(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی محمدسعدجاویددرالافتاء،جامعہ بنوریہ عالمیہ

مفتی محمدسعدجاویددرالافتاء،جامعہ بنوریہ عالمیہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
محرم الحرام: تجدیدِ ایمان کا مہینہ
محرم الحرام اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ اور ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں قرآنِ کریم نے خصوصی حرمت اور تقدس عطا فرمایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے "شہر اللہ" یعنی "اللہ کا مہینہ" قرار دیا۔ مہینوں میں سے کسی مہینے کی اللہ تعالیٰ کی طرف یہ خصوصی نسبت اس کے غیر معمولی شرف اور عظمت کو واضح کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محرم الحرام کا تذکرہ آتے ہی اہلِ ایمان کے دلوں میں احترام، عقیدت اور روحانی تازگی کے جذبات موجزن ہوجاتے ہیں۔

تاہم یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے محرم الحرام کو یا تو چند تاریخی واقعات کی یاد تک محدود کردیا ہے یا بعض غیر مستند روایات اور رسمی مظاہر کی نذر کردیا ہے، جبکہ اس مبارک مہینے کا اصل پیغام اس سے کہیں زیادہ وسیع، گہرا اور زندگی ساز ہے۔ یہ مہینہ انسان کو اپنے باطن میں جھانکنے، اپنے ایمان کا جائزہ لینے اور اپنے رب سے تعلق کی تجدید کی دعوت دیتا ہے۔

قرآن کریم نے اشہرِ حرم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:«"فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ"

"پس ان مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔"

اس مختصر مگر جامع ہدایت میں محرم الحرام کا ایک عظیم فکری پیغام پوشیدہ ہے۔ انسان پر سب سے بڑا ظلم یہ نہیں کہ کوئی دوسرا اس کے حقوق سلب کردے، بلکہ یہ ہے کہ انسان خود اپنے نفس کو گناہوں، خواہشات کی غلامی، اخلاقی پستی اور روحانی غفلت کے حوالے کردے۔ جب انسان اپنے ضمیر کی آواز کو دبا دیتا ہے، حق کو جانتے ہوئے اس سے روگردانی کرتا ہے اور اپنی زندگی کو محض مادی خواہشات کے تابع بنا لیتا ہے تو درحقیقت وہ خود اپنے اوپر ظلم کا مرتکب ہوتا ہے۔

محرم الحرام ہمیں اسی خود فراموشی سے نجات کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ محض جسمانی وجود نہیں بلکہ ایک روحانی حقیقت بھی رکھتا ہے، اور اس کی زندگی کا مقصد صرف دنیا کی آسائشیں سمیٹنا نہیں بلکہ اپنے خالق کی رضا کا حصول ہے۔ عبادات کا مقصد بھی یہی ہے کہ انسان کے اندر تقویٰ، احساسِ ذمہ داری اور جواب دہی کا شعور پیدا ہو۔

اس مہینے کی سب سے نمایاں نسبت یومِ عاشورہ سے ہے۔ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و استبداد سے نجات عطا فرمائی۔ اس واقعے کو اگر محض ایک تاریخی داستان کے طور پر پڑھا جائے تو شاید اس کا اثر محدود رہے، لیکن اگر اس کے پیغام کو سمجھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ دراصل حق اور باطل کی دائمی کشمکش کا استعارہ ہے۔

فرعون صرف تاریخ کا ایک کردار نہیں، بلکہ ایک طرزِ فکر کا نام ہے۔ جب اقتدار غرور میں بدل جائے، طاقت ظلم کا ذریعہ بن جائے، دولت استحصال کا وسیلہ بن جائے اور انسان اپنی محدود حیثیت کو بھلا کر خدائی کے دعوے کرنے لگے، تو فرعونیت جنم لیتی ہے۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام بھی صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں، بلکہ حق گوئی، استقامت، توکل اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت ہیں۔ یومِ عاشورہ اہلِ ایمان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ باطل خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دے، انجام کار کامیابی حق اور صبر کرنے والوں ہی کا مقدر بنتی ہے۔

