(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
میرے والدگرامیؒ:دوسری اورآخری قسط
صحافتی خدمات:
مفتی محمدنعیم ایک دینی رسالے البنوریہ اور مدارس دینیہ کے ترجمان اخبارالمدارس کے ایڈیٹر انچیف تھے۔ وہ پرنٹ والیکٹرانک میڈیاکے محاذپرمتحرک اوربیدارمغزشخصیات میں شمارہوتے تھے۔ ان کے انٹرویوز، ٹاک شوز، اخباری بیانات کی وجہ سے عوام میں ان کی خاص شناخت تھی۔ اس کے لیے انھوں نے اپنے جامعہ میں باقاعدہ میڈیاسیل، چینل اور آئی ٹی ڈپارٹمنٹ قائم کررکھاتھا۔ مفتی محمدنعیم کااصلاحی کا لم ہر جمعے کو روزنامہ جنگ میں شائع ہوتاتھا۔ اس کے علاوہ اہم مواقع کی خصوصی اشاعتوں میں بھی ان کے مضامین شائع ہوتے رہے۔ مفتی محمدنعیم کی نگرانی میں متعدد اکابر وبزرگوں کی سوانح حیات پر مشتمل کتابیں شائع ہوئیں۔ ان شخصیات میں حضرت جی مولاناانعام الحسن کاندھلوی، مولاناڈاکٹرنظام الدین شامزئی، حضرت مولانامفتی زین العابدین اور مفتی محمد نعیم کے ہردلعزیزاستاد مولانا ڈاکٹر محمدحبیب اللہ مختار شہید  شامل ہیں۔ میڈیاکے محاذ پرخدمات:
یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جس قدر میڈیا والے آپ کی رائے تقریباً ہر موضوع پر لیتے تھے اتنی کسی اور عالم سے نہیں لیتے تھے ہر روز کسی نہ کسی میڈیا والے، دن میں دو تین دفعہ حضرت سے رائے لینے آہی جاتے، حضرت کا بھی ہر موضوع پر بے لاگ تبصرہ ہوتا اور کبھی مداہنت کو روا نہ رکھتے۔ آپ ملّی وملکی مسائل پر بھی خوب دلچسپی رکھتے تھے وقتاً فوقتاً پرنٹ میڈیا / سوشل میڈیا پر اپنے اہم مضامین / دین اسلام کے خلاف اُٹھنے والی باتوں پر خوب ڈٹ کر بیان جاری کرواتے تھے۔ میڈیا میں مدارس کا مثبت کردار اجاگر کرنے میں مفتی نعیم کا اہم کردار ہے جب اہل مدارس میڈیا سے اپنے آپ کو اور جامعہ کو دور کھا کرتے تھے مفتی صاحب ہی وہ واحد شخصیت تھے جنہوں نے میڈیا کو دعوت عام دی اور مدارس کے طرز زندگی سے روشناس کرایا، عالمی میڈیا کی غلط فہمیاں دور کیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ غیر ملکی صحافی مدارس اور اہل مدارس کے طرز زندگی سے متاثر ہوکر کافی تعداد میں حلقۂ اسلام میں داخل ہوئے اور مفتی نعیم ہی تھے جنہوں نے ان کا خیر مقدم کیا اور ان پر دست شفقت بھی رکھا۔

’’میڈیا وار‘‘ یا ذرائع ابلاغ کی جنگ میں آپ یقیناً دینی مدارس اور علماء کے سالار تھے، اس حقیقت کا اندازہ آپ کی اس فراست اور حکمت عملی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جو ’’فاکس نیوز‘‘ کی جامعہ بنوریہ کے خلاف پروپیگنڈہ ڈاکومنٹری کے جواب میں انہوں نے اختیار کی اور اُس کے نتیجے میں بین الاقوامی شہرت یافتہ معروف امریکی چینل ’’فاکس نیوز‘‘ کو مفتی صاحب سے معافی مانگنی پڑی اور یوں اس کے غرور کا سر نیچا ہوا۔

