(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولانا نعمان نعیم

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں

مفتی نعمان نعیم پاکستان کے جید اور باثر عالم دین مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ محترم مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ کا شمارمملکت پاکستان کے صفِ اول کے بااثر علماء میں ہوتا ہے ۔ مفتی نعمان نعیم پاکستان کے مشہور مذہبی اسکالر، رہنما اور مبلغ ہیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سے تاحال جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مدارس دینیہ کا نمائندہ بورڈ مجمع العلوم الاسلامیہ کےموجودہ نائب صدر ہیں ، اس کے علاوہ کئی مشہور اداروں کے مدیر اور مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دین ِ اسلام کی تبلیغ اور ترویج کی غرض سے کئی ممالک کے تعلیمی اور تبلیغی دورے اور اسفار بھی کرچکے ہیں ، سوسائٹی کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے لیے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز اور سیمینارز میں بحیثیت اسلامک اسکالر کے تعلیم ، معیشت ، صحت، ملکی امن وسلامتی ، مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے پر تقریریں اور لیکچرز دیتے ہیں۔

مفتی نعمان نعیم مختلف ملکی اور غیر ملکی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے علمی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
میرے والدگرامیؒ:پہلی قسط
مولانامفتی نعمان نعیم (صاحبزادہ وجانشین مفتی محمد نعیم نوراللہ مرقدہ) ابتدائی حالات:
میرے والد محترم، شیخ الحدیث، استاذ العلماء، ہمدرد قوم وملت حضرت مولانا مفتی محمد نعیم نوراللہ مرقدہ جہاں ایک کہنہ مشق، ثقہ اور قابل اعتماد عالم دین، مفکر اسلام اور بہترین خطیب تھے، میڈیا پر اسلام کے بہترین ترجمان، دینی مدارس اور دینی کاز کے محافظ تھے، شیخ الحدیث، امام تراویح اور بہترین قاری تھے، وہاں ایک خدا ترس، انسان دوست اور خدمت خلق کی پیکر رفاہی شخصیت بھی تھے، چھوٹوں کی حوصلہ افزائی، کام پر شاباش اورتشجیع کے ساتھ اپنے طبقہ کے دردمندوں کا لحاظ رکھنا آپ کا خاص وصف تھا۔ کوشش کروں گاکہ ان کی متنوع خدمات کا کچھ تذکرہ کرسکوں۔

حضرت مولانا عبید اللہ سندھی اور حضرت مولانا احمد علی لاہوری کی طرح مفتی محمد نعیم کا تعلق بھی ایک نو مسلم خاندان سے ہے۔ ۱۹۳۴؁ء میں قاری عبد الحلیم کے والد محترم جمشید صاحب سوڈان میں کسٹم آفیسر کی حیثیت سے ملازمت کیا کرتے تھے، انہیں سوڈان میں اسلام قبول کرنے کی پیشکش ہوئی تو انہوں نے اسلام لانے سے قبل اسلامی تعلیمات کو پڑھا، اسلام کو خوب سمجھا اور پھر قبول کیا، انہیں اسلامی تعلیمات کو دیکھنے کے بعد احساس ہوا کہ اصل اور حق پر مبنی مذہب صرف اور صرف اسلام ہے، ان کا نیا اسلامی نام عبد اللہ رکھا گیا، جناب عبد اللہ صاحب سوڈان سے انڈیا آگئے اور اپنی فیملی کو اپنے اسلام لانے کی اطلاع دی اور گھر والوں کو سمجھایا کہ تم بھی کلمہ حق پڑھ لو، اس پر ان کی والدہ، بہن، دو بیٹیوں برجور (قاری عبد الحلیم) اور سہراب نے اسلام قبول کرلیا۔ لیکن ان کی خوش دامن کو اعتراض تھا اور خاندان کی بڑی ہونے کی حیثیت سے انہوں نے خاصی مشکلات میں ڈال دیا اور پھر وہی پریشانیاں رہیں جو عام طور پر نو مسلموں کو پیش آتی ہیں۔

میرے دادا قاری عبد الحلیم صاحب کا پارسی نام برجور تھا، بام خاندان سے تعلق تھا، اور اسلام لانے کے وقت ان کی عمر ۴؍ برس تھی، ان کی خوش دامن کٹر پارسی تھیں، انہوں نے نہ صرف یہ کہ اسلام قبول نہیں کیا بلکہ بائیکاٹ کیا، اور کہا کہ یہ برجور منحوس ہے اسی کی وجہ سے ہمارے گھر میں اسلام آیا، مشکلات، پریشانی اورکٹھن حالات کے پیش نظر عبداللہ صاحب ہجرت کرکےحیدرآباددکن چلے گئے، کیونکہ بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ وہاں کے مسلمان بہت اچھے ہیں، وہاں آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی، چنانچہ بحمدللہ حیدر آباد دکن کے مسلمانوں کے رویے سے ان کی والدہ بہت خوش ہوئیں، والدین نے قاری صاحب کو ڈابھیل کے ایک مدرسہ میں حفظ قرآن کیلئے داخل کیا، یہ وہ زمانہ تھا جب اس مدرسہ میں حضرت مولانا انور شاہ کشمیری بھی پڑھایا کرتے تھے، کون جانتا تھا کہ یہ چار سال کانو مسلم بچہ اسلام لانے کے بعد اسلامی تعلیمات کو پورے عالم میں پھیلانے کا باعث ہوگا، حفظ قرآن کریم کی سعادت حاصل کرنے کے بعد قاری عبد الحلیم صاحب نے پہلی تراویح ممبئی بنڈھی بازار میں پڑھائی اور ممبئی میں ہی انہوں نے اسکول کی تعلیم حاصل کی۔

قاری صاحب کے والد محترم جناب عبداللہ کا ویسے تو چند سال مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ آنا جانا لگا رہا، لیکن آخری عمر میںیہ نیت کرکے کہ میری موت وہیں واقع ہو اور مجھے مدینہ منورہ کے قبرستان میں دفنایا جائے، ۱۹۴۳؁ء سے مستقل مدینہ منورہ میں سکونت اخیار کرلی، اعزہ واقربا نے بار بار اصرار کیا کہ آپ پاکستان کچھ عرصہ کیلئے ہی آجائیں لیکن وہ بضد تھے اور کہتے تھے کہ مجھے ڈر ہےکہ میری موت کہیں اور واقع نہ ہوجائے۔ پاکستان بننے کے بعد یہ فیملی ۱۹۴۸؁ء میں ہجرت کرکے پاکستان آگئی، ہندوستان سے لٹ پٹ کر آنے والی اس فیملی نے یہاں تیرہ سو گز کا بنگلہ اس زمانہ میں انتالیس ہزار روپے میں خریدا، لوگوں نے کہا کہ آپ پیسے دے کر بنگلہ خرید رہے ہیں حالانکہ آپ کو ہندوستان سے بدحال کرکے بھیجا گیا ہے، قاری صاحب نے کہا کہ ہمارے لئے یہ جائز نہیں کہ ہم بغیر پیسے دیئے اس بنگلے میں سکونت اختیار کریں، پاکستان آنے کے بعد قاری عبد الحلیم نے سب سے پہلی تراویح سولجر بازار کے علاقہ میں واقع مسجد قباء میں پڑھائی، ۱۹۵۳؁ء میںمکی مسجد میں تراویح پڑھانی شروع کی اور مسلسل تیرہ سال تک یہیں تراویح پڑھاتے رہے، اسی وجہ سے ان کا نام قاری عبد الحلیم مکی مسجد والےپڑگیا اس دوران مکی مسجد کی مسلسل تروایح میں قاری صاحب کی شخصیت اور مسحور کن آواز میں تلاوت قرآن سے متاثر ہوکر اس وقت کے تبلیغی جماعت کے بزرگ حاجی خدا بخش مرحوم نے اپنی بیٹی صدیقہ کا رشتہ طے کردیا۔ یوں ایک میواتی فیملی کا رشتہ دہلی پنجابی سوداگران سے طے پایا، حاجی خدا بخش مرحوم کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا اور وہ انتہائی نیک، صالح و متقی انسان تھے، ساری زندگی تبلیغی خدمات انجام دیں۔

