کل ایک سکول اونر میرے پاس آئے۔ کافی پریشان تھے۔
کہنے لگے: "میڈم! ہمارے علاقے میں کئی نئے سکول کھل گئے ہیں۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس سال ایڈمشنز کیسے بڑھائیں؟"
میں نے ان سے صرف ایک سوال کیا: "سر! اگر میں ایک پیرنٹ بن کر آپ کے پاس آؤں، تو مجھے کوئی ایک ایسی وجہ بتائیں کہ میں باقی سب کو چھوڑ کر آپ ہی کے سکول میں بچے کا داخلہ کرواؤں؟"
وہ چند لمحے خاموش رہے۔ پھر بولے: "ہمارا رزلٹ اچھا ہے، ٹیچرز محنتی ہیں اور ماحول بھی اچھا ہے۔"
میں نے مسکرا کر کہا: "سر! یہی بات تو آپ کے آس پاس کا ہر سکول کہہ رہا ہے۔ پھر پیرنٹس آپ ہی کو کیوں چنیں گے؟"
یہی وہ اصل کمزوری ہے جس نے آج بہت سے سکول مالکان کو پریشان کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ:
اچھا رزلٹ,محنتی اساتذہ,کمپیوٹر لیب,صاف ستھرا ماحول یہ اب سکول کی کوئی "خاص پہچان" نہیں رہے! یہ تو وہ بنیادی چیزیں ہیں جن کی توقع ہر پیرنٹ پہلے سے ہی کرتا ہے۔آج کا پیرنٹ صرف ایک بات جاننا چاہتا ہے: "آپ میرے بچے کے لیے باقیوں سے الگ کیا کر رہے ہیں؟"
ذرا ٹھنڈے دماغ سے خود سے پوچھیں:
اگر کل آپ کے دو بہترین ٹیچرز سکول چھوڑ جائیں، تو کیا سکول کا معیار گر جائے گا؟
اگر پرنسپل ایک ہفتہ سکول نہ آئے، تو کیا پورا نظام رک جائے گا؟
اگر فرنٹ ڈیسک پر نیا بندہ بیٹھ جائے، تو کیا وہ ایڈمیشن نہیں کر پائے گا؟
اگر ان سوالات کا جواب "ہاں" ہے، تو مسئلہ آپ کی مارکیٹنگ کا نہیں... آپ کے سسٹم کا ہے۔یاد رکھیے: کمزور سکول اشتہارات کے سہارے چلتے ہیں، اور مضبوط سکول سسٹمز پر!
آپ کے سکول کی اصل طاقت اشتہار نہیں، بلکہ یہ سسٹمز ہونے چاہئیں:
ایس او پیز بیسڈ ڈسپلن: جہاں ڈسپلن کسی کے موڈ پر نہیں، تحریری اصولوں پر چلے۔کریکٹر بلڈنگ پروگرام: جہاں بچے کی اخلاقی تربیت کا باقاعدہ روزانہ کا پلانر ہو۔پیرنٹس کمیونیکیشن سسٹم: جہاں والدین کو بچے کی ایک ایک پروگریس کا پتہ ہو۔فیوچر اسکلز اور کانفیڈنس بلڈنگ: جہاں رٹے کے بجائے بچے کو بولنا اور جدید مہارتیں سکھائی جائیں۔لیکن ایک کڑوا سچ یاد رکھیں... یہ چیزیں صرف بروشر یا پمفلٹ پر لکھنے سے داخلے نہیں بڑھتے۔ یہ نظام پیرنٹس کو سکول کے اندر نظر بھی آنا چاہیے اور محسوس بھی ہونا چاہیے۔
آج کا ایک چھوٹا سا چیلنج:
ابھی ایک کاغذ اٹھائیں۔ اپنے علاقے کے 3 بڑے سکولوں کے نام لکھیں، اور پھر اپنے سکول کی ایسی 3 خوبیاں لکھیں جو ان تینوں کے پاس نہیں ہیں۔اگر آپ 30 سیکنڈ میں اپنے سکول کی وہ منفرد پہچان نہیں لکھ پا رہے، تو یقین کیجیے پیرنٹس بھی اسے کبھی نہیں دیکھ پائیں گے۔