(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی محمد اکمل

مفتی محمد اکمل

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
مولانا ڈاکٹر عبد الشہید نعمانی ؒ،حیات وخدمات

مولانا عبد الشہید صاحب برصغیر کے معروف محدث حضرت مولانا عبد الرشید نعمانی رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے، اورہمارے استاد جی مولانا عبد الحلیم چشتی صاحب رحمہ اللہ کے بھتیجے تھے، کسی موقع پر ان سے سنا تھا کہ انہوں نے اور ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے ابتدائی تعلیم جامعہ بنوری ٹاؤن میں اکٹھی حاصل کی تھی، بعد میں ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب راولپنڈی منتقل ہوگئے، جبکہ مولانا عبد الشہید نعمانی صاحب یہیں اپنے علمی سفر میں مصروف رہے، جامعہ کراچی سے عربی زبان میں بی اے اور ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، بعد ازاں وہیں جامعہ کراچی کے شعبہ عربی سے وابستہ ہوئے اور طویل عرصے تک تدریسی و انتظامی خدمات انجام دیتے رہے، یہاں تک کہ شعبہ عربی کے ڈین کے منصب پر بھی فائز رہے، شیخ زید اسلامک سینٹر، جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر سمیت کئی علمی وانتظامی عہدوں پر رہے، اسی عرصے ان کی رہائش بھی جامعہ کراچی میں رہی، زندگی کے آخری ایام میں احسن آباد کراچی سدھار گئے۔

اپنے والد گرامی کے علاوہ ان کے شیوخ میں شام کے نامور عالم شیخ عبد الفتاح ابو غدہ ، مکہ مکرمہ کے شیخ حسن مشاط المالکی اور شیخ عبد العزیز غماری کے نام نامی قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کی پیشہ ورانہ علمی وابستگی اگرچہ عربی زبان و ادب سے تھی ، اس میدان میں انہوں نے طویل عرصہ خدمات بھی انجام دیں، اورمتعدد تحقیقی مقالات ان کی نگرانی میں لکھے گئے، لیکن اس کے باوجود علم حدیث، تحقیق اور تصنیف و تالیف سے ان کا رشتہ ہمیشہ مضبوط رہا، اور اپنے عظیم والد حضرت مولانا عبد الرشید نعمانی صاحب اور اپنے نامور چچا مولانا عبد الحلیم چشتی صاحب کی حدیثی اور علمی روایت میں انہوں نے نمایاں حصہ ڈالا، ان کی علمی خدمات میں "مسند الإمام أبي حنيفة برواية أبي نعيم الأصبهاني" کی تحقیق اور اس پر تحریر کردہ مفصل و وقیع مقدمہ، "تابعیت امام ابی حنیفہ"، امام جعفر دیبلی سندھی کی معروف کتاب "مکاتیب النبی ﷺ" پر تحقیقی و علمی کام، نیز دیگر علمی کتابیں اور متعددتحقیقی مقالات ان سے یادگار ہیں۔

ڈاکٹر صاحب سے پہلا تعارف دوران تخصص استاد محترم مولانا عبد الحلیم چشتی صاحب رحمہ اللہ کے ذریعے ہوا تھا، پہلی ملاقات بھی استاد جی کے آباد خانے میں ہوئی، پھر تو ان کے گھر بارہا حاضری کا موقع ملا، ان کی علمی نشستوں میں شرکت ہوئی، ایک مرتبہ عنایت کرکے حضرت خود ناشتے پر لے گئے، جہاں مختلف مقالات، کتابیں اور مولانا عبد الرشید نعمانی رحمہ اللہ کی زیراستعمال کتابیں دکھائیں، دو تین مرتبہ انہیں معہد الخلیل الاسلامی کے شعبۂ تخصص کے حدیثی محاضرات میں ادارے کے مہتمیم حضرت مولانا محمد الیاس مدنی صاحب مدظلہم کی ہدایت پر مدعو کیا، جسے انہوں نے ہر دفعہ بخوشی قبول فرما کر مستفید ہونے کا موقع عنایت کیا۔