قاری صاحب اپنے بھائی کے ہمراہ اس بنگلہ میں رہا کرتے تھے لیکن والدہ کی خواہش پر گارڈن کے علاقہ میں رہائش اختیار کی۔ تبلیغی جماعت کے ایک بزرگ بھائی ابراہیم عبد الجبار نے مزدوروں کیلئے چھوٹے چھوٹے مکان بنوائے تھے، ان میں سے ایک مکان قاری صاحب کو کرایہ پر دے دیا گیا وہ اس میں منتقل تو ہو گئے مگر انہوں نے اس مکان میں بڑی تکلیفیں اٹھائیں، چھوٹا سا مکان تھا، بجلی نہیں تھی، سخت گرمی میں گزارہ کرتے تھے، رہائش ناموافق ہونے کی بنا پر پرانا گولیمار میں رہائش اختیار کی، لیکن یہاں فقط چھ مہینے کا عرصہ گزرا، پھر قاری صاحب کی والدہ کی ایک سہیلی نے اسٹار ملز سائٹ کے مالک سے سفارش کرکے قاری صاحب کو اسٹار ملز کالونی کے مدرسہ میں قرآنی خدمات پر مامور کیا، اسٹار ملز کی ورکرز کالونی میں سیکڑوں مکانات تھے، جن میں سے ایک مکان انہیں رہائش کیلئے دیا گیا، جہاں وہ ایک لمبا عرصہ مقیم رہے۔

مفتی صاحب کے ابتدائی حالات:
حضرت مفتی صاحب کی ولادت با سعادت ماہ مارچ سن ۱۹۵۶؁ء میں شہر کراچی میں ہوئی۔ جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیںکہ میرے دادا جان قاری عبد الحلیم اکابر اولیا میں سے تھے اور پاکباز انسان تھے، جن کی زندگی تبلیغی امور اور خدمت قرآن کی دولت سے مالا مال تھی۔ حضرت مفتی صاحب نے دار العلوم نانک واڑہ سے اپنی علمی زندگی کا آغاز کیا اور قاری فتح محمد صاحب نور اللہ مرقدہٗ سے انتہائی کم عمری میں قرآن کریم حفظ مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی۔ پھر اس کے بعد دس یا گیارہ سال کی عمر میں آپ نے پاکستان کے مرکز علوم دینیہ جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن کی شہرت سن کر اس کو علم دین کے حصول کیلئے منتخب فرمایا، تعلیمی شغف و قابلیت کی وجہ سے جلد ہی آپ اپنے اساتذہِ کرام کے نور نظر بن گئے اور نو سال کے عرصہ میں وہاں کے مشاہیر و یکتائے روزگار علماء سے فیض علمی وباطنی بدرجہ اتم حاصل کیا، حضرت مفتی صاحب نے تعلیم کے ساتھ ساتھ فارغ اوقات میں اساتذہِ کرام کی خدمت کو اپنا شیوہ بنالیا تھا، اساتذہ کرام کا کھانا گھروں سے لانا اور دیگر ضرورت کی چیزوں کا بازار سے مہیا کرنا ان کا معمول تھا یہ خدمات انجام دینے کی وجہ سے اساتذہ کے محبوب بن گئے خصوصاً حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہٗ سے آپ کو ایک خصوصی تعلق ہوگیا تھا اور دوسری طرف حضرت مفتی احمد الرحمن صاحب نور اللہ مرقدہٗ کی نگاہ شناس شخصیت نے بھی بھانپ لیا تھا کہ مستقبل میں یہ ہونہار طالبعلم دین کی خدمات میں اونچا نام پیدا کرے گا، اس لئے حضرت مفتی صاحب نے آپ کی خصوصی تربیت شروع کردی اور مخصوص شفقت ومحبت کا معاملہ فرماتے رہے، آپ اساتذہِ کرام کی نگرانی میں ہر درجے میں امتیازی نمبرات لے کر کامیابی کے مراحل طے کرتے رہے، سن ۱۹۷۹؁ء میںتقریبا ۲۱ سال کی عمر میں نمایاںنمبرات کے ساتھ دورۂ حدیث کی تکمیل فرماکر اساتذہِ کرام سے دستار فضیلت اور سند فراغت حاص کی۔

جامعہ بنوریہ عالمیہ کا قیام:

اسی دوران حضرت مفتی صاحب نے محدث عصر علامہ محمد یوسف بنوری صاحب  نور اللہ مرقدہٗ کی طرف سے کی گئی خاص تلقین پر اسٹار کالونی میں مفتی احمد الرحمن صاحب کی زیر نگرانی حفظ و ناظرہ کے ابتدائی مدرسے کا آغاز کیا کچھ عرصہ میں ہی اس مدرسہ نے کافی ترقی کی اور درجہ رابعہ تک کتابیں پڑھائی جانے لگیں جگہ کی قلت کی وجہ سائٹ تھانہ کے ساتھ ایک جگہ مدرسے کیلئے حاصل کی اور اس ابتدائی مدرسہ کو اس بڑی جگہ میں منتقل کردیا گیا اور چند سالوں میں ہی مدرسہ نے جامعہ کی شکل اختیار کرلی اور کراچی کی جامعات میںاس کا شمار ہونے لگا اور بالآخر جامعہ بنوریہ عالمیہ کے نام سے موسوم ہوا۔ ۱۹۹۰؁ء تک جامعہ کے طلباء دورۂ حدیث کی تعلیم کیلئے اپنے مہتمم اور اساتذہ کے مادر علمی جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں جاتے رہے لیکن ۱۹۹۰؁ء میں بزرگوں کے مشورے اور طلباء کے اصرار پرجامعہ بنوریہ عالمیہ میں دورہ حدیث کا باقاعدہ آغاز ہوا جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔

حضرت کے شب و روز:
حضرت مفتی صاحب کی گونا گوں مصروفیات جن میں سے جامعہ کا انتظام و اہتمام اور اس میں موجود تمام شعبوں کی نگرانی اور اس کے ساتھ ساتھ درس و تدریس، مساجد کے مسائل، لوگوں کے مسائل حل کرنا اور رفاہی امور میں حضرت کی دلچسپی، آپ صبح وشام ان سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔

