھ بھی بے اعتنائی ہوگی جو ہماری دینی شناخت اور فکری بقا کے محافظ ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے کو احسان یا خیرات کے زاویے سے نہیں، بلکہ حق، امانت اور اجتماعی ذمہ داری کے عنوان سے دیکھا جائے؛ کیونکہ جو ہاتھ معاشرے کی روحانی آبیاری میں مصروف ہوں، انہیں معاشی بے یقینی اور احساسِ محرومی کے سپرد کردینا کسی مہذب اور دینی معاشرے کے شایانِ شان نہیں۔