یہ واقعہ مفتی صاحب نے اپنی زندگی میں ’’ریحان، اللہ والا‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی سنایا تھا، واقعہ کچھ یوں پیش آیا کہ دو امریکن بچوں نے جامعہ میں داخلہ لیا، اس دوران ’’کیلی فورنیا‘‘ سے تعلق رکھنے والا ایک پاکستانی آیا اور اُس نے مفتی صاحب سے کہا کہ مجھے اپنے بچے کو جامعہ بنوریہ میں داخل کروانا ہے لیکن میں یہاں دو تین دن رِہ کر ماحول دیکھنا چاہتا ہوں، مفتی صاحب نے اُسے اجازت دے دی، اب وہ آدمی جامعہ میں گھومتا رہتا اور مختلف چیزیں نوٹ کرتا رہتا، اس دوران وہ ان دو امریکن بچوں سے بھی ملا اور اُن سے مختلف سوالات کیے، وہ دونوں بچے چونکہ نئے نئے امریکہ سے آئے تھے اور پاکستان کے مدارس میں انہیں وہ سہولیات میسر نہیں تھیں جو انہیں امریکہ میں اور اپنے گھر میں دستیاب تھیں تو اس لئے ان میں سے ایک بچے نے اس آدمی سے کہا کہ کھانے کا کچھ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے میرا دل نہیں لگ رہا۔

اب کیلی فورنیا سے آنے والے اس آدمی نے واپس امریکہ جاکر ایک ڈاکومنٹری بنائی جس میں جامعہ بنوریہ کو دہشت گردی کا اڈہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ ڈاکومنٹری فاکس نیوز نے نشر کردی، مفتی صاحب امریکہ گئے اور وہاںا نہیں جب علم ہوا تو واپس آتے ہی انہوں نے ’’الجزیرہ چینل‘‘ کو بلوایا ان دونوں امریکن بچوں کا انٹرویو نشر ہوا اور الجزیزہ چینل نے جامعہ کے حوالے سے حقائق پیش کرکے پوری دنیا پر یہ ثابت کردیا کہ فاکس نیوز سے نشر ہونے والی ڈاکومینٹری محض جھوٹ کا پلندہ ہے، اس کے بعد مفتی صاحب نے فاکس نیوز کو نوٹس بھیجا کہ میں آپ کے خلاف کاروائی کرنے کیلئے عدالت جارہا ہوں، چنانچہ فاکس نیوز نے ایک معافی نامہ لکھ کر مفتی نعیم صاحب کے پاس جامعہ بنوریہ میں بھجوایا اور اس جھوٹی ڈاکومنٹری بنانے والے شخص کو بھی فاکس نیوز پر مفتی صاحب سے معافی مانگنے کا کہا گیا اور اس نے چینل پر آکر معافی مانگی۔ یہ اس قدر حساس، عجیب اور خوفناک معاملہ تھا کہ بڑے سے بڑے آدمی کے بھی اعصاب جواب دے جاتے اور اس جھوٹی ڈاکومنٹری کی بنیاد پر پوری دنیا میں پاکستان کے دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈے کی آگ بھڑک اُٹھتی اور عالمی سطح پر دینی مدارس کے خلاف دباؤ میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا لیکن اس خوفناک میڈیا وار میں مفتی صاحب نے جس حکمت، بصیرت، تدبر اور قائدانہ صلاحیت کا اظہار کرکے عالمی میڈیا کے اس پروپیگنڈے کو شکست فاش سے دوچار کیا اور مدارسِ دینیہ کا دفاع کیا وہ یقینا اہلِ حق کی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے۔