تقریبا تین سال قبل عصر کے وقت ان کے گھر حاضری ہوئی ، دو گھنٹے ان کی اور ان کے صاحبزادے ڈاکٹر نبیل صاحب، استاد شعبہ عربی جامعہ کراچی، کی معیت میں گزارنے کا موقع ملا، اس دوران جامعہ پنجاب کے شعبہ عربی کے سینئر پروفیسر ہمارے کرم فرما، جناب عبد الماجد صاحب بھی تشریف لے آئے، پھر عربی زبان، برصغیر میں اس کے مستقبل، درپیش چیلنجز اور ان کے حل پر مفصل گفتگو ہوئی، عرب ممالک میں رائج عامی لہجے اور ان کے تلفظ و اداء پر بھی سیر حاصل مجلس رہی۔

وہ نہایت سادہ مزاج کے بے تکلف بزرگ تھے، فون کال نہ صرف جلدی اٹینڈ کرتے، بلکہ فون پر بھی علمی گفتگو میں کشادہ دلی کا مظاہرہ فرماتے، مجھے یاد ہے ابھی پچھلے سال ہمارے ہاں کے شعبہ تخصص فی الحدیث کے ایک طالب علم نے سالانہ مقالے کا خطہ پیش کردیا، کہ وہ مسند امام اعظم کے زوائد پر کام کریں گے، میں نے دیکھا تو اطمینان نہیں ہوا ، کیونکہ زوائد پر کام کرنے کا معروف منہج یہاں پوری طرح منطبق نہیں ہو رہا تھا، نیز موضوع کے بعض فنی پہلو بھی میرے لیے محل اشکال تھے، چونکہ مسانید کے حوالے سے مولانا نعمانی نے "امام ابن ماجہ اور علم حدیث " اور علامہ حبیب الرحمن کاندھلوی نے "امام ابو حنیفہ اور علم حدیث " میں اچھی گفتگو کی ہے، اس کو دیکھا ، لیکن تشفی نہیں ہوئی، تب اسی لمحے مجھے یاد آیا کہ مولانا عبد الشہید صاحب سے رجوع کیا جائے، اس لیے کہ انہوں نے خود بھی "مسند االاما م ابی حنیفہ بروایت ابی نعیم" میں اس پر مفصل کلام کیا ہے، فون ملایا تو پہلی ہی کال پر جواب دیا اور تقریبا دس منٹ تک مسانید اور ان کی فنی حیثیت پر ایسی مدلل گفتگو فرمائی کہ پوری تشفی ہوگئی۔

ابھی مہینہ قبل حضرت کے گھر حاضری ہوئی، حسب سابق خود دروازہ کھول کر مہمانے خانے لے گئے، قریب ایک گھنٹے تک ان کی علمی مجلس رہی، علم حدیث، اس کے فنی مسائل، تدریسی مشکلات اور نصاب کے حوالے سے نہایت مفید نکات ارشاد فرماتے رہے، ان کی رائے یہ تھی کہ حدیث کی ضخیم کتب سے براہ راست استفادہ ہر طالب علم کے لیے آسان نہیں، اس لیے ماہرین فن کو چاہیے کہ ضروری علمی مواد کو مرتب اور ملخص کرکے طلبہ کے سامنے پیش کریں، نیز وہ محاضراتی تدریسی انداز کو زیادہ نافع اور مؤثر سمجھتے تھے، طلبہ حدیث کو متقدمین کے علوم ومعارف سے استفادے کی ترغیب دیتے تھے۔

علوم حدیث کے باب میں اپنے والد گرامی کی طرح "اصول السرخسی"، علامہ ابن الوزیر کی "تنقیح الأنظار" اور اس کی شرح، جو علامہ صنعانی کی "توضیح الأفکار" کے نام سے معروف ہے، اس کے مطالعے کی خصوصی ترغیب دیا کرتے تھے، ان کا خیال تھا کہ ابن الصلاح اور ان کے منہج کے متبعین، جیسے امام نووی، حافظ عراقی، حافظ ابن حجر، علامہ سیوطی اور علامہ سخاوی رحمہم اللہ کے بعض اصولی مباحث پر علامہ صنعانی نے علمی تنقید اور مضبوط علمی اختلاف پیش کیا ہے، اس لیے علم حدیث کے طالب علم کو ان سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے۔