مفتی محمد نعیم بحیثیت والد:
سب لوگ یہی کہتے ہیں کہ والد اور ابو ہر کسی کے مشفق ہوتے ہیں، لیکن میں چند چیزیں آپ کے سامنے وہ رکھوں گا اور صرف اس نیت سے رکھوں گا تاکہ نئی نسل اور نئے آنے والے لوگوں کیلئے جو والد کے درجے پر آئیں گے، باپ بنیں گے جس طرح میں اپنی اولاد کا والد ہوں، ہم میں سے ہر والد کے لئے ان کی زندگی میں سبق بلکہ اسباق پوشیدہ ہیں، میں نے اپنے والد صاحب سے کیا سیکھا؟ میرے والد صاحب کس طریقے سے اپنے گھر میں رہا کرتے تھے؟ اور اپنی اولاد کو وہ کس طرح اپنے گھر میں رکھتے تھے اور کس طرح ان کی زندگی گزرتی تھی ہمارے ساتھ، میں ان کی زندگی کے وہ پہلو اجاگر کروں گا جو میرے خیال میں اب تک کسی کے علم میں نہیں ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ میرے والد محترم گھر کے اندر جب تشریف لاتے تھے تو ان کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ ان کی ساری فیملی اور ان کے بچے ان کے اردگرد ہونے چاہییں، چاہے وہ میرے بچے ہوں، میری بہن کے بچے ہوں، چاہے وہ میرے بھائی کے بچے ہوں، غرض کہ ہمیں پتہ تھا کہ والد صاحب کی خواہش یہ ہے کہ جب بھی میں گھر میں داخل ہوں چھوٹے بچے ہوں یا بڑے، سارے میرے اردگرد ہوں، ہمیں یہ بھی پتہ تھا کہ کس وقت والد صاحب گھر میں داخل ہوں گے، مثلاً والد صاحب صبح تہجد کے وقت ہی مسجد چلے جایا کرتے تھے، والد صاحب کا معمول تھا کہ کبھی تہجد ان سے فوت نہیں ہوئی، الحمدللہ! تہجد کے بعد والد صاحب کا مستقل معمول تھا کہ وہ ’’مناجات مقبول‘‘ پڑھا کرتے تھے، اس کے ساتھ اشراق تک وہ مسجد میں تشریف رکھتے تھے پھر وہ اشراق پڑھ کر اپنے دفتر تشریف لے جاتے وہاں پر والد صاحب کا دستر خوان لگتا تھا، 7 ساڑھے 7 بجے تک یہ سلسلہ چلتا رہتا تھا، اس سے پہلے بھی کچھ مہمان آجایا کرتے تھے، خاص طور پر مساجد کے جو مسائل تھے، یا لوگوں کو جو خانگی اور کاروباری مسائل ہوا کرتے تھے، ان کو فجر کے متصل بعد والد صاحب حل کیا کرتے تھے۔ والد صاحب ناشتے کے بعد دوبارہ اپنے دفتر میں آجاتے اور ان کا دستر خوان ہر عام و خاص سب کیلئے ہوا کرتا تھا، ہر آدمی آکر دستر خوان پر بیٹھ جایا کرتا تھا، کھانے پینے کا ان کا جو نظام اور دستر خوان تھا وہ وسیع ہوا کرتا تھا۔

پھر والد صاحب دفتر میں اپنے جو مدرسے کے مسائل تھے ان کو حل کرتے تھے، اس کے بعد والد صاحب 11 سوا 11 بجے واپس گھر تشریف لاتے تھے تو اس وقت وہ کہتے تھے: جب میں آؤں تو سارے بچے میرے اردگرد ہونے چاہئیں چنانچہ کھانے کیلئے جب وہ بیٹھتے تھے تو چھوٹے بچے آتے تھے ایک آکر ان کی گود میں بیٹھتا تھا اور دوسرے بچے کو اپنے پہلو میں بازو کے پاس بٹھایا ہوا ہوتا تھا، اس کو دیکھ کر مسکراتے تھے، ہنستے رہتے تھے، کبھی ماتھے پر بوسہ دیتے تھے، خلاصہ یہ کہ والد صاحب بچوں کے ساتھ بہت ہی زیادہ محبت کرتے تھے، خاص طور پر ہماری جو فیملی تھی بہن بھائیوں کی اس میں والد صاحب اس طرح رہا کرتے تھے کہ جیسے وہ والد نہیں بلکہ ہمارے ایک دوست ہیں اور وہ ہر بات ہم سے شیئر کرتے تھے، بیٹا! آج میں نے یہ معاملات حل کئے، دفتر میں یہ مسئلہ آیا تھا میں نے اس کو اس طرح حل کیا اور خاص طور پر مجھ سے کہتے تھے: بیٹا! اس طرح معاملات آتے ہیں، دیکھا کرو، سیکھا کرو، میں اس طرح مسئلہ حل کرتا ہوں۔

گھر میں تشریف لاتے تھے تو ساری بہنوں کیلئے بھی ضروری ہوتا تھا کہ ابو آگئے ہیں لہٰذا گھر میں اب ان کے اردگرد ہی رہنا ہے، جب تک وہ سو نہ جائیں تب تک ہم ان کے ساتھ رہتے تھے، کوئی بچہ پاؤں دبارہا ہے، کوئی ان کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ اس طرح وہ اپنا وقت گزارتے تھے پھر اس کے بعد والد صاحب اپنے دفتر میں تشریف لے آتے تھے اور یہاں سے پونے دو بجے اٹھتے تھے، دو بجے نماز ہوتی تھی ظہر کی نماز کی امامت خود ہی کراتے تھے، پھر نماز کے بعد وہیں پر سنتیں ادا کرکے وہاں سے واپس آتے تھے، پھر وہ ایک لمبا وقت (ہمیشہ عشاء کے بعد تک) دس گیارہ بجے تک دفتر میں بیٹھتے تھے، دس گیارہ بجے جب دوبارہ وہ گھر آتے تھے تو ہم سارے دوبارہ سے اپنے کمروں سے آکر ان کے پاس جمع ہوجایا کرتے تھے، دستر خوان لگتا تھا اور رات کا کھانا ہم سب مل کر والد صاحب کے ساتھ کھاتے تھے اس موقع پر بھی مزاحیہ لطیفے اور ٹوٹکے ہمارے سامنے رکھتے رہتے تھے۔ کچھ ان کے تکیہ کلام تھے، مثلاً: ’’ہاں بھائی! کیا بات ہے آج تم دعوت کررہے ہو‘‘، ’’تم کب دعوت کررہے ہو‘‘، ’’سو آدمی کا کھانا بنانے جارہے ہو‘‘، وغیرہ وغیرہ! اس طرح ہمیشہ ان کا معاملہ رہتا تھا کہ مہمان ان کے دروازے پر رہیں۔ ان کا دستر خوان وسیع تھا، ان کی بات اس پر چلتی رہتی تھی کہ: ’’سو آدمیوں کا کھانا کل بنانا ہے‘‘، ’’اپنے لوگوں کا کھانا بنانا ہے‘‘، ’’کل میرے اتنے مہمان آرہے ہیں‘‘، وغیرہ وغیرہ! دادا کے انتقال کے بعد والد صاحب ہی بڑے تھے اور دادا کی طرح انہوں نے سب کو جوڑ کر ہی رکھا، میرے چچا اور میری پھوپھیاں سب (بلکہ دادا کے زمانے میں بھی، اللہ نے ایسا رتبہ دیا تھا ابو کو چونکہ وہ سب کے مسئلے مسائل حل کرتے تھے) خاندانی مسائل وغیرہ ابو کے پاس ہی لایا کرتے تھے، اس وجہ سے ابو کا معاملہ ایسا تھا، اگر ہم لوگ اپنے چچاؤں کے گھر میں جائیں تو تب بھی سب بہنیں اور چچا وغیرہ ان کے اردگرد بیٹھ جایا کرتے تھے اور والد صاحب درمیان میں ہوتے تھے اور ان کی گفتگو جو ہوتی تھی اور گپ شپ لگاتے تھے، مزاح کرتے تھے اور بہت اچھے انداز میں وہ ڈیل کررہے ہوتے تھے تو اس میں ہر آدمی یہ سمجھتا تھا کہ مفتی صاحب ہمارے ہیں، سب سے زیادہ پیار مجھ سے کرتے ہیں۔ ظاہر بات ہے خاندانی مسائل ہوتے ہیں شادی شدہ جو بچے بچیاں ہیں، ان کے گھریلو مسائل آتے تو والد صاحب ہی ان کے سارے مسائل حل کرتے تھے۔ یہاں تک ہوتا تھا کہ کبھی دامادوں کے گھر جارہے ہیں، کبھی بیٹیوں کے گھر جارہے ہیں اور آپس میں بیٹھ کر صلح صفائی کروارہے ہیں … تو غرض یہ ان کا مستقل مشفقانہ رویہ رہتا تھا۔