کچھ سال قبل پاکستان سے ایک فیملی سعودی عرب جارہی تھی کسی نے بطورِ شرارت سعودی عرب ایئر پورٹ پر ان کے چپلوں میں ہیروئن رکھ دی، سعودی حکومت نے ان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف سزائے موت کا حکم جاری کردیا بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی ان کے نکلنے اور خلاصی کی، کچھ دن بعد ان کے اہل و عیال مفتی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی عرض رکھی۔ مفتی صاحب نے فی الفور میڈیا کو بلاکر پریس کانفرنس کی اور ان مظلوموں کیلئے آواز بلند کی، سعودی حکومت سے بھی رابطہ کیا چنانچہ چند روز ہی میں وہ پھنسے ہوئے پاکستانی چھوٹ کر پاکستان واپس آگئے۔

حق گوئی وبےباکی:
ایک خصوصی وصف جو آپ کا طرۂ امتیاز رہا ہے وہ یہ کہ آپ حق بات پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتے تھے، آپ نے بارہا مدارسِ اسلامیہ کی میڈیا کے پلیٹ فارم پر حقیقی معنوں میں ترجمانی کی، واضح الفاظ میں اپنا مؤقف بیان کیا، حق بات کہنے میں کبھی لیت و لعل سے کام نہیں لیا، لہٰذا یہی وہ بہادرانہ وصف تھا جس کی بدولت آپ ہزاروں پابندیوں اور حکومتی رکاوٹوں کے باوجود غیر ملکی طلبہ کیلئے ملجاء و ماویٰ کی حیثیت رکھتے تھے، کتنے بے سہاروں کو آپ نے سہارا دیا، کتنے ناداروں کو آپ نے ٹھکانہ دیا، اور اس کیلئے آپ کو بہت سی مرتبہ سخت قسم کی صعوبتیں اٹھانی پڑیں، جسے آپ نے محض طالبانِ علومِ نبوت کی خدمت، دین کی ترویج میں اپنا حصہ اور اپنی عاقبت سنوارنے کی خاطر خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ نو مسلم اور مفتی نعیم:
ہندو، سکھ، عیسائی، قادیانی، ملحد جیسے عقائد کے مرد و خواتین جوق در جوق جامعہ بنوریہ آکر مفتی صاحب کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتے۔ اب تک ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ان حالات میں کئی مقدمات او ر دھمکیوں کا مفتی صاحب نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اور بے بہا لالچ بھی مفتی صاحب کے ارادوں میں کو ئی کمی نہ لاسکا۔ کچھ ایسے حالات بھی آئے جو قابل تقلید ہیں۔ تین ہندو لڑکیاں جنہوں نے اسلام قبول کیا ان کی کہانی پر مشتمل ’’خمیری مسلمان‘‘ نامی کتاب شائع کی گئی، جس کو پڑھ کر کئی افراد نے اسلام قبول کیا اور ایسی خواتین نے جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے ان لڑکیوں کی زیارت کیلئے بے تاب ہو کر بنوریہ کا رخ کیا در حقیقت ان لڑکیوں کی ایمان افروز کہانی صحابیات کی یاد دلاتی ہے۔ مفتی صاحب کے حکم پر اس سلسلہ میں باقاعدہ ’’اعانت نو مسلم‘‘کے نام سے شعبہ قائم کیا گیا جو ان کے مشن کی یاد گار اور صدقہ جاریہ ہے۔ اندرون سندھ کے علاقوں میں ایک موقع پر ہزاروں مرد وخواتین نے آغوش اسلام میں پناہ لی۔ اس وقت بھی کئی نو مسلم لڑکیاں جامعہ بنوریہ میں زیر تعلیم ہیں جو قرآن مجید کی تفسیر، فقہ اور عالمہ کا کورس کر رہی ہیں۔