بنیادی طور پر علم حدیث کی تدوین جدید میں گراں قدر تبدیلی کے پیش رو علامہ ابن الصلاح ہیں ، اسی لیے بعد میں اصول پر لکھنے والے سبھی تقریبا ان کی علمی چراگاہ سے مستفید اور ان کے خوشہ چین ہے، چنانچہ بعض اہل علم نے ان کے "مقدمہ "پر شرحیں لکھیں، بعض نے اس کا اختصار کیا، بعض نے حواشی سے مزین کیا اور بعض نے اس کے مضامین کو نظمایا ، لیکن علامہ ابن الصلاح کے ساتھ فنی اور سردی منہج میں کسی کا اختلاف ہے تو وہ صاحب "تنقیح الانظار" علامہ ابن الوزیر اور اس کے شارح علامہ امیر صنعانی ہیں۔

ان دونوں کے ہاں ابن الصلاح اور ان کے اصولی منہج کے متبعین کے بعض اصولی مباحث پر علمی نقد اور اختلاف کی عمدہ مثالیں ملتی ہیں، اگرچہ علامہ زرکشی اور علامہ مغلطائی نے بھی ابن الصلاح پر استدراکات کیے ہیں، حافظ ابن حجر بھی بعض مقامات پر نقد کرتے نظر آتے ہیں، علامہ ابن الہمام اور شیخ اکرم السندی، صاحب "امعان النظر"کے ہاں بھی قابل توجہ مباحث موجود ہیں، تاہم علامہ ابن الوزیر اور علامہ صنعانی کی حیثیت اس باب میں منفرد ہے۔

علامہ ابن الوزیر اور علامہ امیر صنعانی دونوں یمن کے تھے، ایک وہاں کے معروف خاندان "آل وزیر" اور دوسرے "آل امیر" سے تعلق رکھتے ہیں، زیدی مکتب فکر سے ہیں، علامہ ابن الوزیر نویں صدی ہجری کے ہیں، "العواصم والقواصم" اور اس کی تلخیص "الروض الباسم"، اور "ایثار الحق علی الخلق" کے مصنف ہیں، اس کے علاوہ بھی کلام، فقہ ، اصول اور ادب میں ان کی عمدہ تصانیف ہیں، علامہ صنعانی بارہویں صدی ہیں، حافظ ابن حجر کی "بلوغ المرام" کی شرح "سبل السلام" اور علامہ سیوطی کی "فیض القدیر" کی شرح "التنویر" کے نام سے لکھی ہے، دیگر کئی وقیع کتابوں کے مصنف ہیں، عربی ادب اور شعر کا بھی عمدہ ذوق رکھتے ہیں، ان کا دیوان بھی چھپا ہے، انہیں علامہ ابن الوزیر کے علوم کا وارث سمجھا جاتا ہے، اس لیے کہ یمن میں ابن الوزیر کے علمی منہج کو پھیلانے اور رواج دینے میں ان کا زبردست کردار رہا ہے، ان کی متعدد کتابوں کی شرحیں بھی لکھی ہے۔ علامہ شوکانی نے "البدر الطالع " میں دونوں کا شاندار تذکرہ کیا ہے، دونوں کومجتہد اور مجدد کہا ہے، حقیقت بھی یہی ہے کہ یمن میں علامہ ابن الوزیر کی تاسیس کردہ علمی وحدیثی منہج کی چھاپ ایسی ہے کہ بعد کے کبار علمائے یمن جیسے ، علامہ امیر اسماعیل صنعانی، علامہ رباعی ، علامہ شوکانی، علامہ جلال، علامہ مقبلی وغیرہ سب اس سے متاثر ہیں، بلکہ غالب طور پر انہی کا منہج یمن میں رائج رہا ہے۔

استاد محترم مولانا عبد الحلیم چشتی صاحب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ مولانا عبد الرشید نعمانی صاحب نے علم حدیث میں مولانا حیدر حسن خان ٹونکی سے استفادہ کیا تھا، جو ندوۃ العلماء لکھنو کے شیخ الحدیث تھے، استاد جی یہ بھی بتاتے تھے کہ مولانا نعمانی نے ندوہ میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی، بلکہ مولانا ٹونکی سے خصوصی استفادہ کیا تھا، مولانا ٹونکی کے برادربزرگ مولانا محمود حسن خان ٹونکی، صاحب "معجم المؤلفين" کی تصنیف میں بھی معاون رہے تھے، یہی بات مولانا مناظر احسن گیلانی صاحب نے بھی لکھی ہے، نیز مولانا عبد الشہید نعمانی صاحب نے اپنے ایک مضمون میں بھی لکھا ہے کہ مولانا نعمانی دونوں بھائیوں کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔

مولانا حیدر حسن خان ٹونکی رحمہ اللہ نے چونکہ شیخ حسین بن محسن یمانی سے استفادہ کیا تھا، اس لیے ان کے حدیثی منہج پر یمنی علمی روایت کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں، عمومی طور پر بھی علم حدیث میں یمن کے علمائے حدیث کے منہج کو ترجیح دیتے تھے، علامہ عبد الحی لکھنوی "نزہة الخواطر" میں ان کے بارے میں لکھتے ہیں: "وكان طريقه في ذلك طريق العلامة محمد بن علي الشوكاني في نيل الأوطار، وكان من أشياخ أشياخه، وكان مؤثراً لكتب علماء اليمن كالعلامة السيد محمد بن إبراهيم الوزير، والأمير محمد بن إسماعيل الصنعاني، والعلامة المقبلي وغيرهم." یعنی اس باب میں ان کا منہج وہی تھا جو علامہ شوکانی نے "نیل الأوطار" میں اختیار کیا تھا، نیز علامہ شوکانی ان کے شیخ الشیوخ میں سے تھے، وہ یمن کے اہل علم خاص کر سید محمد بن ابراہیم الوزیر، امیر محمد بن اسماعیل الصنعانی اور علامہ مقبلی جیسے حضرات کے تصانیف کو خاص اہمیت دیتے تھے۔

چنانچہ مولانا ٹونکی کے علمی رجحانات اور پسندیدہ مصنفین پر نظر ڈالی جائے تو ان کے ہاں یمنی محدثین کے منہج کا اثر واضح محسوس ہوتا ہے، خصوصافہم حدیث اور ترجیح دلائل کے باب میں، مولانا عبد الرشید نعمانی نے اس باب میں ان سے استفادہ کیا تھا، اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حدیث و اصول حدیث کا وہ خاص علمی ذوق، جو یمنی اہل علم کے منہج سے متاثر تھا، مولانا حیدر حسن خان ٹونکی رحمہ اللہ اور ان کے علمی حلقے کے واسطے سے ہمارے ہاں منتقل ہوا، دوسری طرف مولاناٹونکی حنفیت میں بھی نہایت متصلب تھے، علامہ لکھنوی لکھتے ہیں: وكان متصلباً في المذهب الحنفي، شديد الحب والإجلال للإمام أبي حنيفة، عظيم الانتصار له مع إجلال للأئمة الثلاثة، غالبا حنفیت کا مضبوط رنگ بھی شاید اسی نسبت سے مولانا نعمانی حاصل ہوا ہو۔

مولانا عبد الشہید صاحب بھی اپنے والد گرامی کی طرح اسی منہج کی طرف مائل تھے، اسی لیے ان کتابوں کے مطالعے کی ترغیب دیا کرتے تھے، ساتھ ہی وہ علامہ کوثری کے بھی مداح تھے ، ان کے مولفات سے استفادے کی بھی تلقین فرماتے تھے، نیز اپنے والد گرامی کے مصنفات وتعلیقات خاص کر "امام ابن ماجہ اور علم حدیث" "تبصرہ بر مدخل" "التعقیبات علی صاحب الدراسات" اور "التعلیقات علی ذب ذبابات الدراسات" کی طرف خصوصی توجہ دلاتے تھے۔

احناف کے ہاں متعدد اصولی مباحث میں خیر القرون کے تعامل، اس زمانے کے شخصیات کے استنباط واستدلال اور تعدیل وتجریح خاصی اہمیت رکھتے ہیں، مولانا عبد الرشید نعمانی صاحب رحمہ اللہ اور استاد جی حضرت چشتی صاحب رحمہ اللہ بھی خیر القرون کے حدیثی ذخیرے کو خاص اہمیت دیتے تھے، ان دونوں بزرگوں کی طرح مولانا عبد الشہید نعمانی صاحب کے لیے خیر القرون میں تدوین حدیث خاصی دلچسپی کا موضوع تھا، مجھے یاد ہے ایک دفعہ محاضرے کے لیے ان کو شاید "مسانید امام ابی حنیفہ" کا موضوع گفتگو کے لیے دیا تھا، مگر وہ تشریف لائے تو فرمایا: میں تو "تدوین حدیث قرن اول اور قرن ثانی میں" کے موضوع پر گفتگو کروں گا۔