اسفار میں مشفقانہ رویہ اور ملنساری:
جب ہم شادی شدہ بھی ہوگئے تھے، ہماری شادی بھی ہوگئی تھی تو جب بھی ہم سفر پر جاتے کسی بھی ملک کا سفر ہوتا خاص طور پر امریکہ کا سفر (کہ میں ۱۳؍ یا ۱۴؍ سال کا تھا اس وقت سے میرا ان کے ساتھ سفر ہورہا ہے) اسفار میں والد صاحب اس قدر شفقت کرتے اور خیال رکھتے تھے جیسا کہ چھوٹے بچوں کو خیال رکھا جاتا ہے، پاسپورٹ اور ساری ڈاکومنٹیشن اور کاغذات اور ہر چیز اپنے ہاتھ اور اپنی جیب میں رکھتے تھے کہ کہیں تم آگے پیچھے کردوگے، یہاں تک کہ میری شادی بھی ہوگئی تو جب بھی سفر ہوتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ میں اپنے ہاتھ میں سارے پاسپورٹ رکھنا چاہتا ہوں، پاسپورٹ کاؤنٹر پر جب ہم جاتے تھے تو وہ خود ہی پاسپورٹ دیتے تھے تو کاؤنٹر والوں سے بڑی گپ شپ لگاتے تھے، ان سے مذاق کررہے ہوتے، ایک دوستانہ ماحول بنالیا کرتے تھے، آس پاس لوگ بیٹھے ہوئے ہیں تو وہاں ائیرپورٹ پر اور ساتھ بیٹھے ہوؤں کے ساتھ دوستی والا ماحول بنالیا کرتے تھے، چاہے وہ کسی بھی مکتب فکر کا ہو، بسا اوقات ہمارے جو دعوت اسلامی سے تعلق رکھنے والے بھائی ہیں، اسی طرح دوسرے مکتب فکر کے لوگ ہیں، مفتی صاحب فرماتے: ’’ہاں جی اور سناؤ کیا حال ہے، کیا چل رہا ہے، بڑوں کا کیا حال احوال ہے‘‘، ان کی کارگزاری سنتے تھے اور پھر کہتے تھے کہ ان کو میرا سلام عرض کردینا، تو ہم نے سفروں میں دیکھا کہ والد صاحب رکھ رکھاؤ کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔ والد صاحب ماشاء اللہ سفر میں (اللہ نے ان کو بڑی ذہانت دی تھی) ہر اعتبار سے کسی چیز کو بھولتے نہیں تھے، بلکہ ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز ان کو یاد رہتی تھی، ان کے اکثر اس طرح کے جملے سفر میں بار بار سماعتوں سے ٹکراتے تھے: ’’ہاں بھائی! فلاں کو فون کیا یا نہیں کیا‘‘؟ ’’فلاں سے تم نے پوچھا کہ وہ سفر کرکے آگیا‘‘؟ ’’اس سے پوچھو کیا حال احوال ہیں‘‘، ’’دعوت کی یا نہیں کی‘‘؟ ’’گھر میں فلاں فلاں کی دعوت کرنی چاہیے‘‘۔ ’’فلاں وقت میں وہ سفر کرکے پہنچ آیا ہے‘‘۔ وغیرہ وغیرہ!

رشتہ داروں کے ساتھ معاملات:
چاہے دور کی رشتہ داری ہی کیوں نہ ہو پھر بھی ابو ان کا پوچھتے تھے، ان کا خیال رکھتے تھے اور ان کی دعوت کرتے تھے، جتنے بھی اقرباء ہیں اور خاندان والے ہیں ان کا بہت خیال رکھتے تھے اور کسی بھی چیز کی ضرورت ہوتی تھی تو وہ خاموشی سے ان کے مسائل حل کردیا کرتے تھے ہر اعتبار سے، عید پر بچوں کو عیدیاں دینی ہوتی تھیں تو ہمیشہ ابو پہلے سے کڑک نوٹ منگواکر رکھتے تھے، اس مرتبہ بھی عید پر والد صاحب نے کہا: بیٹا! دیکھو، اس صورتحال میں، اس سچویشن میں کوئی بینک نوٹ نہیں دے رہا، میں نے تم لوگوں کیلئے نکلوائے ہیں بیٹا! یہ لو عیدی، تم اس کو تقسیم کردینا تو اس طرح وہ بہت زیادہ خیال رکھتے تھے اور عید پر بھی کڑک نوٹ کا انتظام اور عیدی وہ اس طرح دیتے تھے اور والدہ سے بطور مذاق کہتے تھے: میری عیدی کہاں ہے، تمہارے ننھیال سے میری اب تک عیدی نہیں آئی …… ہماری یہ ترتیب تھی کہ عید کے پہلے دن ہم ننھیال (نانی اماں کے گھر) جاتے تھے، کھانے کی دعوت ہوتی تھی، عید وہاں پر گزارتے تھے دوسرے دن ہم ددھیال جاتے تھے، چچا وغیرہ کے ہاں دعوت ہوتی تھی اور تیسرے دن ہمارے گھر میں سارے خاندان کی دعوت ہوتی تھی، اس طرح وہ آپس میں سب کو بہت جوڑ کر رکھتے تھے۔

اولاد کے ساتھ مشفقانہ رویہ:
اولاد کے ساتھ تو بہت ہی مشفقانہ رویہ تھا، وہ ہر چیز پوچھتے تھے کہ بیٹا! تم نے کھانا کھایا وغیرہ وغیرہ! اور ایک بات بہت عجیب تھی والد صاحب کی اگر دستر خوان پر سالن رکھا ہوا ہو یا کچھ فروٹ رکھے ہوئے ہوں اور والد صاحب کبھی دیر سے آتے تھے تو وہ فروٹ اتنے ہی ہوں جو صرف والد صاحب کیلئے ہوں، (کیوںکہ جب وہ دعوت پر جاتے تھے تو دیر سے آتے تھے اور کھانا وہاں تھوڑا سا کھاتے تھے واپس گھر آکر کھانا تناول کیا کرتے تھے) تو وہ فروٹ جو ہم رکھتے تھے تو جب بچے جمع ہوتے تھے تو ایک دو خود کھاتے اور باقی وہ سب کو تقسیم کردیا کرتے تھے کہ تم لوگ بھی کھاؤ۔ ہم کہتے کہ یہ صرف آپ کیلئے رکھا ہوا ہے، ہم سب نے کھالیا ہے، تب بھی وہ بولتے کہ: نہیں! نہیں! تم لوگ بھی کھاؤ، اسی طرح جب محسوس کرتے کہ کھانا کم پڑرہا ہے تو کھانے پر سے بھی جان بوجھ کر اپنا ہاتھ کھینچ لیا کرتے تھے، (ظاہر بات ہے گھر میں ایک دو قسم کے کھانے ہوتے ہیں، ایک کم ہوگیا تو والد صاحب پھر کبھی اس کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ میرا سامنے والا میرا بیٹا، میری بیٹی کھائے) ہمیشہ والد صاحب اس کا بہت خیال رکھتے تھے۔