انسانی ہمدردی:
حضرت مفتی صاحب کا معمول تھا کہ ہر جمعرات کو کسی نہ کسی سرکاری ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں جاتے وہاں آنے والے مریضوں کے لواحقین سے ملاقات کرتے اور ان سے ان کی مشکلات دریافت کرتے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے۔ بہت سے لوگ ڈاکٹروں کے لکھے گئے ادویات کے پرچے لیکر پریشانی میں گھوم رہے ہوتے تھے، ان کی اتنی گنجائش و طاقت نہیں ہوتی تھی کہ وہ میڈیکل اسٹور جاکر ادویات خریدسکیں، مفتی صاحب ایسے لوگوں سے ادویات کے پرچے لے کر ان کو ادویات خرید کر دیتے، اس وقت لواحقین کے ہاتھ دعا کیلئے اٹھتے تو وہ منظر قابل دید ہوتا تھا ان میں ایسے مریض بھی ہوتے جو بیچارے پینا ڈول تک لینے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے تھے، حضرت مفتی صاحب ایسے موقع پر درد دل سے یہ کہتے کہ یہ سرکاری ہسپتال تو غریب لوگوں کی سہولت کیلئے قائم کئے گئے ہیں، پھر ان کو ادویات کیوں نہیں ملتیں۔

مولانا سیف اللہ ربانی صاحب بتاتے ہیں کہ ایسا ہی ایک واقعہ ایک دن ایسے پیش آیا کہ امتیاز اسٹور والی لائن میں ایک شادی کی تقریب میں جانا تھا، راستہ میں ایک غبارہ بیچنے والا کھڑا تھا تو مفتی صاحب نے اس سے بات کرنا شروع کی کہ روزانہ کتنا کمالیتے ہو؟ اس نے کہا کبھی سو روپے کبھی اسّی روپے کمالیتا ہوں، مومن آباد سے دس روپے بچانے کیلئے پیدل آتا ہوں اور پیدل واپس جاتا ہوں مفتی صاحب نے پوچھا کہ بچے وغیرہ ہیں تو اس نے کہا کہ ایک بچہ ہے وہ جامعہ بنوریہ میں قرآن مجید حفظ کررہا ہے۔ اسے کیا معلوم تھا کہ وہ کس سے بات کررہا ہے، اگر اسے معلوم ہوتا کہ جامعہ بنوریہ کے مہتمم سے بات کررہا ہے تو شاید اس کے جذبات مختلف ہوتے۔ صبح مفتی صاحب نے اس بچے کو کلاس سے بلوایا اور اس کے ہاتھ میں کچھ رقم دی کہ اپنے والد کو گھر جاکر دینا، بہرحال مفتی صاحب نے ان حالات کو محسوس کرتے ہوئے بنوریہ ویلفیئر کے قیام کا حکم دیا جس کے ذریعہ یومیہ سینکڑوں افراد کو علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، یہ مفتی صاحب کی انسانی ہمدردی کی مثال تھی۔

مہمانانِ رسول ﷺ سے محبت:
جامعہ بنوریہ کے ابتدائی ایام میں وسائل کی اتنی فراوانی نہیں تھی۔ جب بھی کوئی طالبعلم بیمار ہوتا تو خود مفتی صاحب طالبعلم کو موٹر سائیکل پر کسی ڈاکٹر کے پاس علاج کیلئے لے جاتے اور ان ایام میں ایسے طالبعلم کی خیر خیریت معلوم کرتے۔

