(+92) 319 4080233
کالم نگار

صوفی محمد رمضان چھینہ،اسلام آباد

صوفی محمد رمضان چھینہ،اسلام آباد

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/06
موضوعات
جناز ے سے پہلے یہ کام کریں
مرنے کے بعد دوڑ کر جنازوں میں شامل ہونے سے کہیں بہتر ہے کہ زندہ لوگوں کے دکھ درد میں ان کا سہارا بنو۔
بے شک جنازے میں شرکت کرنا ایک مسلمان کا حق ہے، مرنے والوں کے لیے دعا کرنا چاہیے، ان کی مغفرت مانگنی چاہیے اور ان کا تذکرۂ خیر بھی کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں، یہ سب اپنی جگہ اہم اور باعثِ اجر ہیں۔

مگر ایک لمحے کے لیے سوچیے:
کیا ہم نے اس شخص کو اس وقت بھی یاد رکھا تھا جب وہ زندہ تھا؟جب وہ خاموشی سے اپنے مسائل سے لڑ رہا تھا...

جب وہ اندر ہی اندر ٹوٹ رہا تھا...جب اسے کسی سہارے، کسی حوصلے اور کسی مخلص ساتھی کی ضرورت تھی...

افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر مرنے والوں کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، لیکن زندہ لوگوں کے درد کو محسوس کرنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔ہم جنازوں میں کندھا دینے پہنچ جاتے ہیں، مگر زندگی کے بوجھ تلے دبے ہوئے انسان کا ہاتھ تھامنے سے رہ جاتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مرنے والے کو ہماری دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن زندہ لوگوں کو ہماری دعاؤں کے ساتھ ساتھ ہماری توجہ، محبت، ہمدردی اور عملی تعاون کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔کسی پریشان حال انسان کی بات سن لینا، کسی مایوس شخص کو امید دے دینا، کسی مجبور کی خاموش مدد کر دینا اور کسی تنہا انسان کے ساتھ کھڑا ہو جانا شاید ان اعمال میں سے ہے جن کی قدر الفاظ سے زیادہ دل کرتے ہیں۔شاید زندگی کا سب سے دردناک سچ یہی ہے کہ بعض لوگ مرنے کے بعد بہت یاد کیے جاتے ہیں، مگر زندہ رہتے ہوئے بہت تنہا چھوڑ دیے جاتے ہیں۔

کالم نگار : صوفی محمد رمضان چھینہ،اسلام آباد
| | |
50