آج امتِ مسلمہ جن فکری اور اخلاقی بحرانوں سے دوچار ہے، ان کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہماری بہت سی مشکلات کی جڑ ایمان کے عملی تقاضوں سے غفلت ہے۔ ہم نے عبادت کو زندگی سے الگ کر دیا، اخلاق کو ذاتی معاملہ سمجھ لیا، دیانت کو مصلحت کی بھینٹ چڑھا دیا اور اجتماعی ذمہ داریوں سے پہلو تہی اختیار کرلی۔ نتیجتاً ہمارے معاشروں میں بدعنوانی، ناانصافی، عدم برداشت، فرقہ واریت اور اخلاقی انتشار نے جڑیں مضبوط کرلیں۔

محرم الحرام ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کریں۔ ہم یہ سوال اپنے آپ سے کریں کہ کیا ہمارا ایمان ہمارے معاملات میں جھلکتا ہے؟ کیا ہماری نماز ہمیں برائیوں سے روکتی ہے؟ کیا ہمارا روزہ ہمیں ضبطِ نفس سکھاتا ہے؟ کیا ہمارے گھروں میں دینی تربیت کا ماحول موجود ہے؟ کیا ہماری نئی نسل اسلام کو ایک زندہ ضابطۂ حیات کے طور پر جانتی ہے یا صرف چند رسمی شعائر کے مجموعے کے طور پر؟

اگر ان سوالات کے جواب اطمینان بخش نہیں تو یہی محرم الحرام ہمارے لیے ایک موقع ہے کہ ہم اپنے اندر تبدیلی کا آغاز کریں۔ یہ تبدیلی نعروں سے نہیں، کردار سے آئے گی؛ جذباتی وابستگی سے نہیں، شعوری التزام سے پیدا ہوگی۔ ہمیں اپنے دلوں کو کینہ، حسد، تکبر اور نفرت سے پاک کرنا ہوگا۔ اپنی زبانوں کو جھوٹ، غیبت اور بہتان سے محفوظ بنانا ہوگا۔ اپنے معاملات میں دیانت، انصاف اور امانت داری کو فروغ دینا ہوگا۔ اپنے گھروں کو قرآن کی تلاوت، دعا اور حسنِ اخلاق سے آباد کرنا ہوگا۔

محرم الحرام کا ایک اہم پیغام یہ بھی ہے کہ دین میں افراط و تفریط سے بچا جائے۔ محبت اور عقیدت کے نام پر ایسے اعمال اور رسومات کو فروغ دینا جو شریعت کے مزاج سے ہم آہنگ نہ ہوں، دین کی اصل روح سے دوری کا سبب بن سکتا ہے۔ اسلام نے جذبات کو شریعت کی رہنمائی کے تابع رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ لہٰذا اس مبارک مہینے کا احترام اسی میں ہے کہ اسے سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق عبادت، ذکر، توبہ اور اصلاحِ نفس کا ذریعہ بنایا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ امتوں کی تعمیر سیاسی نعروں سے پہلے اخلاقی بنیادوں پر ہوتی ہے۔ جب افراد کے اندر خدا خوفی، سچائی، امانت اور احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے تو معاشرے خود بخود سنورنے لگتے ہیں۔ محرم الحرام اسی اندرونی انقلاب کی دعوت دیتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا کو بدلنے سے پہلے اپنے آپ کو بدلنا ضروری ہے، کیونکہ قرآن کا ابدی اصول یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے۔

محرم الحرام کا اصل پیغام یہی ہے کہ انسان اپنے رب کی طرف رجوع کرے، اپنے ایمان کو تازگی بخشے، اپنے کردار کو سنوارے اور حق و خیر کی راہ پر ثابت قدمی اختیار کرے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایمان ایک زندہ قوت ہے؛ اگر اسے شعور، عمل اور اخلاص کی غذا ملتی رہے تو وہ فرد کی شخصیت اور معاشروں کی تقدیربدل دیتا ہے۔

آج ہمیں محرم الحرام کو محض تقویمی روایت یا تاریخی تذکرے کے بجائے ایک فکری تحریک کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے؛ ایسی تحریک جو دلوں کو بیدار کرے، ضمیروں کو زندہ کرے اور امت کو اس کے حقیقی منصبِ ہدایت و خیر خواہی کی طرف واپس لے آئے۔ یہی اس مبارک مہینے کا اصل پیغام اور تجدیدِ ایمان کا راستہ ہے۔

کالم نگار : مفتی محمدسعدجاویددرالافتاء،جامعہ بنوریہ عالمیہ
| | |
44