نارتھ ناظم آباد حیدری مارکیٹ کے قریب ایک ڈاکٹر کا کلینک تھا ڈاکٹر اسلام الدین صاحب عام افراد سے پانچ سو روپے فیس لیتے تھے یہ بات شاید ۱۹۹۴؁ء کی ہے مگر طلباء سے فیس نہیں لیتے تھے چونکہ مفتی صاحب کے ان کے خاندان سے اچھے تعلقات تھے۔ ان کے جانشین ڈاکٹر عبید صاحب آج بھی موجود ہیں، مفتی صاحب بیمار طلبہ کو ڈاکٹر اسلام الدین کے پاس لے جاتے جو دوائی ڈاکٹر صاحب تجویز کرتے۔ ان کو وہ ادویات میڈیکل اسٹور سے لیکر دی جاتی تھیں، طلباء کو کلاسوں کے علاوہ مفتی صاحب سے ملنے میں کوئی دشواری نہیں تھی، صبح فجر کی نماز کے بعد مسجد میں مفتی صاحب صرف طلباء کی شکایات سننے کیلئے بیٹھ جاتے، ہر طالب علم سے اس کی شکایت سنتے اور اس کے ازالہ کیلئے کسی کی ذمہ داری لگاتے، یہ ان کا ہمیشہ سے معمول تھا۔ کسی طالبعلم کو اگر گھر جانا ہوتا تو اس کو کرایہ کی رقم دیتے یا ویسے بھی کچھ دے دیتے کہ گھر فروٹ اور مٹھائی لیکر جانا۔ ماہِ رمضان اور محرم الحرام کے روزوں کیلئے طلباء کو ترغیب دیتے اور ان کی سحر و افطاری کیلئے اچھا انتظام کراتے۔ سال کے آخر میں تمام طلباء کی اجتماعی دعوت کا اہتمام شادی ہال میں کرتے تھے، اور ان کیلئے بریانی، قورمہ اور میٹھے کا انتظام کرتے تھے اور خود اس وقت کھانا کھاتے جب طلباء کھانے سے فارغ ہوجاتے، جب طلباء کھانا کھارہے ہوتے تو ہر ہر ٹیبل پر جاکر کھانے کے بارے میں خود پوچھتے کہ کھانا کیسا لگا۔

جامعہ کی محبت:
اگر یہ کہا جائے کہ حضرت مفتی صاحب کو اپنے اہل خانہ بلکہ اپنی ذات سے بھی بڑھ کر اپنے لگائے ہوئے گلشن جامعہ بنوریہ عالمیہ سے محبت تھی تو مبالغہ نہیں ہوگا، بارہا ایسا ہوتا کہ اگر کبھی مدرسہ اور اہل خانہ کے کام ایک وقت میں آجاتے تو مفتی صاحب کا حکم ہوتا تھا کہ گھر کا کام چھوڑدو پہلے مدرسہ کا کام کرلو، اگر گاڑی فارغ ہوئی تو گھر کے کام کی گنجائش تھی، اس زمانہ میں ایک سوزوکی گاڑی ہوتی تھی جو زیادہ تر مدرسہ کے امور کیلئے استعمال ہوتی۔ ان کی کوشش ہوتی کہ مدرسہ سے باہر کوئی سفر نہ ہو، حالانکہ متعلقین اور فضلاء اپنے علاقوں میں آنے کی دعوت دیتے مگر بہت کم ایسا ہوا کہ وہ زیادہ مدرسہ سے باہر ہوں، تقریباً پوری زندگی وہ یومیہ سولہ گھنٹے مدرسہ کو دیتے رہے۔ ان کی خواہش ہوتی کہ مدرسہ کا ہر ملازم اور استاذ ہر وقت مدرسہ میں موجود ہو، جس طرح اپنے لئے مدرسہ میں رہنا پسند کرتے اسی طرح دیگر افراد کیلئے بھی ان کا یہی تاثر ہوتا۔

خود انحصاری کی طرف قدم: صدر ضیاء الحق شہید کے بہت ہی دیرینہ دوست محترم جناب نذیر حسین صاحب جو صرف ضیاء الحق کے دوست نہیں تھے بلکہ وہ پاکستان کے دوست اور اس پر قربان ہونے والے مرد مجاہد تھے کئی عرصہ امریکہ میں پاکستان کی محبت کی وجہ سے پابند سلاسل رہے، بہت بڑے بزنس مینوں میں شمار ہوتا تھا امریکہ میں گرفتاری کی وجہ سے ان کا کاروبار ختم ہوچکا تھا جب واپس پاکستان آئے تو ضیاء الحق نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔ محترم نذیر صاحب اپنے طور پر جامعہ بنوریہ تشریف لائے اور حضرت مفتی صاحب سے ملاقات کی۔ نذیر صاحب میں دین داری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، مذہبی اداروں سے انہیں محبت تھی، انہوں نے مفتی صاحب کو تجویز دی کہ مذہبی اداروں کو چاہئے کہ وہ صرف چندوںپر اکتفاء نہ کریں۔ اداروں کی تعمیر وترقی کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے منافع بخش جائز ذرائع اختیار کرنے چاہئیں چنانچہ ان کی تجویز پر ریسٹورنٹ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا مفتی صاحب نے باقاعدہ اس مقصد کیلئے پروگرام ترتیب دیا جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب کو افتتاح کی دعوت دی جنہوں نے ریسٹورنٹ کا افتتاح دعا سے کیا۔