اسی آخری دفعہ کی مجلس میں مجھ سے فرمایا کہ تخصص میں عام اصولی مباحث کے علاوہ خیر القرون کے اصول سے بھی طلبہ کو روشناس کرانا چاہیے، اس پر میں نے عرض کیا کہ بندہ نے اس پر مختصر مقالہ بھی لکھا ہے، یہ سن کر بہت خوش ہوئے، ان کا مزید کہنا تھا کہ والد صاحب کی رائے تھی کہ احناف نے تدوین حدیث کا کام بہت پہلے مکمل کرلیا تھا، استنباط مسائل میں ان کے سامنے اپنے ائمہ کے مرتب کردہ احادیث کے ذخائر تھے، نیز یہ کہ احادیث کے پرکھنے کے لیے ائمہ احناف کے اصول زیادہ جامع اور معیاری تھے، جن کی ایک جھلک اصول فقہ کی کتابوں میں "السنۃ" کے عنوان کے تحت دیکھا جاسکتا ہے۔ بہر حال یہ ایک خوبصورت مجلس تھی، جس میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، ڈاکٹر صاحب کی گفتگو کا نمایاں حصہ ہمارے تعلیمی نصاب اور موجودہ تعلیمی نظام پر اصلاحی تنقید کا تھا، گفتگو کے اختتام پر انہوں نے فرمایا:

"ہم یہ باتیں اس لیے کرتے ہیں کہ شاید کسی کے دل میں اتر جائیں، اور ان سے فائدہ اٹھا لے۔"

میں نے ازراہ مزاح گستاخی کرتے ہوئے عرض کیا:"حضرت! سمع خراشی تو ہوتی رہنی چاہیے!"

اس پر مسکرا کر فرمایا:اگر آپ اسے سمع خراشی سمجھتے ہیں تو بھی ٹھیک ہے، لیکن یہ باتیں ہوتی رہنی چاہئیں۔

یہ جملہ ان کے اخلاص، دردمندی اور اصلاح احوال کے جذبے کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر انہیں تخصص فی الحدیث کے محاضرات کے لیے دوبارہ دعوت دی تھی ، جسے انہوں نے حسب سابق نہ صرف قبول فرمایا، بلکہ آنے کا وعدہ بھی فرمایا، اور اپنی عادت کے مطابق دروازے تک رخصت کرنے تشریف لائے، تب ہرگز گمان نہ تھا کہ ملاقاتوں اور استفادے کا یہ سلسلہ اتنی جلدی ختم ہوجائے گا، مگر قدرت کا فیصلہ تھا!

حقیقت یہ ہے کہ مولانا ڈاکٹر عبد الشہید نعمانی صاحب ان سادہ مزاج، مخلص، صاحب علم اور صاحب درد بزرگوں میں سے تھے جن کی قدر ان کے جانے کے بعد زیادہ محسوس ہوتی ہے، ان کی یہی خصوصیت کافی تھی کہ علم کو اپنے پاس روک کر رکھنے کے بجائے دوسروں تک پہنچانے میں خوشی محسوس کرتے تھے، یہی ان کا درد تھا، جس کا بارہا مشاہدہ ہوا۔

ان کی علمی مجلسوں کی رونق اب باقی نہیں رہی، مگر ان کی گفتگو کے علمی موتی، ان کی تحقیقات، ان کے شاگرد اور ان کے علمی آثار ان شاء اللہ ان کے لیے صدقہ جاریہ بنتے رہیں گے!وہ رخصت ہوگئے، مگر ان کی یادیں، ان کا علم اور ان کی علمی روایت اب بھی باقی ہے۔

وہ چراغ بزم علم و آگہی توبجھ گیا
روشنی لیکن ابھی تک اس کے افکاروں میں ہے
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی علمی خدمات قبول فرمائے، درجات بلند فرمائے، ان کے علوم و آثار کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمة واسعة، واسكنه فسيح جناته!

کالم نگار : مفتی محمد اکمل
| | |
86