اسلامی ہجری سال 1447 اپنے تمام نشیب و فراز، کامیابیوں اور ناکامیوں کے ساتھ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہوچکا، اور 1448 ہجری اپنے دامن میں نئی امیدیں، نئے امکانات اور نئے تقاضے لیے ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ ہر نیا سال انسان کو اپنے ماضی کا محاسبہ اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا موقع فراہم کرتا ہے، لیکن سنِ ہجری کا آغاز محض ایک زمانی تبدیلی نہیں؛ یہ ایک عظیم نظریاتی اور تاریخی پیغام کا امین ہے۔
یہ حقیقت قابلِ توجہ ہے کہ اسلامی تقویم کا آغاز نہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت سے کیا گیا، نہ بعثتِ نبوی سے، نہ فتحِ مکہ جیسے عظیم الشان واقعے سے، بلکہ اس واقعے کو بنیاد بنایا گیا جس نے تاریخِ اسلام کا رخ بدل دیا؛ یعنی ہجرتِ نبوی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب اسلامی ریاست کی انتظامی ضروریات کے پیشِ نظر مستقل تقویم کی ضرورت محسوس ہوئی تو صحابۂ کرامؓ نے باہمی مشاورت کے بعد ہجرتِ نبوی کو اسلامی سن کی بنیاد قرار دیا۔ یہ فیصلہ محض ایک تاریخی انتخاب نہ تھا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک فکری منشور تھا۔ اس میں یہ پیغام مضمر تھا کہ قوموں کی زندگی میں حقیقی تبدیلی اس وقت آتی ہے جب وہ اپنے عقیدے، اصولوں اور نصب العین کی خاطر قربانی دینے، مشکلات کا سامنا کرنے اور نئے امکانات کی طرف پیش قدمی کرنے کا حوصلہ پیدا کرلیتی ہیں۔
ہجرت کا مطلب فرار نہیں تھا، بلکہ مقصد کے لیے جدوجہد کا نام تھا۔ یہ مکہ کی گلیوں سے مدینہ کی ریاست تک کا سفر تھا؛ کمزوری سے قوت تک، مظلومیت سے قیادت تک، منتشر افراد سے ایک منظم امت تک پہنچنے کی داستان تھی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اگر ایمان زندہ ہو، قیادت مخلص ہو اور قوم اپنے مقصد سے وابستہ ہو تو نامساعد حالات بھی تاریخ کا دھارا بدل سکتے ہیں۔
آج جب ہم نئے ہجری سال کا استقبال کر رہے ہیں تو ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ امتِ مسلمہ ایک غیر معمولی آزمائش کے دور سے گزر رہی ہے۔ سیاسی انتشار، فکری انتشار، علمی جمود، معاشی انحصار، اخلاقی انحطاط اور باہمی اختلافات نے ہماری اجتماعی قوت کو کمزور کردیا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہیں، لیکن اس سے زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ ہم نے اپنی کمزوریوں کے اسباب پر سنجیدگی سے غور کرنا کم کردیا ہے۔
ہم نے ہجرت کے جذبے کو محض ایک تاریخی واقعہ سمجھ لیا، حالانکہ ہجرت ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ یہ برائی سے بھلائی کی طرف ہجرت ہے، جہالت سے علم کی طرف ہجرت ہے، انتشار سے اتحاد کی طرف ہجرت ہے، خود غرضی سے ایثار کی طرف ہجرت ہے، اور مایوسی سے امید کی طرف سفر کا نام ہے۔
اگر ہم اپنی موجودہ حالت کو بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسی ہجری شعور کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا جس نے پہلی صدی کے مسلمانوں کو دنیا کی قیادت عطا کی تھی۔ ہمیں اپنی ترجیحات کا ازسرِنو تعین کرنا ہوگا۔ تعلیم کو محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ تعمیرِ انسانیت کا وسیلہ بنانا ہوگا۔ نوجوان نسل میں مقصدیت، دیانت، خود اعتمادی اور خدمتِ خلق کے جذبات کو فروغ دینا ہوگا۔ خاندان کے ادارے کو مضبوط کرنا ہوگا، اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے تنوع اور وسعتِ ظرف کا ذریعہ بنانا ہوگا، اور اجتماعی مفادات کو ذاتی خواہشات پر ترجیح دینا ہوگی۔
مسلمانوں کی اصلاحِ احوال کا کوئی جادوئی نسخہ نہیں۔ اس کے لیے تدریج، حکمت اور مسلسل جدوجہد درکار ہے۔ انفرادی سطح پر خود احتسابی، خاندانی سطح پر دینی و اخلاقی تربیت، معاشرتی سطح پر امانت و عدل کا فروغ، اور اجتماعی سطح پر علم، تحقیق، تنظیم اور باہمی تعاون کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو زوال سے عروج کی طرف لے جاتا ہے۔
نیا ہجری سال ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ تاریخ کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، اگر امت اپنے رب سے تعلق مضبوط کرے، اپنی فکری بنیادوں کو مستحکم بنائے، اور ہجرت کے اسباق کو اپنی اجتماعی زندگی میں نافذ کرے تو ایک نئی صبح طلوع ہوسکتی ہے۔
آئیے! 1448 ہجری کو صرف کیلنڈر کی تبدیلی نہ بننے دیں، بلکہ اسے اپنے انفرادی اور اجتماعی تجدیدِ عہد کا نقطۂ آغاز بنائیں۔ ہم اپنے ایمان کو تازگی بخشیں، اپنے کردار کو سنواریں، اپنے علم میں اضافہ کریں، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کا عزم کریں۔
ہجرت کا پیغام یہی ہے کہ منزل اُنہی کو ملتی ہے جو سفر کا حوصلہ رکھتے ہیں، اور تاریخ اُنہی قوموں کے نام محفوظ کرتی ہے جو اپنے حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے انہیں بدلنے کا عزم کرلیتی ہیں۔