مفتی صاحب نے خود انحصاری پر خصوصی توجہ دی اور جامعہ کی آمدنی میں اضافہ کیلئے اس پروگرام کووسعت دی جس کا مثبت نتیجہ سامنے آیا کہ آج لاکھوں روپے اس کاروبار کی وجہ سے جامعہ کو حاصل ہورہے ہیں، یہ آمدنی جامعہ کے طلباء پر خرچ ہورہی ہے، مفتی صاحب کی خواہش تھی کہ دوسرے دینی ادارے بھی ایسے کاوباری سلسلے شروع کریں تاکہ طلباء کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو۔

عظیم مدرس:
مفتی صاحب کی زندگی کا غالب ترین پہلو تدریس تھا، جب وہ مسند تدریس کی رونق بنتے تو علمی نکات کی وضاحت اور سبق کا پر مغز خلاصہ بیان کرتے اور احادیث کے مشکل مقامات پر ان کی توجیہات وتطبیقات ان کی وسعت مطالعہ کی غماز ہوتی تھیں۔ حضرت کے وہ شاگرد جنہوں نے ان سے جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں تلمذ کا شرف حاصل کیا ان کا کہنا ہے کہ حضرت مقامات حریری اور مختصر المعانی اس انداز میں پڑھاتے گویا حضرت کو کتاب ازبر ہے، مشکل ابحاث کو گویا حلوہ بناکر طلباء کے سامنے پیش کرتے تھے، تعلیمی سال کے اختتام پر ایک مناسب ترتیب کے ساتھ نہایت خوش اسلوبی سے کتاب کو اپنے وقت سے قبل مکمل فرماتے تھے۔ آپ 41 سال تدریس سے وابستہ رہے۔

شفقتوں کا پیکر:
ان کی شخصیت میں بناؤ سنگھار کا کوئی گزر نہیں تھا بلکہ تواضع اور سادگی آپ کا طرۂ امتیاز تھا، اکثر و بیشتر طلباء فرمائش کرتے استاذ جی! بہت عرصے سے آپ نے دعوت نہیں کی تو آپ فوراً دعوت کرلیتے تھے، کوئی بھی سائل آپ کے پاس آتا چاہے عالم ہو یا عامی آپ اسے خالی ہاتھ نہ لوٹاتے تھے گویا صبح سے شام تک سائلین کا رَش ہوتا تھا۔ حال ہی میں کرونا وائرس کی وجہ سے بیرون کے طلباء ایئر لائن کی بندش کی وجہ سے پھنس گئے، اسی طرح تبلیغی جماعت میں آئے ہوئے بیرون کے مہمان بری طرح پھنس گئے جن کو ٹھہرانے کیلئے کوئی مسجد یا تبلیغی مرکز تیار نہیںتھا حالات کی نزاکت کی بناء پر حضرت مفتی صاحب نے تقریباً سو جماعتیں بنوریہ ہی میں ٹھہرائیں، بیرون کے طلباء اور تبلیغی احباب کا بھرپور اکرام اور مہمان نوازی کی۔ حضرت مفتی صاحب قدس سرہٗ ان شخصیات میں سے تھے جن کی نظیریں ہر دور میں گنی چنی ہوا کرتی ہیں۔