ہجوم، مشاغل و عوارض کے باوجود تلاوت کی پابندی:
والد صاحب ہر وقت چلتے پھرتے تلاوت کرتے تھے۔ جیسے: کسی کا مسئلہ حل کررہے ہیں، مسئلہ حل کرنے کے دوران وقفہ آگیا کسی بھی وجہ سے، تو فوراً ان کی زبان چلنا شروع ہوجاتی تھی اور وہ تلاوت کرنا شروع کردیتے تھے، اسی طرح وہ چل رہے، پھر رہے، کہیں آجارہے ہیں اور مسجد کی طرف جارہے ہیں تو مسجد تک جانے میں وہ تلاوت کرتے ہوئے جاتے تھے، اسی طرح دفتر میں بیٹھے ہوئے اگر وہاں کوئی بھی نہیں ہے تو والد صاحب مستقل تلاوت میں مصروف رہا کرتے تھے۔ کئی مرتبہ انہوں نے خود فرمایا کہ میں روزانہ دس سپاروں کی تلاوت کرتا ہوں اور الحمدللہ! والد صاحب کا قرآن اتنا پکا تھا کہ ایک دفعہ میرے سامنے کی بات ہے: ایک نابینا حافظ صاحب ابو کے پاس آئے، تو والد صاحب کا اور ان کا مقابلہ ہوا آپس میں اور مقابلہ اس طرح ہوا تھا کہ ہر رکوع کی ابتدا اور انتہاء مثلا ابتداء: ﴿الم ذالک الکتاب لا ریب فیہ﴾ اور آخر آیت کی انتہاء: ﴿ولہم عذاب عظیم﴾۔ اور اسی طرح اگلے رکوع کی ابتداء اور آخری آیت کی انتہاء، اس طرح والد صاحب اور ان کا مقابلہ ہوا تو وہ نابینا حافظ درمیان قرآن میں کہیں جاکر پھنس گئے اور اٹک گئے تو ہم لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے تو والد صاحب نے کہا: میرا سنو، میں تمہیں سناتا ہوں، تو یوں کہہ کر سنانا شروع کیا، انہوں نے الم سے شروع کیا تو والناس تک اسی طرح رکوع کی آیت کی ابتدا اور آخری آیت کی انتہاء کرتے کرتے انہوں نے پورے قرآن کو ختم کیا۔ ابو کا ماشاء اللہ! ذہن بھی بہت اچھا تھا۔ اس طرح تلاوت ان کی روز مرہ زبان پر جاری رہتی تھی۔ جب امریکہ تراویح سنانے جاتے تھے تو میں بھی وہاں پر ہوتا تھا، جس مسجد میں تراویح سناتے تھے باقاعدہ پیچھے حافظ کھڑے ہوئے ہوتے تھے، ہمارے مدرسے کے کچھ فضلا بھی وہاں پر ہوتے تھے جو یہاں سے حفظ کرکےگئے تھے، تو ان سے کہتے تھے: میں تمہیں چیلنج کرتا ہوںکہ میں تراویح میں قرآن سناؤں گا تم میری ایک غلطی نکال کر دکھاؤ، تو پھر وہ حافظ خود کہتے ہیں (انہوں نے خود مجھے یہ بات بتائی) کہ ہم پورے رمضان کھڑے رہے لیکن مفتی صاحب کی ایک غلطی نہ آئی۔ اس کے علاوہ ہم نے یہ چیز دیکھی کہ جب حضرت مفتی صاحب تراویح یہاں پر سناتے تھے تو تین دن میں قرآن ختم کرتے تھے پھر جب امریکہ جانا چھوڑدیا تھا (پہلے تو ہر رمضان امریکہ میں گزرتا تھا اور عید بھی امریکہ میں ہوتی تھی گھر والوں کے ساتھ عید بہت کم کی ہے مفتی صاحب نے پوری زندگی میں، ہمیشہ وہ گھر سے باہر ہی عید کرتے تھے، اس مدرسے اور اس ادارے کیلئے جایا کرتے تھے تو جب 2008؁ء میں انہوں نے امریکہ کا سفر ختم کردیا تھا طبیعت اور صحت کی وجہ سے، صرف ان کا سعودی عرب کا سفر رِہ گیا تھا حج و عمرے کا، اس کے بعد انہوں نے سارے سفر ختم کردیئے تھے)۔ حضرت مفتی صاحب نے یہاں پر قرآن سنانا شروع کردیا، حضرت مفتی صاحب تین دن میں ختمِ قرآن کیا کرتے تھے، پھر رمضان کے مسائل آتے تھے وہ دیکھنے ہوتے تھے۔ قرآن کو ختم کرکے پھر وہ قرآن کی چھوٹی آیتیں پڑھ کر تراویح ختم کردیا کرتے تھے، آہستہ آہستہ جب ان کی طبیعت اور زیادہ خراب ہونا شروع ہوئی تو وہ ختم قرآن کا دورانیہ تین دن سے چھ دن کی طرف لے کر گئے اور اس رمضان میں ابو نے چودہ دن میں قرآن ختم کیا حالانکہ وہ کہہ رہے تھے کہ میں چھ سات دن میں ختم کرسکتا ہوں میری طبیعت ایسی ہے لیکن پھر بھی ابو کے دوست مولانا محمد اسماعیل صاحب (جن کا پچاس سال کا عرصہ والد صاحب کے ساتھ گزرا ہے) نے کہا: دیکھو نعیم! اگر تم دو پاروں سے زیادہ تلاوت کروگے تو میں تمہارے پیچھے نہیں کھڑا ہوں گا … تو اس دفعہ ان دونوں کی آپس میں اس بات پر بڑی اَن بَن ہوگئی۔ پہلے دن حضرت مفتی صاحب نے تین پارے پڑھے تو انہوں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا۔ جب دیکھا پھر تین پارے پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے کہا: میں اب نہیں آؤں گا۔ مفتی صاحب اپنے دوست کو ناراض نہیں کرسکتے تھے، اس لئے ان سے رابطہ کرکے انہیں منایا اور کہا: آجاؤ آجاؤ، میں دو ہی پڑھوں گا۔ ان کی دل جوئی کا اس قدر خیال تھا کہ مفتی صاحب روزانہ جب بھی ایک پاؤ پڑھتے تھے تو ان سے پوچھتے تھے کہ مزید آگے پڑھوں؟ اگر وہ اجازت دیتے تھے تو آگے پڑھتے تھے ورنہ نہیں، بہرحال اس طرح کرکے انہوں نے چودہ دن میں اس رمضان میں ختم قرآن کیا۔

