ہر سال دنیا بھر میں آٹھ جون کو سمندروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد سمندروں کی افادیت، انسانی زندگی میں اس کی اہمیت اور کردار سمیت سمندری آلودگی کے خاتمے کے حوالے سے شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے۔سمندروں کا انسانی زندگی کو درست ڈگر پہ چلانے اور کاروبار زندگی کو متوازن کرنے میں اہم کردار ہر دور میں رہا ہے۔ آج کے دور جدید میں ان سمندروں کی اہمیت، افادیت اور کردار مزید بڑھ گیا ہے۔ آئیے اجمالی طور پر اس کا جائزہ لیتے ہیں :
تفصیلات کے مطابق زمین کی سطح کا تقریباً 70 فیصد حصہ سمندروں سے ڈھکا ہوا ہے، ہر دوسری سانس جو ہم لے رہے ہیں اس کیلئے ہمیں سمندر کا شکر گزار ہونا چاہیے کیوں کہ سمندر حرارت کو جذب کرنے کے ساتھ ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ کم کر کے ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ماہرین سمندر کو زمین کے پھیپھڑے بھی کہتے ہیں جو خوراک اور ادویات کے وسائل مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ 75 فی صد آکسیجن کی فراہمی اور 40 فیصد تازہ پانی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاؤہ سمندر کا انسانی صحت سے بھی گہرا تعلق ہے۔ سمندری حیاتیات اور سمندری گہرائیوں کی مدد سے مختلف بیماریوں کا پتہ تیزی سے لگایا جا سکتا ہے۔ سمندر انسان کو نت نئے تجربات اور انسانی بھلائی اور تعمیر و ترقی سمیت بہت سے مسائل حل کرنے میں بھی مدد دیتا ہے اور ایک وسیع تجرباتی میدان بھی مہیا کرتا ہے ۔
یونائیٹڈ نیشن انوائرمینٹل پروگرام کے مطابق سمندر معیشت میں سالانہ ڈیڑھ کھرب ڈالر کا حصہ ڈالتے ہیں۔سمندر زمین کے درجہ حرارت کو جہاں کنٹرول کرتے ہیں وہیں دنیا اربوں افراد کے لیے روزگار اور خوراک کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2030 تک سمندر سے منسلک صنعتوں سے 40 ملین افراد کو روزگار ملے گا۔گویا یہ چلتی پھرتی خوراک اور کاروبار کی فیکٹریاں ہیں۔یعنی سمندر کی ایک بڑی افادیت معیشت میں اہم کردار ادا کرنا بھی شامل ہے ۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق کل آبادی کا 40 فیصد حصہ سمندروں اور ساحلوں کے ساتھ جڑے ایک سو کلومیٹر تک کے علاقوں میں آباد ہے۔ یعنی کئی خاندانوں اور ملکوں کی روزمرہ کی ضروریات کا انحصار سمندر سے وابستہ ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سمندر کو محفوظ بنانے کے بعد اسے توانائی کا متبادل ماخد بھی بنایا جا سکتا ہے جب کہ سمندری علوم کے ماہرین کہتے ہیں کہ سمندر معدنی ذخائر کا بھی ایک بیش بہا خزانہ ہیں۔
جب سمندر اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے تو پھر یہاں ملک پاکستان کا ذکر بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے لیے سمندر کیا کر سکتا ہے یا ہم اس سے کیا فوائد لیے سکتے ہیں یا لے رہے ہیں۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اسے بحیرہ عرب تک آسانی سے رسائی ہے اور اس کا ساحل سمندر 1050 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے جس میں 700 کلومیٹر کا رقبہ بلوچستان جب کہ 350 کلومیٹر کا رقبہ سندھ کی حدود سے ملتا ہے۔ پاکستان ہر سال کروڑوں روپے کی آبی حیات سمندر سے پکڑ کر بیرون ملک فروخت کرتا ہے مزید یہ کہ 40 لاکھ سے زائد افراد ماہی گیری سے منسلک ہیں مگر بدقسمتی سے اب اس میں بھی تیزی سے کمی آرہی ہے جس کی بنیادی وجہ آبی آلودگی کے مسائل ہیں۔پاکستان کے ساحل سمندر پر تفریح کے نام پر بے حد و بے انتہا گندگی پھیلائی جاتی ہے جو بعد میں بحری آلودگی کا باعث بنتی ہے جس سے ساحل کا حسن اور آبی حیات بھی تباہی کا شکار ہیں حکومت کو اس پہ سنجیدگی سے سوچنا ہوگا تاکہ ساحل محفوظ اور آلودگی سے پاک رہ سکیں۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے یو این ڈی پی کے مطابق سمندری آلودگی کی تقریباً 80 فیصد وجوہات زمینی ذرائع ہیں جن میں دریاؤں کی آلودگی، شہروں اور صنعتوں کا گندہ پانی اور پلاسٹک بحری آلودگی میں اضافہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے جہاں آبی حیات کی زندگیاں خطرے میں ہیں وہیں سمندر بھی خطرے میں ہیں جو انسانی اعمال اور ترقی کی وجہ سے ایک خاموش تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے اگر اس پہ توجہ نہ دی گئی تو انسانیت سمندر سے حاصل ہونے والے فوائد آکسیجن، خوراک، زیر زمین پانی اور کاروبار و خوراک سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر میں جو کچرا ہے اس کا 80 فیصد انسانوں کی وجہ سے ہے جس کے سبب سمندر کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، انسانوں نے سمندر میں اتنا کچرا ڈال دیا ہے کہ 2050ء تک زمین پلاسٹک کے سیارے میں تبدیل ہو سکتی ہے، سمندر میں موجود پلاسٹک کے اجزاء ہمارے خون میں شامل ہوکر بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں۔
سمندروں کا عالمی دن ہم سب کو یاد دلاتا ہے کہ بحر ہماری زندگی میں کتنا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہمارے سیارے کے پھیپھڑے ہونے کے ساتھ ساتھ خوراک اور ادویات کا ایک بڑا ذریعہ، اور حیاتیات کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد سمندروں پر انسانی سرگرمیوں کے اثرات کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنا، سمندروں کے لیے شہریوں کی ایک عالمی تحریک تیار کرنا، اور دنیا کے سمندروں کے پائیدار انتظام کے لیے دنیا کی آبادیوں کو منظم اور متحد کرنا ہے۔ اس کے علاؤہ سمندر کو ہر قسم کی آلودگیوں سے محفوظ بنا کر آنے والی نسلوں کے محفوظ بنانا اور اس قدرتی ورثے کو بچانا بھی شامل ہے۔آئیے مل کر سمندروں کو بچائیں تاکہ آنے والے نسلیں ہماری کی گئی کوششوں اور اقدامات کی بدولت پُرسکون زندگی گزار سکیں!