مفتی صاحب کی تبلیغی خدمت :
حضرت مفتی صاحب تمام دینی جماعتوں کی سرپرستی فرماتے تھے مگر خصوصی لگاؤ احیائِ دین کی عالمی تحریک دعوت و تبلیغ سے تھا اسی وجہ سے اپنے ادارے کے اساتذہ، طلباء وفضلاء کو خصوصی ترغیب دیتے تھے کہ جماعت میں وقت لگائیں اور ساتھ ساتھ ان کی نصرت اور مالی تعاون بھی فرماتے تھے، وقتا فوقتاً تبلیغی جماعت کے اکابرین سے ملاقات کیلئے رائیونڈ تشریف لے جاتے تھے، اسی طرح تبلیغی جماعت کے اکابرین مفتی صاحب کے پاس تشریف لاتے تھے۔ وفات سے چند گھنٹے قبل بھی خواہش کا اظہار کیا کہ کسی طرح مرکز نظام الدین پر تمام حضرات متفق ہوجائیں، مفتی صاحب اتحاد بین المسلمین کے علمبردار تھے، ہم اللہ رب العزت کے حضور دعا گو ہیں کوئی ایسی صورت پیدا فرمادے کہ حضرت مفتی صاحب کی آخری خواہش کی تکمیل ہوجائے۔ آمین!

معاملہ فہمی:
حضرت مفتی صاحب کے اوصاف عالیہ میں سے اعلیٰ ترین وصف معاملہ فہمی اور گہرائی ہے، بڑے بڑے الجھے ہوئے معاملات کو بڑی خوش اسلوبی سے سلجھا دینا حضرت مفتی صاحب کا خصوصی کارنامہ تھا، تقریباً ہر روز مختلف مدارس و مساجد کے معاملات، اسی طرح گھریلو جھگڑے اور کاروباری معاملات کے حل کیلئے لوگ آپ سے رجوع کرتے تھے۔ اکثر آپ فریقین کی گفتگو سننے کے بعد فرماتے تھے، دار الافتاء والے جو فیصلہ دیں میرا فیصلہ بھی وہی ہوگا۔ وہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس شوری کے متحرک رکن تھے۔ مدارس پر جب بھی مشکل وقت آیا تو مفتی محمد نعیم نے سب سے پہلے آواز بلند کی۔ مدارس کے نصاب سے لے کر ان کی رجسٹریشن کے معاملے پر جب بھی تحریک شروع ہوئی وہ اس کا ایک سرگرم حصہ رہے۔ مفتی محمد نعیم کی شخصیت ایک ایسی پر کشش شخصیت تھی کہ مدارس کے معاملے میں ہر کسی کی نگاہ انہیں کی جانب ہوتی تھی۔ حکومت و مدارس کے درمیان جب بھی کسی معاملے پر ڈیڈ لاک ہوا تو حکومتی اراکین نے مفتی نعیم سے ہی مدد لی اور تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے ہر مسئلے کو دانشمندی اور احسن طریقے سے حل کیا۔

والد صاحب کی نصیحتیں:

والد صاحب ہمیشہ مجھے یہ نصیحت کرتے تھے: بیٹا! ہمیشہ تحمل مزاجی سے فیصلہ کیا کرو۔ وہ ہمیشہ مجھے یہ بات سمجھاتے تھے کسی معاملے کے اندر جذباتیت اور نفسانیت سے کام نہ لو، بلکہ پہلے اس کو سنو اپنے جذبات کو کنٹرول کرکے اور بہت ہی تحمل مزاجی سے اور اچھے انداز میں، اس کے بعد معاملات کو سلجھایا کرو۔ میری 2005؁ء کے آخر کی فراغت ہے، اس کے بعد میں نے تبلیغ میں ایک سال لگایا، یہ میری ذاتی خواہش بھی تھی اور دادا جان اور والد صاحب کی آرزو بھی، اس کے بعد 2007-8ء میں مجھے شعبہ بیرون کی ذمہ داریاں سونپ دی تھیں، فرماتے تھے: بیٹا تحمل مزاجی سے بات کرو اور تحمل مزاجی سے فیصلے کرو، اس کے ساتھ ساتھ والد صاحب یہ کہا کرتے تھے کہ ہمیشہ دوسروں کیلئے جیو، اپنے لئے تو ہر کوئی جیتا ہے لیکن دوسروں کیلئے جینا سیکھو، اور ان کے لئے کام کرو، انہوں نے دنیا میں عملی طور پر دکھایا بھی کہ وہ کس طرح کام کرتے تھے، تیسرے نمبر پر والد صاحب ہمیشہ یہ کہتے تھے: بیٹا خاندان والوں کو جوڑ کر چلو، اور تمہیں ہی اپنے بہن بھائیوں سب کو لیکر چلنا ہے اور اسی طرح مدرسے کی ذمہ داری اگر تم پر آتی ہے تو پیار و محبت سے سب کو لیکر، باہمی اتحاد و اتفاق کے ساتھ چلنا۔