بیرونی طلبہ اور والد صاحب کا کردار:
جامعہ بنوریہ عالمیہ میں بیرون کے طلبہ کی جو آمد و رفت شروع ہوئی مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیںکہ اس میں بنیادی کردار میرے دادا کا ہے، میرے دادا سعودی عرب گئے، امریکہ گئے، اس میں تبلیغ سے ان کی وابستگی تھی، بلکہ ان کا اوڑھنا بچھونا ہی تبلیغ کا کام تھا، جتنے بھی تبلیغ والے تھے دادا انہیں ترغیب دیتے تھے کہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم کیلئے پاکستان بالخصوص جامعہ بنوریہ عالمیہ بھیجیں اور وہ لوگ چونکہ دادا کو بہت اچھے طریقے سے جانتے تھے اس لئے انہیں بھی کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا، اسی طرح جب ابو نے امریکہ جانا شروع کیا تو سب سے پہلے امریکہ کے طلبہ ہمارے اس مدرسے میں آئے، ان کے ساتھ افریقہ یوگنڈا کے بچے ہمارے مدرسے میں داخل ہوئے، وہ جو بچے آئے تھے یوگنڈا اور افریقہ سے تو ایک تبلیغی نسبت تھی دادا کے ساتھ اور دادا کی ایک پہچان تھی اور دادا جانتے تھے تو اس نسبت سے لوگوں کوپتہ چلا کہ یہاں ایک مدرسہ ہے قاری عبد الحلیم صاحب کا تو انہوں نے پھر ان کو اس مدرسے میں بھیجا، قاری عبد الحلیم صاحب کی بھی ایک تاریخ ہے، سمجھیں پیچھے سے ہمارا خاندان ابھی شروع ہوا ہے، پیچھے ہمارا جتنا بھی خاندان تھا وہ غیر مسلم ہے، تو ایک ایسی چیز ہے کہ دادا کے تبلیغ میں آنے کے بعد ہر کسی کو وہاں پر یہ بات پتہ چل گئی تھی کہ یہ جو قاری عبد الحلیم ہیں انہوں نے اپنے والد کے ساتھ بچپن میں اسلام قبول کیا تھا، پہلے پارسی مذہب تھا ان کا، گجرات کا ایک علاقہ سورت ہے سورت کے اندر نوسیری ایک گاؤں ہے، اس علاقے کے میرے دادا رہنے والے تھے۔ وہاں میرے دادا کے خاندان کے سارے کے سارے لوگ پارسی تھے، مسلمان نہیں تھے تو پھر میرے پڑ دادا نے اسلام قبول کیا ’’لا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ کی برکت سے ان کے سینے میں ایمان کی روشنی داخل ہوگئی اور ان کو اچھا لگنے لگا، ان کو سکون محسواس ہوا، تو اس پر انہوں نے دل سے اسلام قبول کرلیا، دادا اپنی عمر اس وقت چار سال بتاتے تھے، الغرض اس طرح ہمارا خاندان سارا پارسی تھا پھر والد صاحب جو عالم بنے جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں، تو یہاں مشہور تھا کہ یہ جو خاندان ہے یہ نیا مسلمان ہوکر آیا ہے) خیر! جو تبلیغی نسبت تھی اس کی وجہ سے بیرون کے طلبہ ہمارے پاس آنا شروع ہوگئے، پھر والد صاحب جو امریکہ گئے تو انہوں نے امریکہ میں بہت محنت کی یوں امریکہ کے طلبہ سب سے پہلے بنوریہ میں آنا شروع ہوئے، زاہد ایک لڑکا تھا جو سب سے پہلے یہاں پر آیا اس کے بعد جو شیخ نعمان ہیں، ناصر جھانگڑا ہیں جو اس وقت امریکہ میں بہت اچھے اسپیکر ہیں، امریکہ میں ان کی بہت اچھی شہرت ہے، اس طرح اور بہت سارے علماء جن میں فرحان خادم ہیں نیویارک کے اندر، ابو نے وہاں امریکہ میں بہت محنت کی تو وہاں کے طلبہ یہاں پر آئے، اس طرح دیا سے دیا جلتا رہا اور دوسرے کئی ممالک کے طلبہ کی آمد و رفت یہاں شروع ہوگئی۔

جامعہ بنوریہ کی بنیاد و عروج میں بھی انہیں اوصاف حمیدہ کا دخل ہے، آج پاکستان میں ہمارا ادارہ سب سے زیادہ غیر ملکی طلباء کوتعلیم دین دینے والا ادارہ ہے، مفتی صاحب ان غیر ملکی طلباء وطالبات کے تعلیمی ویزوں کے لیے سخت مضطرب رہتے تھے، نائن الیون کے بعد بدلتی حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے تعلیم کے لیے پاکستان آنے والے طلباء وطالبات کے ویزے بند کردیے گئے اور پہلے سے موجود طلباء کے ویزوں کی توسیع روک دی گئی، مفتی صاحب نے ہمیشہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ اور میڈیا کے پلیٹ فارم پر وفاق المدارس کی قیادت و سیادت کی معاونت سے اس معاملے میں آواز اٹھائی او ر بحمد اللہ کامیاب ہوئے، ان کی وفات سے قبل دینی مدارس کے غیر ملکی طلباء کے لیے باقاعدہ حکومت نے نو سالہ ویزے کے اجراء کا اعلان کیا۔

دینی اور سماجی خدمات:
مفتی صاحب مرحوم کی گراں قدر دینی اور سماجی خدمات لائق تحسین اور قابل تقلید ہیں، وہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس شوریٰ اور عاملہ کے انتہائی فعال رکن تھے، عقیدۂ ختم نبوت اور ناموس رسالت و صحابہ؇ پر ان کی جرات مندانہ خدمات تاریخ کا حصہ ہیں، اسلام قبول کرنے والے نو مسلم خواتین و مرد حضرات کی مالی اور تعلیمی کفالت مرحوم کی زندگی کا ایسا روشن باب ہے جہاں بہت کم لوگ نظر آتے ہیں، فرقہ واریت کے خاتمے اور قومی یکجہتی کے لیے ان کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، انہوں نے درس و تدریس، تصنیف و تالیف، امامت و خطابت اور لوگوں کی شرعی رہنمائی جیسے اہم دینی و قومی فرائض نہایت خوش اسلوبی سے ادا کئے، جامعہ بنوریہ عالمیہ میں ملکی و غیر ملکی طلبا وطالبات کیلئے سہولت کے ساتھ تعلیم و تعلّم کے مواقع مہیا کرنا مفتی صاحب مرحوم کا وہ مشن تھا، جس میں وہ ہر وقت مگن رہتے تھے، اس کے علاوہ یومیہ قرآنِ کریم کے دس دس پارے تلاوت کرنا اور جامعہ کے انتظامی امور کو احسن طریقے سے سنبھالنا آپ ہی کا خاصہ ہے۔

مدارس اکثر چندوں پر چلتے ہیں لیکن انہوں نے ایک نیا طریقہ اختیار کیا انہوں نے بزنس کو اتنا پروموٹ کیا اتنے ہوٹل اور دوسرے ادارے بنائے مدرسے کی اچھی خاصی الحمدللہ اپنی ارننگ شروع ہوگئی، باہر کے ممالک جو علماء پر دہشت گردی کا ایک لیبل لگاتے تھے وہاں جاکر انہوں نے مدارس کا اچھا امیج بنایا اور دکھایا۔ مفتی محمدنعیم ایک سماجی راہ نمابھی تھے۔ سائٹ ہی نہیں کراچی بھر کے دکھی لوگ اورکاروباری افراد ان کے پاس مشورے اور اپنے مسائل کے حل کے لیے آتے تھے۔ انھوں نے غریبوں کی امداد کے لیے باقاعدہ بنوریہ ویلفیئرٹرسٹ کے نام سے رفاہی ادارہ بھی قائم کررکھاتھا۔ حالیہ لاک ڈاؤن میں بنوریہ ویلفیئرٹرسٹ کی طرف سے دو سو خاندانوں میں راشن تقسیم کیاگیا۔

