(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمدسہیل کھتری

محمدسہیل کھتری

پروفائل | تمام کالمز
2026/06/15
موضوعات
نصیحت کرنا نہ چھوڑو
﴿وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ﴾"اور نصیحت کرتے رہیے، بے شک نصیحت ایمان والوں کو فائدہ دیتی ہے۔" (سورۃ الذاریات: 55)

نصیحت اور یاد دہانی انبیاء علیہم السلام کا عظیم مشن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کو حکم فرمایا کہ لوگوں کو حق بات، خیر، نیکی اور آخرت کی یاد دلاتے رہیں، کیونکہ مومن کا دل نصیحت سے زندہ ہوتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات بظاہر نصیحت کا اثر فوراً نظر نہیں آتا، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی خیر کی بات ضائع نہیں جاتی۔ ایک سچی نصیحت کبھی نہ کبھی دل میں جگہ بنا لیتی ہے اور انسان کی زندگی کا رخ بدل دیتی ہے۔

مومن کی ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ نصیحت کو قبول کرتا ہے۔ جب اسے قرآن کی آیات سنائی جاتی ہیں، رسول اللہ ﷺ کی احادیث سنائی جاتی ہیں یا اللہ والوں کی باتیں سنائی جاتی ہیں تو اس کا دل نرم ہوتا ہے، آنکھیں نم ہوتی ہیں اور عمل کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جس دل میں تکبر اور غفلت ہو وہ نصیحت سن کر بھی فائدہ حاصل نہیں کرتا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر نصیحت اور تذکیر کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَىٰ﴾ "پس نصیحت کرتے رہیے اگر نصیحت فائدہ دے۔" (سورۃ الاعلیٰ: 9)

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "الدِّينُ النَّصِيحَةُ" "دین سراسر خیر خواہی اور نصیحت کا نام ہے۔" (صحیح مسلم)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا پورا نظام خیر خواہی، محبت، اصلاح اور نصیحت پر قائم ہے۔ والدین اولاد کو نصیحت کریں، اساتذہ طلبہ کو نصیحت کریں، علماء امت کی رہنمائی کریں اور ہر مسلمان اپنے بھائی کی خیر خواہی کرے۔ لیکن نصیحت کا انداز نرم، حکیمانہ اور محبت بھرا ہونا چاہیے تاکہ دلوں میں نفرت پیدا نہ ہو بلکہ اصلاح کی راہ ہموار ہو۔

حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں: "مومن نصیحت کو اپنے لیے تحفہ سمجھتا ہے، جبکہ غافل شخص نصیحت کو اپنے خلاف سمجھتا ہے۔"

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ خود بھی نصیحت قبول کرنے والے بنیں اور دوسروں تک بھی خیر کی بات پہنچاتے رہیں۔ ہوسکتا ہے ہماری ایک بات کسی بھٹکے ہوئے انسان کی ہدایت کا سبب بن جائے، کسی گناہگار کی توبہ کا ذریعہ بن جائے یا کسی پریشان دل کو اللہ کے قریب کر دے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نصیحت سننے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

کالم نگار : محمدسہیل کھتری
| | |
7