والد صاحب کی زندگی کا پیغام:
آپ اگر والد ہوں تو ہمیشہ بڑی تحمل مزاجی کے ساتھ، پیار و محبت کے ساتھ اور آپس میں جوڑ اور باہمی اتحاد اور اتفاق کے ساتھ اپنے خاندان کو لیکر چلیں بہت ساری اونچ نیچ ہوتی ہے ہر معاملے میں، لیکن والد صاحب کی جو ایک سوچ تھی اور طریقہ کار تھا وہ یہ تھا کہ وہ معاملے کو ہمیشہ درگزر کرتے تھے، پوری امت خاص کر آج کل کے نوجوانوں کو درگزر کا معاملہ کرنا چاہیے، اگرچہ آپ کی طبیعت پر بھاری بھی پڑ رہا ہو اور یہ بھی کہ آپ سمجھ رہے ہوں کہ یہ صحیح نہیں ہے، لیکن اس وقت اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے درگزر کرنا اور اس کے ساتھ ایک مسیج یہ بھی ہے کہ ’’وامّا ما ینفع الناس یمکث فی الارض‘‘ ہمیشہ لوگوں کے کام آئیں گے اور لوگوں کے کام کریں گے اور ان کے دکھ درد میں شامل ہوں گے، لوگوں کے ساتھ شانہ بشانہ ہوکر چلیں گے، ان کے مسائل کو حل کریں گے تو یقین جانیے اللہ کو یہ عمل بہت پسند ہے، اس عمل کی برکت سے آپ کے جنازے گواہی دیں گے کہ آپ اس دنیا میں کتنی عظیم شخصیت ہوا کرتے تھے، آپ اس دنیا میں کتنا زبردست کام کرکے گئے ہیں، ہمیشہ پیار و محبت، باہمی اتحاد و اتفاق اور فرقہ واریت سے بالاتر ہوکر آپس میں ایک دوسرے کو سینے سے لگائیں، اور ایک دوسرے سے محبت کریں۔

وفات :
خلق خدا کی رشد و ہدایت کے لیے تصنیف و تالیف، امامت و خطابت، عوام الناس کی مشکلات کے حل کے لیے جرگہ، دینی مدارس کی خدمت اور مختلف شرور سے ان کی حفاظت، روزانہ دس پاروں کی منزل، میڈیا میں دینی حلقوں کی توانا نمایندگی، اتحاد امت کے لیے مختلف ممالک اور قومیتوں کے بچوں کو ایک جگہ ایک امت کے طور پر تعلیم دینا اور ایسی ہی دیگر بہت ساری خدمات کے ذریعے آپ نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ کی راہ میں لگادیا۔

20 جون 2020ء کو نمازمغرب کی ادائی کے بعدطبیعت خراب ہوئی۔ ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دل کادورہ پڑااور انتقال کرگئے۔ ان کے جنازے میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تین لاکھ سے زائدافراد شریک ہوئے۔ جنازہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے پڑھایا۔ ان کی تدفین جامعہ بنوریہ عالمیہ کے قبرستان میں ہوئی۔

مأخَذ

ازکتاب:سوانح شیخ الحدیث مفتی محمدنعیمؒ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
43