جامعہ بنوریہ کے متنوع شعبہ جات، مفتی صاحب کی نباضی کی دلیل:
مفتی محمد نعیم صاحب  خود بھی میڈیا سے بات کرنے سے نہیں کتراتے تھے اور مذہبی معاملات کے علاوہ وہ سماجی وسیاسی مسائل پر میڈیا کے ٹاک شوز میں اپنا مؤقف بیان کرتے تھے۔ چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی منصوبے کے بعد انہوں نے چینی زبان کے شارٹ کورسز کا آغاز کیا۔ چائنہ کے مسلمان طلبہ بھی آپ کے پاس زیر تعلیم رہے جہاں ان کے پاس کمپیوٹر کے علاوہ جدید تعلیم بھی بچوں کو فراہم کی جاتی تھی۔ انہوں نے سب سے پہلے جامعہ بنوریہ میں غیر ملکی طلبہ کیلئے ایک الگ شعبہ قائم کیا اور ان کے قیام و طعام کا اعلیٰ معیار بھی بنایا جس کی نگرانی حضرت مولانا عبد المجید کے بعد میرے حوالے کی علاوہ ازیں، جامعہ میں بہت سے شعبے قائم کئے جن میں ’’دار القرآن‘‘ جہاں بچوں کو ناظرہ، حفظ اور قرأت کی تعلیم دی جاتی ہے، چھوٹے بچوں کیلئے ’’دار التربیت‘‘ کا شعبہ قائم کیا، جہاں اُن کی رہائش اور کھانے پینے کا الگ انتظام ہوتا ہے، جب کہ بڑی عمر کے بچوں کیلئے قیام و طعام کا انتظام الگ ہے، واضح رہے کہ جامعہ میں زیر تعلیم طلبہ پرائمری، مڈل، میٹرک، انٹر اور گریجویشن تک بورڈز کے امتحانات میں شامل ہوتے ہیں، بچیوں کی تعلیم کیلئے خصوصی طور پر شعبہ ’’بنات‘‘ قائم کیا گیا، ادارہ دار التصنیف سے تفسیر روح القرآن کی آٹھ جلدیں شائع ہوچکی ہیں اور دو جلدیں اشاعت کے آخری مراحل میں ہیں، مفتی محمد نعیم صاحب کی نگرانی میں کی جانے والی تصانیف میں ’’خمیری مسلمان‘‘ کو ملک بھر میں بے انتہا پذیرائی ملی، دار التصنیف ہی سے ماہانہ رسائل، ہفت روزہ ’’اخبار المدارس‘‘ باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں، دار الافتاء کے قیام کے بعد 2001ء سے شرعی مسائل اور اُن کے حل کیلئے ویب سائٹ کا اجراء کیا گیا، اس ویب سائٹ پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان بذریعہ ای میلز اپنے مسائل بھیجتے ہیں، جن کا جواب ایک ہفتے کے اندر ارسال کردیا جاتا ہے، غریبوں کی امداد کیلئے ’’بنوریہ ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ کے علاوہ ملک بھر سے تعلیم کے حصول کیلئے آنے والے طلبہ کیلئے بھی الگ شعبے قائم کئے ہیں۔

’’ وفاق المساجد‘‘ کا شعبہ بناکر کراچی شہر اور مضافات کی 100 سے زائد مساجد کا الحاق جامعہ سے کیا گیا، 1998؁ء میں جب لوگ کمپیوٹر سے کم ہی واقف تھے، حضرت مفتی محمد نعیم نے فارغ التحصیل طلبہ کی کمپیوٹر ایجوکیشن کیلئے ایک شعبہ قائم کیا، نیزان کی رہائش، کھانے کے علاوہ وظیفہ بھی مقرر کیا تاکہ طلبہ میں کمپیوٹر کی تعلیم کا شوق پیدا ہو، جامعہ میں درس و تدریس کیلئے نہ صرف بہترین اساتذہ کا انتخاب کیا، بلکہ ہر ممکن سہولتیں بھی فراہم کیں، اساتذہ کی رہائش کیلئے 50 فلیٹس پر مشتمل ایک الگ عمارت تعمیر کروائی، تاکہ اساتذہ دل جمعی کے ساتھ تدریسی فرائض سر انجام دے سکیں۔ ’’جامعہ بنوریہ عالمیہ‘‘ میں طلبہ کے قیام و طعام کی جگہ کم پڑی، تو شہر بھر میں دس سے زائد شاخیں قائم کیں اور اُن شاخوں کا تمام کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھا تاکہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہ ہو۔

نائن الیون کے واقعے کے بعد دینی حلقوں خاص طور پر دینی مدارس کیلئے کافی مشکلات کھڑی ہوگئیں تو مفتی محمد نعیم نے وفاق المدارس العربیہ کے قائدین اور دیگر مکاتبِ فکر کے افراد کے ساتھ ملکر ’’اتحاد تنظیماتِ مدارس‘‘ کے نام سے ایک تنظیم بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا، اور ملکی سطح پر دینی مدارس، ان کے نصاب تعلیم، مدارس میں عصری تعلیم اور جدید علوم کیلئے باقاعدہ آواز بلند کی، یہ وہ وقت تھا جب امریکہ سمیت پوری دنیا میں اسلام کو دہشت گردی کی علامت کے طور پر دیکھا جارہا تھا، ایسے میںمفتی صاحب نے کلمۂ حق بلند کیا اور دنیا بھر میں مدارسِ دینیہ کے سفیر کے طور پر اُبھرے، اس مشن میں اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی بخشی اور دنیا بھر سے صحافی، دانشور اور مختلف این جی اوز سے وابستہ افراد انٹرویوز کیلئے جامعہ کا رُخ کرنے لگے، وہ جامعہ میں طلبہ کی مصروفیات اپنے کیمروں میں محفوظ کرتے اور پھر ڈاکو مینٹریز بناکر اسلام کا صحیح نقشہ اپنے اپنے اداروں میں پیش کرتے، جب اسلام سے متعلق غلط فہمیاں دور ہونے لگیں اور دنیا بھر میں مثبت امیج اور پیغام پہنچنا شروع ہوگیا تو ملک کے مقتدر حلقوں نے بھی مفتی صاحب سے رابطے شروع کردئیے اور انہیں اہم اجلاسوں میں مدعو کیا جانے لگا، مفتی صاحب نے ان سخت حالات میں بھی غیر ملکی طلبہ کے معاملہ پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور ان کے ویزوں کے مسائل حکومتی سطح پر حل کرواتے رہے، 2014؁ء میں آرمی پبلک اسکول، پشاور میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد حکومت کی سختیوں کے باعث ملک کے تمام بڑے مدارس نے غیر ملکی طلبہ کے داخلوں پر پابندیاں عائد کرنا شروع کردیں، تاہم مفتی صاحب اپنے موقف پر ڈٹے رہے، ان طلبہ کے سفیر بن کر مقتدر حلقوں کو باور کرواتے رہے کہ یہ طلباء صرف اور صرف دینی علوم کے حصول کیلئے ہی پاکستان کا رُخ کرتے ہیں اور اگر ہم نے اُن کیلئے درازے بند کردئیے، تو یہ بہت بڑا نقصان ہوگا۔

مفتی صاحب مثبت سوچ کے حامل انتہائی شفیق انسان تھے، تمام اساتذہ، شاگردوں اور ملازمین کے ساتھ اُن کا حسنِ اخلاق دیدنی تھا، انہوں نے پوری زندگی ملکی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ، حکومتی اجلاسوں اور دیگر فورمز پر دینی مدارس، مساجد اور علمائے کرام کا تحفظ کرتے ہوئے گزاردی، تقریباً نصف صدی تک بڑی جرأت اور بے باکی سے اسلام، علماء اور ملک کے خلاف اُٹھنے والی ہر تحریک اور فتنے کا راستہ روکا، یہی وجہ ہے کہ آج ملت اسلامیہ اُن کی حق گوئی اور بہادری پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتی نظر آتی ہے، انہوں نے اپنے قائم کردہ گلشن (جامعہ بنوریہ) کی جس طرح محنت، ریاضت اور محبت سے آبیاری کی، آج اس کی بہاریں، خوشبوئیں چہار سو بکھری ہوئی ہیں، اس گلشن سے ہر سال سینکڑوں بچوں، بچیوں سمیت بیرونِ ممالک سے آنے والے طلبہ بھی فارغ التحصیل ہوکر پاکستان سمیت دنیا بھر میں اسلام کے سفیر بن رہے ہیں۔

