قانون اتمام حجت کے چند اطلاقاتی مباحث اور اختلافات کو دیکھتے ہوئے اس قانون کا انکار کرنے والوں کی علمی حالت قابل رحم ہے۔ اس قانون کی نفی کرنے کے بعد بہت سے احکام اور آیات کی کوئی توجیہ ممکن نہیں۔ قدیم فقہاء اور جمہور اہلِ علم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ رسول کے ذریعے ایک خاص نوعیت کا اتمامِ حجت ہوتا ہے جس کے بعد بعض دنیاوی سزائیں اور اجتماعی عذاب نافذ ہوتے ہیں۔
یہ دور جدید کی علمی بدعت ہے کہ اس تصور اور سیاق و سباق سے ماوراء قرآن کی ہر آیت اور حکم کی تعمیم کر دی جائے۔ لہذا بحث کرتے ہوئے کلی انکار یا ہر قسم کے اطلاقی اقرار پر اصرار کے درمیان گرے ایریاز تک محدود رہیں۔ تکفیر کا ایک تعلق رسولوں سے منسوب اتمام حجت سے ہے کیونکہ اس پر اس وقت کے خاص قانونی احکام اور نتائج کا انحصار ہے۔
اسلامی شناخت کی حدود بندی کرتے ہوئے اس اصول کا لازمی اطلاق درست نہیں کیونکہ ضروریات دین معروف، اجماعی اور متواتر ہیں جن کا انکار کرنے والوں کے پاس کوئی قابلِ قبول تاویل موجود نہیں ہوسکتی۔
یہ بات عقل، شریعت اور سیرت کے خلاف ہے کہ مسلمانوں کا نظم اور ریاست بغیر کسی اصول اور شرط کے ہر قسم کے ظاہری اقرار اسلام کرنے والے کو مسلمان ماننے پر مجبور ہو جائے۔ اس لیے کہ اسلامی شناخت کی حد بندی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آپ اسلامی شہریت کے چند پیمانے وضع نہ کر لیں۔
یہی وجہ ہے قرآن نے بھی کافروں کے صرف زبانی اعلان اسلام کو کافی نہیں سمجھا بلکہ بنیادی عقائد کے بعد نماز و زکات کے ظاہری اعمال کو ان کے لیے معیار شہریت قرار دیا۔ یہ بات خود بخود اس اعتراض کو رفع کر دیتی ہے کہ اسلامی ریاست کو کسی کو مسلمان یا غیر مسلم قرار دینے کا اختیار نہیں۔
جب آپ قادیانیت جیسے غیر مسلم فرقے کے لیے اتمام حجت کی آڑ میں گنجائش نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس ناگزیر اور ناقابلِ رد الہامی اصول پر بھی سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