(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمدعدنان

محمدعدنان

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت
کسی کی تاریخ ولادت یا شھادت میں اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت کے بارے میں بعض لوگ کچھ حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔سب سے پہلے تو ان روایت کا حال دیکھ لیں۔

حوالہ جات کی حقیقت:
1.. طبقات ابن سعد جلد ٣ صفحہ ١٤٧

2... تاریخ طبری جلد ٣ صفحہ ٦٣٥

3...تاریخ ابن خلدون جلد ١ صفحہ ٣٨٤

4....تاریخ المسعودی جلد ٦ صفحہ ٦٤٠

5...تاریخ ابن کثیر جلد ٧ صفحہ ٦٧٩

1... طبقات ابن سعد جلد ٣ صفحہ ١٤٧

پہلا حوالہ طبقات ابن سعد (ج 3 ص 123 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔ اول تو امام ابن سعد نے اس معاملے میں از خود کوئی واضح تاریخ معین نہیں فرمائی۔دوسرا کہ انہوں نے اس باب کا عنوان ہی یہ بنایا ہے کہ حضرت عمر کی مدت خلافت اور حضرت عمرفارق کی عمر کے متعلق مختلف اقوال۔پھر ان میں پہلے ترجمۃ الباب کی روایت کمزور ہے۔ ابوبکر بن محمد بن سعد نامی راوی کا تذکرہ کیا تو اس میں اختلاف نہیں کہ وہ مہجول الحال ہے۔ اس طرح سے 26 ذی الحجہ 23 ھجری والی روایت نہایت کمزور ہے۔

2.....تاریخ طبری جلد ٣ صفحہ ٦٣٥

دوسرا حوالہ تاریخ طبری (ج 3 ص 217 تا 218 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔

امام طبری نے بھی ابن سعد کی طرح ان کی تاریخ وفات کے اختلاف کا تذکرہ کیا ہے۔ چنانچہ پہلا قول تو 27 ذی الحجہ ھجری کا بتایا ہے اور یہ روایت بھی نہایت کمزور ہے کیونکہ اس کے دو راوی سلیمان بن عبد العزیز اور جعفر بن عبد الرحمن تو مجہول الحال ہیں اور ایک راوی عبد العزیز بن عمران متروک ہے۔

دوسرا قول عبد العزیز بن عمران کا ہی ہے جو کہ بغیر کسی جرح کے 1 محرم 24 ھجری کا بتایا ہے۔

تیسرا قول وہی ابن سعد کا ہی ذکر کیا ہے کہ 26 ذی الحجہ 23 ھجری کو ہوئی لیکن جیسا پہلے واضح ہو چکا کہ وہ روایت انتہائی کمزور ہے۔

چوتھا قول ابو معشر کا 26 ذی الحجہ 23 ھجری کا ہے جو احمد بن ثابت الرازی کے طریق سے ہے جو کہ کذاب تھا۔

پانچواں قول ہشام بن محمد کا 27 ذی الحجہ 23 ھجری کا ہے جو کہ بلا سند اور منقطع ہے جو نہایت ہی کمزور ہے۔

3.... تاریخ ابن خلدون جلد ١ صفحہ ٣٨٤

۔تیسرا حوالہ تاریخ ابن خلدون (ج 3 ص 236 اردو ایڈیشن دار الاشاعت کراچی) کا ہے۔

ابن خلدون نے اگرچہ 27 ذی الحجہ 23 ھجری کا بتایا ہے مگر بلا سند ہے اور اس کا مضمون تقریبا وہی ہے جو تاریخ طبری کا پہلا قول ہے جس کی سند نہایت کمزور ہے۔

4...تاریخ المسعودی جلد ٦ صفحہ ٦٤٠

۔چوتھا حوالہ تاریخ مسعودی کا ہے۔ علی بن حسین المسعودی شیعہ رافضی ہے جس کا قول ہمارے لئے حجت نہیں۔