حضرت مفتی نعیم کا قرآنِ کریم سے شغف:
مفتی محمد نعیم نے قرآن مجید، فرقانِ حمید کم عمری ہی میں حفظ کرلیا تھا، قرآنِ حکیم سے محبت و عقیدت کا یہ عالم تھا کہ ہر سال تراویح میں قرآن سناتے تھے، حالیہ رمضان میں بیماری کے باعث ڈاکٹرز نے تراویح پڑھانے سے منع کیا، تو مفتی صاحب نے 14 روزہ قرآن سنایا، ایک دفعہ خود ذکر فرمایا کہ ’’جب بنوری ٹاؤن میں درس دینے کیلئے موٹر سائیکل پر سفر کرتا تھا تو تمام سفر میں قرآنِ پاک کی تلاوت میرا معمول تھا‘‘۔ کسی مسلمان کا قرآنِ کریم سے شغف، محبت اور کثرتِ تلاوت یقینا ایمان اور زندہ دلی کی علامت ہے قرآنِ کریم کی تلاوت میں صحابہ کرام ؓ اور ائمہ و بزرگانِ دین کا معمول مختلف رہا ہے، چناںچہ کسی صحابی کا ایک دن یا ایک ہی رات میں، کسی کا تین دن اور کسی کا سات دن میں یا روزانہ ایک منزل کے سپارے یا اس سے کم مدت میں ختم قرآن کی روایات کتابوں میں منقول ہیں۔

حضرت مفتی صاحب کے والد ماجد قاری عبد الحلیم صاحب کو قرآنِ کریم سے بڑی رغبت تھی اور قرآنِ کریم کی بہت ہی عمدہ تلاوت کیا کرتے تھے، قرانِ کریم سے خاص قلبی لگاؤ تھا، دس پارے تلاوت کرنا تو آپ کا عام معمول تھا، قاری صاحب نے اپنے تمام بیٹوں کو قرآنِ کریم حفظ کرایا اسی محنت کا نتیجہ اور ثمرہ تھا کہ حضرت مفتی صاحب کو بھی شروع سے قرآنِ کریم بہت ہی پختہ طریقے سے یاد تھا اور اپنے والد ماجد کی محنت کی بدولت خود مفتی صاحب کو قرآنِ کریم کا خوب ذوق و شوق تھا کہ چلتے، پھرتے، اٹھتے، بیٹھتے، غرض ہر وقت تلاوتِ قرآنِ کریم سے ان کے ہونٹ حرکت کرتے تھے، جب حرمین شریفین تشریف لے جاتے تو وہاںدیگر ضروری معمولات کے بعد اکثر تلاوتِ قرآنِ کریم کیا کرتے تھے، وہاں ایسا بھی ہوتا تھا کہ حضر ت مفتی صاحب ایک ہی دن میں پورے قرآنِ کریم کی تلاوت مکمل کرلیتے تھے، کثرتِ تلاوت کی وجہ سے آیاتِ قرآنی حضرت مفتی صاحب کی زبان پر بغیر کسی تأمل اور تفکر کے جاری ہوجاتی تھیں اور اسباق میں بھی قرآنِ کریم کی آیات موقع ومحل کی مناسبت سے بغیر کسی غور و فکر کے حضرت مفتی صاحب کی زبان پر جاری ہوتی تھیں۔

حضرت مفتی صاحب کا شمار بھی یقینا ان خوش قسمت شخصیات میں ہوتا ہے کہ جو اس حدیث کے مصداق ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: جس کو قرآن نے اس قدر مشغول کردیا کہ کوئی دوسر اذکر نہ کرسکا اور قرآن کی وجہ سے اس کو دعا مانگنے تک کی بھی فرصت نہ ملی تو میں اس کو مانگنے والوں سے زیادہ عطا کرتا ہوں اور کلام اللہ کی فضیلت تمام کلاموں پرایسی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی عظمت وبزرگی اس کی تمام مخلوق پر ہے۔ (سنن ترمذی: 2929)

محافل حسنِ قراءت و تفسیر روح القرآن: ان کے قرآنِ کریم سے ذوق و شغف کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنی زیر نگرانی شہر کے مختلف علاقوں میں محفل حسن قراء ت کے بڑے بڑے اجتماعات کرواتے تھے، عوام اور جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے قلوب میں قرآنی تعلیمات اور روح کو اجاگر کرنے کیلئے اپنی بے شمار مصروفیات کو دیکھ کر انہوں نے جامعہ میں تصنیف و تحقیق کا ایک شعبہ قائم فرمایا، جس میں جامعہ کے مایہ ناز اساتذہ اور ماہرین فضلاء کی ایک جماعت کا انتخاب کرکے ان حضرات کو مطلوبہ اہداف و مقاصد کے مطابق تفسیر لکھنے پر مامور فرمایا، جو تفسیر روح القرآن کے نام سے موسوم ہے، 2005ء میں اس تفسیر کی تالیف کا کام شروع ہوا، اب تک آٹھ جلدیں چھپ کر منظر ِ عام پر بھی آچکی ہیں، جبکہ 23 ویں سپارے کا کام بھی مکمل ہوچکا ہے، آٹھویں جلد جو 16 ویں سپارے کے نصف اخیر سے مکمل سترویں سپارے پر مشتمل ہے وہ پریس میں ہے، جب کہ نویں جلد جو اٹھارویں سپارے سے لیکر انیسویں سپارے کے ربع حصے یعنی مکمل سورۂ فرقان پر مشتمل ہے، وہ کمپوزنگ اور ڈیزائننگ کے مراحل میں ہے، سورۂ یاسین کی تفسیر مستقل کتابی شکل میں بھی آچکی ہے۔

تصنیفی خدمات:
مفتی محمد نعیم نہ صرف ایک عظیم استاد تھے بلکہ ایک ماہر اور بہترین مصنف بھی تھے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں جو دینی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کیلئے مشعل راہ ہیں۔ ان کی تصانیف کو ملک بھر کے علاوہ بیرون ملک بھی خاصی اہمیت حاصل ہے۔ جب اہتمام کی مصروفیات اور امراض کی وجہ سے خود لکھنامشکل ہوگیاتواپنی نگرانی میں تالیفی وتصنیفی کاموں کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس عرصے میں ان کی نگرانی میں لکھی جانے والی کتابوں کی تعداد درجنوں میں جبکہ اصلاحی کالموں، مضامین اور مقالات کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ یہ تمام کام ان کی نگرانی میں جامعہ بنوریہ عالمیہ کے شعبہ تصنیف وتحقیق سے کیے گئے۔ ان کاموں میں ایک گراں قدر تفسیر روح القرآن بھی شامل ہے۔ تفسیرپرکام جاری ہے۔ اس کے علاوہ اس شعبے سے درج ذیل کتابیں شائع ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں:مسئلہ رؤیت ہلال۔ زلزلہ۔ نماز (سوالاًجواباً)۔ محمد الرسول اللہ۔ میرے نبی۔ 100 سے زائد کتابچے۔ اوقات نماز کا دائمی نقشہ۔ علاوہ ازیں مفتی محمد نعیم کے درسی افادات پر مشتمل مقامات حریری کی شرح المواہب النعیمیہ کے نام سے ان کے شاگرد مولانا غلام رسول(ایڈمنسٹریٹرجامعہ بنوریہ عالمیہ)نے مرتب کرکے شائع کی ہے۔ ان کے شرح جامی کے دروس کو کتابی شکل دینے کا کام ان کے ایک اور شاگرد مولانامحمد ارشد(ناظم جامعہ عثمانیہ احیاء العلوم، سعیدآبادکراچی)کررہے تھے، یہ کام ان کے اچانک انتقال کی وجہ سے پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ مفتی محمدنعیم کی ایماپر کئی کتب لکھی گئیں جن میں سے ایک کتاب ادیانِ باطلہ اور صراط مستقیم کو فرق جدیدہ کے انسائیکلوپیڈیاکی حیثیت حاصل ہے۔ یہ کتاب کئی مدارس میں نصابی کتاب کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ اسے بیت الاشاعت کراچی نے شائع کیاہے۔

(جاری ہے۔)
مأخَذ

ازکتاب:سوانح شیخ الحدیث مفتی محمدنعیمؒ

کالم نگار : مولانا نعمان نعیم
| | |
49