زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف انسان نہیں ہوتیں بلکہ ایک درسگاہ، ایک کردار اور ایک خاموش تربیت ہوتی ہیں۔ جب ایسی ہستیاں دنیا سے رخصت ہوتی ہیں تو صرف ایک فرد نہیں جاتا بلکہ ایک پورا زمانہ، ایک اندازِ محبت، ایک روشِ تعلیم اور ایک خیر کا سلسلہ دلوں میں یاد بن کر رہ جاتا ہے۔ آج دل بہت رنجیدہ ہے کیونکہ میرے بزرگ استاد محترم قاری عبد المجید صاحبؒ اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔
استاد کا مقام ویسے ہی اسلام میں بہت بلند ہے، اور جب استاد قرآنِ مجید پڑھانے والا ہو، اخلاق سکھانے والا ہو، ادب اور دین کی محبت دلوں میں ڈالنے والا ہو تو اس کی جدائی کا غم اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔
قاری عبد المجید صاحبؒ صرف سبق پڑھانے والے نہیں تھے بلکہ شاگردوں کے دلوں کو سنوارنے والے تھے۔ ان کی آواز میں نرمی، انداز میں وقار، اور نصیحت میں محبت ہوتی تھی۔ وہ صرف الفاظ نہیں سکھاتے تھے بلکہ الفاظ کے پیچھے موجود ادب، اخلاص اور عمل کی روح بھی منتقل کرتے تھے۔
مجھے آج بھی ان کی مجلس، ان کا پڑھانے کا انداز، شاگردوں کے ساتھ شفقت اور دین کے ساتھ ان کی وابستگی یاد آتی ہے یقینا استاد جی رح کے چوبیس گھنٹے قرآن مجید کے سے وابستہ رہتے تھے .اللّٰہ کریم ہمارے استاد جی رح کی کامل مغفرت فرما انکے درجات کو بلند فرما کروٹ کروٹ سکون عطا فرما .
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف اپنی زندگی نہیں جیتیں بلکہ دوسروں کی زندگیوں میں روشنی بانٹتی رہتی ہیں۔ ان کے جانے کے بعد بھی ان کی باتیں، ان کی عادتیں، ان کی دعائیں اور ان کی تربیت لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ میرے محترم بزرگ استاد قاری عبد المجید صاحبؒ بھی انہی شخصیات میں سے تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سن کر دل پر ایک ایسا بوجھ محسوس ہوا جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ ایسا لگا جیسے زندگی کا ایک روشن باب بند ہوگیا ہو، لیکن اس کی روشنی ابھی بھی باقی ہے۔
استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، استاد انسان بناتا ہے۔ استاد الفاظ نہیں دیتا بلکہ سوچ دیتا ہے۔ استاد سبق نہیں دیتا بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ دیتا ہے۔ قاری عبد المجید صاحبؒ کی شخصیت بھی اسی معنی میں استاد کی حقیقی تصویر تھی۔ ان کے پاس بیٹھنے والا صرف قرآن کے حروف نہیں سیکھتا تھا بلکہ احترام، صبر، اخلاق اور عاجزی کا درس بھی لیتا تھا۔
مجھے آج بھی وہ انداز یاد آتا ہے جب وہ سبق سمجھاتے تھے۔ ان کی گفتگو میں نرمی تھی، ان کے لہجے میں محبت تھی اور ان کی اصلاح میں خیر خواہی ہوتی تھی۔ وہ شاگرد کی غلطی پر ناراض ضرور ہوتے تھے لیکن ان کی ناراضی میں بھی تربیت ہوتی تھی، ذلت نہیں۔ وہ جانتے تھے کہ شاگرد کو صرف علم دینا کافی نہیں بلکہ اس کے دل کو بھی سنوارنا ضروری ہے۔
قاری صاحبؒ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل عظمت شہرت میں نہیں بلکہ خدمت میں ہے۔ انہوں نے شاید دنیاوی نام و نمود کو مقصد نہیں بنایا، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کے دلوں میں جگہ عطا فرمائی۔ ایک اچھا استاد اپنی قبر میں بھی زندہ رہتا ہے کیونکہ اس کے شاگرد اس کے علم کو آگے لے کر چلتے ہیں۔
آج معاشرہ بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔ علم بڑھ رہا ہے مگر ادب کم ہو رہا ہے۔ معلومات بڑھ رہی ہیں مگر تربیت کم ہو رہی ہے۔ ایسے وقت میں قاری عبد المجید صاحبؒ جیسے اساتذہ کی قدر اور بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ وہ صرف علم نہیں دیتے تھے بلکہ زندگی کو سنوارتے تھے۔
استاد کی عظمت کا اندازہ انسان کو اکثر اس وقت ہوتا ہے جب وہ استاد دنیا سے چلا جاتا ہے۔ پھر انسان سوچتا ہے کہ کاش کچھ اور وقت مل جاتا، کچھ اور باتیں سن لیتے، کچھ اور دعائیں لے لیتے۔ لیکن یہی زندگی کی حقیقت ہے کہ وقت گزر جاتا ہے اور یادیں رہ جاتی ہیں۔
میرے محترم استاد! اگر آج آپ ہمارے درمیان موجود نہیں تو کیا ہوا، آپ کی دی ہوئی تعلیم، آپ کی نصیحتیں، آپ کا اخلاق اور آپ کی تربیت ہمارے دلوں میں موجود ہے۔ آپ نے ہمیں صرف سبق نہیں دیا بلکہ زندگی گزارنے کا انداز دیا۔
آپ کے انتقال پر آنکھیں اشکبار ہیں، دل رنجیدہ ہے، لیکن ایک اطمینان بھی ہے کہ آپ نے اپنی زندگی اللہ کے کلام، علم کی خدمت اور شاگردوں کی تربیت میں گزاری۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
حضرت علیؓ سے منسوب مشہور قول ہے:"جس نے مجھے ایک حرف سکھایا، میں اس کا غلام ہوں۔"اور واقعی استاد کا حق اتنا بڑا ہے کہ انسان پوری زندگی بھی گزار دے تو اس کا حق ادا نہیں کر سکتا۔
آج اس موقع پر ہم سب کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے استاد کے علم، اخلاق اور مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ ان کی دی ہوئی تعلیم کو زندہ رکھیں گے، اپنے کردار سے ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنیں گے، اور ان کے لیے دعا کرتے رہیں گے۔
اے اللہ! ہمارے محترم استاد قاری عبد المجید صاحبؒ کی کامل مغفرت فرما، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، ان کے درجات بلند فرما، ان کی لغزشوں سے درگزر فرما، اور ہمیں ان کے لیے بہترین صدقۂ جاریہ بننے کی توفیق عطا فرما۔ آمین!