5.. تاریخ ابن کثیر جلد ٧ صفحہ ٦٧٩

پانچواں حوالہ تاریخ ابن کثیر (البدایہ والنہایہ ج 7 ص 184 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔

حافظ ابن کثیر نے کئی اقوال نقل کر کے پہلے قول ہی کو ترجیح دی ہے جو کہ 1 محرم الحرام 24 ھجری کا ہے

امام حاکم نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ کی شہادت کے حوالے سے دو روایات "مستدرک " میں لکھی ہیں

ایک میں ہے: کہ آپ پر قاتلانہ حملہ بدھ کے دن ہوا جب ذی الحج کی چار راتیں باقی تھیں۔ (مستدرک حدیث 4510)

اور دوسری روایت میں ہے: کہ آپ زخمی ہونے کے بعد تین دن تک زندہ رہے۔ (مستدرک حدیث 4514 شبیر برادرز لاہور)

اسی طرح امام ہیثمی نے روایت لکھی جس میں آتا ہے: کہ آپ زخمی ہونے کے بعد تین دن تک زندہ رہے۔ (9/685 ، اکبر بک سیلرز لاہور)

ان روایات کو ملائیں تو پتا چلتا ہے کہ آپ پر جب قاتلانہ حملہ ہوا ، تب ذی الحج کی 26 یا 27 تاریخ تھی ، اور آپ زخمی ہونے کے بعد تین دن زندہ رہے ، یعنی یکم محرم کی رات کو وصال ہوا اور تدفین یکم محرم دن کے وقت ہوئی یا پھر وصال اور تدفین اسی چاند رات کو کردی گئی ہوگی ۔ تبھی یکم محرم شمار کیا جاتا ہے ۔

بہ ہرحال مہینہ 29 کا ہو یا 30 کا ان روایات کی روشنی میں کسی بھی طرح 26 تاریخ نہیں بنتی ۔۔۔جنہوں نے 26 لکھا ہے اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے ، کہ انہوں نے زخمی کیے جانے والے دن کو ہی شہادت کا دن شمار کرلیا ہو ۔

واللہ تعالٰی اعلم !

یاد رہے کتب سیر و تاریخ میں یکم محرم کو آپ کی تدفین پر بھی بہت سے اقوال موجود ہیں جن میں چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں ۔

1-(تاریخ طبری 3/217 نفیس اکیڈمی)

2-البدایہ و النہایہ 7/186 نفیس اکیڈمی)

3-(تاریخ ابن اثیر 2/490 نفیس اکیڈمی )

4-(اسدالغابہ 2/608 مکتبہ خلیل لاہور)

5-(طبقات ابن سعد 1/674 (عبداللہ اکیڈمی)

6-(تاریخ الخلفاء ص 247 ضیاءالقرآن ایڈیشن2006ء)

7-(صفة الصفوہ 1/127 ادارہ پیغام القرآن لاہور)

ان حوالہ جات پر اگر کوئی کہے کہ یہاں تو تدفین یکم محرم کو لکھی ہے نہ کہ شہادت۔۔۔۔ تو کہا جاے گا کہ اگر 26 کو شہید ہوے تو یکم محرم تک تدفین نہ کرنے میں کون سی وجوہات آڑے تھیں؟ اتنے دنوں آپ کو کیوں رکھا گیا؟ حالانکہ آپ کے شکم میں خنجر لگنے کے باعث خون اتنا بہہ چکا تھا کہ آپ کو وصال کے بعد یکم محرم تک رکھنا عقلاً بھی درست نہیں مانا جاسکتا۔

جب یکم محرم کو بھی شہادت یا تدفین پر کثیر اقوال موجود ہیں تو پھر 26 ذی الحجہ کو درست تسلیم والے یکم محرم الحرام کا قول اختیار کرنے والوں پر طرح طرح کے خود ساختہ فتوے کیوں لگاتے ہیں؟

مأخَذ

حوالہ جات تحریر کے ساتھ بین القوسین مذکور ہیں۔

کالم نگار : محمدعدنان
| | |
159